قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُن مِّنَ الْوَاعِظِينَ
They said, ‘It is the same to us whether you exhort us or not.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 26:136
[Pooya/Ali Commentary 26:136] (see commentary for verse 123)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:136-140
سوره شعراء / آیه 136 - 140
۱۳۶ قَالُوا سَوَاءٌ عَلَیْنَا اٴَوَعَظْتَ اٴَمْ لَمْ تَکُنْ مِنْ الْوَاعِظِینَ ۔ ۱۳۷۔ إِنْ ہَذَا إِلاَّ خُلُقُ الْاٴَوَّلِینَ ۔ ۱۳۸۔ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِینَ ۔ ۱۳۹۔ فَکَذَّبُوہُ فَاٴَھلَکْنَاھمْ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً وَمَا کَانَ اٴَکْثَرُھمْ مُؤْمِنِینَ ۔ ۱۴۰۔ وَإِنَّ رَبَّکَ لَھوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ ۔ ترجمہ ۱۳۶(قوم عاد کے)ان افرادنے کہا ہمارے لیے یکساںہے کہ تم ہمیں نصیحت کرو نہ کرو (خواہ مخواہ خود کو تھکاؤ نہیں)۔ ۱۳۷۔یہ وہی پہلے والے لوگوں کا طریقہ کار ہے ۔ ۱۳۸۔ہمیں ہر گز عذاب نہیں ہوگا ۔ ۱۳۹۔انھوں نے ہُود کو جھٹلایا،تو ہم نے بھی انھیں تباہ کر دیا ۔اور اس میں(صاحبان ِ علم کے لیے )آیت اور نشانی ہے لیکن ان میں سے اکژ مومن نہیں تھے ۔ ۱۴۰۔اور تمھاراپرور دگار عزیزاور رحیم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 26:136-140
نصیحت ہم پر اثر نہیں کرتی
گز شتہ آیات میں ہم نے خدا کے مہر بان نبی کی سر کش قوم کے ساتھ مدلّل گفتگو کا تذکرہ پڑھا ۔ اب ہم اس قوم کے نامعقول اور اذیت ناک جوابات کا مطالعہ کریں گے ، قرآن کہتا ہے :انھوں نے جواب میں کہا، تم خود کو مزید نہ تھکاوٴ، ہمارے لئے یکسان ہے کہ خواہ ہمیں نصیحتیں کریں یا نہ کریں ہمارے دل میں ذرہ بھر اس کا ثر نہیں ہوگا ( قَالُوا سَوَاءٌ عَلَیْنَا )۔ (اٴَوَعَظْتَ اٴَمْ لَمْ تَکُنْ مِنْ الْوَاعِظِینَ )۔ لیکن یہ اعتراض جو تم ہم پر کرتے ہویہ تمہارا بے جا اعتراض ہے کیونکہ یہ تو گزشتہ لوگوں کو طریقہ ٴ کار ہے ( إِنْ ہَذَا إِلاَّ خُلُقُ الْاٴَوَّلِینَ )۔ ”خلق“ (خااور لام کے ضمہ کے ساتھ ) کا منعی عادت ، روش اور اخلاق ہے کیونکہ یہ کلمہ جب مفرد ہو تو خلق اور اخلاقی عادات کے معنی میں آتا ہے اور اصورت میں ان اعمال کی طرف اشارہ ہے جن کے وہ مرتکب ہو تے ہیں مثلاً بت پرستی کرنا، محکم اور دلفریب محلات بنانا، بلند و مرتفع مقامات پر برج تعمیر کرکے شیخی بکھار نا ، اسی طرح سزاوٴں میں سختی سے کام لینا گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جوکچھ ہم کررہے ہیں کوئی نئی بات نہیں ہم سے پہلے لوگ بھی یہی کیا کرتے تھے اور یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے ۔ بعض مفسرین نے اس سے جھوٹ اور دروغ گوئی مراد لی ہے یعنی اے ہود علیہ اسلام ! خدا اور قیامت کے بارے میں تمہاری باتیں سب جھوٹ ہیں جو پہلے بھی کہ جاتی تھیں ( تو یہ معنی اس صورت میں ہوگا جب ہم خَلق(بروزن حَلق) پڑھیں۔ لیکن مشہور قرائت اس طرح نہیں ہے )۔ اس کے بعد قرآن مجید اس قوم کا درد ناک انجام ان لفظوں میں بیان کرتا ہے :۔ ان لوگوں نے ہود کی تکذیب کی تو ہم نے انھیںتباہ و بر باد کر دیا( وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِینَ )۔ اس داستان کے اختتام پر پھر وہی دو عبرت انگیز جملے کہے جاتے ہیں جو جناب نوحعلیہ اسلام ، ابراہیم اور موسیٰ علیہ السلام کی داستانوں کے آخر میں کہے گئے ہیں ۔ فرمایا گیا ہے : اس سرگزشت میں قدرت ِ خدا، انبیاء کی استقامت اور سر کش او رجابر لوگوں کے انجام کی واضح اور روشن نشانی ہے لیکن پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے(إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً وَمَا کَانَ اٴَکْثَرُھمْ مُؤْمِنِینَ )۔ اور تمہارا پر وردگار طاقت ور اور ناقابل تسخیر اور رحیم و مہر بان ہے ( وَإِنَّ رَبَّکَ لَھوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ )۔ کافی حد تک ڈھیل دیتا ہے ، مہلت عطا کرتاہے ، گمراہ لوگوں کے لئے روشن دلائل پیش کرتا ہے لیکن جب سزا دینے پر آتا ہے تو یوں سخت گرفتار کرتا ہے کہ کسی کے لئے مجال فرار باقی نہیں رہ جاتی۔