قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ
There was certainly a sign for you in the two hosts that met: one host fighting in the way of Allah and the other faithless, who saw them as visibly twice as many. Allah strengthens whomever He wishes with His help. There is indeed a moral in that for those who have insight.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:13
[Pooya/Ali Commentary 3:13] In the battle of Badr 313 Muslims were set to fight 1000 pagans, more than threefold their number, but by Allah's will, the army of the believers, fighting in the way of Allah saw the disbelieving host as twice their number, as has been made known to them in verses 44 and 66 of al Anfal. The battle of Badr was indeed a turning point in the mission of the Holy Prophet. It was a decisive victory. The slain on the enemy's side included many of his most influential opponents. Who made this promised victory possible? Ibna Kathir has written that on the day of the battle of Badr, the Holy Prophet gave the standard to his twenty years old brother, Ali ibna abi Talib. Tabari and other historians have said that Ali and Hamza were the only two warriors who not only killed the well-known warriors of the enemy in single combats but also destroyed the enemy's fighting force beyond recovery. For details, study the books of history, in which are also mentioned the names of those who conveniently kept themselves aloof from the fighting on this critical day, described as a sign of Allah, but, after the departure of the Holy Prophet, became rulers to deflect and depart from the true purpose of the religion of Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:13
بدر کے تاریخ ساز واقعے سے درسِ عبرت حاصل کریں
ذشتہ آیات میں کفار کو تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ مال و ثروت اور اکثریت ِ تعداد پر مغرور نہ ہوں ۔ اس آیت میں اس سلسلے کا ایک زندہ شاہد بیان کیا گیا ہے اور انہیں دعوت دی گئی ہے کہ وہ بدر کے تاریخ ساز واقعے سے درسِ عبرت حاصل کریں ۔ ”قد کان لکم اٰیة فی فئتین التقتا .......“ وہ اس بات سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے کہ جنگی ساز و سامان سے عاری ایک چھوٹا سا لشکر لیکن پختہ ایمان والوں پر مشتمل اپنے سے کئی گنا بڑے جنگی وسائل سے آراستہ لشکر پر فتحیاب ہوگیا ، اگر مال و دولت اور کثرت ِ تعداد بغیر ایمان کے اثر انداز ہو سکتی تو جنگ بدر میں اپنا دکھاتی جبکہ وہاں تو نتیجہ بر عکس رہا ۔ ”یَرَوْنَھُمْ مِثْلَیْہِمْ رَاٴْیَ الْعَیْنِ“۔ آیت کے اس حصے میں فرمایا گیا ہے : میدان جنگ میں کافروں کومومنین اپنی تعداد سے زیادہ دکھائی دیتے تھے یعنی اگر ان کی تعداد ۳۱۳ تھی تو چھ سو سے زیادہ دکھائی دیتے تھے ۔ ۱ یہ مسلمانوں کی کامیابی کے لیے خدا ئی امداد تھی کیونکہ خدا اپنے مجاہد اور مومن بندوں کی کئی طرح سے مدد کرتا ہے ۔ ایسا ظاہری پہلو سے بھی فطری اور طبیعی نظر آتا ہے کیونکہ جب جنگ شروع ہوئی تو مسلمانوں نے دشمنوں پر کمر توڑ ضربیں لگائیں اس لئے کہ وہ قوتِ ایمان اور تربیت ِ اسلامی سے آراستہ تھے ، دشمنوں نے یہ دیکھا تو وہ اتنے مرعوب اور وحشت زدہ ہوئے کہ سمجھنے لگے کہ مسلمانوں کے ساتھ اتنی ہی طاقت اور آملی ہے اور پہلی قوت سے دو گنا طاقت سے وہ میدان جنگ پر قابض ہو گئے ہیں اور جب کہ دشمنان ِ اسلام جنگ شروع ہونے سے پہلے اس نتیجے کا خیال تک بھی نہ کر سکتے تھے اور مسلمامن ان کو اصل تعداد سے بھی کم لگتے تھے ۔ سورہ انفال کی آیت ۴۴ میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے اور وہ آیت مندرجہ بالا تفسیر کی تائید کرتی ہے :۔ ”و اذیرکموھم اذ التقیتم فی اعینکم قلیلاً و یقللکم فی اعینھم لیقضی اللہ امراً کان مفعولاً“۔ وہ وقت یاد کروجب میدان ِ جنگ میں اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کو تمہاری تعداد کم کرکے دکھائی تاکہ وہ اس جنگ سے منہ نہ پھیریں جس کا انجام ان کی شکست ہے ) اور انہیں بھی تمہاری نظر میں کم کرکے دکھا یا ( تاکہ اس تاریخی اور فیصلہ کن جنگ میں تمہارے دل بھی کمزور نہ ہوں ) لیکن جنگ شروع ہوتے ہیں معاملہ دگر گوںن ہو گیا اور مسلمان جتنے تھے دشمن کو اس سے زیادہ نظر آنے لگے اور یہ ان ( دشمنوں ) کی شکست کا ایک عامل تھا ۔ بدر کی تاریخ جنگ کے بارے میں سورہ انفال کی آیہ ۴۱ سے لے کر ۴۵ تک کی تفسیر میں انشاء اللہ تفصیل سے بحث کریں گے ۔ ”و اللہ یوٴیّد بنصرہ من یشاء“ اس جملے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ خدا جسے چاہتا ہے غلبہ او رکامیابی عطا کرتا ہے البتہ جیسا کہ ہم متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں مشیت الٰہی بغیر کسی وجہ اور بنیاد کے عمل میں نہیں آتی بلکہ ہمیشہ اس کی کوئی حکمت و مصلحت ہوتی ہے اور یہ لوگوں کی اہلیت کی حدود میں محدود ہوتی ہے یعنی جو تائید کی لیاقت رکھتے ہیں انہی کی تائید کی جاتی ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ بدر کے تاریخی واقعے میں تائید الٰہی اور مسلمانوں کی کامیابی کے دو پہلو تھے ۔ ایک یہ فوجی لحاظ سے کامیابی تھی اور دوسری منطقی پہلو سے ۔ فوجی کامیابی اِ س لحاظ سے تھی کہ ایک چھوٹا سا لشکر جس کے پاس جنگی ساز و سامان نہیں تھا ایسے لشکر پر غالب آگیا جو تعداد میں کئی گنا زیادہ تھا اور بے پناہ سازو سامان سے لیس تھا اور منطقی کامیابی اس حوالے سے تھی کہ خدا تعالیٰ نے جنگ ہونے سے پہلے ہی صراحت سے مسلمانوں کو اس میں کامیابی کی خبر دے دی تھی ۔ ” إِنَّ فِی ذَلِکَ لَعِبْرَةً لِاٴُوْلِی الْاٴَبْصَارِ “۔ اس آٰیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ جو لوگ چشم بصیرت رکھتے ہیں اور حقائق کو صحیح طور پر دیکھتے ہیں وہ اہل ایمان کی اِس کامیابی کو اس حوالے سے دیکھتے اور پہچانتے ہیں کہ کامیابیوں اور کامرانیوں کا اصل سرمایہ ایمان اور صرف ایمان ہے اور پھر وہ اس سے درسِ عبرت حاصل کرتے ہیں ۔ ۱۴۔ زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنْ النِّسَاءِ وَالْبَنِینَ وَالْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنْ الذَّہَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاٴَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِکَ مَتَاعُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَاللهُ عِنْدَہُ حُسْنُ الْمَآبِ ۔ ترجمہ ۱۴۔ مادی چیزوں میں سے عورتیں ، اولاد اور مال جو سونے چاندی کے ڈھیر وں پر مشتمل ہو منتخب گھوڑے ، جانور ار زراعت لوگوں کی نظر میں پسندیدہ بنادیئے گئے ہیں ( تاکہ ان کے ذریعے ان کی آز مائش اور تربیت ہو لیکن )یہ چیزیں (اگر انسان کے اصلی مقاصد کے لئے ذریعہ بنیں پھر بھی ( پست) مادی زندگی کا سرمایہ ہیں اور انجام ِ نیک ( اور عالی زندگی ) خدا کے پاس ہے ۔ ۱ یہ تفسیر اس نظریے کی بنیاد پر ہے کہ ” یرون“ کفار کے بارے میں ہے اور ”ھم“ کی ضمیر کا اشارہ مسلمانوں کی طرف ہے اور یہی آیت کا واضح مفہوم بنتا ہے ، اگر چہ مفسرین نے ضمیروں کے مرجح کے بارے میں اور احتمالات بھی بیان کئے گئے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:13
یہ انسان کا اصلی مقصد اور ہدف نہیں ہیں
گذشتہ آیات میں بتا یا گیا ہے کہ انسان کا حقیقی سر مایہ ایمان ہے نہ کہ مال و دولت اور کثرت اولاد وافراد ۔ اب یہ آیت اس حقیقت کی نشاندھی کرتی ہے کہ بیوی بچے اور مال و ثروت اس جہان کی مادی زندگی کے لئے سرمایہ ہیں ۔ یہ انسان کا اصلی مقصد اور ہدف نہیں ہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ ان وسائل کے بغیر روحانی و معنوی سعادت کی راہ بھی طے نہیں کی جاسکتی لیکن اس راہ میں ان سے کام لینا اور چیز ہے اور (وسیلہ نہ سمجھتے ہوئے ) ان وابستگی او ران کی پرستش دوسری چیز ہے ۔ اس آیت میں چند قابل توجہ نکات ہیں جن کا ہم ذیل میں ذکر کرتے ہیں