فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ
So when he came to Solomon, he said, ‘Are you aiding me with wealth? What Allah has given me is better than what He has given you. Indeed, you are proud of your gift!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 27:36
[Pooya/Ali Commentary 27:36] (see commentary for verse 20)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:36-37
مجھے مال کے ذریعہ نہ ورغلاؤ
تفسیر مجھے مال کے ذریعہ نہ ورغلاؤ ملکہ سبا کے روانہ کیے ہوئے افراد نے سرزمین یمن کو خیرباد کہا اور شام اور جناب سلیمان کے مرکز حکومت کی طرف چل دیئے۔ دل میں ہی تصورلیے ہوئے سلیمان ان کے تحائف قبول کرلیں گئے اور خوش ہوکر انھیں شاباش کہیں گئے ۔ لیکن جوں ہی وہ سلیمان کے حضور پیش ہوئے (فلماجاء سليمان) تو وہاں پرعجیب و غریب منظر دیكھا سلیمان نے نہ صرف ان کا استقبال نہیں کیا بلکہ انھیں یہ بھی کہا "کیا تم یہ چاہتے ہو کہ (اپنے) مال کے ذریعے میری مدد کرو؟ حالانکہ یہ مال میری نگاہ میں بالکل بے قیمتی چیز ہے جو کچھ زمانے مجھے عطا فرمایا ہے اس سے کئی حصے بہتر اورکہیں قیمتی ہے (قال اتمدونن بمال فما أتاني الله خير مما تاکیم). نبوت ، علم و دانش، بات اور تقوی کے مقابلے میں مال کی کیا حیثیت ہے؟ "یہ توتم ہو جو اپنے تحفے تحائف پر خوش ہوتے ہو": (بل انتم بهديكم تفرحون)" ۔ جی ہاں! یہ تمہی لوگ ہو کہ اس قسم کے قسم او رقیمتی تحفے اگر میرے لیے بھی بھیجو تو اس قدر مسروروشادماں نظر آتے ہو کہ خوشی کی چمک تمھاری آنکھوں سے نمایاں ہوتی ہے لیکن میری نگاہوں میں ان کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ اس طرح سے جناب سلیمان علیہ اسلام نے ان کی اقدار اور معیار کی نفی کر دی اور تحائف کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا کر ثابت کر دیا ان کے نزدیکی اقدار اور میارکچھ اور ہیں۔ دنیا پرستوں کے مقرر کردہ معیار جن کے سامنے ہیج اور بے قیمت ہیں۔ جناب سلیمان نے حق و باطل کے مسئلے میں اپنے اس عزم بالجزم کو ثابت کرنے کے لیے ملکہ سبا کے سبا خاص ایلچی سے فرمایا: تو ان کی طرف واپس پلٹ جاؤ (اور اپنے یہ تحفے نھی ی ساتھ کے جار مین کی ضرور یاد رکھوکہ تم کی ٹکرے کر ان کے پاس بہت علبہ بن رہے ہیں ان کے مقابلے کی طاقت ان میں نہیں ہوئی ( ارجع اليهم فتاتينهو بجنوده قبل لهم بها) اور ہم انھیں اس سرزمین سے ذلیل کرکے نکال دیں گے اور وہ نہایت ہی حقیر ہوں گے ( و لنخرجهه منها اذلة وهم صاغرون درحقیقت "اذلة" پہلاحال ہے اور "هم صاغرون " دوسراحال جس کا معنی یہ ہے کہ نہ صرف اسی و سرزمین سے انہیں نکال با کریں گے کہ نہایت ہی ذلت اور حقارت کی حالت میں انہیں ملک بدر کر دیئے اور وہ اپنا محلات و قصور مال ودولت اور جاہ و جلال صحیح سے بات تو میں نے ان کا کون ہیں جن کے سامنے جھک کر ہماری طرف رجوع نہیں کیا کہ کر وفریب کے ذریعے ہم سے رابط کیا ہے۔ جناب سلیمان کی یہ دھمکی ان لوگوں کے نزدیک صحیح اور قابل عمل بھی تھی کیونکہ انھوں جناب سلیمان اور ان کے جاہ و جلال فوج لشکر کو نزدیک سے دیکھا تھا۔ پہلے کی آیات جو ہم پڑھ چکے ہیں اگر ان کی طرف رجوع کی جائے تومعلوم ہوگا کہ جناب سلیمان نے ان سے دو چیزوں کاتقاضا کیا تھا کیا تو " برتری طلبی کو ترک کر دیں" اور "دوسرے حق کے آگے جھک جائیں"۔ اہل سبا کا ان دونوں چیزوں کا مثبت جواب نہ دینا اور اس کی بجائے تحائف کا بھیجنا اس بات کی دلیل تھاکہ وہ حق کو قبول نہیں کرتے اور نہ ٓہی برتری طلبی سے باز آتے ہیں لہذا سلمان نے انھیں پر فوجی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ۔ جبکہ ملکہ سبا نے اور اس کے درباریوں نے دیں اور ثبوت یا معجزہ وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا لہذا انھیں موقع فراہم کیا کہ مزید تحقیق کریں لیکن تحفوں کے بھیجنے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ انکار کرچکے ہیں ۔ یہ بات بھی ہمیں معلوم ہے کہ جناب سلیمان کو ہدہد نے جو ناخوشگوار سنائی تھی وہ یہ کہ ملک سبا کے لوگ سورج پرست اور غیب و حضور کے جانے والے اسے خدا سے روگردانی کیے ہوئے ہیں اورمخلوق کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ حضرت سلیمان کو اسی بات سے سخت دکھ پہنچا تھا اور جانتے ہیں کہ بت پرستی ایک ایسی بات ہے جس کے سامنے کوئی بھی خدائی دین خاموش تماشائی نہیں بن سکتا اورنہ ہی بت پرستوں کو ایک مذہبی اقلیت مان سکتا ہے کہ بوقت ضرورت زبردستی بھی بتکدوں کو مسماراور شرک و بت پرستی کو نیست و نابود کرسکتاہے۔ مندرجہ بالا توضیحات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے سلیمان کی آدھمکی" لا اکراہ فی الدین "کے بنیادی اصول بھی متصادم نہیں ہے کیونکر بت پرستی کوئی دین نہیں بلکہ ایک خرافات اور راہ حق سے انحراف ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:36-37
