وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَإِنَّهُۥ يَتُوبُ إِلَى ٱللَّهِ مَتَابٗا
And whoever repents and acts righteously indeed turns to Allah with due penitence).
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 25:61-77
1. In this paragraph, God has delineated characteristics of His Divine Lights and true followers of them, who are motivated by piety, namely, avoiding the ignorant politely, spending nights in Divine devotion, in awe of Eternal punishment, spending on right purpose, not withholding right of any, not luxurious towards self, not participating in innocent murder, not fornicating, leading to worldly and eternal punishment, except under penance. For example, martyrdom, like magicians of Pharaoh’s time, and Hurr of Imam Hussain’s time, whereby their sins have been compensated and transferred elsewhere (to the real author). They avoid concerts and like entertainments and pass disregardful when forced to cross them, and carefully scrutinize Divine Commands before their application, and pray for endowment of the pious, wives, and children and are ever entreating to God for His mercy. There are, however, two forms of amusement of which they are fraught with unusual attractiveness and danger, viz. dancing and theatre-going, destructive to virtue. Late hours, expensive dressing, violent, and protracted exertion are a sufficient array of arguments showing objectionable character thereof. Their appeal to sensual nature constitutes real and by far the greatest harm. Insufficient dressing, undue exposure of the people of the females in the dance, passionate excitement and undue license allowed while whirling upon the floor to the strains of music only arouse in any strong religious normally developed young man, strongest sensual tendency and propensity of his nature. Debasing influence of the theatre, undermining moral principles, plunging into vice and sin cannot be over-estimated, especially in the lives of young men. Here, under influence of exposure and posture, which bring the blush of shame to the cheek of delicacy, previously pure young men feel the awakening power of ungovernable passion, dazzling and bewildering, letting them fall an easy prey to the barrooms, gambling dens and brothels, which cluster under the shadow of every theatre. Religious punishment will follow in eternity. 2. Note, therefore, while actions are always to be judged by the immutable standard of right and wrong, judgment is qualified by consideration of age, country, station, and other accidental circumstances, and it will be found the charitable judgment carries the least injustice. 3. Piet is developed by ambition to acquire Divine Will, which is virtue in its real sense, if practiced with pure intentions to acquire Divine Will, and which, if secured, will enrich your heart, making you independent of creation, restricting your energy to eternity, and convincing you of what is destined for you with God, is much more then you possess. It disregards outward show, tending to develop hypocrisy and disregards greed, tending to develop shamelessness. it evinces a keen desire to preserve enviable character, and gain means with pure intentions to maintain self and dependents (direct or indirect) by avoiding laziness, as it is a source of misery and adopting a method, whereby you may be able to oblige others, without exceeding limits, purely by means of honest hard work, to be economical in execution of a hard work, private or public, though not at sacrifice of requisite charity viz. self-sacrifice consideration, sympathy, over-looking human weakness, to be self-supporting, to be content, to avoid illegal gratifications, to fulfil trust and refund deposit, irrespective of caste, creed, and character, to be silent, except where right is at stake ad to avoid idle talk, singing, attending dance and like engagements. Thus, two main attributes which turn man obliging are “piety and patience.”
