وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
There has to be a nation among you summoning to the good, bidding what is right, and forbidding what is wrong. It is they who are the felicitous.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:104
[Pooya/Ali Commentary 3:104] Since the duty of enjoining the right (amr bil ma-ruf) and forbidding the wrong (nahya anil munkar) entails conditions which every Muslim cannot fulfil, the Quran while addressing the entire Muslim people, points out a select group from among the community, each member of which has been thoroughly purified by the creator Himself (Ahzab: 33). for this divine mission- Muhammad and ali Muhammad. "My Ahlul Bayt are like the ark of Nuh. Whoso sails on it is saved, and he who stays back is drowned and lost", said the Holy Prophet. The Muslims are warned not to split into sects, hostile to each other, like the Jews and the Christians, who, moved by self-interest and other ignoble motives, made amendments and corrupted the words of Allah and His messengers, Musa and Isa, but the Muslims paid no attention, and, after the departure of the Holy Prophet, instead of following the Quran and his Ahlul Bayt, relied upon the guidance and leadership of those who neither were chosen by Allah and His Prophet, nor deserved to lead the ummah on the strength of their learning and character, otherwise they would have been selected in the party of Allah which represented Him in mabahilah (Ali Imran: 61), or would have been included in ayah al tat-hir (Ahzab: 33). It is a historical fact that such self-proclaimed leaders enacted laws and made judgements, in the name of ijtihad, against the teachings of the Holy Prophet and the book of Allah, because of which the Muslim ummah was divided into many sects. There is a great punishment for such mujtahids and their followers on the day of judgement.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:104-105
چند اہم نکات
(۱) معروف اور منکر : معروف کے اصلی حروف ع، ر، ف، ( عرف) ہیں اور کے لغوی معنیٰ ہیں ” پہچانے ہوئے “ اور منکر کے معنیٰ ہیں ” نہ پہچانے ہوئے “ یہ لفظ انکار سے ہے ، گویا اس مناسبت سے نیک کاموں کو پہچانتے ہوئے امور اور نا پسند دیدہ کاموں کا نہ پہچانے ہوئے کاموں سے تعارف کرایا گیا ہے کیونکہ انسان کی پاک فطرت پہلی قسم سے آشنا و آگاہ ہے اور دوسری قسم سے نا آشنا ہے ۔ ( ۲) کیا امر بالمعروف ایک عقلی حکم ہے : بعض علماء اسلام کا خیال ہے کہ ان دو ذمہ داریوں کا وجوب نقلی دلیل سے ثابت ہے اور عقل سے اس کا کو ئی سر و کار نہیں اور عقل اس بات ک احکم نہیں دیتی کہ انسان کسی دوسرے کو ایسے کام سے روکے جس کا نقصان صرف کرنے واکے کو پہنچتا ہو۔ لیکن اجتماعی معاشرت تعلقات اور ا س بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کوئی برا کام انسانی معاشرے میں کسی خاص نقطہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ آگ کے شعلوں کی طرح پورے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے یہ عقل کا فیصلہ ہے کہ ان دو ذمہ داریوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ بالفاظ دیگر سو سائٹی میں کوئی چیز انفرادی ضرر کی حامل نہیں ۔ ہر انفرادی ضرر میں یہ امکان ہے کہ وہ اجتماعی نقصان کی صورت اختیار کرلے۔ اسی بناء پر عقل و منطق معاشرے کے افراد کو اس بات کی جازت دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے گرد و پیش کی فضا کو پاک و صاف رکھنے کے لئے ہر قسم کی جستجو اور کو شش کریں ۔ اتفاق سے بعض احادیث بھی اس بات کی غمازی کرتی ہیں جیسا کہ رسول اسلام نے ارشاد فرمایا: ایک گناہگار دوسرے لوگوں کے درمیان اس شخص کی مانند ہے جو ایک کشتی میں کچھ لوگوں کے ساتھ سوار ہو جب وہ کشتی سمندر کے پیچ میں پہنچے تو وہ کہاڑی سے اس جگہ سوراخ کرنے لگے جہاں وہ بیٹھا ہوا ہے اور جب دوسرے لوگ اس کے اس فعل پر اعتراض کریں تووہ یہ جواب دے کہ میں تو صرف اپنی جگہ پر یہ کام کررہا ہوں ۔ اس وقت اگر دوسرے لوگ اس کو اس خطر ناک کام سے نہ روکیں تو چند لمحوں میں سمندر کا پانی کشتی میں داخل ہو جائے گا اور ایک دم سب کے سب غرق ہو جائیں گے۔ پیغمبر اکرم نے اس واضح مثال کے ذریعے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے منطقی ہونے کی تصویر کشی کی ہے اور معاشرے کے لئے ہر فرد کی نگرانی کے حق کو ایک فطری حق قرار دیا ہے ۔ (۳) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت: قرآن مجید کی آیات کے علاوہ بہت سی معتبر احادیث اور اسلامی مصادر میں بھی ان دو عظیم اجتماعی و ظائف کی اہمیت بیان کی گئی ہے کہ جن میں ان خطرات اور برے نتائج کی نشاندہی کی گئی ہے جو ان دو ذمہ دار یوں کے ترک کرنے کی صورت میں جنم لیتے ہیں ۔ جیسا کہ امام محمد با قر (ع) سے مروی ہے کہ : ان الابالمعروف و النھی عن المنکر فریضہ عظیمہ بھا تقام الفرائض و تاٴمن المذاہب و تحل المکاسب و ترد المظالم و تعمر الارض و ینتصف من الاعداء و یستقیم الامر ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر عظیم خدائی فریضہ ہے ۔ باقی فرائض انہی کی بدولت قائم ہوتے ہیں ۔ ان کی وجہ سے راستے محفوظ رہتے ہیں ، لوگوں کو کسب و کار حلال ہوتا ہے اور لوگوں کے حقوق انہی کی وجہ سے واپس ملتے ہیں اور ان کے سبب زمین آباد رہتی ہے ، دشنوں سے انتقام لیا جاتا ہے اور انہی کے طفیل تمام کام چلتے رہتے ہیں ۔ 2# پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں : مَنْ اَمَرَ بِالمَعْرُوفِ وَ نھیٰ عَنْ المُنْکَرِ فَھُوَ خَلِیْفَةُ اللّٰہِ فِی اَرضہ وَخَلِیفَةُ رسولِ اللّٰہِ وَ خَلِیْفَةُ کتابِہ جو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے وہ زمین پر خدا ، اس کے رسول اور اس کی کتاب کا جانشین ہے ۔ اس حدیث سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ عظیم فریضہ ہر چیز سے پہلے ایک خدائی پروگرام ہے ، انبیاء کی بعثت اور آسمانی کتب کا نزول سب کے سب اسی پروگرام کا حصہ ہیں ۔ ایک شخص پیغمبر کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ منبر پر جلوہ افروز تھے اس نے پوچھا” مَنْ خَیرُ النّاسِ“ تمام لوگوں میں سے بہتر کون ہے ۔ آپ نے فرمایا: آمر بالمعروف و انھا ھم عن المنکر و اتقاھم للہ و ارضاھم جو سب سے زیادہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتا ہو اور جو زیادہ پر ہیز گار ہو اور جو خشنودیٴ خدا کی راہ میں زیادہ قدم بڑھا نے والاہو۔ 3# ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو ورنہ خدا کسی ستم گر ظالم کو تم پر مسلط کرے گا ۔ جو نہ تمہارے بوڑھوں کا احترام کرے گا اور نہ بچوں پرحم کرے گا۔ تمہارے نیک اور صالح لوگ دعا کریں گے لیکن مستجاب نہیں ہوگی۔ وہ خدا سے مدد طلب کرےں گے لیکن خدا ان کی مدد نہیں کرے گا یہاں تک کہ اگر وہ لوگ توبہ کریں گے تو خدا ان کے گناہ معاف نہیں کرے گا۔ 4# یہ سب کچھ اس گروہ کے اعمال کی عکاسی ہے جو اس عظیم معاشرتی ذمہ داری کو پورا نہیں کرں گے کیونکہ جب عمومی نگرانی کے بغیر معاملات کی باگ ڈور نیک لوگوں کے ہاتھ سے نکل جائے گی تو بر ے اور اہل لوگ معاشرے کے ہر میدان پر قابض ہو ئیں گے۔ مندرجہ بالا حدیث میں ان کی توبہ کی عدم قبولیت کا یہ مطلب ہے کہ برائیوں کے مقابلہ میں مسلسل خاموشی کی وجہ سے دعا کوئی اثر نہیں رکھتی مگر یہ کہ وہ اپنے عمل میں تجدید ِ نظر کریں ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : ”وما اعمال البر کلھا و الجھاد فی سبیل اللہ عند الامر بالمعروف و النھی عن المنکر الاکنفشة فی بحر لجی“ تمام نیک کام یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلے میں ایک گہرے سمندر میں تھوکنے اور پھوکنے کا مانند ہے ۔5# اس قدر تاکید کا سبب یہی ہے کہ یہ دو عظیم ذمہ داریاں باقی اجتماعی اور انفرادی ذمہ داریوں کے اجراء کی ضامن ہیں اور ان کی روح شمار ہوتی ہیں ۔ (۴)کیا امر بالمعروف سلب آزادی کا سبب ہے ؟: اس سوال کے جواب میں یہ کہنا مناسب ہے کہ اگر چہ یہ بات مسلم ہے کہ افراد ِ بشر کے لئے مل جل کر رہنا ان گنت فوائد و برکات کا حامل ہے حتی ٰ کہ اس قسم کی خوبیوں نے انسان کو اجتماعی زندگی پر مجبور کردیا ہے لیکن ساتھ ہی انسان کو چند امور کا پابند کیا گیا ہے لیکن چونکہ اجتماعی زندگی کے بے شمار فوائد کے مقابلہ میں اس قسم کی پابندیاں معمولی ہیں لہٰذا انسان روز اول سے ان پابندیوں کو قبول کرکے اجتماعی زندگی کے لئے آمادہ ہوتا ہے ۔ چونکہ زندگی میں حیاتِ انسانی کا نظام ایک دوسرے سے مربوط ہے اور اصلاحی طور سے معاشرے کے افراد ایک دوسرے کی تقدیر پر اثر انداز ہوتے ہیں لہٰذا دوسروں کے اعمال پر نظارت و نگرانی کا حق فطری اور اجتماعی زندگی کی خصوصیت کا حق ہے جیسا کہ اس مفہوم کو رسالتمآب کی سابقہ ایک حدیث میں عمدہ طور سے بیان کیا گیا ہے ۔ لہٰذا اس فریضہ ہی انجام دہی سے نہ صرف انفرادی آادی سلب نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جو ہر فرد بشر کا ایک فطری حق ہے جو اسے دوسروں کے مقابلے میں حاصل ہے ۔ (۵) کیا امر بالمعروف سے کوئی حرج تو پیدا نہیں ہوتا ؟: اس مقام پر ایک اور سوال پید اہوسکتا ہے کہ جب تمام اجتماعی امور میں دخیل و شریک ہیں اور ایک دوسرے کے اعمال کے نگراں و محافظ ہیں تو کیا اس سے معاشرے میں گونا گوں مسائل کھڑے نہ ہو جائیں گے اور کیا یہ چیز ذمہ دار یوں کو تقسیم او ر معاشرے میں الگ الگ جوابدہی کے برخلاف نہیں ہے ؟ اس سوال کے جوبا کے متعلق گذشتہ بیان سے بھی یہ حوحقیقت واضح پو چکی ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے دو مرحلے ہیں ۔ ایک مرحلہ جو کہ عمومی پہلو رکھتا ہے۔ اس کا دائرہ محدود ہے اور یہ صرف یا دھانی ، پند و نصیحت، نقد و تنقید اور اس قسم کی چیزوں تک محدود ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ ایک زندہ معاشرے کے تمام افراد برائیوں کے بارے میں اس قسم کے جوابدہی رکھتے ہیں ۔ لیکن دوسرا مرحلہ جو ایک خاص گروہ سے متعلق ہے اور وہ حکومتِ اسلامی کے ذمہ داری شمار ہوتا ہے ، اس کا دائرہ بہت وسیع ہے بایں معنی کہ اگر اس میں سختی کی ضرورت پڑے یہاں تک کہ قصاص وہ حدود تک معاملہ پہنچ جائے تو بھی یہ گروہ حاکم شرعی اور کار پرواز ان حکومت ِ اسلامی کی نگرانی میں اپنا فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ بنابر یں امر بالمعروف او رنہی عن المنکر کے مختلف مراحل اور ہرایک کی حدود کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ صرف یہ کہ ان سے معاشرے میں حرج و مرج اور فسادات پیدا نہیں ہوتے بلکہ مردہ معاشرے میں جان پیدا ہو جاتی ہے ۔ (۶)امر بالمعروف تلخی اور سختی نہیں :بحث کے آرخر میں اس نکتہ کی یاد ھانی ضروری ہے کہ اس ذمہ داری سے عہدہ بر آمد ہونے ، فریضہ خدائی کی طرف دعوت دینے اور فتنہ و فساد کا مقابلہ کرنے میں حسن نیت اور پاکیز گی٘ مقصد کو نہیں بھولناچاہئیے اور سوائے ضرورت کے ہر موقع پر صلح و صفائی کو ملحوظ نظر رکھنا چاہئیے اور اس فریضہ کی انجام دہی میں خشونت اور سختی سے اجتناب کرنا چاہئیے ..... لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ اس کی انجام دہی میں خشونت آمیز انداز اپناتے ہیں اور بعض اوقات وہ برے اور چھبنے والے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قسم کاامر بالمعروف نہ یہ کہ اچھے اثرات نہیں چھوڑتا بلکہ بعض اوقات الٹا اثردکھا تا ہے ۔ حالانکہ پیغمبر اکرم اور ائمہ ہدایٰ (ع) کی سیرت طیبہ نشاندہی کرتی ہے کہ وہ ان دو فرائض کی انجام میں انتہائی محبت و پیار اور لطف و کرم سے کام لیتے تھے ۔ اسی بناء پر بڑء سخت مزاج افراد بھی بہت جلد ان کے سامنے سر تسلیم خم کرلیتے تھے ۔ تفسیر مناظرمیں اس آیت کے ذیل میں لکھا گیا ہے کہ: ” ایک نوجوان خدمت رسول میں حاضر ہوا۔ اس نے پوچھا کہ اے رسول خدا کیا اجازت ہے کہ میں زناکرلوں ۔ اس بات پر وہاں کے لوگ بر افروختہ ہوگئے اور ادھر اُدھر سے اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ کردی لیکن آپ نے بڑے تحمل اور نرمی سے فرمایا : میرے قریب آوٴ: وہ اُن کے قریب آیا اور آنحضرت کے سامنے بیٹھ گیا۔ حضرت نے محبت او رپیار کے لہجے میں اس سے پوچھا کہ کیا تو اس پر راضی ہے کہ تیری ماں کے ساتھ یہ کام کیاجائے ۔ اس نے نفی میں جواب دیا تو آپنے فرمایا کہ اس طرح دوسرے لوگ بھی اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ان کی ماں کے ساتھ یہ کام کیاجائے ۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تو اپنی بیٹی کے ساتھ اس عمل پر راضی ہے ۔ کہا نہیں ۔ تو آپ نے فرمایا کہ اس طرح دوسرے لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے ساتھ اس فعل پر راضی نہیں ہیں ۔ آپ نے پھر پوچھا کہ اپنی بہن کے ساتھ اس کام کو پسند کرتے ہو۔