فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ
So do not invoke any god besides Allah, lest you should be among the punished.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 26:213
[Pooya/Ali Commentary 26:213]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:213-220
سوره شعراء / آیه 213 - 220
(213) فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّـٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَكُـوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِيْنَ (214) وَاَنْذِرْ عَشِيْـرَتَكَ الْاَقْـرَبِيْـنَ (215) وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (216) فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّـىٓ بَرِيٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ (217) وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيْزِ الرَّحِيْـمِ (218) اَلَّـذِىْ يَرَاكَ حِيْنَ تَقُوْمُ (219) وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّاجِدِيْنَ (220) اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْـمُ ترجمہ (213) خدا کے ساتھ کسی اور کو معبودمت پکارو ورنہ عذاب پانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔ (214) اپنے قریبی شتہ داروں کو ڈراؤ۔ (215) اپنے بازو ان مومنین کےلیے جھکادو جو تمھاری پیروی کرتے ہیں۔ (216) اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں اس کام سے بیزار ہوں جوتم کرتے ہو۔ (217) اور خداوند عزیز و رحیم پر توکل کرو۔ (218) وہی جو تمھیں اس وقت دیکھتا ہے جب (عبادت کے لیے) کھڑے ہوتے ہو ۔ (219) اور سجدہ گزاروں میں تمھاری نقل وحرکت کو دیکھتا ہے۔ (220) وہی خدا سننے اور جاننے والا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:213-220
قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت
تفسیر قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت خداوند عالم نے گزشتہ آیات میں اسلام اور قرآن کے بارے میں مشرکین کے موقف کو بیان کرنے کے بعد زیر نظر آیات میں اپنے پیغمبر کو ان مشرکین کے سامنے اپنی واضح کردینے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ اس ضمن میں پانچ امور کی نشاندہی کی گئی ہے۔ خداوند عالم سب سے پہلے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو توحید پر عقیدہ راسخ کرنے کی دعوت دیتا ہے کیونکہ توحید ہی تمام انبیاء کی دعوت کا بنیادی عنصر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : خدا کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو مت پکارو ، ورنہ سزا پاؤگے (فلاتدع و مع الله الها أخر فتكون من المعذبين)۔ اس میں ذرہ برابر شک نہیں ہے کہ پیغمبراسلام صلی الله علیه واله وسلم علمبردار توحید تھے اور آپ کے بارے میں اس عقیدے سے انحراف کا تو تصور نہیں کیا جاسکتا لیکن مسئلہ اس قدر اہم ہے سب سے پہلے آپ ہی کی ذات کو مخاطب کیا گیا ہے تاکہ دوسرے لوگ اپنا حساب خود کرلیں دوسرا مقصد یہ ہے کہ دوسروں کی تربیت کا آغاز خودسازی سے کیا جائے۔ پھراس سے بھی بڑھ کر ایک اور مرحلے کا حکم دیاگیا ہے : اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤڈ اور شرک اورحکم الٰہی کی نافرماني سے خوف دلاؤ ( وانذر عشيرتك الاقربين) ۔ ؎1 اس میں شک نہیں کہ کسی وسیع انقلابی پروگرام کو سب سے پہلے ایک محدود اور مختصرحلقوں سے شروع کیا جاتا ہے اور کیا ہی بہتر ہو کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی دعوت کا آغاز اپنے قریبی رشتہ داروں سے کریں کیونکہ ایک تو وہ آپ کے پاکیزہ ماضی کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں اور دوسرے قریبی رشتہ داری کی محبت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یہی لوگ دوسروں سے زیادہ آپ کی باتوں کو سنیں اس لیے کہ قریبی رشتے دار عمومًا دوسروں کی نسبت حسد ، کینہ اور دشمنی سے دور ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پیغمبر اکرام کسی سے نہ تو سودے بازی کرتے ہیں اور نہ ہی دوغلی پالیسی اپناتے ہیں بلکہ اپنے قریبی رشتہ داروں تک کو توحید ، حق اور عدالت کی دعوت سے مستثنٰی نہیں فرماتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اسلام کے اس عظیم پیغمبر نے اس پرعمل درآمد کے لیے ایک منصوبہ بنایا جس کی تفصیل انشاء الله آپ نکات کے ذیل میں پڑھیں گئے۔ تیسرے مرحلے میں دائرہ تبلیغ اور وسیع ہوتا ہے ، حکم ہوتاہے : جومومنین تمھاری اتباع کرتے ہیں (ان کا محبت اور تواضع کے ساتھ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "عشيرة" "عشرة" (دس کا عدد) سے مشتق ہے اور چوںکہ دس کا عدد اپنی حد تک ایک مکمل عدد سمجھا جاتا ہے، اسی لیے قریبی رشت دروں "عشيره " کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے ذریعے انسان کا ایکی مکمل گروپ بنتا ہے ۔ ممکن ہے کہ "معاشرت" کا مادہ بھی اسی معنی سے لیا گیا ہوکیونکہ معاشرت ہی سےانسانوں کو ایک کامل مجموعہ تشکیل پاتا ہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- استقبال کرو اور اپنے بال و پر ان کے لیے جھکا دو (واخفض جناحك لمن اتبعك من المؤمنين)۔ یہ عمدہ تعبیرایسی تواضع کے لیے کنایہ ہے جس میں مہر و محبت اور نرمی پائی جائے جیسا کہ پرندے جب اپنے بچوں سے محتب کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اپنے بال و پرکھول کر نیچے لے جاتے ہیں اور اپنے بچوں کو ان کے اندر لے لیتے ہیں تاکہ ایک تو وہ درپیش احتمالی خطرے سے بچ جائیں دوسرے انتشار اور افتراق کا شکار نہ ہوں اسی طرح پیغمبر اسلامؐ کو بھی حکم ہے کہ وہ سچے مومنین کو اپنے پروں کے نیچے لے لیں۔ معنی خیز تعبیر مومنین کے ساتھ محبت کے مختف اہم پہلوؤں کو بیان کر رہی ہے جس میں اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو سب کچھ واضح ہوجاتا ہے۔ ضمنی طور پر بھی بتاتے چلیں کہ ڈرانے اور خوف دلانے کے حکم کے فورًا بعد اس جملے کا ذکر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اگر تربیتی مسائل بیان کرنے کے لیے کہیں سختی سے کام لینے کا حکم دیاگیا ہے تو فورًا ہی مہر و محبت اور نرمی سے کام لینے کا امر بھی کر دیا گیا ہے تاکہ ان دونوں کو ملاکر مناسب نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔ پھر چوتھاحکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اگر وہ تمھاری دعوت قبول نہ کریں اور مخالفت پر کمر بستہ ہوجائیں تو تم گھبراؤ نہیں بلکہ ان سے کہہ دو کہ میں تمھارے طرز عمل سے بیزار ہوں "۔ اس طرح سے اپنا لائحہ عمل ان پر واضح کردو (فان عصوك فقل اني بریء مما تعملون)۔ ظاہر یہ ہے کہ "عصوک" میں جوضمیر ہے وہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیکی رشتہ داروں کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی آپ کی دعوت الی الحق کے بعد بھی انھوں نے آپ کا حکم نہ مانا اوراپنی مخالفت کو جاری رکھا تو آپ بھی ان کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کردیں ۔ قرآن کی یہ پیش گوئی بھی پوری ہو کر رہی - نکات کے ذیل میں اس تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی چناچہ علی علیہ السلام کے سوا سب لوگوں نے آخرت کی یہ دعوت مسترد کر دی کچھ لوگوں نے تو خاموشی اختیار کرلی اور کچی نے تمسخراڑا کر اپنی مخالفت اظہار کیا۔ آخر کار مذکورہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنے پیغمبرؐ کو الله تعالی پانچواں حکم دیتا ہے : اور خداوند عزیزورحیم پر توکل کرو (وتوکل علی العزیز الرحیم)۔ اس طرح کی مخالفتوں سے قطعًا نہ گبھرؤ ، دوستوں اور پیروکاروں کی قلت کی بناء پر اپنے آہنی عزائم پر کار بند رہو تم اکیلے نہیں ہو تمھاری پناہ گا ذات خداوند عالم ہے جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا اور وہ بے حد رحیم ومهربان ہے۔ وہی خداوند جہاں جس کے عزیز و رحیم ہونے کی توصیف کی گئی ہے۔ وہی خدا جس نے اپنی عظیم قدرت سے فرعون اوراہل فرعون کے ظلم ، نمرود اور اس کے حواریوں کے غرور ، قوم نوح کے تکبر اورخود خواہی ، قوم عاد کی دنیا پرستی اور قوم لوط کی ہوس پرستی کو خاک میں ملادیا اور ان عظیم انبیاء اور مومنین کو نجات دلائی اور اپنی رحمت کاملہ میں شامل فرمایا جو اقلیت میں تھے۔ وہی خدا جوتجھے حالت قیام میں بھی دیکھتا ہے (الذي يراك حين تقوم)۔ اور سجدہ گزاروں میں بھی تمھاری نقل وحرکت کوملاحطہ کرتاہے (وتقلبک في الساجدین)۔ جی ہاں! وہی تو ہے سننے اور دیکھنے والا ( انه هو السميع العليم)۔ اس طرح سے خداوندعالم کی عزیز اور رحیم کی صفات کے علاوہ تین اور صفات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن سے دلوں کومزید تقویت ملتی ہے اور پہلے سے زیادہ ڈھارس بندھ جاتی ہے اور وہ یہ کہ اللہ اپنے رسول کی تکالیف کو دیکھ رہا ہے اوران کے قیام ، سجدے اور حرکت اور سکون سے پوری طرح باخبر ہے۔ آپ کی آواز کو سنتا ہے۔ اورآپ کی ضروریات سے آگاہ ہے۔ اسی لیے ایسے خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اپنی تمام کام اسی کے سپرد کر دینا چاہییں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:213-220
1- "تقلب في الساجدين" کی تفسی
چند اہم نکات 1- "تقلب في الساجدين" کی تفسیر:- "الذي يراك حين تقوم" "و تقلب في الساجدین" سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین نے ان دو جملوں کی مختلف تفسیر کی ہے. آیات کا ظاہری مفہوم تو وہی ہے جو ہم اوپر بیان کرآئے ہیں کہ: جب آپ قیام کرتے ہیں تب بھی آپ کوخداوندعالم دیکھتا ہے اور جب آپ سجدہ کرنے والوں میں نقل و حرکت کرتے ہیں تب بھی وہ آپ کو دیکھتا ہے۔ ممکن ہے قیام نماز کے لیے ہو یا عبادت کے واسطے نیند سے بیدار ہونا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کا قیام "فرادیٰ نماز" کے لیے ہو جبکہ ممکن ہے" تقلبك في الساجدین" نماز باجماعت کی طرف اشارہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورہ سب قیام مراد ہوں ۔ "تقلب" کا معنی چلنا پھرنا ، حرکت کرنا اور ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تعبیر آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اس سجدے کی طرف اشارہ ہو جو آپ دوسرے نمازیوں کے ساتھ بجا لاتے تھے ۔ یہ بھی ممکن ہے کے آپ کے اس چلنے پھرنے کی طرف اشارہ ہو جب آپ اپنے نمازی ساتھیوں کا حال معلوم کرنے کے لیے ان کی عبادت کی حالت میں چلتے پھرتے تھے۔ بہر صورت مجموعی طور پر یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کے حالات میں سے کوئی حالت اور آپ کی کوششوں میں سے کوئی کوشش خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی جس سے آپ ، لوگوں کے حالات سدھارتے اور دین حق کی نشرواشاعت فرماتے ہیں ، سب سے خداوند عالم آگاہ ہے (توجہ رہے کہ اس آیت میں آنے والے سب افعال کا تعلق مضارع سے ہے جو حال اور مستقبل کا معنی دیتے ہیں)۔ لیکن یہاں پر دو اور تفسیریں بھی ہیں جو آیت کے ظاہر سے توہم آہنگ نہیں ہیں لیکن ہوسکتا ہے اس کی باطنی تفسیریں ہوں۔ پہلی یہ کہ نماز میں آنحضرتؐ کی نگاہیں جو کہ پس پشت سے ان پر پڑتی تھیں اس طرح تھیں کہ جس طرح آپ سامنے کی چیزوں کو دیکھ سکتے تھے پس پشت بھی اسی طرح چیزوں کو دیکھ سکتے تھے جیسا کہ ایک حدیث میں آپؐ ارشاد فرماتے ہیں: لاترفعوا قبلي ولا تضعوا قبلي ، ھنانی اراکم من خلقی کما او اکم من امامی نہ تو مجھ سے پہلے سجدہ سے سراٹھا اور نہ ہی مجھ سے پہلےسجدہ میں سر رکھو کیونکہ میں تمھیں پس پیشت بھی ویسا ہی دیکھتا ہوں جیسا کہ سامنے سے دیکھتا ہو۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے شاہد کے طور پر مندرجہ بالا آیت کی تلاوت فرمائی ۔ ؎1 دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد آنحضرت کا جناب آدمؑ نے جناب عبداللہ تک پاک و پاکیزہ انبیاء کی صلبوں میں منتقل ہونا ہے جو پروردگار عالم کی نظر کرم کے تحت انجام پایا یعنی جب بھی آپ کا پاکیزہ نور ایک ساجد اور توحید پرست پیغمبر سے دوسرے موحد اور سجدہ گزار نبی میں منتقل ہوتا خدا اس سے آگاہ تھا۔ تفسیرعلی بن ابراہیم میں ہے کہ حضرت امام محمد باقرؑ نے" و تقلبك في الساجدین" کی تفسیر میں ارشاد فرمایا : في اصلاب النبیین صلوات الله عليهم انبیاء کی صلبوں میں خدا کی ان پر رحمت هو۔ ؎2 تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیهما السلام نے اس جملے کی وضاحت ان الفاظ میں فرمائی ہے: في اصلاب النبيين نبی بعد نبی ، حتى اخرجه من صلب ابيه عن نکاح غیر سفاح من لدن آدم انبیاء کی صلبوں میں رکھا ، ایک پیغمبر سے دوسرے پیغمبر کی صلب ہیں ، یہاں تک کہ خداوندعالم نے آپ کو آپ کے باپ کی صلب سے باہر نکالا ، پاکیزہ نکاح کے ساتھ اور ہر طرح کی ناپاکی اور الائشوں سے دور رکھا۔ ؎3 البتہ آیت بالا اور ان کی تفسیر سے قطع نظر ہمارے پاس ایسے دلائل بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کے آباؤاجداد کبھی مشرک نہیں تھے اور ان کی ولادت ہرقسم کے شرک و برائی سے پاک اور نہایت ہی مقدس ماحول میں ہوئی ہے (مزید ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر مجمع البیان ، اسی آیت کے ذیل میں۔ ؎2 تفسير نورالثقلین جلد 4 ص 69۔ ؎3 تفسير مجمع البیان ، اسی آیت کے ذیل میں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- تفصیل کے لیے تفسیرنمونہ کی جلد 5 میں سورۃ انعام کی آیت 74 کی تفسیر ملاحظہ فرائیں)۔ مندرجہ بالاتفسیریں آیت کی باطنی تفسیریں ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:213-220
2- دعوت ذوالعشیره
2- دعوت ذوالعشیره : تاریخ اسلام کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بعثت کے تیسرے سال اس دعوت کاحکم ہوا کیونکہ اب تک آپ کی دعوت مخفی طور پر جاری تھی اور اس مدت میں بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیاتھا لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی" وانذر عشيرتك الاقربین" اور یہ آیت بھی "فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشركين " (سورہ الحجر آیہ 94) تو آپ کھلم کھلا دعوت دینے پر مامور ہوگئے ۔ اس کی ابتداء اپنے قریبی رشتہ داروں سے کرنے کا حکم ہو ۔ ؎1 اس دعوت و تبلیغ کی اجمالی کیفیت کچھ اس طرح سے ہے : آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو جناب ابوطالب کے گھرمیں دعوت دی اس میں تقریبًا چالیس افراد شریک ہوئے آپ کے چچاؤں میں سے ابوطالب، حمزہ اور ابولہب نے بھی شرکت کی ۔ کھانا کھا لینے کے بعد جب آنحضرت نے اپنا فریضہ اداکرنے کا ارادہ کیا تو ابولہب نے بڑھ کچھ ایسی باتیں کیں جس سارا مجمع منتشر ہوگیا لہذا آپ نے انہیں کل کے کھانے کی دعوت دے دی۔ دوسرے دن کھانا کھانے کے بعد آپ نے انھیں فرمایا : "اے عبدالمطلب کے بیٹو! پورے عرب میں مجھے کوئی ایسا شخص دکھائی نہیں دیتا جواپنی قوم کے لیے مجھ سے بہتر چیز لایا ہو ، میں تمھارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کرآیاہوں اورخدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمھیں اس دین کی دعوت دوں ، تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میرا ہاتھ بٹاۓ تاکہ وہ میرا بھائی ، میروصی اور میرا جانشین ہو"؟ سب لوگ خاموش رہے سوائے علی بن ابی طالب کے جوسب سے کم سن تھے۔ علی اٹھے اور عرض کی : "اے اللہ کے رسول! اس راہ میں میں آپ کا یارو مددگارہوں گا"۔ آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ علی کی گردن پر رکھا اور فرمایا: ان هذا اخي ووصي و خليفتي فيكم فاسمعوا له و اطیعوه یہ (علی) تمھارے درمیان میرا بھائی میروصی اورجانشین ہے اس کی باتوں کو سنو اوراس کے فرمان کی اطاعت کرو ۔ یہ سن کر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور تمسخر آمیز مسکراہٹ ان کے لبوں پرتھی ،ابوطالب سے کہنے لگے "اب تم اپنے بیٹے کی ان باتوں کو سنا کرواوراس کے فرمان پرعمل کیا کرو"۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 سیرت ابن هشام جلد 1 ص 280۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ اس روایت کو بہت سے اہل سنت علماء نے نقل کیا ہے جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں: ابن ابی جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابونعیم ، بہیقی ، ثعلبی اور طبری - مؤرخ ابن اثیرنے پر واقع اپنی کتاب "کامل" میں اور "ابوالفداء" نے اپنی تاریخ میں اور دوسرے بہت سے مورخین نے اپنی اپنی کتابوں میں اسے درج کیا ہے ۔ ؎1 اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیه والہٖ وسلم ان دنوں کس حدتک تنہاتھے اور لوگ آپ کی دعوت کے جواب میں کیسے کیسے تمسخرآمیز جملے کہا کرتے تھے۔ اورعلی علیہ السلام ان ابتدائی ایام میں جبکہ آپ بالکل تنہا تھے کیونکر آنحضرتؐ کے مدافع بن کرآپ کے شانہ بشانہ چل رہے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس وقت قریش کے ہر قبیلے کا نام لے لے کر انہیں بلایا اور انھیں جہنم کے عذاب سے ڈرایا کبھی فرماتے: یابنی کعب انقذوا انفسكم من النار اے بنی کعب ! خود کو جہنم سے بچاؤ۔ کبھی فرماتے یابنی عبدالشمس ................... کبھی فرماتے یابنی عبدمناف .................... کبھی فرماتےيا نبي هاشم ........... کبھی فرماتے ۔ ی یابنی عبد المطلب ...... انقذوا انفسكم من النار تم خود اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ ، ورنہ کفر کی صورت میں تمھارا دفاع نہیں کرسکوں گا ۔ ؎2 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 مزید تفصیل کے لیے کتاب المراجعات ص 130 کے بعد اور کتاب احقاق الحق جلد 4 ص 96 کے بعد کا مطالعہ فرمائیں ۔ ؎2 تفسیرقرطبی جلد 7 ص 4859 اسی آیت کے ذیل میں (تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ)۔