وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
Certainly We gave Moses the Book, after We had destroyed the former generations, as [a set of] eye-openers, guidance and mercy for mankind, so that they may take admonition.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 28:43
[Pooya/Ali Commentary 28:43]
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 28:43-50
Self-evident.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:43-46
یہ غیبی خبریں اللہ نے دی ہیں ۔
سورةقصص میں تنی آیات بھی حضرت موسٰی (علیه السلام) کی سرگشت سے متعلق ہیں ، اس مقام پراس کے دسویں حصے سے متعارف ہوگے ہیں ۔ اس حصے میںحضرت موسٰی (علیه السلام) پر تورات کے نزول اوراحکام عشرہ عطاکرنے کاذکر ہے یعنی جب نفی طاغوت کا زمانہ ختم ہوگیا ( یعنی جب موسٰی اپنی قوت کو بت پرستوں کے نرغے سے نکال لائے ) تووہ عہدشروع ہواجب ان کی دینی نقطئہ نگاہ سے تر بیت و اصلاح اورغیر خداکے انکار کے بعداللہ کی وحدانیت کااقرار سکھاناتھا ۔ چنانچہ خداوند عالم فرماتاہے :ہم نے پچھلی نسلوں کوہلاک کرنے کے بعد موسٰی کو کتاب دی جولوگوں کے لیے بصیرت آفریں اورھدایت ورحمت کاسبب ہے تاکہ وہ غور وفکر کریں :( ولقد اتینا موسی الکتاب من بعد مااھلکنا القرون الاولی بصائر للناس وھدی ورحمة لعلھم یتذکرون ) ۔ آیت زیرنظر میں ” قرون اولیٰ “ (یعنی اعصار گزشتہ کی وہ اقوام جوہلاک ہوگئیں ) سے کونسی قومیں مراد ہیں ؟ بعض مفسرین اس سے قورم نوح ،عادو ثمود اوران جیسی ہی کافرقومیں مراد لیتے ہیں .کیونکہ مرور زمانہ سے گزشتہ انبیا کے آثار زمین سے محوہوگئے تھے اوراب لازم تھا کہ نوع انسانی کی تربیت کے لےے ایک نئی کتاب بازل کی جائے ۔ بعض کے نزدیک اس سے قوم فرعون کی ہلاکت مراد ہے جوگزشتہ اقوام کی باقیات میں سے تھی کیونکہ خدانے اس قوم کی ہلاکت کے بعد ہی موسٰی پرتوریت نازل کی ۔ لیکن یہ امر تسلیم کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے کہ ” قرون الاولی “ سے اس قسم کی جملہ اقوام مراد ہوں ۔ ”بصائر “ جمع ” بصیرت “ کی ہے جس کے معنی ” بینائی “ کے ہیں .مگر اس مقام پرخداکی وہ نشانیاں اور دلائل مراد ہین جو مومنین کے قلب کومنوّر کرنے کاسبب ہوں اورہدایت ورحمت بھی اس بصیرت کے لوازم میں سے ہے .نیز دلوں کی بیداری اور قدرت الہٰی میں غور و فکر اس کا نتیجہ ہے ( ۱)۔ اس کے بعد یہ ذکر ہے کہ ہم نے جو کچھ موسٰی اورفرعون کی داستان اس کی جزئیات کے ساتھ بیان کی وہ قرآن کی صداقت پر دلیل ہے . کیونکہ تم اس موقع پر موجود نہ تھے اور تم نے یہ واقعات اپنی آنکھوں سے نہ دیکھے تھے . یہ ہمارالطف وکرم ہے کہ ہم نے مخلوق کی ہدایت کے لیے تم پر یہ آیات نازل کیں ۔ پھر فرماتاہے کہ : جب ہم نے موسٰی کوفرمان نبوت دیاتو تم کوہ طور کے گوشے میں موجود نہ تھے اورتم اس وقعے کے شاہدین میں سے تھے :( وماکنت بجانب الغربی اذقضیان الی مو سی الا مروما کنت من الشاھدین ) ۔ اس مقام پر یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) مدین سے بہ سوئے مصر سفر کرتے ہوئے ( کہ وہ راستہ سرزمین سینا سے گزرتاتھا ) ٹھیک مشرق سے مغرب کی طرف حرکت کررہے تھے ۔ اس کے برعکس جب بنی اسرائیل مصر سے شام کی طرف آئے اور وادی ٴ سینا سے گزرے تو انھوں نے مغرب سے مشرق کی طرف سفر کیا ۔ لہذا بعض مفسرین نے سورہ شعرا ٴ کی آیت ساٹھ ” فاتبعو ھم مشرقین “ (جو کہ فرعون اورا س کی افواج کے بنی اسرائیل کاتعاقب کرنے کے بارے میں ہے ) کایہی مطلب سمجھاہے ۔ اس کے بعد قرآن میںفرمایاگیاہے : ہم نے مختلف زمانوں میں مختلف اقوام کو پیدا کیامگر جب ان پر طویل زمانہ گزرگیا تو انبیا ء کی ہدایت اور ان کی تعلیم کا اثر ان کے قلوب سے محوہوگیا . لہذا تمہیں رسول بنایااورقرآن عطاکیا اورگزشتہ قوموں کے حالات بیان کیے تاکہ وہ انسانوں کے لیے نصیحت کاباعث ہوں :( ولکنا انشاء نا قرونا فتطاول علیھم العمر) ۔ اورتم ہرگز اہل مدین کے در میان نہ رہتے تھے ( کہ تمہیں ان کی ز ندگی کے حالات معلوم ہوتے ) اور وہ حالات تم انہیں (اہل مکہ کو ) سناتے : وما کنت ثاویا فی اھل مدین تتلو ا علیھم ایاتنا ) (۲)۔ اسی مفہوم کی تاکید کے لےے اس عبار ت کااضافہ کیاگیاکہ : جب ہم نے موسٰی کوندادی اوراس کے مام فرمان نبوت صادر کیا :( وما کنت بجانب الطور اذنادینا ) ( ۳)۔ مگر ہم نے تمہیں جن حالات سے مطلع کیاہے وہ اس رحمت کاتقاضا ہے کہ تم ان کے وسیلے سے اس قوم کو ڈراؤ جن کے پاس قبل ازیں کوئی ڈرانے والانہیں پہنچا ، شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں :ولکن رحمة من ربک لتنذ رقوما مااتاھم من نذیر من قلبک لعلھم یتذکرون )۔ حاصل کلام یہ ہے کہ خداجناب رسالت مآب کومخاطب کرکے فرماتاہے کہ :وہ بیدارکن اورہوش آور واقعا ت جو ماضی بعید کی قوموں پرگزرچکے ہیں اور تم نے انھیں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ، ہم نے تمہیں ان سے آگاہ کیا ہے تاکہ تم انھیں اس گمراہ قوم کو سناؤ کہ ممکن ہے وہ نصیحت حال کریں ۔ اس مقام پر یہ سوال پید ہوتاہے کہ قرآن میںیہ کس طرح کہاگیاہے کہ : اس قوم ( زمانہ ٴ رسول کے عربوں ) کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈرانے والانہیں آیاتھا ۔ جبکہ یہ بھی مسلم ہے کہ روئے زمین کبھی حجّت الہٰی سے خالی نہیں رہتی . اوراس قوم (عرب ) میں بھی پیمبر ان صاحب کتاب کے اوصیا ء موجود رہے ہیں ۔ اس سوال کا جواب : اس قوم گمراہ کے پاس ایک صاحب کتاب پیغمبر اورڈرانے والے کوبھیجنے کی غایت واضح ہے . کیونکہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اور پیمبرا سلام کے ظہور کے درمیان کئی سال گزر چکے تھے . اس دوران میں کوئی او لوالعزم پیغمبر نہیں آیاتھا اور یہ مفید اورع ملحد عرب اسی بہانے سے را ہ خدا سے منحرف ہوگئے تھے ۔ امیرامومنین علی ابن ابی طالب (علیه السلام) فرماتے ہیں ۔ ان اللہ بعث محمد ا ً ولیس احد العرب یقرہ کتابا ولایدعی مغبوة فسا ق الناس حتٰی بواھم محلتھم وبلغھم منجاتھم جس وقت خدانے حضرت محمود صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا (اس وقت یہ حال تھا کہ ) کوئی عرب بھی آسمانی کتاب نہیں پڑ ھتاتھا اوروہاں کوئی بھی مدعی نبوت نہ تھا . آنحضرت نے انھیں و ہ مقام دعطاکیا جوان کے لائق تھا اورانھیں نجات کی منز ل پر پہنچا دیا ( نہج البلاغہ خطبہ ۳۳ ) ۔ ۱۔بصائر جمع بصیر ت وابصار جمع بصر ۔ ۲۔” ثاوی “ کامادہ ” ثوی “ ہے جس کے معنی ہیں ” مستقل طور پر قیام کرنا “ اسی وجہ سے جائے قرار کو ” مثوی “ کہتے ہیں ۔ ۳۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) اورجناب ختمی مرتبت رسالت مآب کے درمیان قرینا دوہزار سال کا فاصلہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 28:43-46
سوره قصص / آیه 43 - 46
۴۳۔ ولقد اتینا موسی الکتاب من بعد مااھلکناالقرون الاولی بصائر للناس وھد ی و رحمة لعلھم یقذکرون ۴۴۔وما کنت بجانب الغربی اذ قضیناالی موسی الامروماکنت من الشھدین ۴۵۔ ولکنا انشا نا قرونا فتطاول علیھم العمر وما کنت ثاریافی اھل مدین تتلو علیھم ایتنا ولکنا کنا مرسلین ۴۶۔وماکنت بجانب الطور اذ نادینا ولکن رحمة من ربک لتنذ ر قوما ما اتھم من نذیر من قبلک لعلھم یقذکرون ترجمہ ۴۳۔ پچھلی نسلوں کوہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسٰی کوکتاب دی . ایسی کتاب جولوگوں کے لیے بصیرت آفریںتھی اورھدایت ورحمت کاباعث تھی تاکہ وہ غور و فکر کریں ۔ ۴۴۔ اور جب ہم نے موسی کی طرف فرمان نبوت بھیجاتو اس وقت تو مغربی گوشے میں موجود نہ تھا اور نہ تواس واقعے کے دیکھنے والوں میں سے تھا ۔ ۴۵۔ لیکن ہم نے مختلف زمانوں میں مختلف قومیں پیداکریں اوران پر طولانی زمانے گزرگئے (اور انبیا ء کے آثاکے دلوں سے محو ہوگئے لہذا تجھے تیری آسمانی کتاب کے ساتھ بھیجا ) اورتو اہل مدین میں سے نہ تھا کہ ان ، (مشرکین مکہ ) کواس بارے میں ہماری آیات پڑ ھ کر سناتا . مگر یہ کہ ہم نے تجھے بھیجا ( اور تجھے یہ خبریں دیں ) ۔ ۴۶۔ اور تواس وقت طور کے پہلو میں نہ تھا . جب ہم نے موسی کوآواز دی لیکن یہ تیزے رب کی رحمت تھی (کہ تجھے یہ اطلاعات دیں ) تاکہ تو انھیں سنا کر اپنی اس قوم کوڈرائے جن کے پاس اس سے قبل کوئی ڈانے والانہیں آی.شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