كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ
You are the best nation [ever] brought forth for mankind: you bid what is right and forbid what is wrong, and have faith in Allah. And if the People of the Book had believed, it would have been better for them. Among them [some] are faithful, but most of them are transgressors.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:110
[Pooya/Ali Commentary 3:110] Khayra ummatin means the best group of people. As has been said in verse 104 of this surah that there is a select group of people who call others to virtue and enjoin that which is good (amr bil ma-ruf) and forbid evil (nahya anil munkar), in this verse also the entire Muslim people are addressed through the best group of people who enjoin good and forbid evil because enjoining good and forbidding evil entails conditions in which the whole community cannot share. The torturers of the Holy Prophet's daughter, Bibi Fatimah Zahra, and the persecutors and the murderers of the holy Imams (from Imam Ali Murtada to Imam Hasan Askari) were Muslims. Mu-awiyah bin abu Sufyan persecuted Imam Hasan and poisoned him through a woman. Yazid bin Mu-awiyah bin Abu Sufyan killed Imam Husayn, his sons and relatives and friends, including his 6 months old son, Ali Asghar, in Karbala; and thereafter imprisoned and tortured the ladies and the children of the house of the Holy Prophet for several months. Almost all the Umayyid and Abbaside caliphs were drunkards and libertines. They killed all the holy Imams of the Ahl ul Bayt, from Imam Ali bin Husayn to Imam Hasan bin Ali, and some of them desecrated the holy Kabah and the holy masjid nabawwi. The torturers, persecutors and murderers, mentioned above, are not only considered Muslims but respected as the khalifatul muslimin or khalifatur rasul by the majority of the Muslims except the followers of Muhammad and ali Muhammad (Shi-as) who acknowledge the Ahl ul Bayt only as the best group of people because of their learning, knowledge and wisdom and because of their highmindedness, generosity, bravery, justice and refinement of character-a true reflection of the way of life of the Holy Prophet. The abominable features of the "heroes of the Muslims", described in "Stanley's lectures on Eastern Church" and "Albiruni's India", have been driving away the seekers of truth, among nonmuslims, from the religion of Islam. But when some of them happen to come across the life accounts of the khayra ummatin (the best group of people), the Ahl ul Bayt, they willingly come into the fold of Islam. Even the worst enemies of Islam have greatly praised the irresistible glory of the godly members of the family of the Holy Prophet. In the light of the Quranic verses and traditions of the Holy Prophet, mentioned in the commentary of various relevant verses in this book, the Ahl ul Bayt are the "best group of people" thoroughly purified by Allah Himself (Ahzab: 33), inseparably attached with the Quran, flesh and blood of the Holy Prophet, who are from him and he is from them (reflecting one and the same light of Allah). Therefore, to harass them is to harass Allah and the Prophet of Allah, for which Allah curses such people in this world and the hereafter (Ahzab: 57); and to make less their status or to bring others to their position earns the wrath of Allah (Fatihah: 7).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:110