نوجوان نے انکار کیااور سوال پر مکمل طور پر نادم ہوا بعد ازاں اپنا ہاتھ اس کے سینے پر کھ کر اس کے لئے دعا کی اور فرمایا : خدا یا ؛ اس کے دل کو پاک کر اور اس کے گناہ کو معاف کر اور اس کے دامن کو معصیت کی آلودگی سے صاف رکھ ۔ اس واقعہ کے بعد اس نوجوان کے نزدیک سب سے زیادہ نفرت کا کام زنا تھا یہ نہی عن المنکر میں ملائمت اور نفرت کا ثمرہ ہے ۔ ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ماجآء ھم البینات اس آیت میں از سر نومسئلہ اتحاد اور تفرقہ بازی سے اجتناب کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ۔ یہ آیت مسلمانوں کو گذشتہ اقوام مثلاً یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح تفرقہ اور اختلاف کی رارہ اختیار کرنے اور اپنے لئے عظیم عذاب مول لینے سے ڈراتی ہے اور درحقیقت انہیں اختلاف اور تفرقہ بازی کے بعد گذشتہ لوگوں کی تاریخ کے مطالعہ کی دعوت دیتی ہے ۔ ان آیات میں اتحاد پر اصرار کرنے اور تفرقہ نفاق سے اجتناب کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمہارے معاشرے میں بھی ایسا ہونے والاہے کیونکہ جہاں کہیں کسی چیز سے ڈرانے میں اصرار کیا جاتا ہے وہ اس کے وقوع کی طرف اشارہ ہوتا ہے ۔ پیغمبر اسلام نے یہ پیشینگوئی کی تھی اور صراحت سے مسلمانوں کو یہ خبر دی تھی کہ یہودی قوم حضرت موسیٰ کے بعد ۷۱ اور عیسائی ۷۲ فرقوں میں بٹ گئی تھی اور میری امت میرے بعد ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے گی 6# ظاہری طور سے ۷۰ کا عدد کثرت کی طرف اشارہ ہے اور اصطلاح کے مطابق اس سے صرف کسی چیز کی کثرت سمجھی جاتی ہے نہ کہ صحیح تعداد یعنی یہودیوں میں ایک فرقہ حق تھا اور بہت سے گروہ باطل پرست تھے ۔ عیسائیوں کے درمیان باطل پرست فرقوں کی کثرت ہوگئی اور مسلمانوں میں ان سے بھی زیادہ فرقے بن جائیں گے۔ قرآن مجید اور پیغمبر اکرم کی اس پیشین گوئی کے مطابق مسلمان آنحضرت کی وفات کے بعد صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے اور مذہبی عقائد بلکہ اصل دین کے معاملے میں پراگندہ ہوگئے یہاں تک کہ ایک دوسرے کو کافر کہنے لگے ۔ نوبت بایں جار سید کہ بعض اوقات تلوار زنی سب و شتم اور ایک دوسرے پر لعنت سے دریغ نہ کیا گیا ۔ معاملہ اتنا سنگین ہوتا گیا کہ بعض مسلمان ایک دوسرے کی جان و مال کو حلال سمجھنے لگے اور مسلمانوں کے درمیان اتنی عداوت اور دشمنی پھیل گئی کہ کچھ مسلمان کفارہ سے جاملے اور اپنے دینی بھائیوں سے جنگ و جدال کرنے پرتل گئے۔ یوں اتحاد وحدت جس میں مسلمانوں کی کامیابی کا راز مضمر تھا ، اختلاف و انتشار میں بدل گئی ۔ جس کا نتیجہ نکلا کہ وہ شقاوت و بد بختی میں مبتلا ہو گئے ار اپنی عظمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ اولالٰئک لھم عذاب عظیم جو لوگ واضح دلیلوں کے بعد بھی دین اختلاف کرتے ہیں ، وہ دردناک عذاب میں مبتلاہوں گے۔ اس میں کلام نہیں کہ اختلاف و انتشار کا فوری نتیجہ ذلت وخواری کے سوال کچھ نہیں اور ہر قوم کی ذلت و خواری کے راز کو ان کے اختلاف و نفاق میں تلاش کرنا چاہئیے ۔ وہ معاشرہ جس کی قدرت و توانائی کی بنیاد اس کے ارکان کی تفرقہ بازی کے تیشہ سے پاش پاش ہو جائے، ان کی سر زمین ہمیشہ غیروں کی جو لانگاہ بن جاتی ہے اور کسی سامراجی حکومت کے قلمرو میں داخل ہو جاتی ہے ۔ واقعاً یہ کتنا بڑا عذاب ہے ۔ باقی رہا آخرت کا عذاب تو جیسا قرآن نے بھی بیان کیا ہے وہ عذاب سے کہیں زیادہ سخت ہے اور وہ تفرقہ ڈالنے والوں کے انتظار میں ہے ۔ ۱۰۶۔یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوہٌ فَاٴَمَّا الَّذینَ اسْوَدَّتْ وُجُوہُہُمْ اٴَ کَفَرْتُمْ بَعْدَ إیمانِکُمْ فَذُوقُوا الْعَذابَ بِما کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ ۱۰۷۔وَ اٴَمَّا الَّذینَ ابْیَضَّتْ وُجُوہُہُمْ فَفی رَحْمَتِ اللَّہِ ہُمْ فیہا خالِدُونَ ترجمہ ۱۰۶۔ (نفاق ڈالنے والوں پر وہ عظیم عذاب)اس دن ہوگا جب کچھ چہرے سفید ہوجائیں گے ۔وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے (ان سے کہا جائے گا )کیا تم ایمان (اور سایہٴ اخوت میں آنے )کے بعد کافر ہو گئے تھے (اب) اپنے کئے ہوئے کفر کے عذاب کا مزہ چکھو۔ ۱۰۷۔ لیکن وہ جن کے چہرے سفید ہو ں گے وہ خدا کی رحمت میں ہو ں گے ۔ ۱#ایسے ادارے عموماًبرائے نام شرعی ہیں اور اکثر ان کی حالت حکومت کے عام اداروں سے بھی بد تر ہے ( مترجم )
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:104-105
حق کی دعوت اور فساد کا مقابلہ
وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ اٴُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَاٴْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنْ الْمُنْکَرِ وَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُفْلِحُونَ۔ امت اصل میں مادہ ” ام “ سے ہے جس کا معنی ہر وہ چیز جس کا دووسری چیزیں ضمیمہ ہوں ۔ اسی بناپر ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے جن کے درمیان وحدت کا پہلو ہو ۔ اس میں فرق نہیں کہ وحدت زمانی ہویا مکانی یا مقصد میں وحدت ہو، لہٰذا متفرق اور پراکندہ اشخاص کو امت نہیں کہا جاسکتا ۔ گذشتہ آیات اخوت و وحدت کے بارے میں ہیں ۔ اب اس آیت میں امر بالمعروف اور نہیں عن المنکر کی طرف اشارہ کیا گیاہے جو حقیقت میں ایک اجتماعی زرہ کے مانند ہے اور جو جمیعت کی حفاظت کرتی ہے ۔ کیونکہ اگر امر بال معروف اور نہی عن المنکرنہ ہو تو مختلف عوامل جو ” اجتماعی وحدت“ کی بقا ء کے دشمن ہیں دیمک کی طرف اندر سے معاشرے کی جڑوں کو کھاتے رہتے ہیں اور لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیتے ہیں ۔ اسی لئے وحدتِ اجتماعی کی حفاظت عوام کی نگرانی کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ آیت بالا میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان ایک ایسا گروہ ہونا چاہئیے جو ان دو اجتماعی عظیم ذمہ داریوں کو انجام دے ۔ لوگوں کو نیکی کی دعوت دے اور برائیوں سے منع کرے اور آیت کے آخری حسے میں با قاعدہ تصریح ہوئی ہے کہ فلاح و نجات صرف اسی راستے سے ممکن ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:104-105
ایک اہم سوال اور اس کا جواب
