وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَالَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
It will be a day when the wrongdoer will bite his hands, saying, ‘I wish I had followed the Apostle’s way!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:27
[Pooya/Ali Commentary 25:27] Aqa Mahdi Puya says: The unjust referred to in this verse are those who had gone astray after receiving the guidance. They were among those who declared belief in Allah and His prophet and His religion. After seeing and accepting the clear evidences they had deviated from the right path as said in verse 19 of Ali Imran. There were quite a few like these among the companions of the Holy Prophet.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:27-29
برے دوست نے گمراہ کیا
قیامت کے مناظربھی عجیب و غریب ہو ں گے جن کا کچھ حصہ ابھی گزشتہ آیات کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے اور ان آیات میں ان مناظر کا ایک اور پہلو اجاگر کیا جا رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ ظالم لوگ بروزِقیامت اپنے گزشتہ کردار پر حد سے زیادہ حسرت اور افسوس کریں گے ، چنانچہ خدا فرماتا ہے : ”اس دن کو یاد کیجئے جب ظالم حسرت کیوجہ سے اپنے ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹے گا اور کہے گا اے کاش ! میں رسول اللہ کا راستہ اپنا یاہوتا( وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْہِ یَقُولُ یَالَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیلًا)(۱) ۔ ”یعض“ عض“( بروزن”سد“)کے مادہ سے ہے جس کا معنی دانتوں سے کاٹنا ہے ۔ عموماًیہ تعبیر ان لوگوں کے لئے استعمال کیا جاتی ہے جو افسوس اور حسرت کی وجہ سے سخت پریشان ہوتے ہیں جیسا کہ فارسی میں بی ضرب المثل ہے کہ ”کہ فلاں شخص حسر ت کی وجہ سے اپنی انگلی دانتوں سے کاٹ رہا ہے “(لیکن عربی میں انگی کے بجائے ہاتھ کا لفظ بولا جاتا ہے اور شاید یہ زیادہ فصیح بھی ہے کیونہ انسان عموماًایسی حالت میں انگلیوں ہی کو نہیں کا ٹتابلکہ ہاتھ کی پشت کو بھی کاٹتا ہے خصوصاً عربی زبان میں ایسے مواقع پر لفظ ”یدیہ“ ( دونوں ہاتھ ) استعمال کیا جاتا ہے جو حسرت ، یاس ، ناکامی اور افسوس کو زیادہ بہتر صورت میں بیان کرتا ہے(۲) ۔ حذر کن ز آنچہ دشمن گوید کن کہ بردند ان گزی دست تغابن (جو کچھ دشمن کہتا ہے اس کے کرنے بچو و گر نہ نقصان کے وقت ہاتھ کو دانتوں سے کاٹو گے )۔ یہ شاید اس لئے کہ اس قماش کے لوگ جب اپنے ماضی پر نظر ڈالتے ہیں تو خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں اور اس قصور کا انتقام بھی خود سے لینے کی ٹھان لیتے ہیں تاکہ وہ اس طر ح سے قدرے اطمینان حاصل کرسکیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس دن کو ” یوم الحسرة“ کہنا چاہیئے جیسا کہ خود قرآن نے بھی اسے اس نام سے یاد کیا ہے ملاحظہ ہو سورہٴ مریم آیت ۳۹ کیونکہ مجرم اور گناہگار لوگ اپنے آپ کو ایک ایسی زندگی بسر کرنے کےلئے مجبور پائیں گے جو کبھی بھی ختم نہیں ہوگی جبکہ وہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں صبر و شکیبائی ، خواہشات ِ نفسانی کی مخالفت، جہاد با نفس اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرکے ہمیشہ کی عزت و افتخار اور سعادت کی زندگی حاصل کرسکتے تھے ۔ حتی کے قیامت کا دن نیک لوگوں کے لئے بھی حسرت اور ن دامت کا دن ہو گا کیونکہ وہ اس بات کا فسوس کریں گے کہ انھوں نے دنیا میں اس سے زیادہ نیکی کیوں نہیں کی۔ قرآن آگے فرماتا ہے کہ یہ ظالم بڑے افسوس کے ساتھ کہے گا :”پٹھکار ہو مجھ پر کاش کہ میں فلاں گمراہ شخص کو اپنا دوست نہ بنا یا ہوتا( یَاوَیْلَتِی لَیْتَنِی لَمْ اٴَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیلًا)(۳) ۔ ظاہر ہے کہ ”فلاں“ سے مراد وہ شخص ہے جو اسے گمراہی کی طرف کھینچ لایا تھا خواہ وہ شیطان تھا یا برا دوست اور گمراہ رشتہ دار یا ”عقبہ“ جیسے لوگوں کے لئے ”ابی“ جیسے دوست و احباب ۔ در حقیقت یہ آیت اور اس سے پہلے والی آیت نفی اور اثبات کی دو مختلف حالتیں بیان کررہی ہیں ایک جگہ کہتا ہے اے کاش ! میں نے پیغمبر کا رستہ اختیار کیا ہوتا اور دوسری جگہ کہتا ہے : اے کاش ! میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنا یا ہوتا ۔ گویا وہ یہ کہا چاہے گا کہ میری تمام بد بختی پیغمبر سے رابطہ ترک کرنے اور اس گمراہ دوست سے دوستی کی وجہ سے ہے ۔ سلسلہ کلام جاری ہے آگے فرماتا ہے کہ وہ کہے گا : بیداری اور علم و آگہی میرے پاس آچکی تھی (سعادت اور خوش بختی نے میرا دروازہ بھی کھٹکھٹایا تھا )لیکن اس بے ایمان دوست نے مجھے گمراہ کیا( لَقَدْ اٴَضَلَّنِی عَنْ الذِّکْرِ بَعْدَ إِذْ جَائَنِی )۔ اگر ایمان اور سعادت ابدی سے زیادہ دور ہوتا پھر تو افسوس کی کوئی ایسی بات ہی نہیں تھی لیکن میں اس سعادت ِ جاودانی کی سر حد کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا صرف ایک قدم کا فاصلہ باقی تھا کہ اس ہٹ دھرم متعصب اور دل کے اندھے شخص نے مجھے چشمہ ٴ آبِ حیات کے کنارے سے پیا سا پلٹا کر بد بختی اور گمراہی کے دلدل میں ہمیشہ کے لئے پھنسا دیا۔ مندر جہ بالا جملے میں مذکورہ لفظ ” ذکر“ کے وسیع معنی ہیں اور آسمانی کتابوں کی تمام آیات خدا وندی اس کے مفہوم میں شامل ہیں بلکہ وہ ہر چیز جو انسان کی بیداری اور آگہی کا سبب بنتی ہے اس میں آجاتی ہے ۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے :شیطان تو انسان کو ہمیشہ سے چھوڑتا رہا ہے (وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا)۔ کیونکہ وہ انسان کو کھینچ تان کر غلط راستے پرڈال دیتا ہے اور خطرناک مقام پر پہنچا کر اسے حیران و سر گرداں چھوڑ کر اپنی راہ لیتا ہے ۔ توجہ رہے کہ ”خذول“ مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا معنیٰ ہے بار بار چھوڑ نے والا۔” خذلان“ کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کی امداد کے لئے عہد کرے لیکن نہایت ہی حساس لمحات میں اس کی امداد ست ہاتھ اٹھالے ۔ آیا اس آیت کا یہ آخری جملہ ” وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولاً“ قول خدا وندی ہے جو کہ تمام ظالموں اور گمراہوں کو تنبیہ کی صورت میں بیان ہوا ہے یا بروزِ قیامت ان حسرت زدہ لوگوں کے قول کا ایک حصہ ہے جو تتمّہ کے طور پر بیان ہوا ہے ؟اس بارے میں مفسرین نے دو طرح کی تفسریں بیان کی ہیں اور دونوں ہی آیت سے مناسبت رکھتی ہیں ۔ لیکن قولِ خدا ہونا زیادہ مناسب ہے ۔ 1۔”یوم یعض“ کاجملہ ادبی لحاظ سے ”یوم یرون“ پر عطف ہے جو سابق میں گزر چکا ہے بعض مفسرین نے” اذکر“ کو مقدر سمجھا ہے اور اس سے متعلق قرار دیا ہے ۔ 2۔ فارسی میں بھی کبھی ہاتھ کو دانتوں سے کاٹنا بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ شیخ سعدی نے ایک شعر میں اسی محاورے کو استعمال کیا ہے ۔ 3۔”خلیل “ اس خاص اور جگری دوست کو کہتے ہیں جسے انسان اپنے مشوروں میں شریک کرتا ہے البتہ خلیل کے اور بھی بہت سے معانی ہیں جن کی تفصیل تفسیر نمونہ جلد چہارم ( سورہٴ نساء کی آیت ۱۲۵) میں گزر چکی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:27-29
