وَإِنِّي مُرۡسِلَةٌ إِلَيۡهِم بِهَدِيَّةٖ فَنَاظِرَةُۢ بِمَ يَرۡجِعُ ٱلۡمُرۡسَلُونَ
I will send them a gift, and see what the envoys bring back.’
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:27-35
4- بادشاہوں کی علامت
4- بادشاہوں کی علامت :- ان آیات سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ استبدادی حکومت اور سلطنت ہر جگہ پرفساد و تباہی اور کسی قوم کے باعزت افراد کو ذلیل کرنے کا اہم ذریعہ ہے کیونکہ اس میں باحیثیت افراد کو ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے اور چاپلوس اور خوشامدی لوگوں کو آگے لایا جاتا ہے ہر قدم پر نہیں اپنا مفاد عزیز ہوتاہے انھیں صرف تھے تحائف بھیجنے والوں رشوت دینے والوں اورز روجوہرات پیش کرنے والوں سے ہی سروکار ہوتا ہے پھر جو ظالم لوگ ان امور پر دسترس رکھتے ہیں فطری طور پر ان کے منظور نظر اور خوب خاطر ہوتے ہیں ۔ بادشاہوں کا دھیان ہی ہمیشہ مقام و منصب ، تحفے تحائف اور زروجواہر کی طرف ہوتا ہے ۔ جبکہ انبیاء الٰہی کے سامنے امت کی اصلاح کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا ۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مشورے کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد 3 میں سورہ آل عمران کی آیت 159 کی تفسیر ملاخطہ فرمائیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:27-35
3- اس داستان کے اہم اشارے
3- اس داستان کے اہم اشارے : حضرت سلیمان علیہ السلام کی داستان کے اس حصے میں بھی بعض اہم مطالب کی طرف مختصراشارے ملتے ہیں۔ 1- انبیاء کی دعوت ہر قسم کی خوابش برتری اور تکبر کی نفی کرتی ہے جو درحقیقت ہر قسم کے استعمارنفی و قانون حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا دوسرا نام ہے۔ 2- جب ملکہ سباکے مصاحبین نے جنگ کے لیے آمادگی کا اعلان کیا تو چونکہ اس کی زنانہ طبع نازک جنگ کے حق نہیں تھی لہذا اس نے ان لوگوں کی توجہ دوسرے مسائل کی جانب موڑ دی ۔ 3- اس کے علاوہ اگر وہ ان کے جنگ پر مبنی مشورے کومان لیتی تو راہ حقیقت سے ہٹ جاتی اور جیسا کہ ہم آگے پڑھیں گئے کہ اس نے مقاصد کے ذریعے تنے تھانت بھیج کر سلیان کی ہیں طرح سے آزمائش کی اس کے بہترین نتایج ظاہر ہوئے جو ق خوراک کی ذات کے لیے بھی اور ملک سبا کے باشندوں کے لیے بھی نہایت مفیدثابت ہوئے اوراس بات کا موجب بن گئے کہ وہ حق کی راہ کو پالیں اور خوں ریزی سے بچ جائیں۔ 4- اس واقعے سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے ضروری نہیں کہ شوری کا نظام ہمیشہ حق پر انجام پذیر ہو ۔ کیونکہ یہاں پر ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 وسائل الشعیہ جلد 8 ص 437 (کتاب الحج ابواب العشرة باب 33)۔ ؎2 تفسیر فخرازی ، انھی آیات کے ذیل میں۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ملکہ سبا کے اکثر ساتھیوں کا یہ نظریہ تھا کہ فوجی طاقت کا مظاہرہ دوسری تمام باتوں پر فوقیت رکھتا ہے جبکہ ملکہ کا نظریہ اس کے بالکل برعکس تھا اور اس داستان کے آخرمیں جاکر علوم ہوگا کہ حق ملکہ کے ساتھ تھا۔ یہاں پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس قسم کے مشورے ان مشوروں سے بالکل جدا ہیں جو آج کل ہمارا معمول بن چکےہیں کیونکہ ہم اکثریت کے نظریے کو معیار سمجھتے ہیں اور فیصلے کا حق اکثریت کو دیتے ہیں جبکہ اس کے مشوروں میں کسی قسم کے فیصلے کا حق عوام کے قائد کو ہوتا ہے اور مشیرلوگ صرف مشورہ ہی دے سکتے ہیں اور مندرجہ ذیل آیت مشورے کی اسی دوسری قسم کی طرف اشارہ ہے : شاورهم في الامر فاذ اعزمت فتوکل علی الله اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کرلیا کریں اور جب کوئی فیصلا کرلیں تو پھر خدا پر بھروسہ کریں(آل عمران / 159) جبکہ سورہ شوریٰ کی آیت 38 کا ظاہرًا مشورے کی پہلی قسم کی طرف اشارہ ہے ، فرمایا گیا ہے : و امرهم شورٰی بینهم مومنین کا کا مشورے سے انجام پانا چاہیے ۔ ؎1 5- ملکہ سبا کے مشیروں نے اسے کہا کہ ہم صاب قوت اور جنگجو ہیں ۔ ممکن ہے کہ ان دولفظوں کی باہمی فرق یہ ہوکہ " قوة" لشکر کی عظیم تعداد کی طرف اشارہ ہو اور" باس شد ید " ان کے جنگی کاموں اور طریقہ کار سے واقفیت اور فوج کی شجاعت کی کی طرف اشارہ ہو یعنی وه زبان حال سے یہ کہنا چاہتے ہوں کہ ہم لشکر کی تعداد کے لحاظ سے بھی اور اس کی کیفیت کے لحاظ سے دشمن کے ساتھ لڑنے کے لیے بالکل آمادہ ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:27-35
2- آیا سلیمانؑ نے اپنی پیروی کی دعوت دی
2- آیا سلیمانؑ نے اپنی پیروی کی دعوت دی ؟ بعض مفسرین نے جناب سلیمان کے خط سے ظاہرًا سمجھاہے کہ اہل سبا کو اپنی دعوت بلادلیل قبول کرنے پر آمادہ کرنا چاہتے تھے۔ پھرانھوں نے اس کا جواب بھی خود ہی دیا ہے کہ ہدہد کا معجزانہ طور پر ان لوگوں کے پاس آنا بذات خود حضرت سلیمان کی دعوت کے برحق ہونے کی دلیل ہے۔ ؎2 لیکن ہمارے خیال میں اس قسم کے جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ انبیاء کا کام انجام دیا ہے اور حضرت سلیمان کی دعوت تحقیق کی کہ کیا وہ ایک بادشاہ ہیں یا خدا کے پیغمبر؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:27-35
1- نامہ نگاری کے آداب
چند ایک نکات 1- نامہ نگاری کے آداب :- مندرجہ بالا آیات میں اہل سبا کے نام حضرت سلیمان کے خط کے بارے میں جو کچھ مذکور ہے وہ طرزنامه نگاری کا ایک اعلٰی نمؤنہ ہے جواہم اور دور رس نتائج کا حامل ہے جس نے خداوند رحمان ورحیم کے نام سے شروع ہو کر صرف دو جچے تلے جملوں میں تمام مفهوم کا خلاصہ بیان کر دیا ہے۔ اسلامی تاریخ نے اور واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارےعظیم پیشواؤں کا ہمیشہ اس بات پراصرار رہا ہے ک خط کو مختصر اور جامع انداز میں تحریر کیا جائے جو تمام نمی تعلق اور بے فائدہ باتوں سے بالکل پاک ہو اور مبنی سوچ کو خط لکھا جائے ۔ حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ اسلام نے اپنے ملازمین اور نمائندوں کو خط کے بارے میں باقاعدہ سرکاری طور پر یہ ہدایت جاری فرمائیں: "ادقوا اقلامكم وقاربوا بین سطوركم ، و احذ فوا عني فضولكم ، واقصدوا قصد المعاني ، و ایاکم و الاكثار ، فان اموال المسلمين لاتحتمل الاضرار" نوک قلم بارکی رکھو . سطروں کو نزدیک رکھو، میرے لیے لکھے جانے والے خطوط میں زائد اور اضافی باتوں کو نکال دیا کرو ، معانی پر زیادہ توجہ رکھا کرو ، زیادہ باتوں سے پرہیز کرو کیونکہ مسلمانوں کے اموال ایسی فضول خرچیاں برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔؎ 1 نوک قلم کو باریک کرنے سے الفاظ چھوٹے لکھے جائیں گے اورسطور کو قریب کرکے لکھنے اور بے فائدہ اور اضافی چیزی روشن کر دینے سے صرف مسلمانوں کے بیت المال کا ذاتی احوال میں بچت ہوگی بلکہ لکھنے اور پڑھنے والے کا وقت بھی بچے گا حتی کہ کبھی ایسا بھی نہیں ہوتا ہے کرتکلفات پرمنبی عبارت تحریرکرنے سے اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے جس سے تو لکھنے والے کو کو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی پڑھنے والا اس سے چیر کر پاتا ہے۔ گزشتہ دنوں معمول ہو گیا تھا کہ ابتدائے اسلام کے طریقہ کار کے ان کو خط لکھنے لگے تھے۔ ان میں القلاب، الفاظ اور تکلفات کی بھر مار ہوا کرتی تھی جس سے ایک قیمتی وقت ضائع ہوتا اور دوسرے سرمایہ ۔ یہ نکتہ بھی خصوصی طور پر قابل توجہ ہے کہ اس دور میں جبکہ کسی خط کو مخصوص قاصد کے ذریعے بھیجاجاتا اورجس کے پہنچانے کے لیے بسا اوقات کئی ہفتے درکار ہوتے تھے اور کافی سرمایہ خرچ ہوتا تھا اس کے باوجود نہایت ہی اختصار کو مد نظر رکھا جاتا تھا جس کا نمونہ پیغمبرا کے خسرو پرویز قیصر روم اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے نام خطوط میں دیکھا جاسکتا۔ اصل بات یہ ہے کسی کا خط اس کی شخصت کو اسی طرح آئینہ دار ہوتا ہے جس طرح اس کا ایلچی اور پیغام رساں ۔ جیساکہ نہج البلاغہ میں حضرت علی کا فرمان ہے: رسولک ترجمان عقلك وكتابك ابلغ من ينطق عنك تمھارا ایلچی تمھاری عقل کا ترجمان ہوتا ہے اور تمھارا خط تمھاری طرف سے سب سے بہتر بات کرنے والا ہوتا ہے۔ ؎2 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "يستدل بكتاب الرجل على عقله ، و موضع بصيرته، وبرسوله على فهمه وفطنته" کسی شخص کا خط بتاتا ہے کہ اس میں کتنی عقل و بصیرت ہے اور اس کا ایلچی اس کی فہم وزکا کی نشانی ہوتا ہے۔ ؎3 اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خط کا جواب بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح سلام کا جواب۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام کی حدیث ہے : ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 بحار الانور جلد 76 ص 49۔ ؎2 نہج البلاغہ کلمات قصار جملہ 301۔ ؎3 بحارالانوار جلد 76 ص 50۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ (وجواب الكتب واجب کوجوب ردالسلام خط کا جواب دینا اسی طرح واجب ہے جس طرح اسلام کا جواب۔ ؎1 چونکہ عام طور پر خط میں اسلام ودم ہوتا ہے لہذا بعید نہیں ہے کہ اس آیت شریفہ کے ضمن میں آتا ہو : واذ احييتم بتحية فحيوا باحسن منها اور دوها جب تمھیں دعا و سلام کہا جائے تو تم بھی اس کا اس سے بہتر یا اسی جیسا جواب دیا کرو (نساء / 86)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:27-35
