وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
Let the faithless not suppose that the respite that We grant them is good for their souls: We give them respite only that they may increase in sin, and there is a humiliating punishment for them.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:178
[Pooya/Ali Commentary 3:178] The worldly possessions the unbelievers had was a respite, a temporary well-being, which pulled them deeper and deeper into the abyss of infidelity from where they could never come out.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:178
ایک سوال اور اس کا جواب
یہ سوال بہت سے ذہنوں میں موجود ہے کہ بہت سے ستمگر ، گنہگار اور آلودہ دامن لوگ اس طرح نعمات میں کیوں مستغرق ہیںاورانہیں سزا کیوں نہیں ملتی ۔ زیر نظر آیت سے ضمنی طور پر اس کا جواب بھی حاصل ہو جاتا ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو قابل اصلاح نہیں اور انہیں سنت آفرینش اور آزادیٴ ارادہ و اختیار کے اصول کے مطابق ان کی حالت پر چھوڑ دیا گیا ہے تا کہ یہ سقوط کے آخری مرحلے تک پہنچ جائیں اور زیادہ سے زیادہ سزا کے مستحق ہو جائیں ۔ علاوہ ازیں قرآن کی بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات خدا ایسے لوگوں کو فراواں نعمتیں دیتا ہے اور جب وہ کامیابی اور مسرت کی لذت میں غرق ہوتے ہیں تو اچانک تمام چیزیں ان سے چھین لیتا ہے تا کہ اسی دنیا میں زیادہ سے زیادہ عذاب اور سزا کا مزہ چکھ لیں کیونکہ ایک دم خوشحال زندگی کا چھن جانابہت تکلیف دہ ہوتا ہے ، جیسا کہ ارشاد الہی ہے : فلما نسوا ماذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شیءٍ ۔حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذنا ھم بغتة فاذا ھم مبسلون جب انہوں نے وہ نصیحتیں جو انہیں کی گئی تھیں فراموش کر دیں ، تو ہم نے ہر اچھائی اور خیر کے دروازے ان کے لئے کھول دئے تا کہ وہ خوش ہو جائیں ۔ پھر اچانک جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا تھا واپس لے لیا لہذا وہ انتہائی تکلیف اور غم میں مبتلا ہو گئے ۔ (انعام ۔ ۴۴ ) در حقیقت ایسے اشخاص ان لوگوں کی طرح ہیں جو ظلم و تشدد سے کسی درخت پر چڑھ جاتے ہیں ، وہ جتنا اوپر جا تے ہیں زیادہ خوش ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ درخت کی چوٹی پر جا پہنچے ہیں ۔ اچانک سخت آندھی آتی ہے جو انہیں اوپر سے نیچے گرا دیتی ہے جس سے ان کی سب ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:178
ججن پر بھاری بوجھ ہے
ججن پر بھاری بوجھ ہے وَ لا یَحْسَبَنَّ الَّذینَ کَفَرُوا اٴَنَّما نُمْلی لَہُمْ ۱ گذشتہ آیت میں دشمنان حق کی بہت زیادہ سعی و کاوش کے ضمن میں رسول اکرم کو تسلی دی گئی ہے اور ان کی دل جوئی کی گئی ہے ۔اب اس آیت میں روئے سخن دشمنوں کی طرف ہے ۔ اس میں انہیں در پیش بدبختی کے بارے میں گفتگو ہے ۔ یہ آیت در حقیقت واقعہ احد اور اس کے بعد کے واقعات سے مربوط مباحث کی تکمیل کرتی ہے کیونکہ ایک جگہ روئے سخن نبی کریم کی طرف تھا ، دوسرے مقام پر مومنین کی طرف اور اب اس جگہ مشرکین مخاطب ہیں ۔ مندرجہ بالا آیت مشرکین کو تنبیہ کرتی ہے اور انہیں ڈراتی ہے کہ وہ خدا کے عطا کردہ وسائل کبھی کبھار مل جانے والی کامیابیوں اور آزادیٴ عمل کو اس بات کی دلیل قرار نہ دیں کہ وہ صالح افرادہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں صحیح یا یہ ان کے لئے خوشنودی ٴ خدا کی نشانی ہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ گناہوں سے کم آلودہ گناہ کاروں کو جرس بیداری کے ذریعہ متوجہ کرتا ہے ، کبھی ان اعمال کے عکس العمل کے ذریعہ بیدار کرتا ہے ، اور کبھی ان سے سرزد ہونے والے اعمال کی مناسب سزاوٴں کے ذریعہ بیدار کرتا ہے اور اس طرح انہیں راہ حق کی طرف واپس لاتا ہے ۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ابھی ہدایت کی اہلیت رکھتے ہیں اور لطف الہی کے حامل ہیں ۔ حقیقت دین ، مجازات عمل اور تکالیف و زحمات ایسے لوگوں کے لئے نعمت شمار ہوتی ہیں ۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے: ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون ۔ خشکی پر اور دریاوٴں میں تباہی و طغیانی لوگوں کے اعمال کا نتیجہ ہے تا کہ خدا ان کے بعض اعمال کا مزہ انہیں چکھائے شاید اس طرح یہ لوگ پلٹ جائیں ۔ (روم ۔ ۴۱ ) لیکن وہ لوگ جو گناہ و عصیان میں غرق ہو جائیں اور طغیان ، سر کشی اور نا فرمانی کے آخری مرحلے تک جا پہنچیں ، خدا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے ۔ اصطلاح میں یو ں کہا جاتا ہے کہ انہیں موقع دیتا ہے کہ ان کی کمر بار گناہ سے بوجھل ہو جائے اور وہ زیادہ سے زیادہ سزا کے مستحق ہو جائیں ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پیچھے کے تمام پل تباہ کر دیے ہیں ، واپس لوٹنے کے لئے ان کے پاس کوئی راستہ نہیں رہا ، حیا و شرم کا پردہ چاک کر چکے ہیں اور ہدایت خدا وندی کی اہلیت بالکل کھو چکے ہیں ۔ مندرجہ بالا آیت اس مفہوم کی تاکید کرتے ہوئے کہتی ہے: جو کافر ہو گئے ہیں وہ یہ گمان نہ کریں کہ ہم نے جو انہیں مہلت دی ہے وہ ان کے فائدے میں ہے بلکہ انہیں مہلت تو اس لئے دی جاتی ہے تا کہ وہ گناہ و سرکشی میں اضافہ کریں اور ان کے لئے رسوا کر دینے والا عذاب ہے ۔ دنیائے اسلام کی شیر دل خاتون حضرت زینب کبریٰ علیھا السلام نے شام کی جابر و خود سر حکومت کے دربار میں سرکش یزید کے سامنے اپنے خطبے میں اسی آیت سے استدلال پیش فرمایا کیونکہ یزید نا قابل بر گشت گنہ گار کا واضح مصداق تھا ۔ خطبے میں آپ (علیه السلام) نے فرمایا : تو آج خوش ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ چونکہ تو نے وسیع وعریض دنیا ہم پر تنگ کر رکھی ہے اور آسمان کے کناروں کو ہم پر بند کر دیا ہے اور قیدیوں کی طرح ہمیں دیار بدیارپھرا رہا ہے اس لئے یہ تیری قدرت و طاقت کی نشانی ہے اور یاخدا کے یہاں تیری قدر و منزلت ہے اور ہمارے لئے اسکے ہاں کوئی راہ نہیں ۔یہ سب تیرا اشتباہ ہے ۔ یہ موقع اور آزادی خدا نے تجھے اس لئے دی ہے تا کہ تیری پشت بار گناہ سے بھاری ہو جائے اور درد ناک عذاب تیرے انتظار میں ہے ۔ خدا کی قسم اگر حوادث زمانہ مجھے ایک قیدی عورت کی شکل میں تیرے پائے تخت میں لے آئے ہیں تو اس سے یہ خیال نہ کر کہ میری نظر تمہاری کوئی تھوڑی سی بھی حیثیت یا قدرو وقعت ہے ۔ میں تجھے چھوٹا ، پست ،ہر لحاظ سے حقیر اور ملامت ، سر زنش اور پھٹکار کا مستحق سمجھتی ہوں ۔ جو کچھ تجھ سے ہو سکتا ہے کر لے ۔ خدا کی قسم تو ہمارے نور کو خاموش نہیں کر سکتا ۔ تو وحی جاوداں اور ہمارے آئین حق کو محو نہیں کر سکتا ۔ تو نا بود ہو جائے گا اور یہ تابناک ستارہ یونہی چمکتا رہے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:178
