وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
Certainly We have carried on this discourse for them so that they may take admonition.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 28:51
[Pooya/Ali Commentary 28:51] The revelation of the word of Allah, verse after verse, was continuous. In order to keep the continuity of wisdom and guidance it was necessary to choose and appoint ahlul dhikr (the people of the book) or natiq Quran (speaking Quran) as guides (see commentary of al Baqarah: 2). So this verse draws reference to the decree of Allah for Imamat i.e. the series of twelve Imams to follow the conclusion of Muhammad's prophethood, the last prophet of Allah.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 28:51-60
The world cannot go on without Divine Light, and without knowing the Divine Light no human action will be appreciated by God. Divine Lights should be immaculate and Divine nominated are preliminary conditions to guidance. It is possible he may, under Divine Commands, shut himself out from the public to meet Divine Wisdom. For that simple reason his existence cannot be ignored. In his absence he makes sufficient arrangements to keep guidance going on until such a time God commands His emergence, to restore peace he has to remain concealed, as in the present case of the 12th Divine Light. For fear of losing worldly ambitious grades, people do not subject themselves to religious discipline and this is short-sightedness. Couplet 56 refers to Ali Talib (Ali’s father) who had masked his faith and helped the Prophet in his mission. His case is alike “Seven Sleepers of the Cave,” secretly co-operating when Mecca was entirely under pagan worship. The succeeding Couplet gives the trend of the general public then.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:51-55
سوره قصص / آیه 51 - 55
۵۱۔ ولقد وصلنا لھم القول لعلھم یعذکرون ۵۲ ۔الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون ۵۳۔ واذ ا یتلی علیھم قالو امنا بہ انہ الحق من ربنا اماکنا من قبلہ مسلمین ۵۴۔ اولئک یوٴ تون اجرھم مرتین بماصبروا وید رؤن بالحسنة السیئة ومما رزقنھم ینفقون ۵۵۔ واذسمعو الکغو اعرضواعنہ وقالہ النا اعما لنا علکم اعمالکم سلم علیکم لانبتغیالجھلین ترجمہ ۵۱۔ ہم ان لوگوں کے پاس پے درپے قرآن کی آیات بھیجتے رہے کہ شاید وہ نصیحت حاصل کریں ۔ ۵۲۔ وہ لوگ جنہیں ہم نے قبل ازیں کتاب دی تھی وہ اس (قرآن ) پر ایمان لاتے ہیں ۔ ۵۳۔ اور جس وقت ان کے سامنے پڑھاجاتاہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے . یقینا یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے اور ہم پہلے ہی سے مسلمان تھے ۵۴۔ ان لوگوں کودوگنا بدلہ دیاجائے گا کیونکہ وہ صرف کرتے رہے ہیں اور وہ بھلائی کے ساتھ برائیوں کودور کرتے رہے ہیں . اور ہم نے انھیں جورزق دیاہے اس میں سے و ہ خرچ کرتے ہیں ۔ ۵۵۔ اورجب وہ لغو اور بے ہودہ باتیں سنتے ہیں تواس منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کو ہم ہمارے اعمال اور تمہیں تمہارے اعمال مبارک ہوں . تم پر ہمارا (دورکا ) سلام ہے ، جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:51-55
شان نزول
آیات فوق کی شان نزول کے بارے میں مفسرین اور ادیان حدیث نے گوں روایات نقل کی ہیں . ان تمام رویات میں قدر مشترک ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ آیات قرآن اور پیغمبر اسلام کی رسالت پرعلمائے یہودو نصاری کی ایک جماعت کایمان لانا ۔ چنانچہ . سعیدابن جبیر نے روایت کی ہے کہ یہ آیات ان ستر عیسائی علماء کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، جنہیں نجاشی نے حبشہ سے تحقیق حال کے لیے مکّہ بھیجاتھا . جب جناب رسالتمآب نے ان کے سامنے سورہ یس ٓ پڑھی توان پررقت طاری ہوگئی اور وہ رونے لگے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا (۱) ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت نجران کے عیسائیوں کی ایک جماعت کے متعلق نازل ہوئی تھیں ، جوآنحضرت کی خدمت میں آئے تھے . جب انھوں نے قرآن کی تلاوت سنیں تو ایمان لے آئے (۲)۔ بعض لوگ ان آیات کو ” نجاشی “ اور اس کے اہل دربار کے متعلق سمجھتے ہیں (۳) ۔ بعض لوگوں نے ان کی شان نزول حضرت سلمان فارسی ، اور علمائے ہیود کی ایک جماعت ( مثلا عبداللہ بن سلام ، تمیم الداری ،اور جارو عبدی وغیرہ ) کے متعلق سمجھاہے (۴) ۔ بعض راوی ان آیات کامشار ُ الیہ چالیس روش ضمیرعیسائی علما ء کو بتاتے ہیں کہ جن میں سے بتیس جو جنا ب جعفرابن ابواطالب کے ساتھ حبشہ سے مدینہ آئے تھے او رآٹھ شام سے آئے تھے جن میں مشہور بحیرا ارہب شامی بھی تھا (۵) ۔ البتہ ان میں سے پہلی تین قسم کی روایات ان آیات کے مکہ میں نازل ہونے سے مناسبت رکھتی ہیں اور ان لوگوں کے قول کی تائید کرتی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ کلی سورہ مکی ہے .لیکن چوتھی اور پانچویں قسم کی رویات اس امر کی دلیل ہیں کہ یہ چند آیات مدینہ میں نازل ہوئی تھیں اور یہ روایات ان لو گوں کے قو ل پر گواہی ہیں چو ان آیات کو مدنی سمجھتے ہیں ک۔ بہر کیف جوبھی ہو یہ آیات اس امر پر شاہد ناطق ہیں کہ اہل کتاب کے علماء میں سے ایک جماعت نے آیات قرآن سن کر اسلام قبو ل کرلیاتھا کیونکہ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ رسول اللہ ایسی حالت میں کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی ان پرایما ن نہ لایہ ہوتا ، ایسی بات کہہ دیں کیونکہ اگر یہ آیات مطابق وقعہ نہ ہوتیں تو مشرک فورا ً آپ کی تکذیب کرتے او ر شور مچانے لگتے ۔ 