تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ نَتۡلُوهَا عَلَيۡكَ بِٱلۡحَقِّۗ وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلۡمٗا لِّلۡعَٰلَمِينَ
These are the signs of Allah, which We recite to you in truth, and Allah does not desire any wrong for the creatures.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:102-109
The Prophet said, “On the Day of Judgment, his followers will approach him near the cistern in five groups of which four are hungry and thirsty, will be hurled into hell and those who created schism in religion. This took place, immediately after the Prophet’s departure from this world signs having developed, during his fatal illness due to prolonged jealousy of the Prophet’s companions which they bore to Ali. The fifth one headed by Ali shall enter Paradise. The Prophet said, “Moses’ followers divided themselves into 71 groups, one of whom would attain salvation, and 72 groups of followers of Jesus, one of whom would attain salvation and 73 of my followers, one of whom is to attain salvation, and 72 will be of hell. The one attaining salvation shall be following the text and will be following my successor Ail, for Truth has remained with Ali and Ali was with it, and the Prophet and his companions (means chosen companions) ever remained with the Truth. Most of the Prophet’s companions after the Prophet’s death turned out disobedient and apostates acting against Divine dictates and the Prophet’s traditions (see the Battle of Camel and Battle of Siffin.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:106-109
نورانی اور تاریک چہرے
۔یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوہ اس تنبیہ کے بعد کہ جو گذشتہ آیات میں تفرقہ بازی،اور کفر و جاہلیت کے زمانہ کے آثارکی طرف پلٹ جانے کے بارے میںکی گئی تھی ، ان دو آیات میں ان کے آخری نتائج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ کسی طرح کفر ،نفاق و جاہلیت کی طرف پلٹ جانا روسیا ہی کا سبب ہے اور کسی طرح اسلام و ایمان اور اتحاد و خلوص سفید روئی کا سب ہےں۔ مندرجہ بالا آیات تصریح کر رہی ہیں کہ روز قیامت کچھ چہرے نورانی ہوں گے اور کچھ تاریک جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ،ان سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان لاننے کے بعدکفر کیوں اختیار کیا اور اسلام کے زیر سایہ اتحاد واخوت کی راہ اپنانے کے بعد نفاق و جاہلیت کہ راہ کیوں اختیار کی ۔ان کے مقابلہ میں وہ مومنین جو متحد و متفق رہے ہوں گےدریائے رحمت الہی میں ڈوب جائیں گے اور ہمیشہ کے لئے وہاں راحت و آرام کی زندگی بسر کریں گے۔ کئی دفعہ یہ یاد دہانی کرائی جا چکی ہے کہ دوسرے جہان میں انسان کی زندگی کے حالات و کیفیات اور جزا و سزااس جہان کے اعمال اور افکار کے مجسمے ہوں گے ۔دوسرے لفظوں میں اس جہان میں جو کام بھی انسان سے سر زد ہوتا ہے وہ روح کی گہرائیوں میں وسیع اثرات مرتب کرتا ہے۔ممکن ہے اس دنیا میں اسے نہ سمجھا جا سکے ،لیکن قیامت میں یہ حقیقی صورت میں جلوہ گر ہوں گے اور کیوںکہ وہاں پر روح کی حاکمیت و تجلی زیادہ ہوگی اس لئے اس کے آثار جسم پر بھی مرتب ہوںگے ۔جیسا کہ اس جہان کا ایمان و اتحادسفید روئی کا سب ہے اور اس کے برعکس بے ایمان لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے ۔ اگلے جہان میں یہ مجازی سفیدی اور سیاہی حقیقی شکل اختیار کرے گی اور لوگ روشن یا سیاہ محشور ہوں گے ۔ قرآن کی دیگر آیات بھی اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں ۔مثلاً جولوگ بار بار گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے بارے میں قرآن ارشاد فرماتا ہے: کاَنمآ اُغشیتُ وجوھھم قطعاً مّن الّلیلِ مُظلماً (یونس:۲۷ ) گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے تاریک ٹکڑوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ ویومَ القِیٰمة ترَی الّذینَ کذبوا علیٰ اللّہ وجوھھم مُسوَدٌّ (زمر:۶۰) قیامت کے دن تو ان لوگوں کو دیکھے گاجو خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ ان کے چہرے سیاہ ہیںاور یہ سب کچھ ان کے کئے ہوئے اعمال کی پاداش ہے۔ ۱۰۸۔ تِلْکَ آیاتُ اللَّہِ نَتْلُوہا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ وَ مَا اللَّہُ یُریدُ ظُلْماً لِلْعالَمینَ ۱۰۹۔ وَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ إِلَی اللَّہِ تُرْجَعُ الْاٴُمُورُ ترجمہ ۱۰۸۔کتاب کی یہ بر حق آیات ہیںجنھیں ہم تیرے سامنے پڑھ کر سناتے ہیںاور خدا ہر گز عالمیں کے لئے ظلم و ستم کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ۱۰۹۔اور( کس طرح ممکن ہے کہ خدا ظلم چاہے جبکہ)جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ ا کی ملکیت میں ہے اور تمام کاموں کی بازگشت اسی کی طرف ہے )۔ تفسیر تِلْکَ آیاتُ اللَّہِ نَتْلُوہا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ وَ مَا اللَّہُ یُریدُ ظُلْماً لِلْعالَمینَ مندرجہ بالا آیت گذشتہ مطالب اتحاد و اتفاق ،ایمان و کفر ،امر بالمعروف ونہی عن المنکر او ران کے نتائج کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ خدا کی بر حق آیات ہیں جو ہم تیرے سامنے پڑھتے ہیں اور ان احکام کی خلاف ورزی کی وجہ سے جو کچھ لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے ان کے اعمال کی پاداش ہے اور خدا وند تعالیٰ کسی پر کسی قسم کا ظلم نہیں کرتا ۔ بلکہ یہ وہی برے اثرات ہیں جو انھوں نے اپنے ہاتھ سے فراہم کئے ہیں۔ وَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ إِلَی اللَّہِ تُرْجَعُ الْاٴُمُورُ یہ آیت خدا کے ظالمنہ ہونے پر دلیل پیش کرتی ہے : پہلی یہ کہ وہ خدا جو ا ن تمام کا خالق و مالک ہے ، اس کے بارے میں طلم کا تصور نہیں ہو سکتا کیون کہ ظلم و زیادتی تو وہ کرتا ہے ج سکے پاس وہ چیز نہ ہو جو دوسروں کے پاس موجود ہے ۔ لہٰذا اسے حاصل کرنے کے لئے وہ ظلم کرتا ہے ۔ دوسری دلیل یہ کہ ظلم و ستم کا تصور اس کے بارے میں ہو سکتا ہے جس کی خشنودی حاصل کئے بغیر کوئی کام وقوع پذیر ہو سکتا ہو لیکن اس ذات کے بارے میں ظلم و ستم چہ معنیٰ کہ جس کی اجازت کے بغیر کوئی کام وقوع پذیر ہو سکتا اور تمام امور کائنات کا آغاز و انجام اسی کی ذات سے وابستہ ہے۔ ۱۱۰۔ کُنْتُمْ خَیْرَ اٴُمَّةٍ اٴُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاٴْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ لَوْ آمَنَ اٴَہْلُ الْکِتابِ لَکانَ خَیْراً لَہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَ اٴَکْثَرُہُمُ الْفاسِقُونَ ترجمہ ۱۱۰۔ تم وہ بہترین قوم تھے جسے لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے تا کہ تم امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرو اور خدا پر ایمان لے آئیں تو ان کے لئے فائدہ ہے لیکن ان میں سے تھوڑے ہی صاحب ایمان ہیں ورنہ اکثر فاسق (اور پرور دگار کی اطاعت سے خارج ) ہیں۔ تفسیر
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:108
[Pooya/Ali Commentary 3:108] His judgement shall be, in every instance, absolutely just and equitable. Each shall get the recompense earned in this life.