فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
Then they pursued them at sunrise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 26:60
[Pooya/Ali Commentary 26:60] (see commentary for verse 10)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:60-68
سوره شعراء / آیه 60 - 68
۶۰۔ فَاٴَتْبَعُوہُمْ مُشْرِقِینَ ۔ ۶۱۔ فَلَمَّا تَرَائَی الْجَمْعَانِ قَالَ اٴَصْحَابُ مُوسَی إِنَّا لَمُدْرَکُونَ ۔ ۶۲۔ قَالَ کَلاَّ إِنَّ مَعِی رَبِّی سَیَھْدِینِی ۔ ۶۳۔فَاٴَوْحَیْنَا إِلَی مُوسَی اٴَنْ اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْبَحْرَ فَانفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیمِ ۔ ۶۴۔ وَاٴَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِینَ ۔ ۶۵۔ وَاٴَنْجَیْنَا مُوسَی وَمَنْ مَعَہُ اٴَجْمَعِینَ ۔ ۶۶۔ ثُمَّ اٴَغْرَقْنَا الْآخَرِینَ۔ ۶۷۔ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً وَمَا کَانَ اٴَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِین۔ ۶۸۔ وَإِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ ۔ ترجمہ ۶۰۔وہ(فرعون والے) بنی اسرائیل کے تعاقب میں چل پڑے اور طلوع ِ آفتاب کے وقت انھیں جالیا۔ ۶۱۔جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے ہم تو فرعونیوں کے چنگل میں پھنس گئے ۔ ۶۲۔(موسیٰ نے ) کہا ایسی کوئی بات نہیں بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے جو جلدی ہی میری راہنمائی کرے گا ۔ ۶۳۔اس کے بعد ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ تم اپنا عصا دریا پر مارو، دریا پھٹ گیا اور اس کا ہر ایک حصہ ایک عظیم پہاڑ کی مانند تھا ۔ ۶۴۔ اور وہاں پر ہم نے دوسرے لوگوں کو بھی دریا کے نزدیک کردیا۔ ۶۵۔ہم نے موسیٰ او رجو لو گ ان کے ساتھ تھے ( سب کو ) نجات بخشی ۔ ۶۶۔ پھر دوسروں کو ہم نے غرق کر دیا ۔ ۶۷۔ اس واقعے میں ( حق طلب افراد کے لئے ) واضح نشانی ہے ۔ لیکن ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے ۔ ۶۸۔اور تیرا پر وردگار عزیز اور رحیم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:60-68
فرعون والوں کا دردناک انجام
ان آخری آیات میں حضرت موسیٰ علیہ اسلام اور فرعون کی داستان کا آخری حصہ پیش کیا گیا ہے کہ فرعون اور فرعون والے کیونکر غرق ہوئے اور بنی اسرائیل نے کس طرح نجات پائی؟جیسا کہ ہم گزشتہ آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ فرعون نے اپنے کارندوں کو مصر کے مختلف شہروں میں بھیج دیا تاکہ وہ بڑی تعداد میں لشکر اور افرادی قوت جمع کر سکیں چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور بعض مفسرین کی تصریح کے مطابق فرعون نے چھ لاکھ کا لشکر مقدمة الجیش کی سورت میں بھیج دیا اور خود دس لاکھ کے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ ساری رات بری تیزی کے ساتھ چلتے رہے اور طلوع آفتاب کے ساتھ ہیں انھو نے موسیعلیہ اسلام کے لشکر کو جالیا چنانچہ اس سلسلے کی پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے ؛ فرعون والوں نے ان تعاقب کیا اور طلوعِ آفتاب کے وقت انھیں جالیا ( فَاٴَتْبَعُوہُمْ مُشْرِقِینَ )(1) ۔ جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ علیہ اسلام کے ساتھی کہنے لگے اب تو ہم فرعون والوں کے نرغے میں آگئے ہیں اور بچ نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی(فَلَمَّا تَرَائَی الْجَمْعَانِ قَالَ اٴَصْحَابُ مُوسَی إِنَّا لَمُدْرَکُونَ )۔ ہمارے سامنے دریا اور اس کی ٹھا ٹھیں مارتی موجیں ہیں ، ہمارے پیچھے خونخوار مسلح لشکر کا ٹھاتھیں مارتا سمندر ہے لشکر بھی ایسے لوگوں کا ہے جو ہم سے سخت ناراض اور غصے سے بھرے ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی خونخواری کا ثبوت ایک طویل عرصے تک ہمارے معصوم بچوں کو قتل کر کے دیا ہے اور خود فرعون بھی بہت بڑا مغرور، ظالم اور خونخوار شخص ہے لہٰذا وہ فوراً ہمارا محاصرہ کر کے ہمیں موت کے گھاٹ اتار دیں گے یا قیدی بنا کر تشدد کے ذریعے ہمیں واپس لے جائیں گے ۔ قرائن سے بھی ایسا ہی معلوم ہو رہا تھا ۔ اس مقام پر بنی اسرائیل پر کرب کی حالت طاری ہو گئی اور ان کا ایک ایک لمحہ کرب و اضطراب میں گزرنے لگا یہ لمحات ان کے لئے زبر دست تلخ تھے شاید بہت سے لوگوں کو ایمان بھی متزلزل ہو چکا تھا او ربڑی حد تک ان کے حوصلے پست ہو چکے تھے ۔ لیکن جناب موسیٰ علیہ اسلام علیہ السلام حسب سابق نہایت ہی مطمئن اور پر سکون تھے انھیں یقین تھا کہ بنی اسرائیل کی نجات اور سرکش فرعونیوں کی تباہی کے بارے میں خدا کا فیصلہ اٹل ہے اور وعدہ یقینی ہے ۔ لہٰذا انھوں نے مکمل اطمینان اور بھر پور اعتماد کے ساتھ بنی اسرائیل کی وحشت زدہ قوم کی طرف منہ کرکے کہا: ایسی کوئی بات نہیں وہ ہم پر کبھی غالب نہیں آسکیں گے کیونکہ میرا خدا میرے ساتھ ہے اور وہ بہت جلد ہی مجھے ہدایت کرے گا (قَالَ کَلاَّ إِنَّ مَعِی رَبِّی سَیَھْدِینِی )۔ ممکن ہے اس طرح کی تعبیر اس وعدہ کی طرف اشارہ ہو جو خدا وند ِعالم نے موسیٰ علیہ اسلام اور ہارون علیہ اسلام سے حکم ِ تبلیغ دیتے ہوئے کیا تھا :” اننی معکما اسمع و ارٰی “ میں ہر جگہ پر تم دونوں کے ساتھ ہوں ، میں سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں (طٰہٰ ۴۶)۔ موسیٰ علیہ السلام کو علم تھا کہ خداہر جگہ ان کے ساتھ ہے خا ص کر ” رب“( یعنی خدا وند مالک و مصلح) کے نام پر بھروسہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ جو بھی راستہ طے کر رہے ہیں اپنے پاوٴں کے ساتھ چل کر نہیں بلکہ خدا وند قادر و مہر بان کے لطف و کرم کے ساتھ طے کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر شاید بعض لوگوں نے موسیٰ علیہ اسلام کی باتوں کو سن لیا لیکن انھیں پھر بھی یقین نہیں آرہا تھا اور وہ اسی طرح زندگی کے آخری لمحات کے انتظار میں تھے کہ خدا کا آخری حکم صادر ہو ا، قرآن کہتا ہے : ہم نے فورا ً موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے عصا کو دریا پر مارو(فَاٴَوْحَیْنَا إِلَی مُوسَی اٴَنْ اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْبَحْرَ )۔ وہی عصا جو ایک دن تو ڈرانے کی علامت تھا اور آج رحمت و نجات کی نشانی۔ موسیٰ علیہ اسلام نے تعمیل حکم کی اور عصاکو فورا ً زمین پر دے مارا تو اچانک ایک عجیب و غریب منظر دیکھنے میں آیا جس سے بنی اسرائیل کی آنکھیں چمک اٹھیں اور انکے دلوں میں مسر ت کی ایک لہر دوڑ گئی ، ناگہانی طور پر دریا پھٹ گیا ، پانی کے کئی ٹکڑے بن گئے اور ہر ٹکڑا ایک عظیم پہاڑ کی مانند بن گیا اور ان کے درمیان میں راستے بن گئے (فَانفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیمِ )۔ ”انفلق “ ”فلق“(بر وزن”فرق“) کے مادہ سے ہے جس کا معنیٰ ہے پھٹ جانا اور ”فِرق“ کے درمیان یہ فرق ہے کہ پہلا لفظ پھٹ جانے کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا جدا ہونے کی طرف ۔ لہٰذا فرقہ اور فرق اس ٹولے یا گروہ کو کہتے ہیں جو باقیوں سے جدا ہو جائے ۔ ”طود“ کا معنیٰ بہت بڑا پہاڑہے اور آیت ِ زیر بحث میں ”طود“ کی صفت کا ” عظیم“ ہو نا اس معنیٰ کی تاکید پر دلالت کرتا ہے ۔ بہر حال جس کا فرمان ہر چیز پر جاری اور نافذ ہے کہ اگر پانی میں طغیانی آتی ہے تو اس کے حکم سے اور اگر طوفان میں حرکت آتی ہے تو اس کے امر سے ، وہ خدا کہ : نقش ِ ہستی از ایوان اوست آب و بادو خاک سر گردان اوست اسی نے دریا کی موجوں کو حکم دیا اور مواجِ دریا نے اس حکم کو فوراً قبول کیا اور ایک دوسرے پر جمع ہو گئیں اور ان کے درمیان کئی راستے بن گئے اور بنی اسرائیل کے ہر گروہ نے ایک ایک راستہ اختیار کرلیا۔ فرعون اور اس کے ساتھ یہ منظر دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے، اس قدر واضح اور آشکار معجزہ دیکھنے کے باوجود تکبر اور غرور کی سواری سے نہیں اترے انھوں نے موسیٰ علیہ اسلام اور بنی اسرائیل کا تعاقب جاری رکھا اور اپنے آخری انجام کی طرف آگے بڑھتے رہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے : اور وہاں پر دوسرے لوگوں کو بھی ہم نے دریا کے نزدیک کردیا( وَاٴَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِینَ )۔ اس طرح سے فرعونی لشکر بھی دریائی راستوں پر چل پڑے اور وہ لوگ اپنے ان پرانے غلاموں کے پیچھے دوڑتے رہے جنھوں نے اب ا س غلامی کی زنجیریں توڑدی تھیں لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کی زندگی کے آخری لمحات ہیں اور ابھی ابھی عذاب کا حکم جاری ہونے والا ہے ۔ بعد والی آیت کہتی ہے : ہم نے موسیٰ اور ان تمام لوگوں کو نجات دی جو ان کے ساتھ تھے ( وَاٴَنْجَیْنَا مُوسَی وَمَنْ مَعَہُ اٴَجْمَعِینَ )۔ ٹھیک اس وقت جب بنی اسرائیل کا آخری فرد دریا سے نکل رہا تھا اور فرعونی لشکر کا آخری فرد اس میں داخل ہو رہا تھا ہم نے پانی کو حکم دیا کہ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آ۔ اچانک موجیں ٹھاٹھیں مارنے لگیں اور فرعون اس کے لشکر کو گھاس پھونس اور تنکوں کی طرح بہاکر لے گئیں اور صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان تک مٹا دیا ۔ قرآن نے ایک مختصر سی عبارت کے ساتھ یہ ماجرا یوں بیان کیا ہے :پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا ( ثُمَّ اٴَغْرَقْنَا الْآخَرِینَ)۔ تو اس طرح سے سب کچھ ایک لمحے میں ختم ہو گیا قیدی غلام آزاد ہو گئے ۔ مغرور ظالم لوگ پھنس کر تباہ و بر باد ہو گئے ۔تاریخ کا ورق الٹ گیا ۔ چکا چوند کرنے والا تمدن صفحہٴ عالم سے حرفِ غلط کی طرح مٹ گیاوہی تمدن جس کی بنیاد مستضعف لوگوں کے گھروں کو اجاڑ کر رکھی گئی تھی ،مستکبرین کا دور ختم ہو گیا اور مستتضعفین عالم ان کی املاک اور حکومت کے وارث بن گئے ۔ تو جناب ” اس واقعے میں روشن نشانی اورعبرت کا درسِ عظیم ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے “ گویا ان کی آنکھیں، کان بہرے اور دل خواب غفلت مین سوئے ہوئے ہیں ( إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً وَمَا کَانَ اٴَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِین)۔ جہان فرعون اور فرعون کے ساتھی یہ عجیب و غریب منظر دیکھ کر ایمان نہیں لائے تو آپ بھی(اے پیغمبر !)اس مشرک قوم پر تعجب نہ کریں اور ان کے ایمان نہ لانے پر پریشان نہ ہو ں کیونکہ اس قسم کے بہت سے مناظر تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں۔ ”اکثر“ کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فرعون کی قوم سے کچھ لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دین قبول کرلیا تھا اور ان کے ساتھیوں میں شامل ہو گئے تھے ، نہ صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور موسیٰ علیہ اسلام کے با وفا دوست جسے قرآن نے ” مومن آلِ فرعون “ کے عنوان سے یاد کیا ہے بلکہ جادو گر وں کی طرح بہت سے لوگ بھی توبہ کرکے حضرت موسیٰ علیہ اسلام سے آملے تھے ۔ اس سلسلے کی آخری آیت ایک مختصر لیکن معنی سے بھر پور جملے میں خدا کی بے پناہ قدرت اور رحمت کی طرف اشارہ کر کے کہتی ہے :تمہارا پر وردگار عزیز بھی ہے اور رحیم بھی ( وَإِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ )۔ یہ اس کی ”عزت“ ( غلبے) کا کرشمہ ہی تو ہے کہ جب چاہے باغی اور منحرف قوموں کی نابودی کا حکم صادر کردیتا ہے اور کسی ظالم و جابر قوم کی تباہی کے لئے اسے اس بات کی ضرورت نہیں کہ آسمان سے فرشتوں کے لشکرنازل کرے بلکہ جو پانی اس قوم کی زندگی کا سر مایہ ہوتا ہے اسے انہی لوگوں کی موت کاحکم دیتا ہے اور جو دریائے نیل فرعون اور اس کی قوم کا سرمایہ قدرت اور سبب ِ ثروت ہو وہی ان کا قبر ستان بن جاتا ہے ۔ اس کی رحمت یہ ہے کہ وہ ایسے کام میں ہر گز جلدی نہیں کرتا بلکہ کئی کئی سال تک ڈھیل دیتا ہے معجزے دکھاتا اور اتمام حجت کرتا اور یہ بھی اس کی رحمت ہےکہ اس قسم کی ستم رسیدہ قوم کو اس طرح کے خود سر اور سرکش حکمرانوں کی غلامی سے نجات بخشتا ہے ۔ 1۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ ” مشرقین “ سے مراد بنی اسرائیل کا مشرق کی جانب سفرتھا اور فرعون کا لشکر بھی اسی سمت چلتا رہا کیونکہ ”بیت المقدس“ کی سر زمین مصر سے مشرق کی طرف ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:60-68
۱۔ بنی اسرائیل کی گذرگاہ
قرآن مجید میں بار ہا اس بات کو دہرایا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے خدا کے حکم سے بنی اسرائیل کو ”بحر“ عبور کر وایا(1) ۔ اور چند مقامات پر ”یم“ کا لفظ بھی آیا ہے(2) ۔ اب یہ سوال کہ یہاں پر ”بحر“ اور ”یم“ سے کیا مراد ہے آیا یہ نیل (Nile River)جیسے وسیع و عریض دریا کی طرف اشارہ ہے کہ سر زمین مصر کی تمام آبادی جس سے سیراب ہو تی تھی یا بحیرہ احمر یعنی بحر قلزم (Red Sea)کی طرف اشارہ ہے ۔ موجودہ تورات اور بعض مفسرین کے انداز گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بحیرہ احمر کی طرف اشارہ ہے لیکن ایسے قرائن موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد نیل کا عظیم و وسیع دریا ہے کیونکہ لغت میں جیسا کہ راغب مفردات میں کہتے ہیں :”بحر “ در اصل بہت زیادہ اور وسیع پانی کو کہتے ہیں اور ”یم“ بھی اسی معنیٰ میں آتا ہے بنابرین ان دونوں کلمات کا دریائے نیل پر اطلاق بالکل صحیح ہے ۔ رہے وہ قرائن جو اس نظر ئے کی تائید کرتے ہیں تو وہ مندرجہ ذیل ہیں : ۱۔ فراعنہ مصر کا محل ِ سکونت جو مصر کے آباد شہروں کا مرکز تھا یقینا ایسے مرکزی مقام پر ہو گا جو دریائے نیل سے زیادہ دور نہیں ہوگا ۔ اگر موجودہ اہرام اور اس کے اطراف کو معیار قرار دیں تو بنی اسرائیل مجبور تھے کہ سر زمین مقدس تک پہنچنے کے لئے پہلے دریائے نیل کو عبور کریں کیونکہ یہ علاقہ دریائے نیل کے مغرب میں واقع ہے اور انھیں مقدس سر زمین تک پہنچنے کے لئے مشرق کی طرف جانا چاہیئے تھا ۔( غورکیجئے گا) ۲۔ دریائے نیل کے نزدیک آیاد علاقے بحیرہ احمر سے اس قدر دور ہیں کہ بنی اسرائیل اسے ایک شب یا نصف شب میں طے نہیں کر سکتے تھے ( جبکہ گزشتہ آیا ت سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بنی اسرائیل نے فراعنہ مصر کی سر زمین کو راتوں رات ترک کیا اور قاعدةً رات کے وقت ہی یہ کام انجام پانا چاہیئے تھااور فرعونی لشکر بھی صبح صبح طلوعِ آفتاب کے وقت پہنچ گیا )۔ ۳۔ سر زمین مصر کو عبور کرنے اور سر زمین مقدس تک پہنچنے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ بحیرہ احمر کو عبور کریں کیونکہ نہر سویز کی کھدائی سے پہلے وہاں پر خشکی کا ایک راستہ موجود تھا مگر یہ کہ اس مفروضہ کو تسلیم کرلیں کہ ہزار ہا سال قبل بحیرہٴ احمر (Red Sea)کا بحیرہ روم(Mediterranean)سے براہ راست اتصال تھا اور خشکی کا کوئی راستہ موجود نہین تھا لیکن اس طرح کا کوئی مفروضہ کسی بھی صورت میں ثابت نہیں ہے ۔ ۴۔ قرآن نے عصائے موسیٰ کے پانی میں ڈالنے کی داستان میں ”یم“ کا لفظ استعمال کیا ہے ( سورہ طٰہٰ ۳۹) اور جیسا کہ ہم پہلے تبا چکے ہیں فرعون والی کی غرقابی کے موقع پر بی لفظ ”یم“ استعمال کیا گیا ہے اور پھر یہ کہ دونوں واقعات ایک ہی داستان بلکہ ایک ہی سورہ(طٰہٰ) میں ہیں اور دونوں مطلق طور پر منقول ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ دونوں کا معنی ایک ہے اور پھر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی کہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے انھیں سمندر میں نہیں ڈالا تھا بلکہ تاریخی شواہد اور قرائن کے مطابق انھیں دریائے نیل کی موجود کے سپرد کیا تھا لہٰذ امعلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور اس کا لشکر دریائے نیل میں غرق ہو ئے تھے ( غور کیجئے گا ) 1۔ سورہ یونس /۹۰۔ سورہ طٰہٰ/۷۷۔ سورہ ٴ شعراء /۶۳( یہی آیت) اورسورہ دخان /۲۴۔ 2۔ سورہ طٰہٰ/۷۸۔ سورہ قصص/۴۰۔اور سورہ ذاریات/۴۰۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:60-68
۲۔ بنی اسرائیل کی نجات اور فرعونیوں کی غرقابی