1۔ تفسیر فی ظلا القرآن ، جلد ۶ ، ص ۳۵۷ ، ۳۵۸۔ ۲ ۔تفسیر فی ظلا القرآن ، جلد ۶ ، ۳۵۷ ،۳۵۸۔ ۳۔تفسیر فی ظلا القرآن ، جلد ۶ ، ۳۵۷ ،۳۵۸۔ ۴ ۔ مجمع البیان ، جلد ۷ ، ص ۲۵۸۔ ۵ ۔مجمع البیان ، جلد ۷ ، ص ۲۵۸۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:51-55
حق طلب اہل کتاب
گزشتہ آیات میں ان بہانو ں کاذخر تھا جو مشرک لوگ حقائق کو تسلیم نہ کرنے کے لیے تراشاکرتے تھے اور ان آیات میں چو زیر بحث ہیں ان آمادہ دلوں کاذکر ہے جنہوں نے کلام الہٰی کوسن کرحق کو قبو کیا ، پھر اس سے وفادار رہے اوردل جان سے اس کی اطاعت کی ، جب کہ جہلاکے تاریک دل حق سے ذرّہ بھر بھی متاثر نہ ہوئے ۔ چنانچہ فرمایاگیا ہے :ہم نے آیات قرآن کو پے درپے ان کے پاس بھیجا ک شاید وہ نصیحت حاصل کریں : ( ولقد وصلنا الھم القول لعلھم یتذکرون ) (1)۔ یہ آیات بارش کے قطروں کی طرح مسلسل ان پرنا زل ہوئیں . ان آیات کی شکلیں نوع بہ نوع تھیں اوران کی کیفیات مختلف تھیں ان میں کبھی حسن عمل کی جزاکاوعدہ تھا اور کبھی عمل سور کے نتیجہ میں دوزخ کی وعید تھی . ا ن میں نصیحت و پندتھی اور کبھی خوف دلایاگیا تھا انھیں خود بخود جذب کرلیتا ہے لیکن کوردل لوگوں نے انھیں قبو نہیں کیا ۔ لیکن وہ لوگ جنہیں قبل ازیں ہم نے آسمانی کتاب دی تھی (یہودونصاریٰ ) وہ قرآن پرایما ن لاتے ہیں :( الذین اتینا ھم الکتاب من قبلہ ھم بہ یوٴ منون ) ۔ کیونکہ وہ قرآن کوان علامات کے مطابق پاتے ہیں جو وہ اپنی آسمانی کتابوں میں دیکھتے ہیں ۔ اس مقام پرجاذب توجہ یہ امر ہے کہ یہ ایمان لانے والے ، اہل کتاب ، کچھ افراد تھے لیکن آیت فوق میں صرف ”اہل کتاب “ کہاگیاہے ، جو کلمہ عمومی ہے . اس میں کوئی قید اورتخصیص نہیں ہے ممکن ہے کہ اس سے یہ امر ہو کہ جو لو گ ایمان لائے صرف وہی اہل کتا ب تھے اور باقی کچھ نہیں تھے ۔ اس کے بعد اس مضمون کااضافہ کیاگیاہے : جس وقت ان کے سامنے یہ آیات پڑ ھی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پرایمان لائے یہ یقینا حق ہیں او رہمارے خداکی طرف سے نازل ہوئی ہیں :( واذایتلی علیھم قالو اامنابہ الحق من ربنا ) . البتہ ان کے لیے ان آیات کی تلاوت ہی کافی تھی تاکہ وہ ” آمنا “ کہیں اور قصدیق کریں . اس کے بعد ان الفاظ کاضافہ ہے : ہم نے پیغام الہٰی کوآج ہی قبول نہیں کیا ، بلکہ ہم تو پہلے ہی سے مسلمان تھے :( انا کنامن قبلہ مسلمین ) ۔ ہم نے اس پیغمبر کے آمدکی علامات اپنی آسمانی کتابوں میں دیکھی ہیں . ہمیں ان علامات کے مطابق آنے والے سے دلبستگی تھی اور بے چینی سے ہم اس کاانتظار کررہے تھے اور جب ہم نے اپنے اس ہادی کوپالیا جس کاانتظار تھا تو تورا دل وجان کے ساتھ ا س پر ایمان لے آئے ۔ اس کے بعد قرآن میں اس تقلید شکن اورحق طلب گروہ کی جزاء کے بارے میں فرمایاگیاہے : یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے صبر وشکیبائی کی وجہ سے دوگنا اجر پائیں گے : ( اولئک یوٴ تو ن اجرھم مرتین بما صبرو ا ) ۔ انھیں ایک دفعہ تواس نیکی کااجر ملے گا کہ وہ اپنی آسمانی کتاب پرایمان لائے اوراس کے احکام کے پابند اور وفادار رہے . اور دوسرااجراس بات کاملے گا کہ وہ پیغمبراسلام پرایمان لائے اور انھوں نے اقرا ر کیا کہ یہ وہی پیغمبرموعود ہیں کہ جن کے آنے کی سابق کتابوں میں خبر دی گئی تھی ۔ اس مقام پراس احتمال کی بھی گنجائش ہے کہ انھیں دوگنا اجر ملنے کا سبب یہ ہے کہ وہ پیغمبراسلام پران کے ظہور سے پہلے بھی ایمان رکھتے تھے اورظہور کے بعد بھی انھوں نے اپنے ایمان کااعلان کی. گزشتہ آیات سے یہ معنی سمجھ میں آتا ہے ۔ ان اہل ایمان نے ہر دو مرحلوں میں اپنے اثبات ایمان کے لیے نہایت صبرو استقامت کاثبوت دیا . نہ تو یہود و نصاری کے مخرف الایمان لوگ ان کے عمل کو پسند کرتے تھے اور نہ وہ معاشرہ جواپنے آباؤ اجداد کے عقائد کامقلد تھا انھیں سابق دین سے دستبرداری کی اجازت دیتاتھا . تاہم وہ ثابت قدم رہے اورانھوں نے عارضی منافع اور ہوائے نفس کاٹھکرادیا اور -خداکی طرف سے دو گنا اجر کے مستحق ٹھہر ے ۔ اس کے بعد قرآن میں ا ن کے ایک سلسلئہ اعمال کی طرف اشارہ ہے .ان کے یہ اعمال ایک دوسرے سے زیادہ قدرو منزلت رکھتے ہیں اور وہ حسنات کے ذریعہ سے سیئات کودور کرنا ، خدا کی عطاکر دہ نعمتوں میں سے انفاق کرنا اور جہلاکے ساتھ بزرگونہ برتاؤ کرنا . ان تین صفات کے ساتھ صبرو شکیبائی کااضافہ کیاجائے تو چار ممتاز صفات ہوجاتی ہیں ۔ سب سے پہلے یہ ذکر کہ : یہ لوگ بد یوں کونیکیون کے ذریعے دور کرتے ہیں : (وید ر ء ون بالحسنة السیئة ) ۔ یہ لوگ بری باتوں کواپنی نیک گفتار ی سے ، منکر کو امر بالمعروف سے ، جاہلوں کے جہل کواپنے حلم سے ، عداوت اورکینہ توزی کو محبت سے ، قطع محبت کواپنی دوستی اورصلہ رحم سے دور کرتے ہیں . خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بجائے اس کے کہ بدی کابدلہ بدی سے دیں ، بدی کونیکی کے ذریعے دفع کرتے ہیں ۔ برائیوں کے ساتھ مقابلے ، بالخصوص آمادہ ہٹ دھرم افراد کے مقابلے میں مذکورہ روش نہایت مئوثر ہے اور قرآن میں بار بار اس روش کاذکر کیاگیا ہے ۔ ہم نے اس موضوع کوجلد دہم میں سورہ آیت ۲۲ اور سور ہ مومنون کی آیت ۹۶ کے ذیل میں تفصیلا تحریر کیا ہے . ا ن مو منین کی ایک صفت یہ بھی بیا ن کی گئی ہے کہ : ہم نے انھیں جورزق دیاہے وہ اس میں سے انفاق کرتے ہیں : (ومما رزقناھم ینفقون ) ۔ یہ مومنین اپنے مال اورثروت میں سے ہی انفاق نہیں کرتے بلکہ اپے علم و دانش ، اپنی فکر ی اور جسمانی طاقت اپنی معاشرتی حیثیت بھی ( کہ یہ سب خداکی عطاکردہ نعمتیں ہیں ) اور نیا ز مندوں کے لیے کام میں لاتے ہیں ۔ نیز ان مومنین کا ایک امتیا ز عملی یہ ہے کہ جس وقت وہ کوئی لغو اور بہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں : (واذا سمعو ا اللغوا عرضوا عنہ ) . اور ہر گز لغوبات کے جواب میںلغوبات نہیں کہتے اور جہل کاجواب جہل سے نہیں دیتے بلکہ ، بیہودہ بکنے والوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے جرم اعمال کی سز املے گی اور نہ ہمیں تمہارے جرم اعمال کی مگر تم جلد ہی جان لوگے ہم میں سے ہر ایک عمل کا انجام کیاہواہے ۔ اس کے بعد اس مطلب کااضافہ ہے کہ وہ مومنین ان جہلاسے (جو یہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنی اذیت ناک باتوں سے باایمان اور نیکوکار افراد کو غصّہ دلائیں اوران کی دل آزادی کریں ) رخصت ہوجاتے ہیں اوران سے یہ کہتے ہیں ” تمہیں ہمارا سلام ہو ، ہم جاہلوں کے طالب نہیں ہیں : ( سلام علیکم لانبتغی الجاھلین ) ۔ ہم نہ تو بد گو ہیں اور نہ جاہل اورفسادی اورنہ ایسے لوگوں کوپسند کرتے ہیں . ہم تو روشن ضمیر اہل دانش اور علمائے عامل اور سچّے مومنین کے خواہاں ہیں۔ اس عنوان سے وہ لوگ بجائے اس کے کہ اپنی توانائیوں کو جاہلوں ، کو ردلوں اور بے خبر بیہودہ بکنے والوں کے مقابلہ میں ضائع اور برباد کریں ، بڑی متانت سے ان سے کنارہ کش ہو کر اپےن بنیا دی مقاصد کے پورا کرنے میں مشغول ہوجاتے ہیں ۔ قابل توجہ یہ امر ہے جب اس قسم کے افراد سے ان کاسامنا ہوتاہے . تو انھیں سلام تحیت نہیں کرتے بلکہ ان کا سلام ، سلام رخصت ہوتاہے ۔ قلوب بایمان : مذکورہ بالا آیات میں ان قلوب کی نہایت حسین اوراجانب تصویر کھینچی گئی ہے جن میں ایمان کابیج ہے اور وہ اس کی پرورش کرتے ہیں ۔ وہ ان بے شخصیت افراد کے زمر ے میں سے نہیں ہیں جو جہل ، تعصب ،بدزبانی ، بیہودہ گی اور نجل و کینہ توزی کا مخزن ہیں ۔ یہ لوگ ایسے بزرگوار اورپاک زبان میں ہیں کہ انھوں نے سب سے پہلے کورانہ تقلید کی زنجیروں کوتوڑدیاہے .اس کے بعد انھوں نے توحید کامنادی کوبہ توجہ تام سنا اور جب انھیں دلائل حق کی صداقت کایقین ہوگیا توانھوں نے حق کو قبول کرلیا ۔ اس میں شک نہیں کہ ایسے لوگوں کوتقلید شکنی اور اپنے متحرف الحق معاشرے سے جد اہونے کاگراں تاوان ادا کرنا پڑتاہے اور بہت سی تکالیف اورمحرومیاں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں .مگر ان میں اس قدر صبرو شکیبائی کاجوہر ہوتاہے کہ وہ پیش نظر عظیم مقصد کے لیے ان تمام مشکلات کو برداشت کرلیتے ہیں ۔ یہ لوگ نہ تو کینہ تو ز ہوتے ہیں کہ ہر بدی کابد تر جواب دیں اور نہ بخیل و خسیس ہوتے ہیں کہ عطیا ت الہٰی کو صرف اپنے لیے مخصوص کرلیں ۔ وہ لوگ ایسے بزرگوں ہیں جومذکورہ بالا نقائص کے علاوہ دورغ ، نامناسب مشاغل ،لڑائی جھگڑوں ، بیہودہ بحثوں ، بے معنی باتو ں، رکیک حرکتوں اوران جیسی جملہ ناشائستہ باتوں سے محترز رہتے ہیں .وہ پاک زبان اور پاکیزہ قلب رکھتے ہیں .وہ اپنی فعال اور کا ر ساز تونا ئیوں کو جہلاسے جھگڑا کرکے تباہ نہیں کرتے . حتی کہ بہت سے موقعوں پر سکوت کو ( جو کہ ایسے احمقوں اور بے خرد لوگوں کے لیے بہتر ین جواب ہے )گویا ئی پر ترجیح دیتے ہیں .وہ لوگ اپنے اعمال او ر فرائض میں رہتے ہیں اور ان پیاسوں کی طرح جوچشمہ ء آب کی طرف جاتے ہیں وہ لوگ بھی علم ودانش کے پیاسے ہیں اور علماء اور دانشمندو ں کی صحبت میں حاضرہونے کے خوہشمند رہتے ہیں ۔ ہاں یہی وہ بزرگوار لو گ ہیں جن میں اتنی سعادت موجو د ہے کہ ایمان کے پیغام کودل سے قبول کرتے ہیں اور پیشگا ہ خد اوندی سے اپنے اعمال خیر کا ایک گنانہیں بلکہ دو گنا اجر پاتے ہیں ۔ یہ لوگ حضرت سلمان فارسی ، نجاشی بابحیراجیسے متلاشی حق یاان ہی جیسے اور ان ہی کے ہم پایہ ہوتے ہیں کہ جب انھیں ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں تووہ منزل ایمان پرپہنچتے کے لیے ان کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں حضرت امام جعفر صادق (علیه السلام) کی ایک حدیث جاذب توجہ ہے . آپ نے فرمایا : نحن صبراء و شیعتنا اصبرمنا وذلک اناصبرناعلی مانعلم و صبرو اعلی مالا یعلمون ہم صابر ہیں اور ہمارے شیعہ ہم سے زیادہ صابر ہیں کیونکہ ہم تو اسرار امور سے آگاہ ہیں ، پھر صبر کرتے ہیں (اورطبعایہ کام آسان تر ہے ) مگر وہ اسرار امور کوجانے بغیر صبرو شکیبائی کو نہیں چھوڑتے ۔ یہ شوچنے کی بات ہے کہ دوجانباز آدمی میدان جہاد میں قدم رکھتے ہیں .ان میں سے ایک انجام کار سے باخبر ہے اور جانتاہے کہ اس جہاد کا نتیجہ فتح ہوگا . لیکن دوسراشخص باخبر نہیں ہے اور محض خوشنودی ٴ خداکے لیے میدان میں آیاہے . اس حالت میں کیادوسرے کاصبر پہلے شخص کے صبر سے اولیٰ نہیں ہے ؟ یابالفرض ... اس امر کے قرئن موجو ہیں کہ متذکرہ دونوں افراد شہید ہوجائیں گے . مگر ا ن میں سے ایک یہ جانتاہے کہ شہادت میں کونسے اسرار نہاں ہیں اورا س شہادت کے مستقبل کے آئندہ زمانے پرکیا اثرات مترتب ہوں گے اور یہ شہادت آئندہ نسلوں کے لیے ایک نمونہ بن جائے گی .لیکن دوسرا شخص اسرار آئندہ سے مطلق بے خبر ہے .اس لیے دوسرا شخص جب جنگی مصائب پر صبر کرتاہے یہ صبربلند تر ہے ۔ ایک اور حدیث میں (جو کہ علی بن ابراہیم کی تفسیر میں در ج ہے ) منقول ہے کہ آیت فوق میں” لغو “ سے مراد کذب ، لہو اور غناہے .اس سے پر ہیز کرنے والے آئمہ ہیں ۔ یہ واضح ہے کہ گزشتہ دونوں احادیث میں بیان کے لحاظ سے کوئی ابہام نہیں ہے . وگرنہ ” لغو “ کا مفہوم بہت وسیع ہے ، جس میں حدیث دوم کی مراد کے علاوہ اور چیز یں بھی شامل ہیں . اور تمام راست کردار مومنین ”لغو “ سے اعتراض کرتے ہیں لیکن اس خصوص میں آئمہ کامقام افضل تریں ہے ۔ 1۔” وصلنا “ کامادہ ” وصل “ ہے جس کے معنی ارتبا ط دینے اور متصل کرنے کے ہیں مگر جب یہ مادہ باب تفعیل میںجاتاہے ، تو اس میں کثرت اور تاکید کے معنی بھی شامل ہوجاتے ہیں ۔