بادشاہ تباہیاں لاتے ہیں
تفسیر بادشاہ تباہیاں لاتے ہیں حضرت سلیمان نے غور سے ہدہد کی باتیں سنیں اور سوچنے لگ گئے ۔ ممکن ہے ان کا زیادہ گمان یہی ہو کہ یہ خبر سچی ہو کہ اور اس کے جھوٹا ہونے پر کوئی دلیل بھی موجود نہیں ہے لیکن چونکہ یہ بات معمولی نہ تھی کہ ایک ملک اور ایک بڑی قوم کی تفدیراس سے وابستہ تھی لہذا انھوں نے ایک فرد کی خبر پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ اس حساس موضوع پرمذید تحقیق کرنا چاہتے تھے۔ لہذا اس طرح فرمایا ہم اس بارے میں تحقیق کریں گے اور دیکھیں گے کہ آیا تو نے سچ کہا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے (قال سنتظراصدقت ام كنت من الكاذبین)۔ اس بات سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ اہم اورنتیجہ خیز مسائل کے بارے میں توجہ دینی چاہیے خواہ اس کی اطلاع کسی معمولی سے فرد کی جانب سے کیوں نہ ملے ۔ اور جلد ہی اس کے بارے میں تحقیقات کرنی چاہیے (جیساکہ "سنتظر" میں "سین" کا اقتضاء ہے)۔ سلیمان علیہ السلام نے نہ تو ہدہد جھوٹا کہا اور نہ ہی بغیر دلیل کے اس کی بات کو تسلیم کیا بلکہ اس بارے میں تحقیقات کا حکم صادر فرمایا۔ بہرحال سلیمانؑ نے ایک نہایت مختصرلیکن جامع خط تحریر فرمایا اور ہدہد کو دے کر کہا : "میرا یہ خط لے جاؤ اور ان کے پاس جاکرڈال دو پھرلوٹ آؤ اور ایک کونے میں ٹھہر جاؤ اور دیکھو وہ کیا ردعمل کرتے ہیں ( اذهب بكت ابي هذا في فالقه اللهم ثم تول عنهم فانظر ماذا یرجعون )۔ ؎1 "القه اليهم" (تو ان کی طرف ڈال دے) کی تعبیر سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہدہد کوحکم دیا گیا کہ اس خط کواس وقت ان کے پاس جا کر ڈال دیا جب ملکہ سباء اپنے درباریوں کے ساتھ محفل جمائے ہوئے ہو ، تاکہ فراموشی اور اخفا کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے ۔یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے ک بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ہدہد کے محل میں داخل ہو کر اس کے سونے کے کمرے میں پہنچ گیا اورخط اس کے سینے یا گردن پرڈال دیا اس کے لیے کوئی خاص دلیل نہیں ہے اگرچہ بعد والی آیت میں ہے۔ اني القى الى کتاب کریم میری طرف ایک اہم خط پھینکا گیا ہے۔ یہ آیت اس دعویٰ سے موافقت رکھتی ہے۔ ملکہ سبا نے خط کھولا اور اس کے مندرجات سے آگاہی حاصل کی۔ چونکہ اس نے اس سے پہلے سلیمانؑ کا نام اورشهرت سن رکھی تھی اورخط کے مندرجات سے بھی واضح ہوتا تھا کہ جناب سلیمان نے سباء کے بارے میں سخت فیصلہ کرلیا ہے لہذا وہ گہری سوچ میں پڑگئی اور چونکہ ملک کے اہم ترین مسائل میں وہ اپنے مصاحبین سے مشورہ کیا کرتی تھی لہذا اس بارے میں بھی انھیں اظہار خیال کی دعوت دی اوران سے مخاطب ہو کرکہا اے سردارو! اور بزرگو ایک نہایت ہی باوقار خط میری طرف پھینکا گیا ہے (قالت یا ایها الملوا اني القي الی کتاب کریم)۔ کیا سچ مچ ملکہ سبا نے چھٹی رساں کو نہیں دیکھا تھا اور خود خط کے اندر موجود قرائن سے اس نے خط کی حقانیت کو تسلیم کرلیا تھا اور اسے یہ احتمال بھی پیدا نہ ہوا کہ یہ خط جلعی ہے۔ یا اپنی آنکھوں سے قاصد کو دیکھ لیا تھا اور اس کی محیر العقول کیفیت بذات خود ا س بات کی دلیل تھی کہ اس کے پس پردہ یقینًا کوئی حقیقت کار فرما ہے اور کوئی معمولی بات نہیں ہے بات خواہ کچھ بھی ہو اسے خط پر یقین آگیا۔ ملکہ نے یہ کیوں کہا کہ یہ بہت ہی باعظمت خط ہے یا تو اس لیے کہ اس خطے کے مطالب بہت ہی گہرے تھے یاپھراس لیے ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 بعض مفسرین کہتے ہیں کہ "ثم تول عنہم" معنی کے لحاظ سے مؤخرہے اور عبارت میں مقدم ہے اور تقدیر کی صورت میں یوں ہوگا" فانظرما وایرجون ثم تول عنهم " یہ اس لیے ہے کہ انھوں نے اس جملے کو واپس قوم کی طرف سے واپس لوٹ آنے سے معنی میں لیا ہے جبکہ آیت کا ظاہری معنی یہ ہے کہ توان سے رخ پھیر کر ایک کونے میں انتظار کر کہ وہ کیا ردعمل کرتے ہیں۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کہ اس کا آغاز خدا کے نام سے ہواتھا اور اختتام پر جناب سلیمانؑ کے صحیح دستخط تھے اور مہرلگی تھی۔ ؎1 یا اس کا لکھنے والا باعظمت انسان تھا مفسرین نے یہ مختلف احتمالات ذکر کیے ہیں ممکن ہے کہ یہ سب احتمالات جامع مفہوم میں جمع ہوں کیونکہ یہ ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ لوگ سورج پرست تھے لیکن ہم جانتے ہیں کہ بہت سے بت پرست خدا پر بھی ایمان رکھتے تھے اور اسے"رب الارباب" کا نام دیتے تھے اور اس کا احترام کرتے تھے اورتعظیم بجا لاتے تھے۔ پھرملکہ سبا نے خط کا مضمون سناتے ہوئے کہا "یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اوراس کے مندرجات یوں ہیں: رحمان و رحیم کے نام سے ........(انه من سليمان و انه بسم الله الرحمن الرحیم)۔ ؎1 "میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم میرے مقابلے میں سرکشی سے کام نہ لو اور حق کے سامنے تسلیم خم کرتے ہوئے میرے پاس آجاؤ (الاتعلوا علي و أتوني مسلمين )۔ ؎2 بعید معلوم ہوتا ہے کہ جناب سلمانؑ نے اسی عبارت اور انھی عربی الفاظ میں خط لکھا ہوبنا بریں ممکن ہے مندرجہ بالا جملے یا توصرف معنی کو بیان کر رہے ہیں یا پھر سلیمان کے خط کا خلاصہ ہوں جسے ملکہ سباء نے ان افراد کے سامنے بیان کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خط کا مضمون درحقیقت صرف تین جملوں پرمشتمل ہے۔ پہلے جملے میں خدا کا نام اور اس کے رحمان اور رحیم ہونے ذکرہے۔ دوسرے جملے میں خواہشات نفسانی پرکنٹرول کرنے اور تکبر و برتری کی خواہش کو ترک کرنے کا حکم ہے کہ جو تمام انفرادی اور اجتمائی برائیوں کی جڑہے. اور تیسرے جملے میں حق کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کا تذکرہ ہے ۔ اگر غور سے کام لیں تو معلوم ہوگا ، اس کے علاوہ کوئی اور ایسی چیز تھی بھی نہیں جو قابل ذکر ہو۔ حضرت سلیمان کے خط کا تذکرہ کرنے کے بعد اہل دربار کی طرف رخ کرکے ملکہ نے یوں کہا اے سردارو! اس اہم معاملے میں تو اپنی رائے کا اظہارکرو۔