فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا يَالَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ
So he emerged before his people in his finery. Those who desired the life of the world said, ‘We wish we had like what Korah has been given! Indeed he is greatly fortunate.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 28:79
[Pooya/Ali Commentary 28:79]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:79-82
نمائش ثروت کاجنون
عام طور پر دیکھا جاتاہے کہ مغرور دولت مندلوگ طرح کے جنون میں مبتلا ہوجاتے ہیں . ان میں س ے ایک نمائش ثروت جنون ہے . انھیں اس عمل سے خوشی حاصل ہوتی ہے کہ اپنی دولت کالوگوں پراظہار کریں. مثلا یہ کہ وہ اپنی گراں قیمت سواری پرسوار ہوکے نکلیں اور برہینہ پالوگوں کے درمیان گزریں.ان کے منہ پرگردغبار ڈالتے جائیں اوران کی تحقیرکرتے جائیں. انھیں اس عمل سے تسکین ہوتی ہے ۔ لیکن دولت کی یہی نمائش ان کے بلائے جان بن جاتی ہے . کیونکہ لوگوں کے دلوں میں ان کے خلاف کینہ پرورش پانے لگتا ہے اور جذبات نفرت پید اہوجاتے ہیں . اور اکثر ایسابھی ہوتاہے . کہ یہی شرمناک او ر مکروہ عمل ان کی زندگی کوختم کردیتا ہے یاان کی دولت کوبرباد کرتادیتاہے ۔ ممکن ہے کہ اس جنون آمیز عمل کانتیجہ کسی قسم کی تحریک ہو . مثلا لالچی افراد میں مزید دولت حاصل کرنے کی ہوس میں اضافہ ہو . اور سرکش لوگوں میں فر مانبر داری کے جذ بات پیدا ہوں . مگر اہل ثروت ، نمائش دولت کے عمل کواس تصور کے بغیر انجام دیتے ہیں . درحقیقت ان کاعمل بھی ایک قسم کی ہوس ہوتاہے . اس میں کسی سوجھ بوجھ کاکوئی دخل نہیں ہوتا ۔ بہرحال قارون بھی اس قانوں سے مستثنی نہ تھا . بلکہ جنون نمائش ثروت کاایک واضح نمونہ تھا . قرآن میں زیر بحث آیات میں ایک جملے کے اندر قارون کی اس کیفیت کو بیان کیاگیا ہے . قارون پوری زیب و زینت سے اپنی قوم کے سامنے نکلا : ( فخرج علی قومہ زینتہ) ۔ کلمہ ” فی زینتہ “ اس حقیقت کاآئینہ دار ہے کہ اس نے اپنی پوری قوت اور توانائی اس کام پر صرف کرد ی تھی کہ وہ اپنی تما م دولت و آرائش کی لوگوں کے سامنے نمائش کرے اور یہ بات محتاج ذکر نہیں کہ اتنی دولت کامالک شخص جب نمود حشمت کاارادہ کرے تو وہ کیا کچھ کرسکتاہے ۔ کتب تواریخ میں اس واقعے کے متعلق بہت سے افسانے اور داستانیں ذکر ہوئی ہیں . بعض مئو رخین نے لکھا ہے کہ قارون چار ہزار خادموں کی قطا ر کے ساتھ بنی اسرائیل کے درمیان سے گزرا . جبکہ یہ چار ہزا ر خادم گراں قیمت گھوڑوں پرسرخ پوشاک پہنے ہوئے سوا ر تھے . اس کے ساتھ خوش گل کنیز یں بھی تھیں جوسفید خچروں پر سوار تھیں . جن پرسنہری زین کے ہوئے تھے . ان کی پوشاکیں سرخ اور سب طلا کار تھیں ۔ بعض لوگوں نے اس کے خادموں کی تعدار ستر ہزار لکھی ہے اوراسی طرح کی اور باتیں بھی لکھی ہیں ۔ لیکن اگرہم تمام بیانات کومبالغہ آمیز بھی سمجھ لیں پھربھی ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ نمائش دولت کے لیے اس کے پاس بہت سازو سامان تھا ۔ جیساکہ دنیا کا معمول ہے قارون کی جاہ وحشمت کودیکھ کرلوگوں کے درگروہ ہوگئے .دنیا پرسب اکثر یت نے جب اس خیرہ کن منظر کودیکھا تو ان کے دل تمنا ئیں مچلنے لگیں . انھوں نے ٹھنڈی آہ بھری او ر کہنے لگے کہ کاش وہ بھی قارون جیسی دولت کے مالک ہوتے . خواہ ایک دن ، ایک ساعت یاایک لمحے ہی کے لیے یہ شکوہ نصیب ہوتا . آہ ! اس کی کیسی شیریں ، جذاب ، نشاط انگیز اور لذت بخش زندگی ہے ! چنانچہ قرآن میں فر مایاگیاہے : جولوگ دنیا وی زندگی کے طلب گار تھے . انھوں نے کہاکہ کاش ہمارے پاس بھی اتنی دولت ہوتی جتنی قارون کے پاس : ( قال الذین یریدون الحیوة الدنیایالیت لنامثل مااوتی قارون ) ۔ حقیقت میں اس کے پاس نودولت کافراواں حصہ ہے ( انہ لذو حظ عظیم ) آفرین ہے قارون پراور اس کی بے پناہ دولت پر ، واہ اس کاکیا جاہ و جلال ہے ، اور کتنے خادم اور نوکر چاکر ہیں ، تاریخ میں اس جیساکوئی شخص نہیں ہے . یہ عظمت اسے خدانے عنایت کی ہے . غرض لوگ اسی طرح کی باتیں کرتے تھے ۔ درحقیقت اس وقعے میں امتحان کی ایک بہت بڑی بھٹّی جل رہی تھی . اس بھٹّی کے بیچ قارون تھ. تاکہ وہ اپنی سرکشی اور غرور کاامتحان دے . دوسری طرف بنی اسرائیل کے دنیا پرست لوگ اس بھٹّی کے گردا گرد مقیم تھے ۔ لیکن قارون کے لیے ایک درد ناک عذاب تھا . ایسا عذاب جو ایسی نمائش کے بعد ہوتاہے . یہ عذاب اوج عظمت سے قعرزمین میں لے جاتا ہے ۔ لیکن اس دنیا طلب بڑی گروہ کے مقابلے میں ایک اقلیت اہل علم صاحبان فکر ، پرہیز گار اور با ایمان لوگوں کی بھی وہاں موجو د تھی جن کا افق فکر ان مسائل سے برتراور بالاتر تھا . یہ وہ لوگ تھے جن کے نزدیک احترام شخصیت کا پیمانہ زر اور زور نہ تھا . ان کے نزدیک انسان کی قدرکامعیار اس کے مادی و سائل نہ تھے . یہ وہ لو گ تھے کہ دولت و ثروت کی عارضی او ر مضحکہ انگیز نمود و نما ئش پر تمسخر آمیز طور پر مسکرادیتے تھے ، او ر اسے ایک بے مغز اور غیر حقیقی شے سمجھتے تھے ۔ چنانچہ قرآن میں مذکور ہے کہ : وہ لوگ جنہیں علم و معرفت عطاہوئی تھی . انھوں نے کہاتم پرافسوس ہے ! یہ تم کیا کہہ دہے ہو ؟ ان لوگوں کے لیے جوایمان لائے ہیں اورعمل صالح کرتے ہیں ، خدا کی طرف سے ثواب اور جزا بہتر ہے : ( وقال الذین اوتو العلم و یلکم ثواب اللہ خیر امن و عمل صالحا ) ۔ ان الفاظ پرانھوں نے یہ اضافہ کیاکہ یہ ثواب الہٰی صرف ان لوگوں کانصیب ہے جوصابرین ہیں : ( ولا یلقاھاالا الصابرون ) ۔ اس ثواب الہٰی کے مستحق وہ لوگ ہیں جو دنیا کی زینتوں اور اس کے ہیجان انگیز فرو شکوہ کے مقابلے میں مستقیم المزاج رہتے ہیں . جو نعمات دنیا کی محرو میت کو مردانہ وار استقلال سے برداشت کرتے ہیں . جوناکس لوگوں کے سامنے کبھی سرنہیں جھکاتے او رجو دنیا مین مال و دولت اور خوف و مصیبت کی آزمائش کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح ثابت قدم رہے ہیں ۔ مسلمان ... اس مقام پر ” الذین اوتو االعلم “ مراد بنی اسرائیل کے اہل علم مومنین ہیں . ان میں یوشع جیسے بزرگ افراد بھی تھے ۔ اس مقام پر قابل غور امر یہ ہے کہ ” الذین یریدون الحیوة الدنیا “ ( یہ جملہ گروہ اول کے متعلق آیاہے ) کے مقابلے میں ” الذین یرید و ن الحیوة الا خرة ) نہیں کہاگیا ہے . بلکہ صفت علم کی تخصیص کی گئی ہے . کیونکہ علم ہی وہ اصل ہے جس سے ایما ن و استقامت ، حصول ثواب الہٰی اور دار آخرت میں اجر کاجزبہ پیدا ہوتاہے ۔ ” الذین اوتو العلم “ میں ایک ایساابہام بھی ہے کہ یہ قارون کے اس فخر کاجواب ناطق ہے کہ وہ اپنے آپ کو عالم سمجھتے تھا . قرآن کاجواب یہ ہے کہ : حقیقی عالم یہ لوگ ہیں کہ جن کاافق فکر اس حد تک بلند ہے نہ کہ توخیرہ سراور مغرور ۔ اس جواب میں ہمارے لیے یہ درس بھی ہے کہ علم و دانش ہی جملہ خیرات و برکات کی بنیاد ہے ۔ قارون نے سرکشی اورخدا کی نافرمانی کرکے اپنے آپ کوبہت بڑا سمجھ لیاتھا . مگر تواریخ اور روایات میں اس کے متعلق کچھ اور ہی واقعہ بیان ہواہے جو قارون کی انتہائی بے شرمی کی علامت ہے . اور وہ ماجرایہ ہے کہ : ۔ ایک رو ز حضرت موسٰی علیہ السلام نے قارون سے کہا کہ خدانے مجھے یہ حکم دیاہے کہ تیرے مال میں سے زکوٰة لو ں جو محتاجوں کاحق ہے . جب قارون زکوٰة کی آدائیگی کے اصول سے مطلع ہوا اور اس نے حساب لگایا کہ اسے کتنی کثیر رقم دینا پڑے گی تواس نے انکار کردیا اور پنے آپ کو بچانے کے لیے حضرت موسٰی علیہ السلا م کی مخالفت پر آمادہ ہو گیا . وہ بنی اسرائیل کے دولت مندوں کی ایک جماعت کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا : ” اے لوگو! موسٰی چاہتاہے کہ وہ تمہای دولت خود ہضم کرلے . اس نے تمہیں نماز کاحکم دیا تم نے قبول کیا . اس کے دوسرے احکامات بھی تم نے مان لیے . کیاتم یہ بات بھی برداشت کرلوگے کہ اپنی دولت اسے دے دو ! ؟ ان سب نے کہاکہ نہیں . مگر اس سے کس طرح مقابلہ کیاجاسکتاہے ؟ اس وقت قارون کے ذہن میں ایک شیطانی کا خیال آیا .اس نے کہا کہ میں نے ایک بہت اچھی تدبیر سوچی ہے . میرا خیال ہے کہ اس کے خلاف ایک منافی عصمت سازش کرنی چاہیئے . ہمیں چاہیئے کہ بنی اسرائیل میں س ے ایک فاحشہ عورت کو تلاش کرکے موسٰی کے پاس بھیج دیں ، تاکہ وہ اس پر شرمناک تہمت لگادے . بنی اسرائیل نے اس تجویز کو پسند کیا . انھوں نے ایک بدکار عورت کو تلاش کیااور اس کہا کہ : ” تو جو کچھ مانگے گی تجھے دیں گے بشر طیکہ تو یہ گواہی دے کہ موسٰی کاتجھ سے نامشروع تعلق تھا ۔ اس عورت نے بھی اس تجویز کومنظور کرلیا . ایک طرف تویہ سازش ہوئی . دوسری طرف قارون حضرت موسٰی علیہ السلام کے پاس گیا اور ان سے کہاکہ : ۔ ” بہتر ہے کہ آپ بنی اسرائیل کوجمع کریں اور انھیں الہٰی احکامات سنائیں “ حضرت موسٰی علیہ السلام نے یہ پیش کش منظور کرلی اور بنی اسرائیل کو جمع کیا ۔ جب لوگ جمع ہوگئے تو انھوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہا کہ : ” آپ ہمیں خدا کے احکام سنائیں “ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ ’ ’ بجز اس کے کسی کی پرستش نہ کرو “ . صلہ رحم بجالاؤ ، ایسا کرو اور ویسا کرو . زناکار آدمی کے لیے اخدانے یہ حکم دیاہے کہ اگروہ زنائے محضہ کرتاہے تو اسے سنگسار کیاجائے ۔ اس مقام پران بے شرموں نے ، بے ادبی اور گستاخی کی حد کردی اور کہا کہ : ’ ’ ہم جانتے ہیں کہ توخود اس فعل کامرتکب ہواہے . اور فلا ں بد کار عورت سے تیرا تعلق رہا ہے “ ۔ پھرانھوں نے اس عورت کو بلایااور اس سے کہاکہ تو شہادت دے . حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس عورت کی طرف رخ کیا اور کہاکہ ” میں تجھے خداکی قسم دیتاہوں کہ تواصل حال بیان کر“ ۔ جب اس بد کار عورت نے یہ بات سنی تو کانپ گی ٴ ،اس کی حالت بد ل گیٴ اور اس نے کہا : ” جب آپ مجھ سے سچ پوچھتے ہیں تو میں حقیقت حال بیان کرتی ہوں . وہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے مجھے اس بات پر آمادہ کیاتھا کہ میں آ پ کو متہم کرو ، اس کے بدلے میں انھوں نے مجھے ایک کثیررقم دینے کا و عدہ کیا تھا . مگرمیں گواہی دیتی ہوں کہ آپ باعفت ہیں اور اللہ کے رسول ہیں “ ۔ ایک دوسری روایت میں مذکورہ ہے کہ اس عورت نے یہ بھی کہاکہ :۔ لعنت ہومجھ پر ، میں نے اپنی زندگی میں بہت گناہ کیے ہیں مگر کسی پیغمبرپر تہمت نہ لگائی تھی ۔ اس کے بعد اس نے دولت کے دو تھیلے جو ان سازشیوں نے اسے دیے تھے نکال کرسامنے رکھ دیے اور مذکورہ باتیں کیں ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام سجدے میں گرگئے اور رونے لگے . اس موقع پر بدسیرت ، سازشی قارون پر عذاب نازل ہوا۔ اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ خدانے قارون کے غرق زمین کرنے کا حضرت موسٰی علیہ السلام کو اختیار دتاتھا (۱) ۔ اس مقام پر قرآن مجید کے الفاظ یہ ہیں کہ : ہم نے اسے اوراس کے گھر کو زمین میںغرق کردیا : ( فخسفنا بہ و بد ار ہ الارض ) ۔ یہ درست ہے کہ جب منکرین کاطغیان اور سرکشی اوران کی جانب سے تہی دست مومنین کی تحقیر و تذ الیل ، اور پیمبرا لہٰی کے خلاف سازش اپنی انتہائی کوپہنچ جاتی ہے تواس وقت دست قدرت الہٰی وارز ہوتاہے اور ان متکبرگستاخوں کی زندگیوں کوختم کردیتاہے ، اور انھیں ایسی سزدیتاہے کہ ان کی افتاد سب لوگوں کے لیے سبب عبرت بن جاتی ہے ۔ کلمہ ” خسف “ اس مقام پرزمین میںگڑ جانے اور زمین میں پوشیدہ ہوجانے کے معنٰی میں استعمال ہوا ہے . انسان کی پوری تاریخ میں ایسے واقعات بارہا پیش آئے ہیں کہ سخت زلزلہ آیااور زمین شگافتہ ہو گئی اور اس نے شہریا آبادیوں کو نکل لیا . مگر اس مقام پر جس حادثہ خسف کا ذکر ہے ، یہ مختلف نوعیت کاہے . اس میں فقط قارون اور اس کے خزانے ہی لقمہ ٴ زمین ہوئے ۔ کیا عجب واقعات ہیں کہ فرعون تودریا ئے نیل کو مو جو ں میںغرق ہوجاتاہے اور قارون شکم زمین میں س ماجاتاہے . اس مقام پردیرنی یہ امر ہے کہ پانی جو مایہ ٴ حیات ہے ، و ہ فرعون اور اس کے ہمکاروں کو نابود کرنے پر مامور ہوتاہے . اور زمین جوانسان کے لیے جائے راحت وہ قارون اوراس کے ساتھیوں کے لیے گورستان بن جاتی ہے ۔ یہ مسلم ہے کہ قارون اپنے گھر میں تنہانہ تھا . وہ اور اس کے اہل خاندان ، اس کے ہم خیال ، اور اس کے ظالم او ر ستمگر دوست سب کے سب شکم زمین میں س ماگئے . لیکن اس وقت اس کی مدد کے لیے کوئی جماعت نہ تھی جو اسے عذاب الہٰی سے بچاسکتی اور وہ خود بھی اپنی کوئی مدد نہ کرسکتاتھا : ( فماکان لہ من فئة ینصرونہ من دون اللہ و ماکان من المنتصرین ) . نہ تواس کے دستر خوان کے مفت خور ، نہ اس کے ولی دوست ، نہ اس کامال و دولت ، ان میں سے کوئی شے بھی اسے عذاب الہٰی سے نہ بچاسکی اور وہ سب کے سب قعرزمین میں سماگئے ۔ آیات زیر نظر میں سے آخری آیت میں چنانچہ فرمایاگیاہے . جولو گ گزشتہ رو ز یہ آرزو گررہے تھے کہ ” کاش ہم اس کی (قارون کی ) جگہ ہوتے جب انھوں نے اسے ( قارون ) اور اس کی دولت کو زمین میں دھسنتے ہوئے دیکھاتو کہنے لگے کہ ہمارے خیالات پرافسوس ہے ( حق یہ ہے کہ ) خدااپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی کو فراخ کردیتاہے اور جس کے لیے چاہتاہے تنگ کردیتاہے . کلید رزق صر ف اسی کے ہاتھ میں ہے ” ( واصبح الذین تمنوا مکانہ بالا مس یقول و یکا ن اللہ یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ و یقد ر ) ۔ ( انھوں نے کہا) آج یہ بات ہم پر ثابت ہوگئی کہ جس آدمی کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی کوشش کانتیجہ نہیں ہے بلکہ وہ خدا کی دین ہے . اس کی عطاکا انحصار اس امر پر نہیں کہ وہ کسی سے راضی او ر خوش ہے . اور نہ کسی کی محرومی اس وجہ سے ہے کہ وہ شخص اللہ کی جناب میں بے قدر ہے . اللہ افراد اور اقوام کو دولت دے کر ان کا امتحان لیتاہے اوران کی سیرت اور فطرت کو آشکار کرتاہے ۔ اس کے بعد وہ (رشک کرنے والے ) سوچنے لگے کہ اگر گزشتہ رو ز خدا ان کی دعاقبول کرلیتااور انھیں بھی قارو ن جیسا ہی بنادیتا تو ان کا کیسا عبرت ناک انجام ہوت. لہذا انھوں نے خداکی اس نعمت کا شکر ادا کیا او کہا کہ اگرخدا ہم پر احسان نہ کرتاتو وہ ہمیں بھی زمین میں غرق کردیتا: ( لو لا ان من اللہ علینا الخسفابنا ) ۔ او ر ... گویا کہ کافر ہر گز نجات نہیں پائیں گے : ( و یکادٴ نہ لایفلح الکافرون ) ۔ اب ہم حقیقت کی نظر سے غرور و غفلت اور کفر و ہوس دنیا کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں نیز ہم یہ سمجھ گئے ہیں کہ یہ نمایٴشی زندگیاں جن کا منظر نہایت دل فریب ہوتاہے ا ن کی حقیقت کتنی خوفناک ہے ۔ اس ماجرے کے انجام سے یہ امر بخوبی واضح ہوجاتاہے کہ آخرکار مغرور کا فراور بے ایمان قارون دنیا سے رخصت ہوا . ہر چند کہ اس کا شمار بنی اسرائیل کے دانشمندوں اور تورات کے تلاوت کرنے والوں میں ہوتاتھا . نیز وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کا رشتہ دار بھی تھا ۔ ۱۔ وسائل شیعہ ، جلد ۱۲ ، ص ۱۹ ( حدیث ۲ از باب ۷ از ابواب مقدمات التجارة ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:79-82
سوره قصص / آیه 79 - 82