اہل کتاب کو کوئی قابل اعتنا ضرر نہیں پہنچا سکیں گے
لَنْ یَضُرُّوکُمْ إِلاَّ اٴَذیً وَ إِنْ یُقاتِلُوکُمْ یُوَلُّوکُمُ الْاٴَدْبارَ ثُمَّ لا یُنْصَرُونَ بعض مسلمان اپنی سابقہ کافر قوم کے ہاتھوں مصیبت میں مبتلا تھے وہ انہیں قبول ِ اسلام پر سرزنش وملامت کرتے تھے اور بعض اوقات انہیں دھمکیاں دیتے تھے یہ آیت انہیں بشارت دیتی ہے کہ مخالفین آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور بہت کم ضرر پہنچاتے سکتے ہیں اور بد کلامی سے بڑھ کر کچھ نہیں کر سکتے ۔ ان دونوں آیات میں در حقیقت مسلمانوں کے لئے چند پیشین گوئیاں اور خوش خبریاں ہیں جو تمام کی تمام حضور کے دور میں ظاہر ہوئیں : ۱۔ اہل کتاب کو کوئی قابل اعتنا ضرر نہیں پہنچا سکیں گے اور ان کے معمولی نقصانات زیر پا نہیں ہوں گے۔ (لَنْ یَضُرُّوکُمْ إِلاَّ اٴَذیً ) ۲۔جب وہ مسلمانوں کے ساتھ میدان کارزار میں نبرد آزما ہوں گے تو انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اور آخری فتح و کامیابی مسلمانوں کو نصیب ہوگی اور یہودیوںکی حمایت کے لئے کوئی نہیں کھڑا ہو گا ۔( وَ إِنْ یُقاتِلُوکُمْ یُوَلُّوکُمُ الْاٴَدْبارَ ثُمَّ لا یُنْصَرُونَ ) ۔ ۳۔یہ کبھی اپنے پاوٴں پر کھڑے نہیں ہوں گے اور ہمیشہ ذلیل و خوار رہیں گے مگر یہ کہ اپنے پروگرام کو تبدیل کریں اور خدا کی راہ پر چلیںیا دوسرے لوگوں سے مل جائیں ااور وقتی طور پر ان کی طاقت سے فائدہ اٹھائیں (ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّةُ اٴَیْنَ ما ثُقِفُوا)۔ بہت جلد یہ تینوں وعدے نبی اکرام کے زمانہ میں پورے ہو گئے خصوصاً حجاز کے یہودی(بنی قریظہ، بنی نضیر ، بنی قینقاع ، بنی مصطلق اور خیر کے یہودی )کئی مرتبہ مسلمانوں کے ساتھ میدان جنگ میں آمنے سامنے ہوئے اور بالآخر سب شکست سے دو چار ہو کر رو پوش ہو گئے ۔ ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّةُ اٴَیْنَ ما ثُقِفُوا إِلاَّ بِحَبْلٍ مِنَ اللَّہِ وَ حَبْلٍ مِنَ النَّاس۔ ثقفوا کامادہ ثقف (بر وزن سقف ) ہے ۔ اور ثقافت کے لغوی معنی کسی چیز کو مہارت کےساتھ پالنے کے ہیں اور جس چیز کو انسان باریک بینی اور مہارت کے ساتھ حاصل کر لے اس ثقافت کہا جاتا ہے ۔ قرآ ن مجید کے اس جملے میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ جہاں کہیں ہوں ذلت کی موت ان کی پیشانی پر ثبت ہو چکی ہے ۔ اگر چہ ان آیات میں یہودیوں کا نام لے کر ان کو نہیں پکارا گیا ، تاہم سورہٴ بقرہ کی آیت ۴۱ / اور ان آیات کے قرائن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ بھی یہودیوں کے بارے میں ہے ۔ اس کے بعد اس جملہ کے ذیل میں کہا گیا ہے کہ صرف دو صورتیں ہیں جن کی وجہ سے وہ اس ذلت کی مہر کو مٹا سکتے ہیں ۔ پہلی صورت خدا کی طرف بازگشت اور اس سے رشتہ جوڑنا ہے اور اس کے سچے دین پر ایمان لانا ہے (الا بحبل من اللہ ) یا لوگوں سے وابستگی اور ان کا سہارا لیناہے (و حبل من الناس )۔ اگرچہ ان دو تعبیرات(حبل من اللہ و حبل من الناس ) کے بارے میںمفسرین نے کئی احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن جو کچھ کہا گیا ہے وہ آیت کے معنی کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے کیوں کہ جس وقت ”حبل من اللہ“ (خدا سے ارتباط )” و حبل من الناس “( لوگوں سے ارتباط) کے مقابلہ میں ہو تو اس سے دو مختلف معنی مراد ہوں گے نہ یہ کہ ان میں سے ایک ایمان لانے کے معنی میں ہے اور دوسر مسلمانوں کی طرف سے ام و امان ہونے کے معنی میں ۔ بنا بر ایں آیت کے مفہوم کا خلاصہ یہ ہو گا کہ یا تو وہ اپنی زندگی کے پروگرام پر تجدید نظر کریں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں اور اپنے افکار سے شیطنت و کینہ پروری کو مٹا دیں اور یا لوگوں سے وابستگی پیدا کرکے اپنی نفاق آلود زندگی کو جاری رکھیں ۔ وَ باؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّہِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَةُ با وٴ ا لغت میں رجوع کرنے اور سکونت کرنے کے معنی میں ہے اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ خلاف ورزیوں کی بناء پر خدا کی سزا کی مستحق ہو گئی ہے اور وہ غضب خدا وندی کو اپنی منزل مقصود قرار دے چکی ہے ۔ ”مسکنت “ کے معنی ہیں ” بیچارگی“ بالخصوص ایسی سخت بیچارگی جس سے چھٹکارہ حاصل کرنا مشکل ہو اور یہ ”سکونت “ کے مادہ سے ہے ۔ کیونکہ مسکین افراد کمزوری اور احتیاج کی وجہ سے اپنی جگہ سے حرکت کی قدرت نہیں رکھتے ۔ البتہ یہ یاد رہے کہ مسکین کا معنیٰ صرف مال و دولت کی وجہ سے محتاج نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی کمزوری اور نا توانی اس کے مفہوم میں داخل ہے ۔ بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ مسکنت و ذلت میں یہ فرق ہے کہ”ذلت “ دوسروں کی طرف سے وارد ہوتی ہے جبکہ ” مسکنت “ کسی شخص کی ذاتی اور اندرونی کم مائیگی وکم بینی کا معنیٰ دیتی ہے ۔ اس لحاظ سے اس جملہ کا معنی یہ ہے کہ یہودی اول تو اپنی کارستانیوں کی وجہ سے دوسروں کی طرف سے دھتکارے گئے ہیں اور غضب خدا میں گرفتار ہوئے ہیں ۔ پھر آہستہ آہستہ یہ ان کے لئے ایک ذاتی صفت بن گیا ہے ۔ حتیٰ کہ وہ تمام امکانات کے باوجود احساس حقارت میں مبتلا ہیں ۔ اس لئے اس جملہ میں کوئی استثناء موجود نہیں ہے۔ ذلِکَ بِاٴَنَّہُمْ کانُوا یَکْفُرُونَ بِآیاتِ اللَّہِ وَ یَقْتُلُونَ الْاٴَنْبِیاء َ بِغَیْرِ حَقٍّ ۔ آیت کے آخری حصے میں یہودیوں کی بد بختی کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اگر ایسی بد بختی میں گرفتار ہیں تو اس کی وجہ نسلی وخاندانی ہے نہ کہ دوسرے خصوصیات ، بلکہ یہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہے ۔ کیونکہ اول تو یہ خدا کی آیات کا انکار کرتے تھے اور ثانیاً یہ کہ پیشوایان خلق اور نجات دہندگان بشر کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے اور تیسری وجہ یہ ہے کہ وہ مختلف نوعیت کے گناہوں ، ظلم و ستم کرنا، دوسروں کے حقوق پر قبضہ کرنا اور باقی لوگوں کے منافع پر تجاوز کرنے میں مبتلا تھے اور مسلم ہے کہ جو قوم اس قسم کے اعمال کا ارتکاب کرے گی ، اس کی حالت بھی ان سے مشابہ ہوگی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:110
فتنہ و فساد کا مقابلہ کرنے اور دعوت حق کی یاد دہانی
کُنْتُمْ خَیْرَ اٴُمَّةٍ اٴُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاٴْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ اس آیت میں امر بالمعروف و نہی عن المنکراور خدا پر ایمان رکھنے کی دعوت کا اعادہ کیا گیا ہے اور جیسا کہ آیت ۱۰۴ کے ذیل میں کہا گیا ہے یہ آیت بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ایک اجتماعی فریضہ کے طور پر بیان کرتی ہے ۔ جبکہ گذشتہ آیت اس کے ایک خاص مرحلہ کو بیان کیا تھا جو خصو صی اور واجب کفائی ہے اور اس کی تفصیل و تشریح بیان کی جاچکی ہے۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں مسلمانوں کو بہترین امت کہا گیا ہے جسے معاشرہ کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس کی دلیل یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے ہیں اور خدا پر ایمان رکھتے ہیں ۔اس سے پتا چلتا ہے کہ انسانی معاشرے کی اصلاح ایمان ، دعوت حق اور فتنہ و فساد کا مقابلہ کئے بغیر ممکن نہیں ۔ ضمنی طور پر اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ”کنتم “(تم تھے)فعل ماضی کا سیغہ استعمال کیا گیا ہے یعنی تن گذشتہ زمانہ میں بہترین امت تھے اس لفظ کے بارے میں اگر چہ مفسرین نے بہت سے احتمالات ذکر کئے ہیں ،لیکن اکثریت کا نظریہ یہ ہے کہ فعل ماضی کی تعبیر تاکید کے لئے ہے اور قرآن مجید میں اس قسم کی تعبیرات کثرت سے موجود ہےں۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس مقام پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ایمان خدا پر مقدم کیا گیا ہے جس نے ان دو عظیم خدائی فرائض کی اہمیت و عظمت مترشح ہوتی ہے ۔ علاوہ از این ان دو فرائض کی انجام دہی دائرہٴ ایمان پھیلانے اور تمام انفرادی واجتماعی قوانین کے اجراء کی ضامن ہے اور عملی طور پر اجراء قانون کا ضامن خود قانون پر مقدم ہوتا ہے ۔ تمام باتوں کو چھوڑ کر اگر ان دو فرائض کو انجام نہ دیا جائے تو دلوں میں ایمان کی جڑیں بھی کمزور ہوجاتی ہیں اور اس کے ستوں بھی گر جاتے ہیں ۔ اسی سبب سے انہیں ایمان پر مقدم رکھا گیا ہے ۔ اس بیان سے اس بات کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے کہ مسلمان اس وقت تک ایک ممتاز امت شمار ہوتے رہیں گے جب تک نیکی کی دعوت دینے اور فتنہ و فساد کا مقابلہ کرنے کو فراموش نہیں کریں گے اور جب انہوں نے اس سے صرف ِ نظر کر لیا نہ یہ بہترین امت رہیں گے اور نہ انسانی معاشرے کے لئے فائدہ مند ۔ اس بات کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہئے کہ اس آیت میں تمام مسلمانوں سے خطاب کیا جا رہا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر یہی انداز و روش ہے ۔کچھ لوگوں نے اس سے مہاجرین یا سابق مسلمان مراد لئے ہیں لیکن اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ۔ وَ لَوْ آمَنَ اٴَہْلُ الْکِتابِ لَکانَ خَیْراً لَہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَ اٴَکْثَرُہُمُ الْفاسِقُونَ بعد ازاں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ مذہب جو اس طرح روشن ہے اور وہ قوانین جو اس قدر با عظمت ہیں ان کے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔بنا بر این اگر اہل کتاب (یہودی ونصاری) ان باتوں پر ایمان لے آئیں تو ان کا اپنا ہی فائدہ ہے ،لیکن بہت افسوس کا مقام ہے کہ ان کی اقلیت نے جاہلانہ تعصّب پر ٹھوکر مار کر کھلے دل سے اسلام قبول کی ہے جبکہ ان کی اکثریت فرمان خدا وندی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ یہاں تک کہ انہوں نے پیغمبر اکرم کے متعلق اپنی کتب میں موجود بشارتوں کی بھی پرواہ نہیں کی اور وہ اپنے کفر و تعصب پر اس طرح ڈٹے رہے ۔ ۱۱۱۔ لَنْ یَضُرُّوکُمْ إِلاَّ اٴَذیً وَ إِنْ یُقاتِلُوکُمْ یُوَلُّوکُمُ الْاٴَدْبارَ ثُمَّ لا یُنْصَرُونَ ۱۱۲۔ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّةُ اٴَیْنَ ما ثُقِفُوا إِلاَّ بِحَبْلٍ مِنَ اللَّہِ وَ حَبْلٍ مِنَ النَّاسِ وَ باؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّہِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَةُ ذلِکَ بِاٴَنَّہُمْ کانُوا یَکْفُرُونَ بِآیاتِ اللَّہِ وَ یَقْتُلُونَ الْاٴَنْبِیاء َ بِغَیْرِ حَقٍّ ذلِکَ بِما عَصَوْا وَ کانُوا یَعْتَدُونَ ترجمہ ۱۱۱۔اور وہ (اہل کتاب خصوصاً یہودی ) تمہیں ہر گز نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے تھوڑی سی آزارو اذیت کے اور اگروہ تم سے جنگ کریں تو تمہیں پیٹھ دکھا کر (بھاگ)جائیں گے ۔ اس کے بعد کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آئے گا ۔ ۱۱۲۔ وہ جہاں کہیں ہوں گے ان پر زلت و رسوائی کی مہر لگی ہوئی ہے مگر یہ کہ وہ خدا سے رابطہ قائم کریں (اور اپنی ناپسندیدہ روش پر تجدید نظر کریں )یالوگوں سے وابستگی کے ذریعہ (ادھر ادھر سے مدد حاصل کرلیں ۔ اور وہ خدا کے غضب میں گھرے ہوئے ہیں اور بیچارگی کی مہر ان پر ثبت ہو چکی ہے۔کیونکہ وہ آیات خدا وندی کا انکار کرتے تھے اور خدا کے پیغمبروں کو نا حق قتل کرتے تھے ۔یہ سب کچھ ان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور وہ (دوسروں کے حقوق پر) تجاوز کرتے ہیں ۔ شان نزول جب بعض سرداران یہود مثلاً عبداللہ بن سلام اپنے رفقاء کے ہمراہ دین اسلام میں داخل ہو گئے تو یہودیوں کے بعض سرداران کے پاس آئے اور انہیں سرزنش و ملامت کی یہاں تک کہ انہیں دھمکی دی اور کہا کہ تم اپنے آباوٴ اجداد کا دین چھوڑ کی اسلام کیون لے آئے ہو ۔ ا س پر مندرجہ ذیل آیات انہیں اور باقی مسلمانوں کو مژدہ سنانے کے لئے نازل ہوئیں۔