کیونکہ میں کوئی بھی اہم کام تمھاری شرکت اور تماری رائے کے بغیر انجام نہیں دیتی ہوں (قالت یاایها المنوا فتونی فی امری ماکنت قاطعة امرًاحتی تشهدون )۔ اس رائے طلبی سے وہ ان کے درمیان اپنی حیثیت ثابت کرنا چاہتی تھی اور ان کی نظر اور توجہ اپنی طرف مبذول کرناچاہتی تھی ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 حدیث میں آیا ہے کہ کسی خط کی عظمت اور وقار اس کی مہرمیں ہے (تفسیر مجمع البیان ، المیزان اور قرطبی) ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب پیغمبراسلام نے عجم کے لیے خط لکھنا چاہا تو آپ سے عرض کی گئی کہ عجمی لوگ بغیر مہر کے خط قبول نہیں کرتے توآپ نے حکم دیا کہ ایک انگوٹھی تیار کروائی جائے جس کے نگینے پر یہ الفاظ کندہ ہوں لا اله الا الله محمد رسول الله اور یہی مہر آپ مخط پر لگا دیا کرتے تھے (تفسیر قرطبی اسی آیت کےذیل میں)۔ ؎2 ممکن ہے "الاتعلوا على" کا جملہ مجموعی طور پر "کتاب" سے بدل ہو اور ممکن ہے کہ یہاں پر "ان" بمعنی "ای" کے ہوا اور تفسیر کے لیے ہو اور یہ احتمال بھی ہے اور ایک محذوف جملہ سے متعلق ہو اور وه "اوھیکم" ہوسکتا ہے ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- تاکہ اس طرح سے وہ ان کی رائے اور اپنے فیصلے کو ہم آہنگ کرسکے ۔ "افتونی" "فتویٰ" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے پچیدہ مسائل میں خوب سوچ بچار کرکے صحیح صحیح فیصلہ کرنا۔ چنانچہ اس طرح سے ملکہ سباء نے ایک تو ان کے آگے مسئلے پیچیدگی کو واضح کردیا اور دوسرے اس نکتہ کی جانب ان کی توجہ مبذول کروائی کو اپنے نظریئے کا اظہار کرتے وقت خوب غورو فکر سے کام لیں تاکہ بعد میں غلط نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ "تشهدون" "شہود" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے ایسی موجودگی جو تعاون اورمشورے پرمشمتل ہو۔ اشرف قوم نے جواب میں کہا ہم بڑی طاقت والے اور جنگجو لوگ ہیں لیکن آخری فیصلہ آپ کے کہ ہاتھوں میں ہے دیکھیے . آپ کیا حکم دیتی ہیں؟ (قالوا نحن اولو قوۃ واولوا بأس شديد و الامر اليك فانظري ماذ تمرین)۔ اس طرح سے انہوں نے ایک تو اس کے سامنے اپنی فرمانبرداری کا اظہار کر دیا اور دوسر اپنی قوت کا ذکر کرکے کا میدان میں لڑنے کا مشورہ بھی دے دیا۔ جب ملکہ نے ان کا جنگ کی طرف رجحان دیکھا اور اندرونی طور پر اس که قطعًا یہ ارادہ نہیں تھا تو ان جنگی اس کی پیاس کو بجھانے تیر صحیح حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے انہیں قانع کرنے کے لیے کہا "جب بادشاہ کسی آباد علا قے میں داخل ہوتے ہیں تو انھیں تباہ و برباد کر دیتے ہیں "(قالت ان الملوك اذا ادخلوا قرية فسدوها)۔ اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں (وجعلوا اعزة اهلها اذلة)۔ کچھ کو مار ڈالنے ہیں ، کچھ کو قیدی بنالیتے ہیں اور کچھ کو بے گھر کر دیتے ہیں ۔ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا ہے۔ لوٹ مار کرتے ہیں ۔ پھر اس نے تاکید کے طور پر بلکہ یقینی صورت میں کہا " جی ہاں ! وہ ایسا ہی کرتے ہیں" (وكذلك يفعلون) ۔ درحقيقت ملکہ سبا خود بھی ایک "بادشاہ" تھی لہذا وہ بادشاہوں سے اچھی طرح واقف تھی کہ بادشاہوں کی جنگی حکمت عملی دو حصوں پرمشتمل ہوتی ہے ایک تباہی اور بربادی اور دوسرے باعزت افراد کو ذلیل کرنا کیونکہ انھیں تو صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں، قوم وملت کے مفادات اوران کی سربلندی سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔لہذا عمومی طور پر یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں۔ پھرملکہ نے کہا : ہمیں سب سے پہلے سلیمان اوراس کے ساتھیوں کو آزمانہ چاہیئے اور دیکھنا چاہیے کہ وہ واقع میں کیسے لوگ؟ آیا سلیمان بادشاہ ہے یا پیغمبر ہے ؟ تباہ کار ہے مصلح ، اقوام ملل کو ذلیل کرتا ہے یا عزت بخشتا ہے ؟ تو اس کام کے لیے ہمیں تحفے تحائف سے استفادہ کرنا چا ہیے لہذا میں ان کی طرف کچھ معقول تحفے بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ میرے قاصد ان کی طرف سے لیا ردعمل لاتے ہیں (واني مرسلة اليهم بهدية مناظرة بھر یرجع المرسلون)۔ بادشاہوں کو تخفے تحائف سے بڑی محبت ہوتی ہے اوریہ تحفے اور ہدیے ہی ان کی بہت بڑی کمزوری ہوتے ہیں ۔ انھیں تحفے دے کر جھکایا جاسکتا ہے ہم دیکھیں گے اگر سلیمان نے ان تحائف کو قبول کرلیا تو معلوم ہوجائے گا کہ وہ بادشاه ہے اور ہم بھی ڈٹ کر اس کا مقابلہ کریں گے اور اپنی پوری طاقت استعمال کریں گے کیونکہ پم بہرحال طاقتور ہیں اور اگر اس نے ان تحائف سے بے رخی برتی اور اپنی باتوں پر ڈٹا رہا تو ہم سمجھ جائیں گے کہ وہ خداکا نبی ہے توایسی صورت میں ہمیں بھی عقل مندی سے کام لینا ہو ۔ ملکہ سباء نے جناب سلیمانؑ کے لیے کیا تحائف بھیجے ؟ اس بارے میں قرآن نے کچھ نہیں بتایا ۔ صرف کلمہ "ہدیہ" نکره کی صورت میں بیان کرکے اس کی عظمت کو ضرور واضح کر دیا ہے البتہ مفسرین نے اس بارے میں بہت کچھ کہا ہے جن میں سے بعض باتیں مبالغہ آرائی اور افسانوی رنگ سے خالی نہیں ہیں ۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ پانچ سو بہترین غلام اور پانی بہترین کنیزیں ان کے لیے بھیجی گئیں ۔ غلاموں کو زنانہ لباس ہیں اور کنیزوں کو مردان لباس میں ، غلاموں کے کانوں میں گوشوارے اور ہاتھوں میں کنگن اور کنیزوں کے خوبصورت ٹوپیاں تھیں ملکہ نے اپنے خط میں لکھا کہ اگر آپ اللہ کے نبی ہیں تو غلاموں اور کنیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیں۔ انھیں زرد جواہرات اور قیمتی زیورات سے آرستہ کرکے بہترین سواریوں پر سوار کرکے اور جواہرات کی معقول مقدار دے کر جناب سلیمان کی خدمتیں میں بھیجا گیا۔ اور ساتھ ہی ملکہ نے قاصد کو یہ بات بھی سمجھادی کہ تمھارے دربار میں پہنچتے ہی اگر سلیمان نے تمھیں خشم آلور اور غضب ناک نگاہوں سے دیکھا تو سمجھالینا کہ بادشاہوں کا انداز ہے اور اگر پیار بھرے انداز میں خندہ پیشانی کے ساتھ تمھیں شرف حضور بخشا تو سمجھ لینا کہ خدا کا نبی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:27-35
