زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ
The love of [worldly] allures, including women and children, accumulated piles of gold and silver, horses of mark, livestock, and farms has been made to seem decorous to mankind. Those are the wares of the life of this world, but the goodness of one’s ultimate destination lies near Allah.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:14
[Pooya/Ali Commentary 3:14] To understand this verse in its true perspective, the meaning of the phrase "love or desire of the lust of earthly pleasures" should be grasped in the light of the teachings of Islam. As Islam does not subscribe to asceticism, lawful use of essential things has not been referred to here. Hubbush shahawati means extreme, reckless and infatuated appetite or passion to own and enjoy things for the sake of possession and enjoyment. Islam teaches man not to get irrationally involved even with lawful possessions. A true believer receives good things lawfully as due return for his labour or services but keeps them in trust with himself, to be distributed as and when commanded by Allah. He is always ready to part with them because he does not attach himself to them in the sense of hubbush shahawati. Being a man he is allowed to desire happiness and satisfaction but is required to keep his feelings and emotions in check to attain moral and spiritual refinement which, in return, enables him to make an offering of his means of satisfaction to the service of the Lord. It is more trying and demanding to control passions than not to have them at all. Total suppression of feelings and desires and mortification of the flesh betrays an escapist tendency to avoid test and trial. You shall not attain to righteousness until you spend (in the way of Allah) of what you love. (Ali Imran: 92) The best example of having good things (property, wives, children, relatives, friends, honour and fame) yet staying detached so as to sacrifice all of them in the way of Allah is found in Karbala. Imam Husayn willingly made an offering of all that which he had to his Lord. He has created life and death that He may try you (to prove) which of you is best in conduct; (Mulk: 2) Man has been endowed with life to be tried. In like manner he is tried and tested with family, wealth and other possessions. Aqa Mahdi Puya says: There is an unchanging conflict between the empty and perishable sensuous pleasures and the lasting intellectual and spiritual delight and bliss.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:14
۳۔ دنیا کی متاع حیات سے کیامراد ہے
