وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَا مَعَهُ أَخَاهُ هَارُونَ وَزِيرًا
Certainly We gave Moses the Book and We made Aaron, his brother, accompany him as a minister.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:35
[Pooya/Ali Commentary 25:35] Refer to the commentary of Ta Ha : 9 to 98 for Musa and Harun and Muhammad and Ali, also refer to the commentary of al Baqarah : 51; Bara-at : 41 and Maryam : 53; and Ali Imran : 52 and 53 for dawat dhil ashirah in which Ali was appointed as the supporter and successor of the Holy Prophet right from the beginning of the open declaration of his prophethood. Aqa Mahdi Puya says: According to verse 5 of al Muzzammil the prophetic mission (receiving orders, instructions and revelations from Allah and conveying them to people) is a heavy burden or onerous responsibility because of which Musa asked for a supporter and his request was granted, and likewise Ali was given to Muhammad as said in verses 1 to 4 of al Inshirah. The verses of the Quran mentioned in this connection assert that the supporter should have the same qualities and purification of soul as the person who is supported has. The Holy Prophet said: "Ali is my brother here and in the hereafter. He is from me and I am from him. I and Ali are from the same light."
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 25:35-44
1. All falsifiers of previous prophets have been declared to have been destroyed, barring our Prophet’s falsifiers. Divine justice demands this to be executed in the near future. It is, however, postponed to a later date, and time will come when mighty hypocrites of Islam who have proved apostates after having embraced Islam in name only, and associators by having tampered with the Islamic cult, will be raised alive along with the Divine Lights of their times and full opportunity will be given to Divine Lights to avenge their enemies, along with the faithful, on either side, against these hypocrites along with those who sided with them after their being enlivened. This period, before Reckoning day, when Divine Lights will return to Earth is known as Resurrection. 2. Those who not listen to you, listen to their passion and get their hearts sealed and are worse than beasts and beyond improvement, as beasts are not endowed with reason.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:35-40
درسِ عبرت سے لاپر وائی
ان آیات میں خداوند عالم ایک تو اپنے پیغمبر اور مومنین کی تسلی اور دلجوئی کے لئے ، دوسرے ان حیلہ ساز مشرکین کی تنبیہ کے لئے جن کی باتیں ابھی بیان ہو چکی ہیں ، گزشتہ اقوام کی تاریخ اور ان کے عبرت ناک انجام کی طرف اشارہ کررہا ہے اور گزشتہ اقوام میں سے چھ قوموں کا خاص طور پر تذکرہ فرما رہا ہے (یعنی قوم فرعون ، قوم نوح ، قوم عاد، ثمود ، اصحاب الرس اور قوم لوط) او ران اقوام کے انجام کو بطور درسِ عبرت پیش فرماتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مدد کے لئے ان کے ہمراہ کردیا (وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ وَجَعَلْنَا مَعَہُ اٴَخَاہُ ہَارُونَ وَزِیرًا )۔ کیونکہ انھوں نے فرعون کے ساتھ مقابلہ کی عظیم ذمہ داری اٹھا رکھی تھی لہٰذا اس انقلابی کام کو انھیں مل جل کر سر انجام دینا تھا تاکہ وہ اس انقلابی تحریک کو ساحل ِ کامرانی تک پہنچاسکیں ۔ ”ہم نے (ان دونوں بھائیوں سے خطاب کرتے ہوئے ) کہا :اس قوم کی طر ف جائیے جس نے ہماری آیات کو جھٹلا یا ہے ( فَقُلْنَا اذْہَبَا إِلَی الْقَوْمِ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا)۔ انھوں نے ایک تو آیات و انفس اورکائنات میں موجود آیات ِ خداوندی کی عملاً تکذیب کی اور شرک و بت پرستی کی راہ اپنائی اور دوسر ے انبیاء ماسبق کی تعلیم کو نظر انداز ہی نہیں کردیا بلکہ ان کی تکذیب بھی کی ۔ لیکن جناب موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون علیہ اسلام کی تمام کوششوں کے باوجود اور عظیم اور روشن معجزات کے بعد بھی انھوں نے کفر اور انکار کا راستہ اپنا یا ” لہٰذا ہم نے انھیں ایسے سر کوب کیا کہ وہ نیست و نابود ہو گئے ( فَدَمَّرْنَاھُمْ تَدْمِیرًا )۔ ”تدمیر “ کا لفظ ”دمار“ کے مادہ سے ہے جس کا معنی ٰ ہے تعجب خیز ہلاکت اور سچی بات ہے کہ دریائے نیل کی متلاطم موجوں میں قومِ فرعون کی ایسے انداز میں تباہی تاریخ ِ بشریت کے عجائبات میں شمار ہوتی ہے ۔ اسی طرح جب قوم نوح نے پیغمبروں کی تکذیب کی تو ہم نے اسے بھی غرق کردیا اور ا س کے انجام کو عام لوگوں کے لئے ایک واضح اور روشن نشانی قرار دیا اور تمام ظالموں کے لئے ہم نے دردناک عذاب مہیا کررکھا ہے ( وَقَوْمَ نُوحٍ لَمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ اٴَغْرَقْنَاھُمْ وَجَعَلْنَاھُمْ لِلنَّاسِ آیَةً وَاٴَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِینَ عَذَابًا اٴَلِیمًا) ۔ اوریہ بات قابل توجہ ہے کہ خدا فرماتاہے کہ انھوں نے رسولوں کو جھٹلا یا (صرف ایک رسول کو نہیں بلکہ کئی رسولوں کو جھٹلایا )کیونکہ خدا کے انبیاء اور رسولوں کے دعوتی اصولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے لہٰذا ایک کی تکذیب گویا سب کی تکذیب ہے اور پھر یہ کہ اصولی قوم ِ نوح کو تمام انبیاء کی دعوت سے مخالفت تھی اور وہ تمام ادیان کے منکر تھے۔ اسی طرح ” ہم نے قوم عاد و ثمود ، اصحاب رس اور دوسری بہت سی قومیں جو ان میں موجود تھیں کو ہلاک کردیا ( وَعَادًا وَثَمُودَ وَاٴَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا)(۱) ۔ قوم عاد وہی حضرت ہود علیہ السلام کی قوم ہے حضرت ہود علیہ اسلام کو اللہ نے احقاف ( یایمن) میں مبعوث فرمایا اور قوم ثمود اللہ کے پیارے نبی جناب صالح علیہ السلام کی قوم ہے حضرت صالح علیہ اسلام کو خدا نے وادی القری ( مدینہ اور شام کے علاقے )میں مبعوث فرمایا۔ البتہ اصحاب الرس کے بارے میں ہم آگے چل کر تفصیل سے بتائیں گے ۔ ” قرون “ ”قرن“کی جمع ہے جو اصل میں ایسی جماعت او رگروہ کے بارے میں بولا جاتا ہے ، جس کے افراد ایک ہی زمانے میں باہم زندگی بسر کرتے ہوں ، پھر ایک لمبے زمانے ( مثلا ً چالیس سال یا سو سال ) پر بھی اس کا اطلاق ہو نے لگا ۔ البتہ ہم نے انھیں غافل کرکے سزا نہیں دی بلکہ ہم نے ان میں سے ہر ایک کے لئے مثالیں بیان کیں “( وَکُلًّا ضَرَبْنَا لَہُ الْاٴَمْثَالَ )۔ جس قسم کے اعتراضات یہ لوگ آپ پر کرتے ہیں اور ہم ان کا جواب دیتے ہیں ، اسی طرح کے اعتراض لوگوں نے ان پر بھی کئے تھے ۔ او رہم نے ان کا جواب بھی دیا۔ ان کے لئے احکام الٰہی کو واضح طور پر پیش کیا اور دینی حقائق کو ان کے سامنے کھول کر بیان کیا۔ انھیں خبر دار کیا ، ڈرایا اور سابق لوگوں کی داستانیں بیان کیں ۔ لیکن جب کوئی چیز بھی کا رگر نہ ہوئی تو ” ہم نے ان میں سے ہر ایک کی شدت کے ساتھ سر کوبی کی اور انھیں تباہ و بر باد کر کے رکھ دیا“ (وَکُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا)(۲) ۔ انجام کار اس سلسلے کی آخری آیت میں قوم ِ لوط کے شہروں کے کھنڈرات او رویرانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ جو حجاز سے شام جانے والے لوگوں کی راہ میں پائے جاتے ہیں اور شرک و گناہ سے آلودہ لوگوں کی دردناک تباہی و بر بادی کا جیتا جاگتاثبوت ہیں ، خدا فرماتا ہے : وہ لوگ اس شہر کے پاس سے گزرے جس پر برائی او ربد بختی ( ہلاک کردیتے والے پتھروں )کی بارش ہو ئی ، تو کیا انھوں نے ( اپنے سفر ِ شام کے دوران میں ) ایسی صورتِ حال کو نہیں دیکھا اور ان کے انجام سے درس حاصل نہیں کیا ( وَلَقَدْ اٴَتَوْا عَلَی الْقَرْیَةِ الَّتِی اٴُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ اٴَفَلَمْ یَکُونُوا یَرَوْنَہَا)۔ انھوں نے اس کیفیت کو دیکھا تو ضرور ہے لیکن اس سے درس ِ عبرت حاصل نہیں کیا کیونکہ و ہ روز قیامت پر نہ تو ایمان رکھتے ہیں اور نہ ہی ا س کی امید(بَلْ کَانُوا لاَیَرْجُونَ نُشُورًا)۔ وہ لوگ مو ت کو زندگی کا خاتمہ سمجھتے ہیں او راگر دوسرے جہان کی زندگی کے بارے میں ان کا کچھ عقیدہ ہے بھی تو نہایت ہی کمزوراور بے بنیاد ۔ جس طرح یہ عقیدہ ان کی روح میں موٴثر اور کار گر ثابت نہیں ہوسکتا ان کی معمول کی زندگی میں تو بطریق اولیٰ غیر موٴثر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز کو بازیچہٴ اطفال سمجھتے ہیں اور چند زندگی کی ہوا وہوس کے سوا کچھ سوچتے نہیں ۔ 1۔”عاد و ثمود “ کے کلمہ کا عطف ” دمرناھم “ میں موجود”ھم“ کی ضمیر پر ہے بعض مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ ”جعلناھم“ میں ”ھم“ کی ضمیر پر ہوسکتا ہے یا پھر ” الظالمین“ پر بھی ہو سکتا ہے ، لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے ۔ ۲۔ ”تتبیر“”تبر“ (بر وزن ”ضَرَر“ یا”صَبر“) ہلاک ہو نے یا تباہ و بر باد ہونے کے معنی ٰ میں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:35-40
سوره فرقان / آیه 35 - 40
۳۵۔ وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ وَجَعَلْنَا مَعَہُ اٴَخَاہُ ہَارُونَ وَزِیرًا ۔ ۳۶۔ فَقُلْنَا اذْہَبَا إِلَی الْقَوْمِ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا فَدَمَّرْنَاھُمْ تَدْمِیرًا ۔ ۳۷۔ وَقَوْمَ نُوحٍ لَمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ اٴَغْرَقْنَاھُمْ وَجَعَلْنَاھُمْ لِلنَّاسِ آیَةً وَاٴَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِینَ عَذَابًا اٴَلِیمًا ۔ ۳۸۔ وَعَادًا وَثَمُودَ وَاٴَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا۔ ۳۹۔ وَکُلًّا ضَرَبْنَا لَہُ الْاٴَمْثَالَ وَکُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا۔ ۴۰۔ وَلَقَدْ اٴَتَوْا عَلَی الْقَرْیَةِ الَّتِی اٴُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ اٴَفَلَمْ یَکُونُوا یَرَوْنَہَا بَلْ کَانُوا لاَیَرْجُونَ نُشُورًا ۔ ترجمہ ۳۵۔ ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب عطا کی اور ان کے بھائی ہارون کو مدد کے لئے ان کے ہمراہ کردیا۔ ۳۶۔ اور ہم نے کہا کہ اس قوم کی طرف جائےے جس نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے ( چونکہ اس قوم نے ہماری مخالفت پر کمر باندھ لی تھی لہٰذا )ہم نے اس کی ایسی سر کوبی کی کہ وہ نیست و نابود ہو گئی ۔ ۳۷۔ اور چونکہ قوم نوح نے پیغمبروں کو جھٹلا یا لہٰذا اسے غرق کردیا اور اسے دوسرے لوگوں کے لئے درسِ عبرت بنا دیا اور ہم نے ستم گروں کے لئے دردناک عذاب تیار کردکھا ہے ۔ ۳۸۔ ( اسی طرح ؟) قوم ِ عاد و ثمود ، اصحاب الرس( جو درخت صنوبر کی پرستش کیا کرتے تھے ) اور بہت سی دوسری قوموں کو جو ان میں موجود تھیں ، ہم نے ہلاک کردیا ۔ ۳۹۔ اور ان میں سے ہر ایک کے لئے مثالیں بیان کیں ( کیونکہ ان مثالوں سے انھوں نے کوئی فائدہ نہ ٹھا یا لہٰذا )ان میں سے ہر ایک کو تباہ و بر باد کر کے رکھ دیا ۔ ۴۰۔وہ ( قوم ِ لُوط کے )اس شہر کے پاس سے گزرے جس پر بری بارش ہوئی(آسمان سے پتھر برسے ) آیا انھوں نے اسے نہیں دیکھا؟ ( ضرور دیکھا) لیکن وہ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے تھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:35-40
۲۔ کچھ لرزا دینے والے درس
آیات بالا میں جن چھ گروہوں کا نام لیا گیا ہے یہ ہیں : فرعون کی قوم ،نوح کی متعصب قوم ، عاد اور ثمود کے زور آور لوگ ،گناہوں سے آلودہ اصحاب الرس اور قوم لوط ان میں سے ہر ایک قوم کسی نہ کسی فکری یا اخلاقی بے راہ روی کا شکار تھی جس کی وجہ سے اسے بد بختی کا سامنا کرنا پڑا ۔ فرعونی لوگ ظالم ، ستمگر ، سامراجی ، استعماری اور خود غرض تھے ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں قو،م ِ نوح بھی سخت جھگڑا لو، متکبر اور احساس ِ بر تری کا شکار تھی ۔ قوم و ثمود کو اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا۔ اصحاب الرس جنسی بے راہ روی کا شکار تھے خصوصاًان کی عورتیں ہم جنس بازی کی مریض تھیں جبکہ قوم لوط لواطت ایسے فعل شنیع کی مرتکب تھی ان میں ہر ایک قوم جادہٴ توحید سے منحرف اور بے راہ روی میں سرگرداں تھی۔ قرآن مجید حضرت پیغمبر کے دور کے مشرکین بلکہ ہر عصر کے لوگوں کو خبر دار کررہا ہے کہ خواہ تم جس قدر بھی طاقت کے مالک بن جاوٴ اور کتنا ہی اقتدار تمہارے ہاتھ میں کیوں نہ ہو جس قدر بھی مال و دولت اور خوشحال زندگی کے حامل کیوں نہ ہو جاوٴ ، تمہاری شرک،ظلم اور فساد و گناہ سے آلودگی آخر کار تمہاری زندگی کا خاتمہ کرکے رکھ دے گی تمہاری کامیابی کے اسباب درحقیقت تمہاری موت کے اسباب بن جائیں گے ۔ فرعون کے ماننے والے اور حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم کے لوگ پانی کے ذریعے ہلاک ہوئے جو تمام ذی حیات چیزوں کی زندگی کا سر مایہ ہے ۔ قوم عاد بھی طوفان اور آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئی جو خاص صورتوں میں سر مایہٴ زندگی ہے ۔قوم ثمود کی تباہی بجلی گرانے والے بادل سے ہوئی اور قوم ِ لوط کی ہلاکت پتھروں سے ہوئی جو آسمان سے بَرسے یا بقول بعض مفسرین آتش فشاں پہاڑ ان پر گرے اور قوم رس ، اسی مندرجہ بالا روایت کے مطابق اس آگ کے ذریعے لقمہ اجل بنی جو زمین سے اٹھی اور آسمان سے ایک شعلہ زمین پر گرا تاکہ یہ مغرور انسان سنبھل کر خدا ، عدالت اور تقویٰ کی راہ پر گامزن ہو جائے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:35-40
۱۔ ”اصحاب الرس “ کو ن ہیں ؟