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:68-71
«عباد الرحمن“ کی کچھ اورصفات
«عباد الرحمن“ کی چھٹی خصوصی صفت توحید پر ان کا خالص ایمان ہے جو انھیں دو یا کئی چیزوں کی پرستش پر مبنی شرک سے دور رکھتا ہے ، چنانچہ قرآن فرماتا ہے :وہ ایسے لوگ ہیں جو خدا کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکار تے( وَالَّذِینَ لاَیَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَھًا آخَرَ)۔ توحید نے ان کے قلب اور ان کی انفرادی اوراجتماعی زندگی کو روشن کر رکھا ہے جس کی وجہ ان کے روح و فکر کے آسمان عظمت سے شرک کی ہر قسم کی تاریکی کا فور ہو چکی ہے ۔ ساتویں صفت یہ ہے کہ عباد الرحمن بے گناہوں کے خون میں اپنے ہاتھ نہیں رنگ تے اور کسی ایسے انسان کو نا حق قتل نہیں کرتے جس کا خون اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے ( وَلاَیَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ )( 1) ۔ اس آیت سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ بنیادی طور پر تمام انسان نفوس قابل احترام ہیں اور ان کا خون بہانا ممنوع ہے مگر یہ کہ کچھ ایسے عوامل پیدا ہو جائیں جن سے یہ احترام ثانوی حیثیت اختیار کر جائے اور خون بہا نا جا ئز ہوجائے ۔ ان کی آٹھویں صفت یہ ہے کہ ان کا دامان ِ عفت گناہ سے آلودہ نہیںہوتا اور وہ زنا نہیں کرتے (وَلاَیَزْنُونَ)۔ اگر وہ کفر ایمان کے دو راہے پر کھڑے ہو جاتے ہیں تو ایمان کا انتخاب کرتے ہیں اور اگر جانوں کے لئے امن اور بد امنی کا سوال در پیش ہو تو امن کا انتخاب کرتے ہیں اگر پاکیزگی اور آلودگی کی بات ہو ت وپاکیزگی اختیار کرتے ہیں وہ وہ ایک ایسا وہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتے ہیں جو ہر قسم کے شرک، بدامنی ،بے عفتی اور آلودگی سے صاف اور پاک ہوتا ہے ۔ اسی آیت کے ذیل میں اس بات پر زوردے کر فریا گیا ہے :جو شخص ان امور میں کسی ایک کو انجام دے تو وہ اپنی سزا اور انجام دیکھ لے گا ( وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ یَلْقَ اٴَثَامًا)۔ «اثم“ اور « اثام“ در اصل ان اعمال کو کہتے ہیں جو انسان کو ثواب تک پہنچنے نہیں دیتے ۔بعد ازاں اس لفظ کا ہر قسم کے گناہ پر اطلاق ہونے لگا لیکن اس مقام پر گناہ کی سزا کے معنیٰ میں ہے ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ «اثم“ کا معنیٰ ہے «گناہ “اور «اثام“کا معنیٰ ہے « گناہ کی سزا“(2)۔ اگر بعض مفسرین نے اس کا معنیٰ جہنم میں بیابان یا پہاڑیا کنوئیں کیا ہے تو یہ اس کا ایک واضح مصداق بیان کیا گیا ہے ۔ زنا کی حرمت کے فلسفے میں تفسیر نمومونہ کی جلد ۱۲ میں سورہ ٴ بنی اسرائیل کی آیت ۳۳ کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں سب سے پہلے شرک ، پھر قتل ِ نفس اور ا س کے بعد کے بارے میں گفتگو ہو ئی ہے ۔بعض روایات کے مطابق ان تینوں گناہوں کی بالترتیب وہی اہمیت ہے جو آیت میں آئی ہے۔ ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا: ای الذنب اعظم؟قال ان تجعل للہ نداً و ھو خلقک، قال قلت ثم ایّ؟ قال ان تقتل ولدک مخافة ان یطعم معک، قال قلت ثم ای ؟قال ان ترانی حلیلة جارک، ،فانزل اللہ تصدیقھا و الذین لا ید عون مع اللہ الٰھاً آخر سب گناہوں سے بڑھ کرکون سا گناہ ہے ؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم خدا کا شریک ٹھہراوٴجب کہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے ۔ عرض کیا اس کے بعد ؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس لئے قتل کر ڈالو کہ تمہارے کھانے میں شریک ہو جائے گی۔ عرض کیا اس کے بعد ؟ فرما یا یہ کہ اپنے ہمسایہ کی بیوی سے بد کاری کرو ۔ اس موقع پر خدا نے اپنے پیغمبر کی تصدیق کے طور پر یہ آیت نازل کر دی (و الذین لا یدعون مع اللہ الٰھاً آخر) ( 3) ۔ اگر چہ اس حدیث میں قتل اور زنا کی خا ص قسموں کاذکرآیا ہے لیکن اگر مفہوم کے اطلاق پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ جولوگ ان گناہوں کا ارتکاب کریں گے قیامت کے دن ان کا عذاب دگنا ہو گا اور بڑی ذلت و خواری کے ساتھ عذاب میں ہمیشہ کے لئے گرفتار رہیں گے ( یُضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَیَخْلُدْ فِیہِ مُھَانًا)۔ اس جگہ پر دو سوال پیش آتے ہیں ایک تو یہ کہ آخر ان لوگوں کا عذاب دگنا ہو گا اور گناہ کے برابر انھیں سزا کیوں نہیں ملے گی اور آیا یہ بات عدل ِ الہٰی سے مطابقت رکھتی ہے ؟ دوسرے یہ کہ یہاں پر ہمیشہ کے عذاب کی گفتگو ہورہی ہے جبکہ ہمیشگی صرف کفار کے ساتھ مخصوص ہے اور آیت میں جو تین گناہ ذکر ہوئے ہیں ان میں سے صرف ایک یعنی پہلا ناہ کفر ہے لیکن قتل ِ نفس اور زنا تو خلود کا سبب نہیں بن سکتے ۔ پہلے سوال کے جواب کے بارے میں مفسرین نے بہت بحث کی ہے اورجو جواب سب سے زیادہ صحیح نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ عذاب کے دگنا ہونے سے مراد یہ ہے کہ آیت میں مذکوران تینوں گناہوں کی سزائیں علیحدہ علیحدہ ہوں گی جو مجموعی صورت میں دگنی بن جائیں گی۔ اس سے قطع نظر یہ بات بھی ہے کہ بسا اوقات ایک گناہ کئی دوسرے گناہوں کا سر چشمہ بن جاتا ہے مثلا ً کفر ہی کو لے لیجئے کہ ایک گناہ ہے لیکن یہی گناہ واجبات کے ترک اور محرمات کے انجام نہ دینے کا سبب بن جاتا ہے اور یہی چیز خدا وند عالم کی سزا کے دوگنا ہونے کا سبب بن جاتی ہے ۔ اسی لئے تو بعض مفسرین نے اس آیت کو اس مشہور مسئلے پر دلیل سمجھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ «جس طرح کفار اصول دین کے لئے مکلف ہیں اسی طرح فروعِ دین کے لئے بھی مکلف ہیں : الکفار مکلفون بالفروع کما انھم مکلفون بالاصول دوسرے سوال کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ بعض گناہ اس قدر سخت ہوتے ہیں کہ اس دنیا سے بے ایمان ہو کر مرنے کا سبب بن جاتے ہیں جیسا کہ ہم قتل ِنفس کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ۴ سورہ نساء کی آیت ۹۳ میں بیان کر چکے ہیں۔ زنا خاص طور پر جب محصنہ( شوہر دار عورت)کے ساتھ ہو تو ممکن ہے کہ وہ بے ایمان ہو نے کا سبب بن جائے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مندر جہ بالا آیت میں مذکوردائمی عذاب ان لوگوں کے لئے ہو جو مذکورہ تین گناہوں کا باہم ارتکاب کریں شرک کا بھی ، قتل نفس اور زنا کا بھی اور اس بات کی گواہ بعد والی آیت ہے جس میں کیا گیاہے :۔ الا من تاب و اٰمن و عمل عملا ً صالحاً مگر وہ شخص جو توبہ کرے ، ایمان لے آئے اور عمل صالح بجا لائے ۔ تو اس طرح سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ بعض مفسرین نے یہاں پر ہمیشگی کو ایک لمبی مدت کے معنیٰ میں لیا ہے نہ کہ ہمیشہ کی مدت کے معنیٰ میں ۔ لیکن پہلی اور دوسری تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ یہاں پر ایک اور بات بھی قابل غور ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت میں معمول کی سزاکے علاوہ ایک دوسری سز اکا ذکر بھی ہے اور وہ ہے ان گناہ گاروں کی تحقیر اور توہین ، جو ایک طرح کی باطنی سزا ہے اور یہ سزا کے دگنا ہونے کی تفسیر بھی ہو سکتی ہے کیونکہ انھیں جسمانی عذاب بھی دیا جائے گااور روحانی عذاب بھی ۔ چونکہ قرآن مجید نے مجر مین کے لئے واپس آجانے کا راستہ بند نہیں کیا اور گناہگاروں کو توبہ کی تشویق کرتا ہے اور دعوت دیتا ہے لہٰذا بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے : مگر جو شخص توبہ کرے ، ایما ن لے آئے اور عمل صالح بجا لائے تو خدا وند عالم اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور ان کے برے اعمال کو نیک اعمال میں تبدیل کر دے گا اور خدا وند عالم بخشنے والا اور مہر بان ہے ( إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاٴُوْلَئِکَ یُبَدِّلُ اللهُ سَیِّئَاتِھِمْ حَسَنَاتٍ وَکَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا)۔ جیسا کہ ابھی گزشتہ آیت میں گناہان کبیرہ میں سے تین گناہوں کا ذکر ہوا ہے اور ان گناہوں کے مرتکب افراد کے لئے توبہ کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر نادم اور پشیمان انسان ، توبہ کے دروازے سے اپنے خالق اور مالک کے حضور لوٹ سکتا ہے بشر طیکہ اس کی توبہ حقیقی ہو او رجیسا کہ آیت میں بیان ہوا ہے ، اس کی علامت عمل ِ صالح ہے جس سے گناہوں کی تلافی کی جا سکتی ہے ورنہ صرف زبان سے استغفار یا دل میں لمحہ بھر کی پشیمانی اور پھر وہی سابقہ حالت یہ توبہ کی دلیل ہر گز نہیں ہو سکتی۔ اس بارے میں اہم اور قابل ِ غور مسئلہ یہ ہے کہ خدا وند عالم ان کے «سیئات“ کو حسنات“ میں تبدیل کرتا ہے ؟ سیّئات کی حسنات میں تبدیلی اس کے بارے میں چند ایک تفسیریں ہیں جو سب کی سب ماننے کے قابل ہیں ۔ ا۔ جب انسان توبہ کرتا ہے اور خدا پر ایمان لے آتا ہے تو اس کے پورے وجود میں ایک گہری تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے اور اس اندرونی انقلاب اور تبدیلی کی وجہ سے اس کے برے اعمال مستقبل میں نیک اعمال میں تبدیلی ہوجاتے ہیں اگر اس نے ماضی میں کسی کو قتل کیا تھاتو اب ( حقیقی توبہ کی وجہ سے )مظلوم ک ا دفاع اور ظالم سے اس کی جگہ لے لیتی ہے اگر سابق میں وہ زانی اور بد کار تھا تو اب وہ پاکدامن بن جائے گا اور یہ خدائی توفیق اسے ایمان اور توبہ کی بدولت حاصل ہو گی۔ ۲۔دوسری یہ کہ خدا وند عالم اپنی مہر بانی، فضل اور احسان کی وجہ سے توبہ کے بعد اس کے تمام برے اعمال کو مٹا کر نیک اعمال کو ان کی جگہ دے دے گا جیسا کہ حضرت ابو ذر غفاری ۻ پیغمبر اکرم سے روایت کرتے ہیں کہ : بروز قیامت ایک شخص کو لایا جائے گا اور خدا وند عالم حکم دے گا کہ اس کے صغیر گناہوں کے کو اس کے سامنے پیش کیاجائے اور کبیرہ کو چھپا یا جائے پھر اس سے کہا جائے گا کہ تونے فلاں فلاں دن فلاں فلاں صغیرہ گناہ کیا تھا اور وہ اس کا اعتراف کرے گا لیکن اس کا دل کبیرہ گناہوں کے خوف سے کانپ رہا ہو گا ۔ اس مقام پر خدا وند عالماپنی مہر بانی کی وجہ سے حکم دے گا کہ اسے ہر گناہ کے بدلے ایک نیکی دی جائے ۔ وہ شخص عرض کرے گا خدا وندا ! میں نے تو بڑے بڑے گناہ کئے تھے جنھیں میں یہاں پر نہیں دیکھ رہا ہوں ۔ ابو ذر کہتے ہیں کہ اس موقع پر آنحضرت یوں مسکرائے کہ آپ کے مبارک دانتوں کی سفیدی نمودار ہو گئی اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: فاولٓک یبدل اللہ سیئاتھم حسنات ۳۔تیسری تفسیر یہ ہے کہ «سیئات“ سے مراد انسان کے خود اعمال نہیں ہیں جنہیں وہ انجام دیتا ہے بلکہ اس سے مراد ان کے برے اثرات ہیں جو انسان کے جسم اورروح پر چھا جاتے ہیں اور جب وہ توبہ کرتاہے تو وہ برے اثرات دور ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ اچھے اثرات لے لیتے ہیں ۔ البتہ ان تینوں تفسیروں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ ممکن ہے کہ تینوں کی تینوں ایک مفہوم میں جمع ہوں ۔ بعد والی آیت صحیح توبہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہے :جو شخص توبہ کرکے اعمال ِ صالح بجا لاتا ہے وہ اپنے رب کی طرف لوٹ جائے گا ( اور اسی سے اپنی جزا پائے گا )( وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّہُ یَتُوبُ إِلَی اللهِ مَتَابًا)(4) ۔ یعنی توبہ اور گناہوں کا ترک کرنا صرف اس وجہ سے نہ ہو کہ گناہ بری چیز ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کی نیت خلوص اور خوفِ خدا پر مبنی ہو ۔ بنابریں (بطور مثال ) شراب نوشی یا دروغ گوئی کو اس وجہ سے ترک کردیناکہ یہ بری چیزیں ہیں اگر چہ ایک اچھی بات ہے لیکن اس کی حقیقی قدر و قیمت اس وقت ہو گی جب یہ کام صرف خدا کی خوشنودی کے لئے کیا جائے ۔ بعض مفسرین نے مذکورہ بالا آیت کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے جو یہ ہے : یہ آیت در اصل اس تعجب خیز سوال کا جواب ہے جو کبھی کبھار کچھ ذہنوں میں اٹھتا ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ خدا وند عالم برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دے گا تو یہ آیت اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ جب انسان اپنے رب کی طرف لوٹ جائے تو یہ امر باعث ِ تعجب نہیں ۔ اس سلسلے میں ایک تیسری تفسیر بھی ہے اور وہ یہ کہ جو شخص گناہوں سے توبہ کرتا ہے وہ خدا اور بے حد وحساب اجر کی طرف لوٹ جاتا ہے ۔ اگر چہ ان تفسیروں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے خا ص طور پر وہ اس روایت سے زیادہ ہم آہنگ ہے جسے علی بن ابراہیم نے اسی آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے ۔ 1۔مندرجہ بالا جملے میں اصطلاحی طور پر «استثنائے مفرغ“ ہے جس کی تقدیر یوں ہے « ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ بسبب من الاسباب الا بالحق “۔ 2۔ تفسیر فخر رازی اسی آیت کے ذیل میں ۔ 3 مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں ،بحوالہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم ۔ 4 ۔«متاب“ مصدر میمی اور توبہ کے معنی میں ہے چونکہ یہاں مفعول مطلق ہے لہٰذا تاکید کے معنی ٰ دے رہا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:68-71
سوره فرقان / آیه 68 - 71
۶۸۔ وَالَّذِینَ لاَیَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَھًا آخَرَ وَلاَیَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَیَزْنُونَ وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ یَلْقَ اٴَثَامًا۔ ۶۹۔ یُضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَیَخْلُدْ فِیہِ مُھَانًا۔ ۷۰۔ إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاٴُوْلَئِکَ یُبَدِّلُ اللهُ سَیِّئَاتِھِمْ حَسَنَاتٍ وَکَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا۔ ۷۱۔ وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّہُ یَتُوبُ إِلَی اللهِ مَتَابًا ۔ ترجمہ ۶۸۔وہ ایسے لوگ ہیں جو خدا کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکار تے اور جس کا خون اللہ نے حرام کردیا ہے اس انسان کو ناحق قتل نہیں کرتے اور زنا نہیں کرتے اور جو شخص ایسا کرے گا اس کی سزا بھی دیکھ لے گا ۔ ۶۹۔ایسے شخص کا عذاب قیامت میں دگنا ہوگا اور اس میں ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ رہے گا ۔ ۷۰۔لیکن جو شخص توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور عمل صالح انجام دے تو خدا وند عالم ایسے لوگوں کے گناہوں کو نیکیوںمیں بدل دے گا اور خدا وند عالم بخشنے والا اورمہر بان ہے ۔ ۷۱۔اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل بجا لائے تو اس کی باز گشت خدا کی طرف ہوگی (اور وہ اپنی جزااسی سے پائے گا) ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:71
[Pooya/Ali Commentary 25:71] (see commentary for verse 68)