سوره نمل / آیه 27 - 35
(27) قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِيْنَ (28) اِذْهَبْ بِّكِـتَابِىْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَيْـهِـمْ ثُـمَّ تَوَلَّ عَنْـهُـمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُوْنَ (29) قَالَتْ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اِنِّـىٓ اُلْقِىَ اِلَـىَّ كِتَابٌ كَرِيْـمٌ (30) اِنَّهٝ مِنْ سُلَيْمَانَ وَاِنَّهٝ بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ (31) اَلَّا تَعْلُوْا عَلَـىَّ وَاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ (32) قَالَتْ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِىْ فِـىٓ اَمْرِيْۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّـٰى تَشْهَدُوْنِ (33) قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍۙ وَّالْاَمْرُ اِلَيْكِ فَانْظُرِىْ مَاذَا تَاْمُرِيْنَ (34) قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوٓا اَعِزَّةَ اَهْلِهَآ اَذِلَّـةً ۚ وَكَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ (35) وَاِنِّىْ مُرْسِلَـةٌ اِلَيْـهِـمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِـمَ يَرْجِــعُ الْمُرْسَلُوْنَ ترجمہ (27) (سلیمان نے) کہا ہم تحقیق کریں گے اور دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے۔ (28) میرا یہ خط لے جا اور اسے ان لوگوں کے سامنے ڈال دے کر لوٹ آ (ایک کونے میں چھپ کر)دیکھ کہ وہ کیا ردعمل کرتے ہیں؟ (29) (ملکہ سبا نے) کہا اے سردارو! یہ ایک نہایت ہی اہم خط میرے پاس گرایا گیا ہے۔ (30) یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اوراس طرح ہے : رحمٰن و رحیم اللہ کے نام سے ........ (31) تمھیں میری یہی نصیحت ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور حق سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے میرے پاس آجاؤ۔ (32) (پھر) کہا اے سردارو! (اور اے بزرگو!) اس اہم معاملے میں اپنی رائے دو ، کیونکہ میں نے کوئی بھی اہم کام تمھاری شرکت کے بغیرانجام نہیں دیا۔ (33) (درباریوں نے) کہا ہم بہت طاقت ورہیں اور ہمارے پاس بہت جنگی قوت ہے لیکن آخری فیصلہ کرنا پھر بھی تیرے ہاتھ میں ہے تیرا حکم کیا ہے؟ (34) ملکہ نے کہا جب بادشاہ کی آبادی والے علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تہس نہس کرکے رکھ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ (جی ہاں)ان کے کام ایسے ہی ہوتے ہیں۔ (35) میں (اس وقت جنگ کو خلاف مصلحت سمجھتی ہوں لہذا) ایک قیمتی تحفہ اس کی طرف بھیجتی ہوں تاکہ پتہ چل جائے کہ میرے ایلچی کیا خبرلاتے ہیں۔
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 27:32-44
How can miracles manifested by Ali be deemed sorceress on the face of the facts of this paragraph.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 27:35
[Pooya/Ali Commentary 27:35] (see commentary for verse 20)