یہاں یہ سوال پید اہوتا ہے کہ ” منکم امة“ کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ یہ امت بعض مسلمانوں میں سے تشکیل پاتی ہے نہ کہ سب کے سب یہ کام کریں ۔ تو اس طرح سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری عمومی پہلو کھو بیٹھے گی۔ بلکہ وہ صرف ایک خاص گروہ کی ذمہ داری ہوگی اگر چہ انتخاب اور جمیعت کو ترتیب دینا تمام لوگوں کا فرض ہے بالفاظ دیگر یہ واجب کفائی ہے نہ کہ واجب عینی ۔ حالانکہ قرآن مجید کی دیگر آیات سے ثابت ہوتا ہےکہ یہ دونوں ذمہ داریاں عمومی پہلو رکھتی ہیں ۔ یعنی واجب عینی ہیں نہ کہ کفائی ، مثلاً بعد میں آنے والی آیات میں ارشاد ہوتا ہے ۔ کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے نفع کے لئے پیدا کیا گیا ہے کیونکہ تم انہیں اچھی چیزوں کا حکم دیتے ہو او ربری چیزوں سے روکرتے ہو۔ اسی طرح سورہ عصر میں ارشاد ہوتا ہے : تمام لوگ خسارے میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان رکھنے کے ساتھ صالح عمل کرتے ہیں اور حق و صبر کی وصیت کرتے ہیں ۔ ان جیسی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں ذمہ داریاں کسی خاص گروہ کے ساتھ خصوصیت نہیں رکھتیں بلکہ یہ عام ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے : ان جیسی تمام آیات میں غور و خوض کر کے اس سوال کا جواب مل سکتا ہے ۔ کیونکہ ان سے پتہ چلتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہیں عن المنکرکے دومرحلے ہیں ۔ ایک انفرادی مرحلہ ہے ، اس میں ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ تنہا دوسروں کے اعمال کی نگہداشت کرے اور دوسرا مرحلہ اجتماعی ہے اس کے لئے ایکگروہ کا فریضہ ہے کہ وہ معاشرتی خرابیوں کو ختم کرنے کے لئے متحد ہو کر مشترکہ طور ہر کو شش کرے۔ پہلی قسم میں ہرشخص پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس طرح تمام لوگ ذمہ دار ہوں گے اور چونکہ اس میں انفرادی پہلو ہے لہٰذا اس کی روشنی فرد کی توانائی تک محدود ہے ۔ لیکن دوسری واجب کفائی ہے ۔ یہ چونکہ ایک گروہ کی ذمہ داری ہے لہٰذا اس کا دائرہ اثر بھی وسیع ہے اور اس لئے فطری طور پر یہ کام حکومت اسلامی ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے ۔ یہ دو صورتیں ( خرابی اور فساد کا مقابلہ کرنا اور حق کی طرف دعوت دینا ) اسلامی قوانین کا شاہکار شمار ہوتی ہیں ۔ حکومت اسلامی کے نظام میں تقسیم کا ر کا معاملہ ، اجتماعی حالت اور حکومتی اداروں کی صورت حال ایک نگران گروہ کے وجود کو لازمی قرار دیتے ہیں ۔ گذشتہ ادوار میں اسلامی ممالک میں اس آیت کی روشنی میں برائیوں کو روکنے اور اجتماعی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے ایسے ادارے تشکیل پاتے رہے ہیں ۔ آج کل بھی حجاز وغیرہ میں ایسے ادارے موجود ہیں۔۱# ایسے اداروں کو حسبہ اور ان کے مامور ین کو محتسب یا ” آمرین بمعروف “ کہتے ہیں ۔ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں میں ہونے والے ہر قسم کے برے کام کو روکیں اور حکومتی اداروں میں ہونے والے ہر قسم کے ظلم و فساد کی روک تھا م کریں اور اسی طرح ولوگوں میں نیک اور پسندیدہ کاموں کا شوق پیدا کریں وسیع اختیارات کے حامل ان اداروں کا وجود محدود قدرت کے حامل فرد کے لئے امر المعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری ادا کرنے سے کوئی تضاد نہیں رکھتا۔ چونکہ یہ بحث قرآن مجید کی اہم مباحث میں سے ہے اور بہت سی آیات میں اس کا تذکرہ ہے لہٰذا ضروری ہے کہ یہاں اس کے بعض پہلووٴں کا تفصیلی جائزہ لیاجائے ۔