۷۹۔ فَخَرَجَ عَلی قَوْمِہِ فی زینَتِہِ قالَ الَّذینَ یُریدُونَ الْحَیاةَ الدُّنْیا یا لَیْتَ لَنا مِثْلَ ما اٴُوتِیَ قارُونُ إِنَّہُ لَذُو حَظٍّ عَظیمٍ ۸۰۔وَ قالَ الَّذینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ وَیْلَکُمْ ثَوابُ اللَّہِ خَیْرٌ لِمَنْ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً وَ لا یُلَقَّاہا إِلاَّ الصَّابِرُونَ ۸۱۔فَخَسَفْنا بِہِ وَ بِدارِہِ الْاٴَرْضَ فَما کانَ لَہُ مِنْ فِئَةٍ یَنْصُرُونَہُ مِنْ دُونِ اللَّہِ وَ ما کانَ مِنَ المُنْتَصِرینَ ۸۲۔وَ اٴَصْبَحَ الَّذینَ تَمَنَّوْا مَکانَہُ بِالْاٴَمْسِ یَقُولُونَ وَیْکَاٴَنَّ اللَّہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشاء ُ مِنْ عِبادِہِ وَ یَقْدِرُ لَوْ لا اٴَنْ مَنَّ اللَّہُ عَلَیْنا لَخَسَفَ بِنا وَیْکَاٴَنَّہُ لا یُفْلِحُ الْکافِرُونَ ترجمہ ۷۹ ۔ ( ایک روز )قارون بڑی سج دھج اور اٹھا ٹھ کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا ۔ وہ لوگ جو دنیا وی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے : جیساکہ مال و متاع قارون کو ملا ہے ، کاش ہمارے پاس بھی ہوتا یقینا اس کے پاس تو ( دولت کا )بہت بڑا حصہ ہے ۔ ۸۰۔ اور جن لوگوں کوعلم دیاگیاتھا وہ کہنے لگے کہ تم پرافسوس ہے . ثواب الہٰی بہتر ہے ،ان لوگوں کے پاس لیے جوا یمان لاتے اورعمل صالح انجام دیتے ہیں. لیکن اسے صابر وں کے سوا کوئی نہیں پاسکتا ۔ ۸۱ ۔آخر کارہم نے اسے اوراس کے گھرکو زمین میں دھنسادیا . اور عذاب الہٰی کے مقابلے میں کوئی جماعت اس کی مدد نہ کرسکی اور وہ خود بھی اپنی مدد نہ کر سکا ۔ ۸۲۔ اور وہ لوگ جوکل اس کی مقام و منزلت کی تمنا کرتے تھے .( جب انہوں نے یہ منظر دیکھاتو ) کہتے لگے : وائے ہو ہم پر ،یہ تواللہ ہی ہے کہ جواپنے بندوں میں جسے چاہتاہے اس پر روز کو فراخ کردیتاہے ، اور جس پرچاہتاہے تنگ کردیتاہے . اگر خداہم پر احسان نہ کرتا توہمیں زمین بھی زمین میں دھنسادیتااے افسوس ! کا فروں پرکہ وہ پرگز نجات نہیں پاسکتے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:79-82
۳۔ دو لت کے بارے میں اسلام کا موقت
ہم نے جو کچھ سطور بالا میں بیان کیاہے اس سے یہ نتیجہ اخذ نہ کیاجائے کہ مال و دولت کے معاملے میں اسلام کا رویہ یہ منفی ہے اور ثروت مندی کامخالف ہے . یہ بھی تصور نہیں کرنا چاہیئے کہ اسلام غریب و افلاس کو پسند کرتاہے اور لوگوں کومسکنت او ر بے نوائی کی طرف دعوت دیتاہے اور اس حالت کوروحانی کمالات کے حصول کاوسیلہ سمجھتاہے ۔ بلکہ ... اس کے بالعکس اسلام مال ودولت کوایک موٴ ثر او ر کار ساز وسیلہ سمجھتا ہے . چنانچہ سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۱۸۰ میں ” مال “ کو خیر کہاگیاہے . نیز ... امام باقر علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے ۔ نعم العون الدنیا علی طلب الاخرة آخرت تک پہنچنے کے لیے دنیا اچھا وسیلہ ہے (1) ۔ بلکہ ... زیربحث آیات جن میں مغرور اورصاحب ثروت قارون کی شدید ترین مذمت کی گئی ہے ، ان سے بھی یہ حقیقت مترشح ہے کہ اسلام اس دولت کوپسند کرتاہے جس کے وسیلے سے ” دار آخرت “ کی جستجو اور اگلے جہان کی نعمات کو طلب کیاجائے ۔ جیساکہ بنی اسرئیل کے اہل دانش نے قارون سے کہا : ” وابتغ فیما اتاکہ اللہ الدار لا خرة “ اسلام اس دولت کوپسند کرتاہے جس میں ” احسن کما اللہ الیک “ کے تقاضے کے مطابق تمام بنی نوع انسان کے ساتھ بھلائی اور احسان ہو ۔ اسلام اس دولت کامداح ہے جس کا مالک ” لا تنس نصیبک من الدنیا “ کی تعلیم پرعامل ہو ( یعنی دولت مند ہونے کے باوجود یہ خیال رکھتاہو کہ دو لت دنیا میں میرا محدود حصہ ہے ) ۔ خلاصہ ٴ کلام یہ ہے کہ اسلام اس دولت کاخواہاں ہے جو ” زمین پرباعث فساد “ انسانی اقدار کوفراموش کردینے والی ، ارتکاز و تکا ثر کی جنون آمیز مسابقت میںگرفتار کردینے والی ، انسان میں جذبہ برتری ٴ ذاب پیدا کرنے والی ، دوسروں کو بہ نظر تحقیر دیکھنے والی او ر یہاں تک کہ پیغمبروں کے مدّ مقابل آنے والی نہ ہو . ان اخلاق رزیلہ کی بجائے وہ دولت ایسی ہو جس سے جملہ بنی نوع کو فائدہ پہنچے ، بین الناس اقتصادی نشیب و فراز کے خلاکو پر کردے . بے چار ے غم رسیدہ لوگوں کے زخموں پرمرہم رکھے اور مستضعفین کے احتیاجات اور مشکلات کا حل بن جائے .اگر کوئی شخص ایسی دولت کا مالک ہے جس کے مصرف ایسے مقدّس مقاصد ہیں تواس شخص کو دنیا اور دولت پر ست نہیں کہہ سکتے . ایسے شخص کا تعلق نعمات آخرت سے ہے چنانچہ ہم ایک حدیث میں پڑھتے ہیں کہ : امام جعفرصادق علیہ السلام کے اصحاب میں س ے ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضرہو اور شکایت کی کہ : ” ہم دنیا کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اوراس سے دلبستگی رکھتے ہیں . ہم اس سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم دنیا پرست نہ ہوجائیں “۔ امام علیہ لسلام ( جو کہ اس شخص کی نیکی اور تقویٰ کو جانتے تھے ) نے اس سے سوال کیا ۔ تو دنیا کی دولت کوکس کام میں خرچ کرناچاہتاہے ؟ اس شخص نے جوابا عرض کیا : میں اس سے اپنی اور پنے اہل و عیال کی معاشی فراہم رتاہوں ، اپنے اعزّاکی مدد کرتاہوں ، راہ خدامیں انفاق کرتاہوں اور حج و عمرہ بجالاتاہوں ۔ یہ سن کرامام علیہ السلام نے جواب دیا : ” لیس ھذا طلب الدنیا ھذا طلب الا خرة “ یہ دنیا طلبی نہیں ہے ، طلب آخرت ہے (2) ۔ اس استشہاد کی بنا ء پر دو قسم کے لوگوں کے عقائد کابطلان ثابت ہوتاہے ۔ اوّل : تو و ہ مسلمان نما تعلیمات اسلام سے بے خبر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام سر مایہ دار ی کاحامی ہے ۔ دوسررے : وہ اہل غرض دشمنان اسلام جو تعلیمات ِ اسلام کومسخ کرکے اسے معاند ثروت او ر حامی افلاس و تہی وستی قرار دیتے ہیں ... مگر ا ن پر یہ حقیقت منکشف ہونی چاہیئے کہ : ایک مفلس وناد ار قوم کبھی آزاد ساور باعزت زندگی بسر نہیں کرسکتی۔ قومی افلاس کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ پسماندہ قوم کسی قوی قوم کے زیر اثر آکر اس سے وابستہ ہوکر رہ جاتی ہے . مفلسی دنیا و آخرت دونوں جگہ روسیا ہی کاباعث ہے ۔ مفلسی انسان کوگناہ او ر مکروہات کی طرف دعوت دیتی ہے ۔ امام جعفرصادق علیہ السلام کا ایک قول اس معنی کامصداق ہے : ” غنی یحجزک عن الظلم خیر من فقر یحملک الا ثم “ وہ لت مند ی جو تجھے دوسروں کے سلب حقوق سے باز رکھے اس فقرسے بہتر ہے جوتجھے گناہ پر آمادہ کرے ۔ اس لیے تمام مسلمانوں لو چاپہئے کہ وہ اپنی تمام کوشش اس امر پرصرف کریں کہ وہ مال حیثیت سے غنی اوربے نیاز ہوجائیں ، خود کفیل ہوں او ر اپنے پیروں پرکھڑے ہوجائیں وہ اپنے شرف ،عزّت اور استقلال کو ، بوجہ فقروافلاس دوسری قوموں کی وابستگی پرقربان نہ کریں اور یہ جان لیں کہ اسلام کے نزدیک صرف صراط ِ مستقیم یہی ہے ۔ 1۔وسائل شیعہ ، جلد ۱۲ ، ص ۱۷ (ابواب مقدمات تجارت سے باب ۱۶ ، حدیث ۵ ) ۔ 2۔ بمطابق نقل تفسیر المیزان ، جلد ۱۶ صفحہ ۸۴ بحوالہ درالمنثور اسی طر ح تفسیر روح المعانی . نیز دیگر مفسرین نے بھی کچھ فرق کے ساتھ اسی آیت کے ذیل میں یہ روایت نقل کی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:79-82
2۔ قارون یہ دو لت کہاں سے لایاتھا ؟
