وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
Do not weaken or grieve: you shall have the upper hand, should you be faithful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:139
[Pooya/Ali Commentary 3:139] After the battle of Uhad this verse was revealed to create confidence in the Muslims so that they might not grieve excessively for the loss of relatives and lose heart because of a partial set back in the battlefield (due to their own greed and lack of discipline).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:139-143
جنگ احد میں شکست کے اسباب کا مختصر جائزہ
جنگ احد میں شکست کے اسباب کا مختصر جائزہ اوپر کی آیات میں بعض ایسی قابل توجہ تعبیرات نظر آتی ہیں جن میں سے ہر ایک جنگ احد کی شکست کے کسی نہ کسی راز سے پردہ اٹھاتی ہے ۔ مختصرا یہ کہ چند ایک ایسے عوامل موجود تھے کہ جن کی بنا پر یہ دل خراش اور عبرت آموز حادثہ رو نما ہوا ۔ ۱۔ بعض نو مسلموں معانی اسلام کے ادراک میں اشتباہ پیدا ہوا ۔ ان کا خیال تھا کہ صرف ایمان کا اظہار ہی کامیابی کے لئے کافی ہے ۔لہٰذا تمام جنگوں میں غیبی امداد کے ذریعے خدا ان کی حمایت کرے گا ۔ اس طرح انہوں نے کامیابی کے فتری عوامل ، صحیح منصوبہ سازی اور ضروری مسائل فراہم کرنے کے سلسلہ میں سنت الٰہی کو پس پشت ڈال دیا ۔ ۲۔ فوجی نظم و ضبط کی پابندی نہ کرنا ، پیغمبر اکرم کا تاکیدی فرمان تھا کہ تیر انداز اپنے حساس مورچے پر ڈٹے رہیں ۔ اس فرمان کی مخالفت اس شکست کا موثر عامل بنی۔ ۳۔نو مسلموں کی دنیا پرستی کہ جنہوں نے جنگی غنائم کی جمع آوری کو دشمن کا پیچھا کرنے پر ترجیح دی اور اصلحہ اتار کر غنیمت حاصل کرنے کے لئے چل پڑے حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ راہ خدا میں جہاد کرتے وقت ان باتوں کی طرف دھیان نہیں دینا چاہیے ۔ ۴۔ تکبر اور غرور جو جنگ بدر کی کامیابی سے پیدا ہوا تھا یہاں تک کہ وہ دشمن کی طاقت کو اپنے اذہان سے نکال بیٹھے تھے اور اس کے ساز و سامان کو معمولی سمجھ بیٹھے تھے ۔ یہ اس شکست کا چوتھا اہم عامل تھا ۔ یہ وہ کمزور پہلو تھے جنہیں اس شکست کے کھولتے ہوئے پانی سے دھونے کی ضرورت تھی ۔ ۱۴۴۔وَ ما مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اٴَ فَإِنْ ماتَ اٴَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلی اٴَعْقابِکُمْ وَ مَنْ یَنْقَلِبْ عَلی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَضُرَّ اللَّہَ شَیْئاً وَ سَیَجْزِی اللَّہُ الشَّاکِرینَ ۱۴۵۔وَ ما کانَ لِنَفْسٍ اٴَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللَّہِ کِتاباً مُؤَجَّلاً وَ مَنْ یُرِدْ ثَوابَ الدُّنْیا نُؤْتِہِ مِنْہا وَ مَنْ یُرِدْ ثَوابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِہِ مِنْہا وَ سَنَجْزِی الشَّاکِرینَ ۔ ترجمہ ۱۴۴۔ محمد صرف خدا کے رسول ہیں اور ان سے بھی بہت سے رسول گذرے ہیں کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انہیں قتل کر دیا جائے تو تم الٹے پاوٴں پھر جاوٴ گے ( اور ان کے فوت ہونے سے اسلام کو چھوڑ کر کفر و بت پرستی کے زمانہ کی طرف پلٹ جاوٴ گے ) اور جو شخص پلٹ جائے گا وہ ہرگز خدا کو ضرر نہیں پہنچائے گا اور خدا تعا لیٰ عنقریب شکر گزاروں ( اور استقامت رکھنے والوں ) کو جزا دے گا ۔ ۱۴۵۔ اور کوئی شخص حکم خدا کے بغیر نہیں مرتا یہ معین شدہ سر نوشت ہے (اس بنا پر پیغمبر اوردوسرے لوگوں کی وفات سنت الٰہی ہے ) تو جو شخص بھی دنیا کا ثواب اور جزا چاہتا ہے ( اور اپنی زندگی میں اس کے لئے کوشش کرتا ہے ) تو اس میں کچھ نہ کچھ ہم اسے دیں گے اور جو آخرت کس ثواب اور جزا چاہتا ہے تو اس میں اسے عطا کریں گے اور عنقریب شکر گزاروں کو جزاء دیں گے ۔ شان نزول یہ آیت بھی جنگ احد کے ایک حادثہ کے بارے میں ہے اور وہ یہ کہ جس وقت جنگ کی آگ مسلمانوں اور بت پرستوں کے درمیان شعلہ زن تھی ، اچانک ایک آواز بلند ہوئی اور کسی نے کہا : ” میں نے محمد کو قتل کر دیا “یہ ٹھیک اس وقت کی بات ہے جب ایک شخص عمر بن قیمشہ حارثی نے ایک پتھر آنحضرت کی طرف پھینکا اور پیغمبر کی پیشانی اور دندان مبارک شہید ہو گئے ۔ نچلا لب پھٹ گیا اور آپ کا رخسار مبارک لہو لہان ہو گیا ۔ ۱ # اس موقع پر ایک دشمن چاہتا تھا کہ آپ کو قتل کردے ۔ اس دور می لشکر اسلام کے ایک علمدار مصعب بن عمیر ان کے حملوں کو تو روک دیا لیکن خود شہید ہو گیا۔ اس کی شکل چونکہ پیغمبر سے ملتی جلتی تھی تو دشمن نے یہی گمان کیا کہ پیغمبر خاک و خون میں تڑپ رہے ہیں۔ یہ آواز فضائے عالم میں گونج اٹھی اس آواز سے جتنا بت پرستوں کے جذبات پر مثبت اثر پیدا ہوا اتنا ہی مسلمانوں میں عجیب اضطراب پیدا ہوگیا ۔ چنانچہ ایک کثیر گروہ کے ہاتھ پاوٴں جواب دے گئے اور وہ بڑی تیزی سے میدان جنگ سے نکل گئے ۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے سوچاکہ پیغمبر تو شہید ہو گئے ہیں لہٰذا اسلام ہی کو خیر باد کہہ دیا جائے اور بت پرستوں کے سرداروں سے امان لی جائے ۔ لیکن ان کے مقابلہ میں فدا کاروں اور جا نثاروں کی بھی ایک قلیل جماعت تھی جن میں حضرت علی (ع) ، ابودجانہ اور طلحہ جیسے بہادر لوگ موجود تھے جو باقی لوگوں کو پا مردی اور استقامت کی دعوت دے رہے تھے ۔ ان میں سے انس بن نضر کو لوگوں کے درمیان آیا اور کہنے لگا ؛ اے لوگو ! اگر محمد شہید ہوگئے ہیں تو محمد کا خدا قتل نہیںہوا ۔ چلو اور جنگ کرو اسی نیک اور مقدس ہدف کے حصول کے لئے درجہ شہادت پر فائز ہو جاوٴ ۔ یہ گفتگو تمام کرتے ہی انہوں نے دشمن پر حملہ کر دیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔ تا ہم جلدی ہی معلوم ہو گیا کہ پیغمبر اکرم سلامت ہیں اور اطلاع اشتباھاً دی گئی تھی ۔ مندرجہ بالا آیت اسی مقام پر نازل ہوئی اور اس نے پہلے گروہ کی مذمت کی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:139-143
کھوکھلی باتیں
