وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ
Certainly We sent to Thamud Salih, their brother, [with the summons:] ‘Worship Allah!’ But thereat they became two groups contending with each other.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 27:45
[Pooya/Ali Commentary 27:45] Refer to the commentary of Araf: 73 to 79; Hud: 61 to 68 for prophet Salih and the people of Thamud. There were nine men among the people of Thamud who hatched a plan to kill prophet Salih, but their plot was foiled, and the whole community, which was involved in evil, was destroyed. A similar plot was made against the Holy Prophet by the tribal chiefs of Makka. See commentary of al Baqarah: 207.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 27:45-59
Clear.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:45-47
ایک نکتہ
ایک نکتہ " فال " اور" تطير :- " تطیر" بدشگونی) "طیر" کے مادہ سے پرندے کے معنی میں ہے ، چونکہ عرب لوگ پرندوں کے ذریے بری فال لیا کرتے تھے لہذا "تطیر" بری فال (بدشگونی) کے معنی میں آتا ہے ۔ جو "تفال دینی یعنی نیک فال کے مقابلے میں ہے۔ قرآن مجید میں بارہا یہ بات بیان ہوئی ہے کہ بے ہودہ مشرکین ، انبیاء کرام کے مقابلے میں اسی حربے سے کام لیاکرتے تھے جیسا کہ جناب موسٰیؑ علیہ السلام اوران کے ساتھیوں کے بارے میں ہے کہ : وان تصبھم سيئة يطيروا بموسٰى ومن مع جب بھی فرعون والوں کو کوئی تکلیف پہنچی تو وہ اسے موسٰیؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست سمجھتے۔ (اعراف - 131) زیرنظر آیات کے مطابق قوم ثمور کے مشرکین نے صالح علیہ اسلام کے بارے میں یہی منطق اختیار کی۔ سورہ یٰسن کے مطابق (انطاکیہ کی طرف) حضرت عیسٰیؑ کے نمائندوں کے مقابلے میں بھی مشرکین نے یہی منطق اپنائی اور انھیں بدشگونی کا الزام دیا۔(یٰسں - 18)۔ بات دراصل یہ ہے کہ انسان حوادثات کے اسباب وعلل سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، اسے ہر حادثے اور وقوع پذیر ہونے والے واقعے کی علت کی تلاش رہتی ہے اگر تو وه موحد اور خدا پرست ہے اور واقعات کے اسباب کا مرکز ذات خداوند ذوالجلال کو سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ اس کی حکمت کے نت ہر کام کسی حساب کے تحت انجام پاتا ہے اور قدرتی علت و معلول کے لحاظ سے بھی اپنے علم کا اختیار کرتا ہے پھر تو اس کی مشکل حل ہوجاتی ہے وگرنہ موہوم اور خرافاتی کی علتوں کا ایک سلسلہ از خود گھڑنا شروع کر دیا ہے کہ جس کی نہ تو کوئی حد ہوتی ہے اور نہ ہی حساب جس کا ایک واضح نمونہ بدشگونی کا نظریہ ہے۔ زمانہ جاہلیت کے عربوں میں تھا کہ اگر پرندہ ان کی دائیں طرف سے گزر جاتا تو اسے نیک فال اور کامیابی کی دلیل سمجھتے تھے اور اگربائیں طرف سے حرکت کرتا تو اسے بدشگونی تصور کرتے اور اپنی ناکامی اور شکست کی دلیل سمجھتے ۔ ان کے اندراس قسم کے اور بھی کئی خرافات اور موہومات پائے جاتے تھے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی کچھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جوان خرافات اور موہومات پربہت ایمان رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی خدا پرایمان نہیں ہوتا اگرچہ جدید علم کے لحاظ سے وہ بہت بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں حتی کہ ایک نمک دانی کا زمین پر گر جانا انھیں سخت پریشان کر دیتا ہے اور جس گھر یا میز یا کرسی کا نمبر 13 ہو وہ اس سے گبھرا جاتے ہیں۔ اب بھی رمالوں اور فال نکالنے والوں کا بازار گرم ہے اور یہ مسئلہ ابھی تک بہت رائج ہے۔ لیکن قرآن صرف ایک مختصرسے جملے میں اس بات کا جواب دیتا ہے " طائركم عند الله " یعنی تمھارا بخت وطالع ، فتح و شکست اور کامیابی و ناکامی غرض سب کچچ خدا کے ہاتھ میں ہے وہ خدا جوصاحب حکمت ہے اور اپنی نعمتیں ، لیاقتوں اور صلاحیتوں کی بنا پر عطا کرتا ہے جو انسان کے ایمان و عمل اور گفتار و کردار کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ تواس طرح اسلام اپنے پیروکاروں کو خرافات سے حقیقت اور بے راہروی سے صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے۔ (فال اورشگون کے بارے میں تفسیرنمونہ کی جلد 6 سورہ اعراف کی 131 آیت کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کی ہے)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:45-47
حضرت صالح اپنی قوم کے سامنے
تفسیر حضرت صالح اپنی قوم کے سامنے گزشتہ آیات میں خداوند عالم کے تین پیغمبروں موسٰیؑ ، داؤدؑ اور سلیمانؑ کا تذکرہ ہے اب یہاں پرجس چوتھے نبی اور اس کی قوم کا ذکر ہوا ہے وہ حضرت صالح علیہ السلام اور ان کی قوم ثمود ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے، ہم نے قوم ثمود کی طرف اس کے بھائی صالح کوبھیجا اور اسے حکم دیا کہ وہ ان لوگوں کو عبادت خدا کی دعوت دیں (ولقد ارسلنا الى ثمود اخاهم صالحًا ان اعبدوا الله)۔ ؎ 1 جیسا کہ ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ انبیاء کی داستان میں "اخاهم" (ان کے بھائی) کی تعبیر کا مقصد ان انبیاء کے اپنی قوم سے نہایت دلسوزی اور محبت کے اظہار کی طرف اشارہ ہوتا ہے اوربعض مقامات پر اس کے علاوہ رشتہ داری کی طرف اشاره ہوتا ہے۔ بہرحال اللہ کے اس باعظمت نبی کی دعوت اور تبلیغ کو صرف جملے میں خلاصہ کے طور پر بیان کر دیا گیا ہے " ان اعبدوا الله" یقینًا عبادت خداوندی ہی تمام خدائی پیغمبرکی تعلیم کا خلاصہ ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے وہ لوگ صالح کی دعوت کے سلسلے میں دوحصوں میں بٹ گئے اور لڑنے جھگڑنے لگے ( ایک طرف مومن تھے اور دوسری طرف ضدی مزاج منکر - ( فاذاهم فريقان يختصمون)۔ ؎2 سورہ اعراف کی 75 ویں اور 76 ویں آیت میں ان دو گروہوں کو "مستکبرین" اور "مستضعفین" کے نام سے یاد کیا گیا ہے ، ملاحظہ ہو: قال الملا الذين استكبروا من قومہ اللذين استضعفوا لمن من منهم اتعلعون ان صالحًا مرسل من ربه قالوا انا بما ارسال به مؤمنون قال الذين استكبروا انا الذي أمنتم به كافرون قوم صالح کے بڑے بڑے مستکبران نے مستضعف مومنین سے کہا کیا تمھیں یقین ہے کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو انھوں نے کہا جی ہاں! ہم اس چیز پرایمان رکھتے ہیں جو وہ لے کر آئے ہیں ، لیکن مستکبرین نے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ البته مومنین اور کافرین کے درمیان اس قسم کی لڑائي أكثر انبیاء کے زمانے میں رہی ہے ہر چند کہ بعض انبیاء تو اتنی مقدار میں بھی طرف داروں سے محروم رہے ہیں اور تقربیًا سب لوگ ان کے منکرین کی صف میں شامل ہوگئے تھے۔ حضرت سالح علیہ اسلام نے انھیں بیدار کرنے کے لیے انھیں تنبیہ کرنا شروع کی اور دردناک عذاب میں مبتلا ہونے سے بچانے کی کوشش کی لیکن ان لوگوں نے نہ صرف نصیحت حاصل نہ کی اور بیدار نہ ہوئے بلکہ اسی چیز کا اپنی ہٹ دھرمی کی ایک ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "ان اعبدوا الله" کا جملہ اس حرف جر کے ساتھ مجرور ہے جو مقدر ہے اور اس کی اصل یوں ہے" ولقد ارسلنا الى ثمود اخاهم صالحًا بعبادة الله"۔ ؎2 "فویقان" تثینہ ہے اور اس کا فعل " يختصمون" جمع کی صورت میں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہرطریق ایک گروہ تشکیل پاتا ہے اور مل ملاکر ایک مجموعہ بنتا یے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- آڑ بناکر اس بات پر اصرار کرنے لگے کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو پھرہم عذاب الہی کیوں نازل نہیں ہوتا؟ ( یہی چیز سوره اعراف کی آیت 77 میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے)۔ لیکن صالحؑ نے انھیں کہا : اے میری قوم ! تم نیکیوں کی کوشش اور ان کی تلاش سے پہلے ہی عذاب اور برائیوں کے لیے کلدی کیوں کرتے ہو؟ (قال ياقوم لم تستعجلون بالسية قبل الحسنة) ۔ تم اپنی تمام تر فکر عذاب الہی کے نازل ہونے پر کیوں مرکوز کرتے ہو ؟ اگر تم پر عذاب نازل ہوگیا تو پھر تمھارا خاتمہ ہوجائے گا اور ایمان لانے کا موقع بھی ہاتھ سے چلاجائے گا ۔ آؤ اور خدا کی رحمت اور اس کی رحمت کے ساتھ ایمان کے زیر سایہ میری سچائی کو آزماؤ ۔تم خدا کی بارگاہ سے اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کیوں نہیں کرتے ؟ تاکہ اس کی رحمت میں شامل ہوجاؤ (لو لا تستغفرون الله لعلكم ترحمون) - صرف برائیوں اور عذاب نازل ہونے کا تقاضا کیوں کرتے ہو؟ یہ ہٹ دھرمی اور پاگل پن کی باتیں آخرکس لیے؟ یہ صرف صالح علیہ اسلام کی قوم کے افراد ہی نہیں تھے جنھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرا کر موعود عذاب کا تقاضا کیا بلکہ قرآن مجید میں اس قوم کے اور بھی کئی واقعات ملتے ہیں جن میں سے ایک قوم ہود کا واقعہ بھی ہے ۔ ملاحظہ ہو سوره اعراف کی آیت 70۔ حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سرکش معتصب مشرکین کے بارے میں ہے : واذ قالوا اللهم ان كان هذا هو الحق من عندك فأمطر علينا حجارة من السماء او ائتنا بعذاب الیم وہ وقت یاد کرو جب انھوں نے کہا : اگر محمد کی یہ دعوت برحق ہے اور تیری جانب سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا ، یا ہمیں دردناک عذاب میں مبتلا کردے۔ (انفال / 32 )۔ یہ بات واقعًا عجیب ہے کہ انسان دعوائے محبت کی صداقت کو تباہ کن عذاب کے ذریعے اپنے جانچ رہا ہے کہ رحمت کا سوال کرکے۔ اورحقیقت یہ ہے کہ وہ قلبی طور پر انبیاء کرام علیہم السلام کی صداقت کے معترف تھے لیکن زبان سےاس انکار کیا کرتے تھے۔ ان کی مثال یوں ہے کہ جیسے کوئی شخص علم طب کامدعی ہو اور اسے معلوم ہوکہ فلاں دوا سے صحت اور شفا حاصل ہوتی ہے اور فلاں سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے لیکن وہ ایسی دوا حاصل کرنے کی کوشش کرے جو مہلک ہے نہ کہ مفید اور شفا بخش ہے۔ یہ جہالت نادانی اور تعصب کی نہایت ہی بدترین مثال ہوگی اور جہالت کے ستم کے بہت سے نمونے ملتے ہیں۔ بہرحال اس سرکش قوم نے اس عظیم پیغمبر کی ہمدردانہ نصیحتوں کو دل کے کانوں سے سننے اور ان پر عمل درآمد کرنے کی بجائے واہیات اور بے کار باتوں کے ذریعے ان کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی ، منجملہ اور باتوں کے انھوں نے کہا ہم تمھیں اور جو لوگ تمھارے ساتھ ہیں سب کو ایک بری فال سمجھتے ہیں ( قالواطيرنابك وبمن معک)۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ سال خشک سالی اور قحط سالی کا تھا اسی لیے وہ صالح علیہ اسلام سے کہنے لگے کہ یہ سب کچھ تمھارے اور تمھارے ساتھیوں کے نامبارک قدموں کی بدولت ہوا ہے ۔ منحوس لوگ ہو ہمارے معاشرے میں تم ہی بدبختی اور نحوست لاۓ ہو وہ بری فال کو اس بہانے سے جو درحقیقت بے کار اور شریر لوگوں کا بہانہ ہوتا ہے۔ جناب صالح علیہ اسلام کے وزنی دلائل کو کمزور کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن جناب صالح نے جواب میں کہا : بری فال (اور تمھارا نصیب) تو خدا کے پاس ہی ہے (قال طائرکہ عند الله اسی نے تمھارے اعمال کی وجہ سے تمھیں ان مصائب میں ڈال دیا ہے اور تمھارے اعمال ہی تمھاری اس سزا کا سبب بنے ہیں ۔ درحقیقت تمھارے لیے خدا کی ایک عظیم آزمائش ہے جی ہاں ! ہم ہی ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جائے گی " (بل أنتم قوم تفتنون)۔ یہ خدا کی آزمائش ہوتی ہے اور خبردار کرنے والی چیزیں ہوتی ہیں تاکہ جولوگ سنبھل جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ سنبھل جائیں ، خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں غلط راستے کو چھوڑ کر خدائی راستے کو اختیار کرلیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:45-47
سوره نمل / آیه 45 - 47
(45) وَلَقَدْ اَرْسَلْنَـآ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُـمْ صَالِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّـٰهَ فَاِذَا هُـمْ فَرِيْقَانِ يَخْتَصِمُوْنَ (46) قَالَ يَا قَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ ۖ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّـٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَـمُوْنَ (47) قَالُوْا اطَّيَّـرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَّعَكَ ۚ قَالَ طَـآئِرُكُمْ عِنْدَ اللّـٰهِ ۖ بَلْ اَنْتُـمْ قَوْمٌ تُفْتَنُـوْنَ ترجمہ (45) اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا خدائے واحد کی عبادت کرو، لیکن وہ دوحصوں میں تقسیم ہوکر جگھڑا کرنے لگے۔ (46) (صالح نے) کہا : اے میری قوم ا تم نیکی سے پھے برائی کے لیے کیوں جلدی کرتے ہو (اور عذاب الٰہي کو دعوت دیتے ہو اس کی رحمت کونہیں) خداوند عالم سے اپنی بخشش کی درخواست کیوں نہیں کرتے ہو تاکہ تم بھی رحمت الٰہی میں شامل ہوجاؤ۔ (47) انھوں نے کہا: ہم نے تمھیں بھی اور جو لوگ تمھارے ساتھ ہیں انھیں بھی فال بد سمجھا ہے (صالح نے) کہا بد (اورنیک) فال تو خدا کے پاس ہے (اور تمھاری تقدیر اسی سے وابستہ ہے) تم ایسے لوگ ہو جنہیں آزمایا جارہا ہے۔