یہ امر توجہ طلب ہے . سورہ مومن کی آیات ۲۳ اور ۲۴ سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی رسالت کا آغاز ہی تین شخصوں کے ساتھ تناز عے سے شروع ہواتھا . وہ تھے فرعون اس کا وزیر ہامان اور مغرور ثروت مند قارون .جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے : ولقد ارسلنا موسٰی بایا تنا و سلطان مبین الی فرعون و ھامان و قارون فقالو ا ساحر کذاب ۔ ہم نے موسٰی کو اپنی آیات ، ولائل اورروشن معجزات دے کرفرعون ، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا . مگر ان سب نے کہا کہ یہ تو بڑا جھوٹا جادو گر ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ قارون بھی فرعون کے رفقاء میں سے تھا اوران کا ہم عقیدہ تھا . ہم تاریخ میں یہ بھی پڑ ھتے ہیں . کہ وہ ایک طرف توبنی اسرائیل میں فر عون کا نمائندہ (1) تھااور اس کا دوسرا مقام یہ تھا کہ فرعون کاخزانہ واد تھا (2) ۔ قارون کی ان حیثیات کے پیش نظر اس کاکردار قطعی روشن ہوجاتاہے . کہ فرعون نے اس منصوبے کے تحت کہ وہ بنی اسرائیل کو مصر میں اسیررکھے اورا ن کے سرمائے اوردولت کو لوٹتارہے ، ان ہی میں سے ایک منافق ، حیلہ باز اور بے رحم انسان کو منتخب کر لیا تھا اور اسے بنی اسرئیل پر مسلط کرکے مختار کل بنا دیاتھا ، تاکہ وہ اپنی بستی پرمبنی برظلم عہدے سے فائد ہ اٹھا کر ان کا خوب استحصال کرے او ر انھیں تباہ کردے . اور اپنے شیوہ ٴ جور سے خوب دولت بھی کمالے ۔ قرائن بتاتے ہیں کہ فرعون اوراس کے ساتھیوں کے نابود ہوجانے کے بعد ان کی دولت اور خزانوں کی بہت بڑی مقدار قارون کے پاس رہ گئی تھی . اس وقت تک حضرت موسٰی علیہ السلام میں اتنی قوت پیدا نہ ہوئی تھی کہ قارون سے اس فرعونی دولت کو جوا س کے پاس تھی ، مستضعفین کی امداد کے لیے لے لیں ۔ بہرکیف قارون نے خواہ اس دولت کوفرعون کی حیات میں پیدا کیاتھا ، یافرعون کے غرق ہوجانے کے بعد اس کے خزانوں کو لوٹ کر. یابقول بعض بذریعہ علم کیمیا یا بذریعہ تجارت یازیر اقتدار پسے ہوئے لوگوں کا استحصال کرکے ، جو کچھ بھی ہو ۔ جب حضرت موسٰی علیہ السلا م کو فرعون اوراس کے ساتھیوں پرفتح حاصل ہو گئی تو قارون نے معااپنی پالیسی بدلی او ر بہت بڑ ھ چڑھ کر ( جیسا کہ گروہ منافقین کا طریقہ ہوتاہے ) اپنے آپ کو توریت کی تلاوت کرنے والا اوراس کا عالم ظاہر کیا . حالانکہ اس قسم کے لوگوں کے قلب میں نور ایمان کی ایک کرن بھی داخل نہیں ہوتی ۔ آخر کا ر جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے طے کرلیا کہ وہ اس سے زکوٰة لیں گے تواس کے چہر ے سے نقاب الٹ گی ٴ اورا س کے پر فریب روبندکے نیچے سے اس کا برا اور منحوچہر ہ ظاہر ہوگیا ... اور پھر ہم نے دیکھا کہ اس منافق انسان کاکیا انجام ہوا ۔ 1 ۔ تفسیر فخرالدین رازی ، جلد ۲۵ ، ص ۱۳ ، واتفسیر مجمع البیان ، جلد ۷ ، ص ۲۶۲زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔ 2 ۔ مجمع البیان ، جلد ۸ ، ص ۵۲۰ ، سورہ ٴ مومن کی آیت ص ۲۴ کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:79-82
۱۔ ماضی اور حال کے قارون
داستان قارون ، ( جسے ایک مغرور دولت مند کامثالی نمونہ کہتاچاہیئے ) جسے قرآن کی ساتھ آیات میں بہت ہی جاذب توجہ طور پربیان کیاگیاہے ، وہ انسان زندگی کے بہت سے حقائق سے پردہ اٹھاتی ہے ۔ یہ داستان اس حقیقت کوروشنی میں لاتی ہے کہ دولت کا غرور اور نشہ بعض اوقات انسان کو دیوانہ بنادیتاہے . مثلااپنی دولت کی نمائش کا جنون ، دوسروں کے سامنے اپنی برتری کااظہار ، یا تہی دست لوگوں کی تحقیر کرکے محظوظ ہونے کا جنون وغیرہ ۔ یہی غرور ثروت اور سیم و زر کی بے کراں حرص کبھی انسان کوبدترین اور مکرو ہ ترین گناہوں پرآمادہ کردیتی ہے ، مثلا وہ پیمبرخدا کے مقابلہ پراتر آئے اور حقیقت و حقانیت کے خلاف جنگ کرنے لگے . حتی کہ پاک ترین افراد پر نہایت بے شرمانہ تہمتیں لگانے لگے اور اپنی دولت خرچ کرکے اس مقصد کے لیے بد کار عورتوں کی امداد حاصل کرنے لگے . دولت کا غرور اور نشہ انسان کو یہ اجازت نہیں دیتاکہ ناصحین کی نصیحت پر کان دھرے اور خیر خواہوں کے مشورے پر عمل کرے ۔ ( جو انھوں نے بندگان خداکے حقوق و غضب کرکے حاصل کی ہے ) ان کی عقل و دانائی کی دلیل ہے . یہ لوگ اپنے آپ کو دانا اور سب کو نادان سمجھتے ہیں ۔ یہ بے خبرثروت مند مغرور اپنے آپ کو سب سے زیادہ عالم اور دانا اورسب کو نادان سمجھتے ہیں . اور یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کی دولت یہاں تک کہ ان کی جرائت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ خدا کے مقابلہ میں بھی اپنی ہستی سمجھتے لگتے ہیں اور اپنے آ پ کو اس کی ذات سے مستغنی سمجھ کرکہنے لگتے ہیں کہ : ۔ ” ہم نے جو کچھ حاصل کیاہے وہ ہماری جدت ، تیز ی طبع ، تخلیقی استعداد اور علم ، و دانش کا نتیجہ ہے “ ۔ ہم نے دیکھ لیاکہ اس قسم کے تباہ کار متکبرین کاانجام کیاہوتاہے . اگر قارون مع اپنے عیال دو دولت کے قعرزمین میں پیوست ہو کر نابود . ہوگیا تو دوسرے لوگ ، دوسرے طریقوں سے نابود ہوجائیں گے اور زمین ان کی دولت کو کسی اور شکل سے نگل لے گی ۔ بعض لوگ اپنی کثیر دولت سے محلات بناتے او ر باغ ہیں اور ایسی جائیدا د یں خرید تے ہیں کہ ان سے فائدہ اٹھانا ان کے نصیب میں ہی نہیں ہے . یہ لوگ اپنی دولت سے بنجر اور و یران زمینیں اس خیال سے خرید لیتے ہیں کہ ان کے پلاٹ بناکر فروخت کریں گے . اوراس طرح سے بہت سی دولت کمالیں گے . اس طرح زمین ان کی دولت کو نگل لیتی ہے ۔ اس قسم کے سبک سردولت مندوں کے سامنے جب اپنی کثیر دو لت کوخرچ کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتاتو پھر اس انھیں ایسے شوق ہوجاتے ہیں جن کی اقدار محض وہمی ہوتی ہے مثلا وہ آثار قدیمہ سے برآمد شدہ ٹوٹے ہوئے پیالے اور گوز ے ، بیر نگ تختیاں ، سالہا سال پرانی ٹکٹوں یانوٹوں کوگراں بہا قدیم یاد گار یں سمجھ کر خرید لیتے ہیں اور انھیں احتیاط سے اپنے محلّات میں سجاتے ہیں . اگران چیزوں کی حقیقت پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ کوڑی پرپھینکنے کے لائق ہیں ۔ ان اہل ثروت نے یہ بازیب و زینت روش حیات اس حالت میں اختیار کی ہے کہ ان کے شہر و دریا ر یہاں کے لیے تربیت دینے والے استاد مقرر کیے جاتے ہیں .بوقت بیماری ان کے لیے طبیب کو بلایاجاتاہے ، جبکہ ان اہل دولت کے قرب و جوار میں مظلوم انسان انتہائی کسمپر سی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں . وہ بستر بیماری میں نالہ و فریاد کررہے ہوتے ہیں ، مگر انھیں طبّی امداد میسر ہوتی ہے نہ دوا کاایک قطرہ ۔ سطور بالامیں جوحالا ت ہم نے کسی معاشرے کے مخصوص افراد لکھے ہیں وہ کبھی ایک قوم یاملک پربھی صادق آتے ہیں یعنی دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کوئی ایک ملک قارون ہوجاتاہے .جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی ممالک میں امریکہ قارون ہوگیاہے ۔ اہل امریکہ تیسری دمیاکے غریب ، تہی دست اور پسماندہ عوام کااستحصال کرکے نہایت باشکوہ و جلال زندگی گزارتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ اپنی جو فالتوں غذاکو ڑیوں پر پھینک دیتے ہیں . اگراسے جمع کرکے صحیح مصرف میں لایاجائے تو دنیا کے لاکھوں بھوکے انسانوں کے لیے کافی ہوسکتی ہے ۔ جب ہم لفظ ” غریب ملک “ استعمال کرتے ہیں تواس کامطلب یہ نہیں ہوتاکہ یہ ملک من جانت اللہ مفلس و بے نواہیں ، بلکہ ان ملکوں کو مغرب کی طاقتور قوموں نے غارت کرکے فقیر بنادیا ہے .ان میں بعض ملکوں میں زیر زمین گراں بہا معدنیا ت اور ذخائر ہیں . لیکن مغرب کے غار تگر انھیں لوٹ کے جاتے ہیں . اوران ملکوں کے باشندوں کو کنگال کردیتے ہیں . مغرب کی یہ قارون تومیں درحقیقت خون آشام جو نکیں ہیں جنہوں نے تیسری دنیا کے مستضعفین کی ویران شدہ جھونپڑیوں کے کھنڈرات پر اپنے محلّات تعمیر کیے ہیں ۔ اس لیے ... جب تک دنیا کی مستضعف اقوام و متفق ہو کر ان قارونوں کو قعرزمین میں نہ بھیج دیں گی .دنیا کے حالات ایسے ہی رہیں گے ۔ فی الحال تو کیفیت یہ ہے کہ غار تگراہل مغرب شراب پی کرعالم ہستی میں قہقہے لگاتے ہیں اور مفلوک الحال اقوام سرجھکائے روتی ہیں ۔