يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
O you who have faith! Do not take your confidants from others than yourselves; they will spare nothing to ruin you. They are eager to see you in distress. Hatred has already shown itself from their mouths, and what their breasts hide [within] is yet worse. We have certainly made the signs clear for you, should you exercise your reason.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:118
[Pooya/Ali Commentary 3:118] Please refer to verse 28 of Ali Imran. The believers are warned not to make friends with the enemies of Islam, their associates and relatives. Tolerance is desirable only when it is known that there is no joining of hands to launch an offensive against the true faith. It is a wise maxim to preserve the faith from the contaminating influence of impiety and infidelity. The disbelievers will not fall short in corrupting or vitiating the true belief of the believers, because they cannot control their hatred. The believers are bound to believe in all revealed books, but their enemies do not believe in the final book of Allah. To make mischief they pose as believers and plot to harm the faithfuls, but the end they seek shall never be achieved. The glory of the true believers shall continue and increase and shall never perish. Allah knows the spite that is rankling in the breasts of the enemies of the true faithfuls, and has laid it bare.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:118-120
مسلمانوں کے لئے تنبیہ
خدا وند عالم اس آیت میں مسلمانوں کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو اپنا عزیز نہ سمجھیں اور مسلمانوں کی راز کی باتیں ان کے سمنے ظاہر نہ کریں ۔ یہ خطرے کی نشاندہی عمومی شکل میں ہے ، ہر زمانہ اور ہر حالت میں مسلمانوں کو اس تنبیہ کی طرف متوجہ رہنا چاہیے لیکن تاٴسف ہے کہ قرآن کے بہت سے ماننے والے اس تنبیہ سے غفلت برتتے ہیں اور اس کے نتیجے بہت سی مشکلات میں گرفتار ہو جاتے ہیں ۔ عصر حاضر میں بھی مسلمانوں کے گرد وپیش ایسے خفیہ دشمن ہیں جو اپنے آپ کو ان کا دوست ظاہر کرتے ہیں اور ظاری طور پر مسلمانوں کی حمایت کا دم بھرتے ہیں لیکن ان کی کارستانیاں ان کا جھوٹ ظاہر کر تی ہیں ۔ مسلمان ان کے ظاہر سے دھوکا کھا کر ان پر اعتماد کرتے ہیں ۔حالانکہ وہ مسلمانوں کے لئے پریشانی اور رو سیاہی کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے اور ان کی راہ میں کانٹے بچھا کر ان کی مشکلات میں اضافہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں گذشتہ چند سالوں میں مسلمان دو بڑی جنگوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔ پہلی جنگ میں انہیں درد ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ دوسری جنگ میں وہ واضح کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئے اور دشمنوں کا وحشت ناک رعب اور نا قابل شکست ہونے کا افسانہ صحرائے سینا اور جولان کی پہاڑیوں کے معرکے میں پہلے دن دفن ہو گایا اور مسلمانوں نے پہلی مرتبہ کامیابی کا ذائقہ چکھا ۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا کہ اس مختصر سی مدت میں حالات دگر گوں ہو گئے ۔ اس سوال کے لئے ایک طویل و عریض جواب کی ضرورت ہے لیکن اس شکشت و کامیابی کا ایک موٴثر عامل یہ تھا کہ پہلی جنگ میں اغیار جن میں سے بعض ظاہراً دوستی کا دم بھرتے تھے مسلمانوں کے جنگی منصوبوں سے واقف نہیں تھا اور یہی ان کی کامیابی کا راز تھا اور یہ اس حکم قرآنی کی عظمت کی بیّن دلیل تھی۔ ۱۲۱۔ وَ إِذْ غَدَوْتَ مِنْ اٴَہْلِکَ تُبَوِّءُ الْمُؤْمِنِینَ مَقاعِدَ لِلْقِتالِ وَ اللَّہُ سَمیعٌ عَلیمٌ ۔ ۱۲۲۔ إِذْ ہَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْکُمْ اٴَنْ تَفْشَلا وَ اللَّہُ وَلِیُّہُما وَ عَلَی اللَّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ۔ ترجمہ ۱۲۱۔ اور (یاد کرو) وہ وقت جب تم صبح کے وقت اپنے گھر والوں سے مومنین کے لئے لشکر جنگ انتخاب کرنے باہر نکلے ۔ خدا سننے اور جاننے والا ہے ( جنگ کے بارے میں جو بات چیت کی گئی اور جو افکار بعضوں کے دماغ میں پرورش پا رہے ہیں خدا انہیں جانتا ہے )۔ ۱۲۲۔ اور (یاد کرو) وہ وقت جب تم میں سے دو گروہوں نے سستی کامظاہرہ کرنے کا مصمم ارادہ کیا ( اور چاہا کہ وہ راستے سے پلٹ جائیں ) اور خداان کا مدد گار تھا(کہ وہ اس فکر سے بعض آجائیں ) اور اہل ایمان کو صرف خدا پر توکل کرنا چاہیے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:118-120
اغیار کو راز دار نہ بناوٴ
”یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِکُمْ ۔۔۔۔۔۔۔“ ” بطانت “ کے لغوی معنیٰ ہیں نچلا لباس اوراس کے مقابلہ میں ”ظہارہ “ (اوپر کا لباس) ہے یہاں یہ رازداں سے کنایہ ہے اور ” خیال “ اصل میں کسی چیز کے نیست و نابود ہونے کے معنیٰ میں ہے اور زیادہ تر ان نقصانات پر اس کا اطلاق ہو تا ہے جو عقل انسانی پر اثر انداز ہوں ۔ گذشتہ آیات میں مسلمانوں اور کفار کا تقابل کیا گیا ۔ اس آیت میں ایک حساس مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے اور حسین و لطیف تشبیہ کے ذریعے تنبیہ کی گئی ہے کہ اپنے ہم مسلک افراد کے علاوہ کسی کو اپنا دوست اور ہمراز ہونا چاہیے کیونکہ وہ مسلمانوں کو گذند پہنچانے میں کوتاہی نہیں کرتے (لایالونکم خبالا)۔ سابقہ دوستی ہر گز ان کے لئے رکاوٹ نہیں بنتی کہ وہ مذ ہب و مسلک کی بنا پر تمہاری تکلیف و نقصان کا نہ سوچیں بلکہ ان کی ہمیشہ خواہش یہ ہے کہ تم غم و اندوہ میں مبتلاء رہو (ودّوا ما عنتم)۔ وہ عموماًاپنی رفتار و گفتار میں حتیاط برتتے ہیں اور سوچ سمجھ کر بات کرتے ہےں تا کہ تم پر ان کے راز فاش نہ ہوں اور نہ کی مخفی باتوں کا تمہیں علم ہو ۔لیکن اس کے باوجود دشمنی وعداوت کے آثار ان کی باتوں سے ٹپکتے ہیں اور کبھی کبھار لا شعوری طور پر کچھ باتیں ان کی زبان پر آجاتی ہیں جو ان کے دلوں میں آگ کی چنگاریوں کی مانند ہیں اور ان کی وجہ سے ان کے باطن کو سمجھا جاسکتا ہے ۔(قد بدت البغضاء من افواھھم)۔ آیت وہ حقیقت بیان کر رہی ہے جس کی طرف حضرت علی علیہ السلام نے اپنے خطبے میں اشارہ فرمایا ہے کہ : ”ما اضمر احد شیئاالا ظھر فی صفحات وجھہ او فلتات لسانہ “ کو ئی شخص اپنے باطن میں کسی راز کو نہیں چھپا سکتا مگر یہ کہ وہ اس کے چہرے کے رنگ اور اکھڑی اکھڑی، توجہ سے خالی باتوں سے ظاہر ہو جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس سے خدا وند عالم نے دشمنوں کے باطن کو پہچاننے کے طریقہ کی نشاندہی کی ہے اور ان کی اندرونی باتوں کے متعلق فرماتا ہے کہ جو کچھ عداوت اور دشمنی وہ اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے کئی درجہ زیادہ ہے جس کا وہ زبان سے اظہار کرتے ہیں ( وما تخفی صدورھم)۔ اس کے بعد مزید کہا گیا ہے کہ ہم نے یہ آیات اس لئے بیان کیں کہ ان میں تدبر کرنے سے تم دوست ، دشمن کو بآسانی سمجھ سکو گے اور دشمنوں کے شر سے خلاصی حاصل کرلوگے (قد بینا لکم الآیات ان کنتم تعقلون ) ۔ ہا اٴَنْتُمْ اٴُولاء ِ تُحِبُّونَہُمْ وَ لا یُحِبُّونَکُمْ وَ تُؤْمِنُونَ بِالْکِتابِ کُلِّہِ ۔۔۔۔۔۔ اے گروہ مسلمین !تم ان سے قرابت ، ہمسائیگی یا کسی اور سبب سے دوستی کا رشتہ قئم کرتے ہو مگر اس سے غافل ہو کہ وہ تمہیں ہر گز دوست نہیں رکھتے ۔ حالانکہ تم اللہ کی طرف سے کردہ تمام آسمانی کتب پر ایمان رکھتے ہو ( چاہے وہ تمہاری کتاب ہو یا ان کی آسمانی کتب ) لیکن وہ تمہا ری آسمانی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے ۔ ”وَ إِذا لَقُوکُمْ قالُوا آمَنَّا وَ إِذا خَلَوْا عَضُّوا عَلَیْکُمُ الْاٴَنامِلَ مِنَ الْغَیْظِ ۔۔“ اہل کتاب کا یہ گروہ دوغلا پن کرتا ہے جب وہ تم سے ملتے ہےں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ہم تمہارے دین کی تصدیق کرتے ہیں لیکن جب علیحدگی میں ہوتے ہیں تو کینہ وعداوت اور غصہ سے اپنی انگلیوں کی پوریں کاٹتے ہیں ( قُلْ مُوتُوا بِغَیْظِکُمْ )۔کہہ دو ! اپنے غصہ میں جل مرو اور یہ غیظ و غضب مرتے دم تک تم سے جدا نہیں ہو گا ۔ ”إِنَّ اللَّہَ عَلیمٌ بِذاتِ الصُّدُور“ تم ان کی کیفیت سے آگاہ نہیں ہولیکن وہ خدا ان کی خبر رکھتا ہے کیونکہ وہ دلوں میں چھپے ہوئے بھیدوں سے واقف ہے ۔ إِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْہُمْ وَ إِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّئَةٌ یَفْرَحُوا بِہا ۔۔۔۔۔۔ ۔ اس آیت میں ان کے بغض و کینہ کی ایک علامت بیان کی گئی ہے کہ اگر تمہیں فتح و کامیابی نصیب ہو تو وہ نا خوش ہوتے ہیں اور تمہیں کوئی ان خوش گوار واقعہ پیش آئے تو وہ مسرور ہوتے ہیں ۔ ”وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا لا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئاً إِنَّ اللَّہَ بِما یَعْمَلُونَ مُحیطٌ۔ لیکن اگر تم ان کی کینہ پروریوں کے مقابلہ میں صبر سے کام لو خوددار و پرہیزگار ہو جاوٴ تو وہ اپنی خائن سازشوں کے ذریعے تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچاسکتے کیونکہ جو کچھ وہ کرتے ہیں ، اس پر خدا مکمل کنٹرول رکھتا ہے ۔ بنا بر ایں آیت کے سیاق وسباق سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے دشمنوں کی بری سازشوں سے بچنے کے لئے استقامت، ہوشیاری اور تقویٰ شرط ہے اور اسی صورت میں ان سے مامون رہنے کی ضمانت دی گئی ہے ۔