بعض مفسرین جو معجزات کو تسلیم کرنا نہیں چاہتے اور اس بات مصر ہیں کہ گزشتہ آیات میں مذکوفرعون والوں کی گرقابی اور بنی اسرائیل کی نجات کے واقعے کی اس طرح توجیہ کریں جو عام طبیعی اسباب سے ہم آہنگ ہو۔ لہٰذا کبھی تو وہ کہتے ہیں کہ اس واقعے کو چلتے پھرتے اور متحرک پل سے مطابقت دی جائے جس کا آج بھی رواج ہے (1) ۔ (کہ ہنگامی طورپر عبور کرنے کے لئے متحرک پل سے استفادہ کرتے ہیں )۔ بعض دوسروں نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام راستوں سے واقف تھے اور دریائے ”سوف“(خلیج سویز)میں موجود درمیانی راستوں کو اچھی طرح سمجھتے تھے لہٰذا وہاں سے گذر کر ”جزیرہٴ سینا “ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور آیات ”انفلاق بحر“ سے اسی چیز کی طرف اشارہ ہے(2) ۔ کچھ اور مفسرین نے شاید اس احتمال کو تقویت دی ہے اور کہا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سمندر کے کنارے اس وقت پہنچے جب سمندر کا ”جزیرہ “ ختم ہوگیا تھا اور خشکی ظاہر ہو چکی تھی وہاں سے با آسانی گزرنے میں کامیاب ہو گئے جو نہی وہ گزر گئے اور فرعونی قافلہ اس میں اترا تو ”مد“ شروع ہو گیا جس کی وجہ سے وہ سمندر کی موجوں میں گھر کر ہلاک ہو گیا۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ ان احتما لات میں سے کوئی بھی قرآنی آیات کے ظاہری مفہوم ( اگر صریحی نہ بھی کہیں ) سے ہم آہمنگ نہیں ہے لیکن اگر معجزے کے مسئلہ کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر اس قسم کی توجیہات کی ضرورت پیش نہ آئے ۔معجزے کا مسئلہ انبیاء کے تفصیلی حالات میں با رہا آچکا ہے خا ص کر اس داستان میں بھی عصا کے معجزے کا تذکرہ موجود ہے ۔ اگر ہم یہ بات مان لیں تو کیا حرج ہے کہ عصا کے لگنے سے خدا کے حکم کے مطابق دریائے نیل کا پانی کئی حصوں میں بٹ گیا اور پھر اکٹھا ہو گیا کیونکہ کائنات میں خدا وند عالم ہی تو قانون ِ علت و معلوم پر حاکم ہے ۔ ہوسکتا ہے پانی کی یہ تقسیم کسی مخفی کشش کے تحت ہوئی ہو اور تھوڑے ہی عرصے بعد یہ کشش ختم ہو گئی ہو اور تمام پانی اپنی طبیعی حالت پر واپس آگیا ہو اس قسم کا استثناء قانون علت و معلوم میں نہیں ہے بلکہ غیر معمولی علتوں کی تاثیر کا اعتراف کرناپڑے گا جو ہماری محدود معلوما ت کی وجہ سے ہماری پہچان سے باہر ہے ۔ 1۔علام القرآن ص ۲۶۶۔ 2۔علام القرآن ص ۲۶۶۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:60-68
۳۔ قدرت کے باوجود رحیم ہے
یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اس سلسلے کی آخری آیت جو موسیٰ علیہ اسلام اور فرعون کے مجموعی کاموں اور لشکر حق کی فتح اور لشکر باطل کی شکست اور تباہی کے نتیجے کے طور پر ہے ، خدا وند عالم کی دو صفات بیان کر رہی ہے ایک ”عزت“ اور دوسری ” رحمت“ پہلی صفت اس کی قدرت کے ناقابل تسخیر ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری اپنے بندوں پر اس کی رحمت کی وسعت کا پتہ دیتی ہے اور پھر ”عزیز“ کو ”رحیم“ پر مقدم کرکے یہ بتا یا جارہا ہے کہ لوگ یہ خیال نہ کریں کہ یہ رحمت اس کی کمزوری کی وجہ سے ہے ، نہ ! نہ ! بلکہ وہ قدرت رکھنے کے باوجود رحیم ہے ۔ البتہ بعض مفسرین کا یہ نظر یہ ہے کہ اس کی عزت سے توصیف اس کے دشمنوں کی شکست کی طرف اور رحمت سے توصیف اس کے دوستوں کی فتح کی جانب اشارہ ہے اور اگر دونوں صفات دونوں گروہوں کے لئے ہوں تو بھی کوئی ہرج کی بات نہیں کیونکہ گناہگار وں سمیت سب اس کی رحمت سے بہرہ ور ہو رہے ہیں اور نیک لوگوں سمیت سب اس کے جاہ و جلال اور سطوت اور دبدبے سے خوف کھاتے نظر آتے ہیں ۔