وَحُشِرَ لِسُلَيۡمَٰنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ وَٱلطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوزَعُونَ
[Once] Solomon’s hosts were marched out for him, comprising jinn, humans and birds, and they were held in check.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 27:17
[Pooya/Ali Commentary 27:17] All varieties of Allah's creation (men, animals, birds, jinn and spirits) were among the hosts of Sulayman.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:17-19
2- حضرت سلیمان اور شکرالٰہی
2- حضرت سلیمان اور شکرالٰہی :- الٰہی حکمرانوں اور ظالم و جابرحکمرانوں کے درمیان ایک بڑا فرق یہ ہے کے جب و غلاموں کو حکومت حاصل ہوتی ہے توہ غروراور غفلت میں غرق ہوکر تمام انسانی اقدار کو فراموش کر دیتے ہیں اوراپنن خودسری کا شکار ہو جاتے ہیں جب اقتدار حاصل کر لیتے ہیں تو اسے اپنے دوش پر ایک عظیم ذمہ داری سمجھتے ہیں ، دوسروں سے زیادہ خدا کی بارگاہ کا رخ کرتے ہیں ۔اس عظیم ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق خدا سے طلب کرتے ہیں جیسا کہ سلیمان علہی اسلام نے سریر قدرت پر پہنچنے کے بعد جس سب سے اہم چیز کا خدا سے سوال کیا وہ شکر خدا کی ادائیگی اور ان نعمتوں کو راہ حق اوربندوں کی فلاح میں استعمال کرنے کا سوال تھا۔ اور پھر قابل توجہ یہ بات ہے کہ انھوں نے اپنی درخواست کو "اوزعنی" کے لفظ سے شروع کیا ہے جس کا مفہوم اس عظیم مقصد کے انجام دینے کے لئے اندرونی ہدایت اور تمام باطنی طاقتوں کو اکٹھا کرنا ہے گویا سلیمان خدا سے دعا کر رہے ہیں خدایا مجھے اس قد رقدرت عطا فرماکہ میں اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے اپنی تمام اندرونی توانائیوں کو اکٹھا کر کے تیرا شکراداکروں اور اپنے فرائض کو پورا کروں اور توہی مجھے اس راستے پر چلاتارہ کیونکہ نہایت ہی کٹھن، خوفناک اور طولانی سفر ہے اور اس عظیم حکومت میں تمام لوگوں کے فرق کی ادائیگی کا ہی راستہ ہے۔ جناب سلیمان نے صرف ان نعمتوں نے شکر کی توانائی کا تقاضا میں کیا کہ جو خودان کو ذاتی طور پیوٹا کی گئی تھیں بلکہ اپنے ماں باپ کوعطا کی جانے والی نعمتوں کے لشکر کی توقفیت بھی چاہی کی کہ انسان کو ملنے والی بہت سی میں اسے ماں باپ کی طرف ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 ہم تفسیر نمونہ کی جلد پنجم میں سورہ انعام ان کی آیت 38 کے ذیل می میں اس بارے میں گفتگو کرچکے ہیں ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- میراث میں ملتی ہیں اوراس میں شک نہیں کہ خداوند عالم جو وسائل ماں باپ کو عطا کرتا ہے وہ اولاد کے لیے بڑی حد تک معاون ثابت ہوتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:17-19
سوره نمل / آیه 17 - 19
(17) وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُـوْدُهٝ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّيْـرِ فَهُـمْ يُوْزَعُوْنَ (18) حَتّــٰٓى اِذَآ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِۙ قَالَتْ نَمْلَـةٌ يَّّآ اَ يُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسَاكِنَكُمْۚ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُـوْدُهٝ ۙ وَهُـمْ لَا يَشْعُرُوْنَ (19) فَـتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِـهَا وَقَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِىٓ اَنْ اَشْكُـرَ نِعْمَتَكَ الَّتِىٓ اَنْعَمْتَ عَلَـىَّ وَعَلٰى وَالِـدَىَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَـرْضَاهُ وَاَدْخِلْنِىْ بِرَحْـمَتِكَ فِىْ عِبَادِكَ الصَّالِحِيْنَ ترجمہ (17) سلیمان کے جنوں، انسانوں اور پرندوں کے لشکر ان کے پاس جمع ہوئے اور وہ اس قدر زیادہ تھے کہ آپس میں ملحق ہونے کے لیے انھیں توقف کرنا پڑتا۔ (18) یہاں تک کہ ایک روز وہ چیونٹیوں کی سر زمین کی طرف آنکلے تو کی چیونٹی نے کہا" اے چیونٹیو! تم اپنے بلوں میں گھس جاؤ ، کہیں سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں بے خبری میں روند نہ ڈالے۔ (19) (سلیمان) اس کی بات پرسکرا دیئے اور ہنس کرکہا : پروردگارا ! جو نعمیں تونے مجھے اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں مجھے ان کے شکر کی توفیق عطا فرما اور مجھے توفیق دے کہ میں وہ عمل صالح انجام دوں جوتیری رضا کا سبب بنے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں کے زمرے میں داخل فرما۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:17-19
حضرت سلیمان وادی نمل میں
تفسیر حضرت سلیمان وادی نمل میں اس سورت کی اور سورہ سبا کی آیات سے یہ بات بخوبی سمجھی جاتی ہے اور کہ حضرت سلیمانؑ کی داستان حکومت کوئی عام سا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف قسم کی غیرمعمولی باتیں ہیں اور بہت سے معجزات پائے جاتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ تواسی سورت میں بیان ہوئے ہیں : مثلا جناب سلیمانؑ کا جنوں اور پرندوں پرحکومت کرنا ۔ چیونٹیوں کا کلام سمجھ لینا اور ہدہد سے ہم کلام ہونا ، اسی طرح کچھ واقعات سوره سبا میں بیان ہوئے ہیں ۔ درحقیقت خداوند عالم نے ایسی عظیم حکومت کے قیام اور اتنی عظیم طاقتیں جناب سلیمان کے لیے مسخر کرکے اپنی قدرت کا کا مظاہرہ فرمایا ہے اورایک موحد انسان کے نزدیک قدرت خدا کے آگے یہ کام بالکل آسان ہے۔ انھی آیات میں سب سے پہلے فرمایا گیا ہے : سلیمان کے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر ان کے پاس جمع ہوگئے (وحشر لسليمان جنودہ من الجن و الانس والطير) - لشکر والوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے حکم دیاجاتا کہ "اگلی صفوں کو روکے رکھیں اور پچھلی صفوں کو چلاتے رہیں تاکہ سب مل کر حرکت کریں (فهم يوزعون)۔ "یوزعون" "وزع" (بروزن "جمع") کے مادہ سے تم جس کا معنی ہے روکنا اور جب اس کا اطلاق فوج اور لشکر وغیرہ پر ہو تو اس کا مطلب ہے کہ لشکر کے اگلے حصے کو روکے رکھیں تاکہ پچھلے حصے کے فوجی بھی اس کے ساتھ آملیں ۔ اور افتراق و بدنظمی پیدا نہ ہو۔ "وزع" کسی چیز کے بارے میں لالچ کرنے اور اس کے ساتھ ایسازبردست تعلق پیدا کرنے کے معنی میں ہے جو انسان کو دوسرے کاموں سے روک دے۔ اس تعبیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جناب سلیمان کا لشکر تعداد میں زیادہ تھا اور خاص نظم و ضبط کے تحت حرکت کرتا تھا۔ "حشر - "حشر " (بروزن "نشر") کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے کثیر تعداد کے افراد کو اپنے ٹھکانوں سے نکال کر میدان جنگ وغیرہ کی طرف لے چلنا ۔ اس سے اوراسی طرح بعد والی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان نے کسی علاقے پر لشکر کشی کی تھی لیکن اس لشکرکشی کی تفصیل واضح طور پرمعلوم نہیں ہے۔ چونکہ بعد والی آیت" وادي نمل" کے بارے میں گفتگو کرتی ہے لہذا بعض مفسرین نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ وہ "وادی لنمل" (چیونٹیوں کی سرزمین) طائف کے قریب کا علاقہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ شام کے نزدیک کی سرزمین ہے۔ لیکن چونکہ اس موضوع کے بیان میں کوئی اخلاقی یاتربیتی پہلو نہیں پایا جاتا ۔ لہذا آیت میں اس بارے میں مزید گفتگو نہیں ہوئی ۔ بعض مفسرین نے اس بارے میں بھی اختلاف کیا ہے کہ کیا تمام جن وانس اور پرندے حضرت سلیمان کے لشکر میں شامل تھے (ایسی صورت میں "من" "تبعیض" کاہوگا)یا ان ہوگا یہ ایک اضافی بحث معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس بات میں شک نہیں کہ جناب سلیمان علیہ السلام کی تمام روئے زمین پر حکومت نہیں تھی بلکہ ان کی حکومت میں شام ، بیت المقدس اور شاید اس کے اطراف کا کچھ علاقہ شامل تھا۔ حتی کہ بعد والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دورمیں آپ نے یمن کی سرزمین پربھی تسلط حاصل نہیں کیا تھا بلکہ "ہدہد" کے واقعے اور ملکہ سباء کے ایمان لانے کے بعد آپ نے وہاں غلبہ پایا۔ "تفقد الطير" سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب سلیمان کے زیر فرمان پرندوں میں ایک ہدہد بھی تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام نے اسے غیر حاضر پایاتو اس کے بارے میں پوچھ گچھ کی ۔ اگر تمام پرندے ہوتے جن میں ہزاروں کی تعداد میں ہدہد بھی ہوتے اوران میں سے ایک یہ پرنده بھی تو یہ تعبیر صحیح نہ ہوتی ۔ (غور کیجئے گا)۔ بہرحال جناب سلمانؑ اس عظیم شکر کے ساتھ چلے حتٰی کہ چیونٹیوں کی سرزمین پر پہنچ گئے (حتى اذا اتوا على مواد النمل)۔ یہاں پر چیونٹیوں میں سے ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے مخاطب ہوکر کہا: اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں چلی جاؤ تاکہ سلیمان اور ان کا شکر تمھیں بے خبری میں پامال نہ کر دے (قالت نملة یا ایها النمل ادخلوا مساكنكم لا يحطعنكم سلیمان وجنودہ و ھم لايشعرون)۔ ؎1 اس سرزمین میں جناب سلیمان اور ان کے لشکرکی آمد سے چیونٹی کیونکر مطلع ہوئی اوراس نے اپنی آواز دوسری چیونٹیوں تک کیونکر پہنچائی، اس بارے تفصیلی گفتگو انشااللہء نکات کی بحث میں آئے گی۔ البتہ ضمنی طور پر اس جملے سے استفادہ ہوتا ہے کہ سلیمان کی عدالت چیونٹیوں تک پرآشکار ہوگئی کیونکہ اس جملے کا مفہوم ہے کہ اگر وہ اس بات کی طرف متوجہ ہوں تو ایک کمزور سی چیونٹی کو بھی پامال کرنا گوارا نہیں کرتے چنانچہ اگر وہ پامال کرتے ہیں تو ان کی اس طرف تو نہیں ہوتی! سلیمانؑ یہ سن کر مسکرا دیئے اور ہنسے (فتبسم صناحکًا من قولها)۔ حضرت سلیمان کسی وجہ سے ہنسے ؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ظاہر امر یہ ہے کہ بذات خود یہ قضیہ یک عجیب چیزتھی کہ ایک چیونٹی اپنے ساتیوں کوسلیمان کے عظیم لشکر سے آگاہ کرے اور اس کی بے توجہی کا ذکر کرے اور یہی عجب اور جناب سلیمان کے ہسننے اور مسکرانے کا سبب بنا۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ کی یہ ہنسی ، خوشی کی ہنسی تھی کیونکہ آپ کو معلوم ہوگیا کہ چیانٹی تک کی مخلوق ان کی اور ان کے لشکر والوں کی عدالت او تقویٰ کا اعتراف کرتی ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ آپ کی خوشی کا سبب یہ تھاکہ خداوندعالم نے انھیں اس قدر قدرت عطا فرمائی ہے کہ لشکر عظیم کے شوروغل کے باوجود وہ چیونٹی جیسی مخلوق کی آواز سے غافل نہیں ہیں ۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بعض مفسرین نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ " نخلة " میں " تا " بیان و حدت کے لیے ہے اور فعل کو ظاہر کلمہ کی رعایت سے مونث لایا گیا ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- بہرحال وہ خواہ کچھ بھی ہو ، اس موقع پر جناب سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں چند معروضات پیش کیں ۔ پہلی کہ خداوندا! جو تونے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں ان کا شکر کرنے کا طریقہ مجھ سکھا دے۔ (وقال رب او زغی ان اشكر نعمتك التي انعمت علی وعلی والدی)۔ ؎1 تاکہ میں اپنی ان تمام نظری نعمتوں کو تیری اس راہ میں بروئے کار لاؤں جس میں تیری خوشی اور رضا ہے اور میں جاده حق سے انحراف نہ کروں کیونکہ ان تمام نعمتوں کا شکر تیری امداد اور نصرت کے بغیر ناممکن ہے ۔ دوسری یہ کہ "مجھے توفیق عطا فرما تاکہ ایسا نیک عمل بجا لاؤں کہ جس سے تو راضی ہو ( وان اعمل صالحا ترضاه)۔ کیونکہ میرے لیے یہ لشکرو سپاہ اور حکومت و سلطنت کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ اہم چیز یہ ہے کہ میں ایسے نیک اعمال بجا لاؤں جس سے تو راضی ہو ۔ چونکہ "اعمل " فعل مضارع کا صیغہ ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب سلیمان نے ادائمی توفیق کی درخواست کی ہے۔ آخرمیں تیسری عرض داشت یہ پیش کی کہ پروردگارا ! مجھے اپنی رحمت کے ساتھ اپنے صالح بندوں کے زمرے میں شامل فرما (وادخلني برحمتك في عبادك الصالحين)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:17-19
1- جناب سلیمان کا جانوروں کی بولی جاننا
چند اہم نکات 1- جناب سلیمان کا جانوروں کی بولی جاننا :- حیوانات کی دنیا کے بارے میں ہمیں زیادہ معلومات نہیں ہیں اوراس بارے میں تمام ترقی کے باوجود ابھی تک اس پر شک و ابہام کے پردے پڑے ہوئے ہیں ۔ البتہ بہت سے کاموں میں ہم ان کی فہم ، سمجھ اور مہارت کے آثار ضرور دیکھتے ہیں ۔ شهد کی مکھیوں کا گھر بنانا ، شہد کے چھتے کا منظم و مضبوط کرنا ، چیونٹیوں کا موم سرما کی ضروریات کے لیے اپنی غذا کو خیرہ کرنا ، جانوروں کو دشمن سے اپنا دفاع کرنا ، حتی کہ ان کا بہت سی بیماریوں کے علاج سے باخبر ہونا ، دور دراز کے فاصلوں سے اپنے آشیانوں اور بلوں تک واپس لوٹ آنا، لمبے اور طویل فاصلے طے کرکے منزل مقصود تک پہنچنا ، آئنده حوادث کے بارے میں پیشگی اندازہ لگا لینا وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حیوانات کی پراسرار زندگی کے بارے میں ابھی تک بہت سے مسائل ایسے ہیں جو قابل حل ہیں۔ ان تمام باتوں سے ہٹ کر بہت سے جانور ایسے ہیں کہ اگر نہیں سدھایا جائے اوران کی تربیت کی جائے تو وہ ایسے ایسے عجیب و غریب کارنامے انجام دیتے ہیں جو انسان کے بھی بس میں نہیں ہوتے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "ازعني" "ایزراع" مبنی "الہام" کے معنی میں ہے ۔یا انحراف کے روکنے کے معنی ہے یا پھر عشق و محبت کے معنی میں ہے لیکن بیشتر مفسرین نے پہلا معنی اختیار کیا ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- لیکن پھربھی اچھی طرح معلوم نہیں کہ وہ انسانی دنیا کے کس حد تک باخبر ہیں؟ کیا وہ واقعًا یہ جانتے ہیں کہ ہم (انسان) کون لوگ ہیں اور کیا کرتے ہیں ؟ ہوسکتا ہے ہمیں ان میں اس قسم کے ہوش اور سمجھ کے آثار نہ ملیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ان میں ان چیزوں کا فقدان ہے ۔ اسی بناء پراگر ہم نے مندرجہ بالا داستان میں ہی پڑھا ہے کہ چیونٹیوں کو جناب سلیمان کے اس سرزمین میں آنے کی خبر ہوگئی تھی اور انھیں اپنے بلوں میں گھس جانے کا حکم ملا تھا تاکہ وہ لشکر کے پاؤں تلے کچلی نہ جائیں اور سلیمان بھی اس بات سے باخبر ہو گئے تھے تو زیادہ تعجب کی بات نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ـــــــــ جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں ــــــــــ سلیمان کی حکومت غیرمعمولی اور معجزانہ امور پرمشتمل نھی اسی بناء بعض مفسرین نے اپنے نظریے کا اس طرح اظہار کیا ہے کہ سلیمان علیہ اسلام کے دورحکومت میں بعض جانوروں اس آگاہی کا پایا جانا ایک اعجاز اورخارق عادت بات تھی لہذا اگر دوسرے ادوار میں اس قسم کی باتیں جانوروں میں نہیں ہیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ ان کی قسم کی گفتگو کا مقصد یہ ہے کر ہمیں سلیمان اور چیونٹی یا سلیمان اور ہدہد کی داستان کو کنایہ مجاز یا زبان حال وغيرہ پر محمول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس امر کی حفاظت اور حقیقی معنی محمول کرنے کا امکان بھی موجودہ ہے۔ ؎
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 27:17-19
3- حضرت سلیمان اور عمل صالح
3- حضرت سلیمان اور عمل صالح:- یہ بات بھی باعث دلچسپی ہے کہ اور باوجود یکہ حضرت سلیمان علیہ اسلام کے پاس اس قدر بے نظیر طاقت اور حکومت تھی لیکن انھوں نے خدا سے سوال کیا کہ آپ کو ہیمشہ شکرادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس سے بڑھ کر کہ ان کا خدا کے نیک بندوں میں شمار ہو۔ اس درختواست سے واضح ہوتا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے اقتدار حاصل کرنے کا مقصد اعمال صالح کی بجا آوری ہے اور باوقار عمل . اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ ان اعمال کی بجا آوری کے لیے مقدمہ ہیں۔ اعمال صالح بھی خدا کی رضا و خوشنودی کے حصول کا مقدمہ میں جو منتہائے مقصود اورسب غایتوں کی آخری غایت ہے۔ دوسری بات بی کہ به صالح افراد کے زمرے میں شمولیت اعمال صالحہ کی ادائیں سے بھی بڑھ کر ان کی بلند درجہ ہے کیونکہ پہلا مرحلہ ذاتی درستی کا ہے اور دوسرا عمل کی درستی کا۔ (غور کیجئھے گا) ۔ دوسرے لفظوں میں بسا اوقات انسان اعمال صالح بجا لاتا ہے لیکن یہ اس کی ذات روح او روحودی رچ نہیں نہیں جاتے لہذا سلیمانؑ خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ انھیں اپنی عنایات میں اس حد تک شامل کردے کہ ان کا صلح ہونا ان کے اعمال سے بھی بڑھ جائے اور ان کی روح اور رگ وریشے میں رچ بس جائے اور یہ بات خدا کی رحمت کے بغیر قطعًا ناممکن ہے۔ سچ مچ خدا کا صالح بنده ہونا کس قدر قیمتی اور انمول عطیہ ہے کہ جناب سلیمان اس قدر جاہ و جلال ملک و سلطنت، حکومت و حشمت کے باوجود یہی درخواست کرتے ہیں کہ خداوندا عالم انھیں اپنی رحمت کے زیرسایہ اپنے خاص بندوں میں قرار دے اور ہر وقت ان میں ایسی لغزشوں سے محفوظ رکھے جو انسانوں سے سرزد ہوجاتی ہیں ، خاص کر بڑے منصب پر فائز لوگوں سے اور سربرہان حکومت سے ۔