متاع ایسی چیز کو کہتے ہیں جس میں انسان لطف اندوز ہوتا ہو اور حیات ِ دنیا سے مراد پست زندگی ہے اس بناء پر ” متاع الحیٰوة الدنیا “ کا معنی یہ ہوگا کہ اگر کوئی شخص ان چھ امور سے بنیادی ہدف کے طور پر عشق کرے اور انہیں راہ ِ حیات میں وسیلہ نہ سمجھے تو اس نے اپنے آپ کو پست زندگی کے سپرد کردیا ۔ حیاتِ دنیا ( پست زندگی ) دراصل اس نے زندگی کے ارتقاء اور تکامل کی طرف اشارہ ہے اس طرح اس جہاں کی زندگی تو پہلا مرحلہ بن جاری ہے اسی لئے آیت کے آخر میں اعلیٰ ترین انسان کے انتظار میں ہے ، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ”و اللہ عندہ حسن الماٰب“ یعنی نیک انجام تو خدا کے پاس ہے ۔ ۱۵ قُلْ اٴَؤُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرٍ مِنْ ذَلِکُمْ لِلَّذِینَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْاٴَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا خَالِدِینَ فِیہَا وَاٴَزْوَاجٌ مُطَہَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِنْ اللهِ وَاللهُ بَصِیرٌ بِالْعِبَادِ ۔ ۱۶ الَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّار۔ ۱۷ الصَّابِرِینَ وَالصَّادِقِینَ وَالْقَانِتِینَ وَالْمُنْفِقِینَ وَالْمُسْتَغْفِرِینَ بِالْاٴَسْحَارِ ۔ ترجمہ ۱۵۔ کہہ دیجئے : کیا تمہیں ایسی چیز سے آگاہ کروں جو اس ( مادی سر مائے ) سے بہتر ہے جنہوں نے پرہیز گاری اختیار کی ہے ( مادی سرمائے سے شرعی طریقے سے حق و عدالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے استفادہ کیا ہے ) ان کے پروردگار کے پاس ( دوسرے جہان میں) ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور پاکیزبیویاں ( جو ہر ناپاکی سے منزہ ہیں ) اور خوشنودیٴ خدا انہیں نصیب ہوگی اور خدا ( بندوں کے امور کو ) دیکھنے والا ہے ۔ ۱۶۔ وہی لوگ جو کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں ، پس ہمیں دے اور آگ کے عذاب سے بچا لے ۔ ۱۷۔ وہی جو ( مشکلات کے مقابلے میں، اطاعت کی راہ میں اور ترکِ گناہ کے راستے میں ) پامردی اور استقامت دکھاتے ہیں ، سچ بولتے ہیں ، ( خدا کے حضور) خضوع کرتے ہیں ( ا س کی راہ میں ) خرچ کرتے ہیں اور اوقات سحر میں (اور عبادت آخر شب میں ) استغفار کرتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:14
۱۔ امور مادی کو کس نے زینت دی ہے
”زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ “۱ ۱” شہوات“ ۔ شہوت کی جمع ہے جس کامعنی ہے کسی چیز سے شدید لگاوٴ اور تعلق رکھنا ” لیکن مندرجہ بالا آیت میں ” شہوات“ مشخصات“ کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور ” مشہیات “ ان چیزوں کو کہتے ہیں جن میں تعلق اور لگاوٴ ہو ۔ یہ جملہ فعل مجہول کی شکل میں آیا ہے اس میں کہا گی اہے : بیوی بچوں اور مال و دولت سے لگاوٴ اور ان سے محبت کو لوگوں کی نگاہ میں پسندیدہ بنایا گیا ہے ۔ یہاں سوال پید اہوتا ہے کہ یہ پسندیدہ بنانے والا اور انہیں لوگوں کی نظروں میں زینت دینے والا کون ہے ۔ بعض مفسرین کا نظر یہ ہے کہ یہ شیطانی ہوا و ہوس ہے جو انہیں لوگوں کی نگاہوں میں پسندیدہ بناتی ہے وہ سورہ نمل کی آیت ۲۴ سے استدلال کرتے ہیں جس میں فرما یا گیا ہے : ”زیّن لھم الشیطان اعمالھم“۔ اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہ میں زینت دی ہے ۔ ایسی اور بھی آیات موجود ہیں ۔ لیکن یہ استدلال صحیح معلوم نہیں ہوتا کیونکہ محل بحث آیت میں اعمال کے بارے میں گفتگو نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں مال ، عورتوں اور اولاد کے بارے میں گفتگو ہے ۔ آیت کی صحیح تفسیر یہی معلوم ہوتی ہے کہ زینت دینے والا خدا ہی ہے اور یہ قوت اس نے انسان کی فطرت و طینت میں ودیعت کی ہے ۔ کیونکہ خدا ہی انسان میں اولاد اور مال و دولت کی محبت پیدا کرتا ہے تاکہ اسے آزمائے ، اسے کمال و ارتقاء عطا کرے اورتربیت کے راستے میں آگے لے جائے ۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے ۔ ” انّا جعلنا ما علی الارض زینةً لّھا لنبوھم ایّھم احسن عملا ۔ “: ہم نے زمین کی تمام چیزوں کو ان کے لئے زینت بنایا ہے تاکہ ان کی اخلاقی تربیت ہو سکے یعنی اس محبت و دلبستگی سے صرف سعادت ، اصلاح اور تعمیر کے لئے فائدہ اٹھائیں نہ یہ کہ فتنہ و فساد اور تباہی و بر بادی کے لئے انہیں کا میں لائیں ۔ ( کہف ۔ ۷) یہ امر قابل ذکر ہے کہ زیر نظر آیت میں پہلے ازدواج اور اولاد کا ذکر ہے ۔ آج کے ماہرین ِ نفسیات بھی کہتے یں کہ جنسی پہلو انسان کے قوی ترین غرائز او راندرونی تقاضوں میں سے ایک ہے ۔ انسان کی تاریخ اور دورِ حاضر بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ بہت سے معاشرتی حوادث کا سر چشمہ اسی انسانی خواہش سے اٹھنے والے طوفان تھے ۔ اِس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ زیر بحث آیت اور ایسی دوسری آیات بیوی بچوں اور مال و دولت سے معتدل محبت اور لگاوٴ کی مذمت نہیں کرتیں کیونکہ معنوی اور روحانی مقاصد و اہداف کی پیش رفت مادی مسائل کے بغیر ممکن نہیں ۔ علاوہ ازیں قانون شریعت کبھی قانون فطرت سے متضاد نہیں ہوسکتا اور قانون ِ فطرت قابل ِ مذمت نہیں ہوتا ہاں البتہ ایسا عشق و محبت جو افراط کی حد کو پہنچ جائے ۔ بہ الفاظ دیگر پرستش و عبادت بن جائے وہ قابلِ مذمت ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:14
۲۔”الْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَةِ“اور ” وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ “سے کیا مراد ہے
”قناطیر “ ” قنطار“ کی جمع ہے ۔ ” قنطار “ کا معنی ہے ” محکم چیز“ بعد ازاں یہ لفظ، زیادہ ما کے لئے استعمال ہونے گا ، پل کو ” قنطرة “ اس کی مضبوطی کے پیش نظر اور باہوش افراد کو ” قنطر“ ان کی فکر و نظر کے استحکام کی وجہ سے کہتے یں ۔ ” مقنطرة “ اسم مفعول ہے اس کا معنی ہے ” کئی گنا“ اور مکرر“ ۔ یہ دونوں الفاظ کا اکٹھا ذکر تاکید کے لئے ہے جیسے ۔ جیسے آج کل فارسی میں کہتے ہیں : فلانکس صاحب آلاف و الوف می باشد ( فلاں شخص ہزاروں اور ہزاروں کا مالک ہے ) یعنی اس کے پاس بہت مال و دولت ہے ۔ بعض نے ” قنطار “کے لئے ایک معین حد بیان کی ہے اور کہاہے کہ ” قنطار “ ستر ہزار سونے کے دینار کو کہتے ہیں ۔ کچھ نے ایک لاکھ دینار بتایا ہے اور بعض بارہ ہزار درہم کہتے ہیں اور کچھ کے نزدیک ” قنطار“ سو نے چاندی کے سکوں سے بھری ہوئی تھیلی کو کہتے ہیں ۔ ایک روایت میں جو امام باقر اور امام صادق علیہما السلام سے منقول ہے کے مطابق قنطار سونے کی وہ مقدار ہے جو ایک گائے کی کھال کو بھر دے ۔ حقیقت میں اس کا ایک وسیع مفہوم ہے اور وہ ہے زیادہ اور کثیر مال ۔ ” خیل “ اسم جمع ہے اور اس کا معنی ہے ”گھوڑے“ اور گھڑ سوار “دونوں بیان کئے گئے ہیں البتہ زیر نظر آیت میں اس سے مراد ” گھوڑے “ ہی ہے ۔ ” مسومة “ در اصل ” ممتاز “ کے معنی ہے، ممتاز ہونا یہاں جسم اور چہرے کے متناسب ہونے کے لحاظ سے ہے یا تربیت یافتہ ہونے اور میدان ِ جنگ میں سواری کے لئے آمادہ ہونے کے حوالے سے ہے ۔ اس مطالعے سے یہ نتیجہ نکلا کہ محل بحث آیت میں چھ چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو زندگی کا اہم سر مایہ ہیں اور وہ یہ ہیں : ۱) بیوی ۲) اولاد ۳) مال و دولت ۴) بہترین سواریاں اور گھریلو ضرورت کے جانور (” انعام “) ۵) زراعت اور فصلیں یہ سب مادی زندگی کے بنیادی اراکین ہیں ۔