”رس“ کالفظ در اصل مختصر اور تھوڑے سے اثر کے معنی ٰ میں ہے جیسے کہتے ہیں :” رس الحدیث فی نفسی “ ( مجھے اس کی تھوڑی سی بات یاد ہے )یا کہا جاتا ہے ” وجدرساً من حمی“ ( اس نے اپنے اندر بخار کا تھوڑا سا اثر پایا (1) ۔ کچھ مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ ”رس“ کا معنی ٰ” کنواں “ ہے ۔ معنی خواہ کچھ بھی ہواس قوم کو اس نام سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا اب تھوڑا اثر یا بہت ہی کم نام اور نشان باقی رہ گیا ہے یا اس وجہ سے انھیں ”اصحاب الرس “کہتے ہیں کہ وہ بہت سے کنووٴں کے مالک تھے یا کنووٴں کا پانی خشک ہو جانے کی وجہ سے ہلاک و بر باد ہو گئے ۔ یہ کون تھے ؟ موٴرخین او رمفسرین کی اس بارے میں مختلف آراء ہیں ۔ (۱)بہت سے لوگوں کو نظریہ تو یہ ہے کہ اصحاب الرس ”یمامہ “ کے علاقے میں ایک قبیلہ تھاجس کے لئے حضرت ”حنظلہ“ نامی پیغمبر کو مبعوث کیا گیا ان لوگوں نے خدا کے اس نبی کی تکذب کی اور انھیں کنوئیں میں ڈال دیا بلکہ بعض نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ انھوں نے اس کنوئیں کو نیزوں سے بھر دیا اور ا س کا منہ پتھروں سے بند کردیا ۔ جس کی وجہ سے اللہ کے نبی جناب حنظلہ وہیں پر شہید ہو گئے(2)۔ (۲)کچھ موٴرخین کا نظریہ ہے کہ ”اصحاب الرس“ حضرت شعیب علیہ السلام کے زمانے کے لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو بت پرست تھے ان کے بڑی تعداد میں بھیڑ بکریوں کے ریوڑ ہوتے تھے اور بہت سے کنوئیں بھی اور ” رس“ نامی کنواں بہت بڑا تھا اس کا پانی خشک ہو گیا اور اس علاقے کے لوگوں کو بھی تباہی نے آن لیا۔ (۳)بعض کہتے ہیں کہ سر زمین ”یمامہ “ میں ”رس“ نامی ایک گاوٴں تھا ، جہاں قوم ثمود کے بچے کھچے لوگ رہ رہے تھے اور اپنی س رکشی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ (۴)بعض کہتے ہیں کہ پرانے زمانے کے کچھ عرب تھے جو شام اور حجاز کے درمیان رہتے تھے(3) ۔ (۵)بعض تفسیریں عاد و ثمود کے بچے کھچے لوگوں کو ”اصحاب الرس“ کے نام سے موسوم کرتی ہیں اور سورہ ٴ حج کی آیت ۴۵” و بئر معطلة و قصر مشید“ کا تعلق انہیں لوگوں سے بتاتی ہیں اور ”حضر موت “ کا علاقہ ان کی جائے سکونت بتاتی ہیں چنانچہ ”ثعلبی“ نے ”عرائس التیجان“ میں اسی قول کو ترجیح دی ہے ۔ کچھ اور مفسرین جو ”ارس“ کے نام سے آشنا ہوئے ہیں انھوں نے ”رس“ کو ” ارس“پر منطبق کیا ہے (جو آذربائیجان کے شمال کا علاقہ ہے )۔ (۶)مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں ، فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے روح المعانی میں جو احتمالات نقل کیے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگ شام کے علاقے انطاکیہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے نبی کا نام ” جیب بخار“ تھا ۔ (۷)عیون الرضا میں امام رضا علیہ السلام کے ذریعے امیر المومنین علی علیہ السلام سے اصحاب الرس کے بارے میں ایک طویل گفتگو نقل ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :۔ ” وہ ایسے لوگ تھے جو صنوبر درخت کی پوجا کرتے تھے اور اسے ”درختوں کا بادشاہ“ کہتے تھے یہ وہ درخت تھاجسے جناب نوح کے بیٹے ”یافث“ نے طوفان نوح کے بعد ”روشن آب“ کے کنارے کاشت کیا تھا”رس“ نامی نہر کے کنارے انھوں نے بارہ شہر آباد کررکھے تھے جن کے نام یہ ہیں : آبان ، آذر، دی ، بھمن، اسفند ، فروردین، اردیبہشت،،خرداد، تیر، مرداد، شہریور، اور مہر۔ایرانیوں نے اپنے کلینڈر کے بارے مہینوں کے نام انہی شہروں کے نام پررکھے ہوئے ہیں ۔ چونکہ وہ درخت صنوبر کا احترام کرتے تھے لہٰذ ا انھوں نے اس کے بیج کو دوسرے علاقوں میں بھی کاشت کیا اور آبپاشی کےلئے ایک نہر کو مختص کردیا انہوں نے اس نہر کا پانی لوگوں کے لئے پینا ممنوع قرار دے دیا تھا۔حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اس سے پی لیتا تو اسے قتل کردیتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کیونکہ یہ ہمارے خداوٴں کا سرمایہ حیات ہے لہٰذا مناسب نہیں ہے کہ کوئی اس سے ایک گھونٹ پانی کم کردے ۔ وہ سال کے بارہ مہینوں میں سے ہر ماہ ایک ایک شہر میں ایک دن کے لئے عید منایا کرتے تھے او رشہر سے باہر صنوبر کے درخت کے پاس چلے جاتے اس کے لئے قربانی کرتے اور جانوروں کو ذبح کرکے آگ میں ڈال دیتے جب اس سے دھواں اٹھتا تو وہ درخت کے آگے سجدے میں گر پڑتے اور خوب گر یہ کیا کرتے تھے ۔ ہر مہینہ نے ان کا یہی طریقہ ٴ کار تھا چنانچہ جب ”اسفند “کی باری آتی تو تمام بارہ شہروں کے لوگ یہاں جمع ہوتے او رمسلسل بارہ دن تک عید منا یا کرتے کیونکہ یہ ان کے باد شاہوں کا دار الحکومت تھا یہییں پر وہ مقدور بھر قربانی بھی کیا کرتے اور درخت کے آگے سجدہ بھی کیا کرتے ۔ جب وہ کفر اور بت پرستی کی انتہا کو پہنچ گئے تو خدا وند ِ عالم نے بنی اسرائیل میں سے ایک نبی ان کی طرف بھیجا تاکہ وہ انھےں شرک سے روکے اور خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کی دعوت دے لیکن وہ اس نبی پر ایمان نہ لائے اب اس نبی نے فساد او ربت پرستی کی اصل جڑ یعنی اس درخت کے قلع قمع کرنے کی خداسے دعا کی اور بڑا درخت خشک ہو گیا جب ان لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی تو سخت پریشان ہو گئے او رکہنے لگے کہ اس شخص نے ہمارے خداوٴں پر جادو کردیا ہے کچھ کہنے لگے کہ ہمارے خدا اس شخص کی وجہ سے ناراض ہو گئے ہیں کیونکہ وہ ہمیں کفر کی دعوت دیتا ہے ۔ اس بحث مباحثہ کے بعد سب لوگوں نے اللہ کے اس نبی کو قتل کرنے کی ٹھان لی او رگہرا کنواں کھودا جس میں اسے ڈال دیا اور کنویں کا منھ بند کرکے اس کے اوپر بیٹھ گئے اور اس کے نالہ و فریاد کی آوازکو سنتے رہے یہاں تک کہ اس نے جان جانِ آفریں کے سپرد کردی ۔خدا وند عالم نے انھیں ان برائیوں اور ظلم و ستم کی وجہ سے سخت عذاب میں متبلا کرکے نیست و نابود کردیا (4) ۔ بہت سے قرائن اس حدیث کی تائید کرتے ہیں کیونکہ عاود و ثمود کے ذکر کے باوجود ” اصحاب الرس “ کا تذکرہ اس احتمال کی تردید کرتا ہے کہ یہ عاد اور ثمود کی قوم کے بچے کھچے لوگ تھے او ریہ بات بعید بھی معلوم ہوتی ہے ۔ اسی طرح یہ احتمال بھی بعید معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ جزیرة العرب ، شام او ران علاقوں کے گرد و نواح میں رہتے تھے کیونکہ تاریخ عرب میں قاعدةً ان کا ذکر بھی ہونا چاہئیے جبکہ ایسا بہت کم دکھائی دیتاہے ۔ اس سے قطع نظر مندرجہ بالا حدیث میں یہ جو ہے کہ ” ان کی عورتیں بے راہ روی کا شکار تھیں اور ہم جنس بازی کیا کرتی تھیں “ یہ بھی مندرجہ بالا حدیث کے منافی نہیں ہے(5) ۔ البتہ نہج البلاغہ (کے خطبہ نمبر ۱۸۰) کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس صرف نبی نہیں آیا کیونہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :۔ این اصحاب مدائن الرس الذین قتلوا النبیین و اطفاٴ و ا سنن المرسلین و احیوا سنن الجبارین کہاں ہیں رس کے شہروں والے !جنھوں نے انبیاء کو قتل کر ڈالا ، خدا کے رسولوں کی سنت کو مٹا کر جباروں کے رسم و رواج کو فروغ دیا۔ اس تعبیر سے بھی روایت بالا کی نفی نہیں ہوتی کیونکہ ممکن ہے کہ روایت میں ان کی تاریخ کے صرف اس ایک حصے کی طرف اشارہ ہو جس میں پیغمبر بھیجا گیا تھا۔ 1۔ مفردات راغب۔ 2 ۔اعلام القرآن، ص ۱۴۹۔ 3 ۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۰ ص ۹۴۔ 4 ۔”عیون اخبار الرضاعلیہ اسلام “( منقول و ملخص از تفسیر المیزان جلد ۱۵ ص ۲۳۷۔ 5 ۔ کافی ( منقول از تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص۱۹ ) ۔