ایک ادبی نکتہ
ایک ادبی نکتہ آیت کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ کہا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ” لیزدادوا اثماً ““ میں ” لام عاقبت “ ہے نہ کہ لام غایت اس کی وضاحت یہ ہے کہ بعض اوقات حرف لام عربی لغت میں ایسے موقع پر آتا ہے جو انسان کو محبوب و مطلوب ہو ۔ مثلا : لتخرج الناس من الظلمٰت الیٰ النور ہم نے قرآن تمہاری طرف اس لئے بھیجا ہے تا کہ تم لوگوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف دعوت دو ۔ ( ابراہیم ۔۱) واضح ہے کہ لوگوں کی ہدایت خدا کو محبوب و مطلوب ہے ۔ لیکن کبھی لام حرف ایسی جگہ بھی استعمال ہوتا ہے جو انسان کی ہدف ، غرض اور پسند نہ ہو بلکہ اس کے عمل کا نتیجہ ہو ۔ مثلاً لیکون لھم عدوا و حزناً فرعون کے ساتھیوں نے موسیٰ کو پانی میں سے اٹھا لیا تا کہ انجام کار وہ ان کا دشمن ہو جائے ۔ ( قصص ۔ ۸ ) یہ بات مسلم ہے کہ فرعون کے ساتھیوں نے موسیٰ کو پانی سے اس لئے نہیں اٹھایا تھا کہ وہ کل کو ان کا دشمن ہو جائے لیکن یہ سب ان کے کام کا نتیجہ تھا ۔ یہ دونوں تعبیریں نہ صرف ادبیات عرب میں بلکہ باقی زبانوں میں بھی دکھائی دیتی ہیں ۔ یہاں سے ایک اور سوال کا جواب بھی واضح ہو جاتا ہے کہ خدا نے کیوں کہا ہے کہ ” لیزدادوا اثماً “ ( ہم چاہتے ہیں کہ ان کے گناہ زیادہ ہوں ) ۔ یہ اعتراض اس صورت میں ہو سکتا تھا جب لام ”لام علت “ ہوتا اور یہ ہدف و غرض کے طور پر ہوتا اور ”لام عاقبت “ کے طور پر نہ ہوتا ۔ اس بنا پر آیت کا معنی یوں ہوگا : ہم انہیں مہلت دیتے ہیں ، ان کا انجام یہ ہے کہ ان کی پشت بارگناہ سے بوجھل ہو جائے ۔ لہذا یہ آیت نہ صرف یہ کہ جبر کی دلیل نہیں بلکہ اختیار اور ارادے کی آزادی کی دلیل ہے ۔ ۱۷۹۔ ما کانَ اللَّہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنینَ عَلی ما اٴَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتَّی یَمیزَ الْخَبیثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ ما کانَ اللَّہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَ لکِنَّ اللَّہَ یَجْتَبی مِنْ رُسُلِہِ مَنْ یَشاء ُ فَآمِنُوا بِاللَّہِ وَ رُسُلِہِ وَ إِنْ تُؤْمِنُوا وَ تَتَّقُوا فَلَکُمْ اٴَجْرٌ عَظیمٌ ۔ ترجمہ ۱۷۹۔ممکن نہ تھا کہ خدا مومنین کو اسی شکل میں چھوڑ دیتا جس میں تم ہو مگر یہ کہ نا پاک کو پاک سے جدا کر دے ۔ نیز ( یہ بھی ) ممکن نہ تھ اکہ خدا تمہیں مخفی رازوں سے آگاہ کرے ( کہ اس طرح تم علم غیب کے ذریعہ مومنین اورمنافقین میں تمیز کرنے لگے ، کیونکہ یہ طریقہ سنت الہی کے خلاف ہے ) لیکن خدا اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا چن لیتا ہے ( اور کچھ مخفی رازوں پر انہیں مطلع کرتا ہے جو ان کی رہبری کے لئے ضروری ہوتے ہیں ) َ ۔ پس ( جب اب کہ یہ دنیا پاک اور نا پاک میں تمیزکے لئے کٹھالی ہے ) خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آوٴ ۔ اگر تم ایمان لے آئے اور تم نے تقویٰ اختیار کر لیا تو تمہارے لئے اجر عظیم ہوگا ۔ ۱ ۔ ” نملی“ کا معنی ہے ” مدد کرنا “ لیکن بہت سے موقع پر یہ لفظ مہلت دینے کے معنی میں بھی آتا ہے ، جبکہ مہلت خود ایک قسم کی مدد ہے ۔ یہاں یہ لفظ مہلت کے معنی میں ہی ہے ۔