سوره نمل / آیه 36 - 37
(36) فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمَانَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍۚ فَمَآ اٰتَانِىَ اللّـٰهُ خَيْـرٌ مِّمَّآ اٰتَاكُمْۚ بَلْ اَنْتُـمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ (37) اِرْجِــعْ اِلَيْـهِـمْ فَلَنَاْتِيَنَّـهُـمْ بِجُنُـوْدٍ لَّا قِبَلَ لَـهُـمْ بِـهَا وَلَنُخْرِجَنَّـهُـمْ مِّنْهَآ اَذِلَّـةً وَّّهُـمْ صَاغِرُوْنَ ترجمہ (36) جب (ملکہ سبا کے ایلچی) سلیمان کے پاس آئے تو اس نے کہا : تم مجھے مال کے ذریعے ممک دینا (اور فریب دینا) چاہتے ہو۔ جو کچھ خدا نے مجھے عطا کیا ہے اس سے کہیں بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا یہ تمھی لوگ ہو تو تحفوں پرخوش ہوتے ہو۔ (37) ان کے پاس لوٹ جاؤ (اور انھیں جاکر بتا دو کہ) ہم ایسے لشکروں کے ساتھ ان کی طرف آئیں گے جن سے مقابلے کی طاقت ان میں نہیں ہوگی اور انہیں وہاں کی سرزمین ) سے ذلیل اورحقیربنا کر نکال دیں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:36-37
2- کچھ سبق آموز باتیں
2- کچھ سبق آموز باتیں :- داستان کے اس حصے میں بھی چند سبق آموز باتیں موجود ہیں جو پر معانی آیات میں موجود ہیں ۔ مثلا : الف: لشکر کشی کا یہ ہدف نہیں تھا کہ انسانوں کا قتل عام کیا جائے بلکہ اس کا مقصد دشمن کو اس حد تک ڈرانا تھاکہ وہ مقابلے کی جرات نہ کرسکے (جنود لا قبل لهم بها)۔ یہ تعبیر بعینہٖ اس آیت کے مترادف بے جس میں مسلمانوں کس حکم دیا گیا ہے: واعدوالهم ما استطعتم من قوة ...... ترهبون به عد والله (الانفال / 60)۔ اس قدر طاقت فراهم کرد کہ دشمن پراس کا خوف طاری ہوجائے۔ ب: حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو قتل کی دھمکی نہیں دی بلکہ انھیں ان کے محلات سے ذلت و خواری کے ساتھ نکال باہر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر روح البیان ، اسی آیت کے ذیل میں۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ج : حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو غفلت میں نہیں ڈالا کہ بلکہ انھیں حملہ کرنے کی صاف صاف دھمکی د : جناب سلیمان علیہ السلام دوسروں کے مال پر نظریں نہیں ڈالتے بلکہ فرماتے ہیں: جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ سب سے بہتر ہے ۔ وہ خدا کی عنایات کو مادی اور مالی چیزوں میں منحصر نہیں سمجتے بلکہ علم و ایمان اور معنوی عطاء و بخشش پر نازاں ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:36-37
1- زہد مادی وسائل سے استفادہ کرنے کا نام نہیں
چند ایک نکات 1- زہد مادی وسائل سے استفادہ کرنے کا نام نہیں:- یہ بات قابل تو یہ ہے کہ خدا کے کسی بھی دین میں زہد کا معنی یہ نہیں کہ انسان مال و دولت اور دنیاوی وسائل سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ زہدگی حقیقت یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کے لاکھوں"اسیر" ہوکر نہ رہ جائے بلکہ ان پر "امیر" ہوکر رہے ۔ خدا کے عظیم پیغمبر جناب سلیمانؑ نے ملکہ سبا کے قمیتی تحائف کو ٹھکرا کر یہ بات ثابت کر دی کہ وہ "امیر" ہیں "اسیر" نہیں۔ حضرت امام جعفرصادق سے مروی ایک حدیث : الدنيا اصغرقدرًا عند الله و عندانبياته واوليائه من ان يفرحوا بشئ منها ، ويحزنوا عليه فلا ينبغي العالم ولا لعاقل ان يفرح بعرض الدنيا دنیاخداوند عالم ، اس کے انبیاء اور اولیاء کے نزدیک اس پست اور حقیر ہے که وه اس سے کبھی خوش نہیں ہوتے، اور نہ ہی اس کے ہاتھ سے چلے جانے سے غمگین ہوتے ہیں بنابریں کسی عالم اور عاقل کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ دنیا کی متاع نا پائیدار سرخوشی منائے۔ ؎1