کھوکھلی باتیں وَ لَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اٴَنْ تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَاٴَیْتُمُوہُ وَ اٴَنْتُمْ تَنْظُرُونَ۔ جنگ بدر میں بعض مسلمانوں کی پر افتخار شہادت کے بعد بعض مسلمان جب باہم مل بیٹھتے تو ہمیشہ شہادت کی آرزو کرتے اور کہتے کاش یہ اعزاز میدان بدر میں ہمیں بھی نصیب ہوتا ۔ یقینا ان میں کچھ لوگ سچے بھی تھے لیکن ان میں ایک جھوٹا گروہ بھی تھا جس نے اپنے آپ کو سمجھنے میں اشتباہ کیا بہر حال زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ جنگ احد کا وحشتناک معرکہ در پیش ہوا تو ان سچے مجاہدین نے بہادری سے جنگ کی اور جام شہادت نوش کیا اور اپنی آرزو کو پا لیا لیکن جھوٹوں کے گروہ نے جب لشکر اسلام میں شکست کے آثار دیکھے تو وہ قتل ہونے کے ڈر سے بھاگ کھڑے ہوئے تو یہ آیت انہیں سرزنش کرتے ہوئے کہتی ہے کہ تم ایسے لوگ تھے کہ جو دلوں میں آرزو اور تمنا ئے شہادت کے دعویدار تھے ، پھر جب تم نے اپنے محبوب کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:139-143
پرورش وتربیت کا میدان
پرورش وتربیت کا میدان ولیمحص اللہ الذین اٰمنوا۔۔۔۔۔۔ ” لیمحص“ تمحیص کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کے ہر نقص وعیب سے پاک و صاف کرنا ”یمحق “مادہ محق (بروزن مرد)سے ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کا آہستہ آہستہ کم ہونا ۔ اسی مناسبت سے مہینہ کی آخری رات کو ”محاق “ کہا جاتا ہے کیونکہ آہستہ آہستہ چاند کی روشنی کم اور ختم ہو جاتی ہے ۔ اس آیت میں جنگ احدکے ایک اورفطری نتیجہ کی طرف اشارہ ہوا ہے اور وہ یہ کہ اس قسم کی شکستیں جماعتوں کی کمزوری اور عیوب کے پہلو واضح کرتی ہےں اور ان عیوب کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ خدا چاہتا تھا کہ اس معرکہ حق باطل میں با ایمان افراد کو خالص قرار دے اور انہیں کمزوری کے نقاط کی نشاندہی کرے تاکہ وہ آئندہ کی اس قسم کی آزمائش کی کھٹالی سے گذر کر اپنی ہوشیاری کا اندازہ لگا لیں جیسا کہ حضرت علی (ع) کا ارشاد ہے : ”فی تقلب الاحوال یعلم جواھر الرجال “ حالات کی دگرگونی اور زندگی کے کٹھن حوادث میں لوگوں کے جوہر کا پتہ چلتا ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں سے با خبر ہوتے ہیں ۔یہ وہ مقام ہے جہاں بعض شکستیں ایسی اصلاح پر ہوتی ہیں کہ جن کے اثرات انسانی معاشروں میں ظاہری خواب اور کامیابیوں سے کئی درجے زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ تفسیر ”المنار “کا موٴلف اپنے استادمصر کے عظیم مفتی محمد عبدہ سے نقل کرتا ہے کہ انہوں نے پیغمبر اکرم کو خواب میں دیکھا اور آپ نے اس سے فرمایا کہ اگر مجھے میدان احد میں فتح و شکست کا مختار قرار دیا جاتا تو میں اس میدان میں شکست کو ترجیح دیتا کیونکہ یہ شکست تاریخ اسلام میں اصلاح کنندہ عامل بن گئی ۔ ”و یمحق الکافرین “ یہ جملہ در حقیقت پہلے جملہ کا نتیجہ ہے کیونکہ جب مومنین حوادث کی کھٹالی میں مضبوط اور پاک ہو گئے تو ان میں کفر و شرک کی برائی کو دور کرنے اور اپنے معاشرہ کو ان گندگیوں سے پاک کرنے کی کا فی آمادگی پیدا ہو گئی یعنی پہلے خود پاک ہونا چاہیے اور پھر دوسروں کو پاک کرنا چاہیے ۔ حقیقت میں جس طرح کہ چاند اپنی جلوہ گری کے ساتھ آہستہ آہستہ کم روشن ہو جاتا ہے اور وہ حالت محاق میں چلا جاتا ہے ، اسی طرح کفر و شرک اور ان کے حامیوں کی عظمت مسلمانوںکی مضبوطی پاکیزگی سے زوال پذیر ہو گئی ۔ اٴَمْ حَسِبْتُمْ اٴَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللَّہُ الَّذینَ جاہَدُوا مِنْکُمْ وَ یَعْلَمَ الصَّابِرینَ ۔ قرآن مجید واقعہ احد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے ایک فکری اشتباہ کی تصحیح کرتا ہے کہ تم یہ خیال کرتے ہو کہ جہاد میں استقامت کا مظاہرہ کئے بغیر بہشت بریں میں قیامت پذیر ہو جاوٴ گے کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ اس معنوی سعادت کے اندر داخل ہونا صرف مسلمان کہلوانے یا عمل کے بغیر صرف عقیدہ سے ممکن ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو معاملہ نہایت سہل ہوتا لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے اور جب تک حقیقی عقائد کی میدان عمل میں عکاسی نہ ہو کوئی شخص بھی ان سعادتوں سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا ۔ آزمائش کی منزل پر (حق و باطل کی ) صفیں ایک دوسرے سے ممتاز ہو جاتی ہیں اور مجاہد ومہاجر بے قیمت و بے ارزش افراد سے ممتاز نظر آتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:139-143
جنگ احد کے نتائج
وَ لا تَہِنُوا وَ لا تَحْزَنُوا وَ اٴَنْتُمُ الْاٴَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ۔ ” تہنو“ ”وہن “کے مادے سے لیا گیا ہے ۔ وہن لغت میں ہر قسم کی سستی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔خواہ اس کا تعلق جسم سے ہویا ارادہ ایمان سے ۔ اس آیت میں پہلے تو مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک جنگ میں شکست کی وجہ سے تم میں سستی اور کمزوری پیدا ہو اور تم محزون ہو کر آخری کامیابی سے مایوس ہو جاوٴ ۔ کیونکہ بیدار مغز افراد جس طرح کا میابیوں سے استفادہ کرتے ہیں اسی طرح شکست سے بھی درس حاصل کرتے ہیں اور اس کے سائے میں کمزوری کے نقاط اور شکست کی وجوہات تلاش کرتے ہیں اور انہیں دور کر کے آخری کامیابی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ”اٴَنْتُمُ الْاٴَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ۔“ (تم ہی بر ترہو اگر تم میں ایمان ہو ) ایک بہت ہی پر معنی جملہ ہے ۔ یعنی تمہاری شکست در حقیقت روح ایمان اور اس کے آثار کھو بیٹھنے کی وجہ تھی ۔ اگر تم فرمان خدا اور رسول کو پائے نا فرمانی سے نہ روندتے تو اس قسم کی مصیبت میں گرفتار نہ ہوتے ۔ تا ہم تمہیں رنج و ملال نہیں ہونا چاہئے اگر راہ ایمان پر ثابت قدم رہے تو آخری فتحہ تمہاری ہوگی اور ایک میدان میں شکست سے دوچار ہو نے کا معنی حتمی شکست نہیں ہے ۔ إِنْ یَمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُہُ۔ ”قرح “کا معنی ایسا زخم ہے جو بدن میں کسی خارجی عامل کی وجہ سے پیدا ہوا ۔ اس آیت میں ایک دوسرا درس آخری کامیابی تک پہنچنے کے لئے مسلمانوں کو دیا جا رہا ہے کہ تمہیں دشمن سے کمتر تو نہیں ہونا چاہیے ۔ وہ سخت سنگین شکست سے دوچار ہوئے تھے ۔ ان کے ستر آدمیوں کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور بہت سے لوگ زخمی اور قید ہوئے تھے ۔با ایں ہمہ وہ ہاتھ پرہاتھ رکھ کر بیٹھے نہیں رہے بلکہ میدان احد میں تمہاری غفلت کی وجہ سے انہوں نے اپنی شکست کی تلافی کی ہے ۔ اب اگر تم اس میدان میں شکست کھا گئے ہو تو تم بھی نقصان کی تلافی کئے بغیر نہ جاوٴ اسی لئے ارشاد ہوا ہے کہ اگر تمہیں زخم لگے ہیں ۔ بنا بر ایں تمہاری سستی اور غم اندوہ کی وجہ کیا ہے ۔ بعض مفسرین اس آیت میں زخموں سے مراد کفار کے وہ زخم لیتے ہیں جو انہیں جنگ احد میں لگے تھے ۔ لیکن پہلے تو یہ زخم مسلمانوں کے زخموں جیسے نہیں تھے ۔ لہٰذا یہ لفظ مثلہ کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتے اور دوسرا یہ کہ یہ بعد کے جملہ کے ساتھ بھی مناسبت نہیں رکھتے جس کی تفسیر عنقریب آجائے گی۔ وَ تِلْکَ الْاٴَیَّامُ نُداوِلُہا بَیْنَ النَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا وَ یَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَداء َ اس حصہ میں پہلے ایک سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ انسانی زندگی میں تلخ و شیریں حوادث وٴتے رہتے ہیں کہ جن میں سے کسی کے لئے پائداری نہیں ہے ۔ فتوحات و نا کامیاں ، قدرتیںاور نا توانیاں سب کی اطاعت بدلتی رہتی ہے ۔لہٰذا ایک میدان کی شکست اور اس کے آثار کو پائدار نہیں سمجھنا چاہیےےبلکہ شکست کے عوامل اور اسباب کا مطالعہ کرکے ان میں رو نما ہونے والی تبدیلیوں سے استفادہ کیا جائے اور اسے کامیابی سے بدلا جائے دنیا میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ اور زندگی اپنے اصول کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے اور خدا ان ایام کو لوگوں کے درمیان گردش دیتا رہتا ہے تا کہ ان حواث و واقعات میں سے سنت تکامل آشکار ہو جائے ۔ ۱ # بعد از اں ان ناگوار واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ”ولیعم اللہ الذین اٰمنوا “ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ صاحبان ایمان افراد ایمان کے دعویداروں سے الگ ہو جائیں ۔ دوسرے لفظوں میں جب تک درد ناک واقعات کسی قوم میں واقع ہوں تو ان کی صفیں ایک دوسرے سے مشخص نہیں ہوں گی کیونکہ کامیابیاں لوگوں کو غفلت کی نیند سلا دیتی ہےں جبکہ شکستیں تیار افراد کے لئے بیدار کرنے والی ہوتی ہیں اور ان کی قدرو قیمت کی نشاندہی کرتی ہےں ”ویتخذ منکم شہداء “ میں ارشاد ہوتا ہے کہ اس شکست کے نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ تم راہ اسلام میں شہادتیں اور قربانیاں پیش کرو اور جان لو کہ یہ پاک دین وآئین تمہیں مفت میں نہیں مل گیا مبادا آئندہ اسے تھوڑی سی قیمت پر دے بیٹھو۔جو قوم مقدس مقاصد اور اہداف کے لئے قربانی نہ دے ،وہ انہیں کم تر سمجھتی ہے لیکن جب ان کے لئے قربانیاں دے آئندہ نسلیں بھی انہیں عظمت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ لفظ شہدا سے مراد یہاں گواہ ہوں یعنی خدا چاہتا ہے کہ اس حادثہ سے تم میں سے کچھ گواہ لے لے کہ کس طرح نا فرمانیوں کا انجام شکست ہوا کرتا ہے اور آئندہ جب کبھی انہیں اس قسم کے حادثوں کا سامنا ہو یہ گواہ ان کے لئے معلم کا کردار ادا کریں گے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ اس لئے ان کی حمایت بھی نہیں کریگا ۔ ۱ # ”ایام “ ”یوم “ کی جمع ہے ۔” یوم “ کا معنی ہے” دن “۔ لوگوں کی کامیابی کے زمانے کو بھی ایام کہا جاتا ہے ۔ ”ندا و لھا “ ”معاولہ “ سے ہے اس کا معنی ہے ایک چیز کو مختلف لوگوں کے درمیا ن گردش دینا ۔