دوستی کا اثر
اس میں شک نہیں کہ انسان کی سیرت اور شخصیت کی تعمیری عوامل میں اس کے اپنے ارادے منشا اور خواہش کے بعد اور بھی بہت سے مختلف امور شامل ہوتے ہیں جن میں سب سے زیادہ اہم موٴثر عامل اس کا دوست اور ہم نشین ہوتا ہے کیونکہ انسان چار و ناچار اس کا اثر ضرور قبول کرتا ہے نیز اپنے اکثر و بیشتر افکار اور اخلاقی صفات اپنے دوستوں اورہم نشینوں سے حاصل کرتا ہے اور یہ حقیقت علمی ، تجرباتی اور مشاہدتی طور پر پایہ ثبوت تک بھی پہنچ چکی ہے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے دوستی کے اثر کی اہمیت تو اس حد تک ہے کہ اسلامی روایات میں خداکے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام سے یوں منقول ہے : لاتحکمواعلی رجل بشیء حتی تنظروا الیٰ من یصاحب ، فانما یعرف الرجل باشکالہ و اقرانہ و ینسب الیٰ اصحابہ و اخدانہ جب تک کسی انسان کے دوستوں کو صحیح طرح نہ دیکھ لو تو اس وقت تک اس کے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کرو کیونکہ انسان اپنے دوست و احباب اور یار و انصار سے پہچانا جاتا ہے (1) ۔ امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کا ایک فصیح و بلیغ ارشاد ہے :۔ و من اشتبہ علیکم امرہ ولم تعرفوا دینہ ، فانظروا الیٰ خلطائہ فان کانوا اھل دین اللہ فھو علی دین اللہ ، و ان کا نوا علی غیر اللہ فلاحظ لہ من دین اللہ۔ جب کسی شخص کی کیفیت اور حقیقت ِ حال کو نہ پہچان سکو اور اس کے دین کے متعلق بھی تمھیں معلوم نہ ہو سکے تو اس کے دوست و احباب کو دیکھ لیا کرو و اگر وہ ٓخدا کے دین کے پابند ہیں تو وہ بھی دین الہٰی کا پیروکار ہو گا اور اگر وہ اہل دین نہیں ہیں تو اس کا بھی دین میں کوئی حصہ نہیں ہے (2) ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ بسا اوقات کسی شخص کی نیک بختی یا بد بختی کے لئے اسکے دوست کید وستی سب عوامل سے موثر عامل ہوتی ہے یا تو یہ دوستی اسے فنا کی سر حدوں تک لے جاتی ہے اوریا پھر اعزاز ا فتخار کی بلندیوں تک جا پہنچاتی ہے ۔ مذکورہ بالا آیت اور ان کی شانِ نزول سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کیونکر سعادت اور خوش بختی کی بلندیوں کو چھو سکتاہے لیکن ایک دوست کی طرف سے صرف ایک شیطانی وسوسہ کی طرح رجعت قہقری میں مبتلا کرکے اسے ہلاکت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈال دیتا ہے کہ جس پر وہ حسرت کرگا اور بروز قیامت اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹے گا اور ” یا ویلتی “ کی فریادیں بلندکرے گا ۔ اس مختصر ہی بحث کو دو حدیث بیان کرکے ہم ختم کرتے ہیں جو احباب بیشتر تفصیل کے خواہش مند ہیں وہ بحار الانوار جلد ۷۴ کتاب العشرة کا مطالعہ فرمائیں ۔ اسلام کے نویں عظیم الشان پیشوا حضرت محمد تقی جواد علیہ السلام فرماتے ہیں :۔ ایاک و مصاحبة الشریر فانہ کالسیف المسلول یحسن منظرہ ویقبح اثرہ برے شخص کی ہم نشینی سے بچو کیونکہ وہ شمشیر بر ہنہ کی مانند ہوتا ہے جس کا ظاہر خوبصورت اور اثر بہت خطر ناک ہو تا ہے (3) ۔ پیامبر اکرم فرماتے ہیں : اربع یمتن القلب :الذنب بالدنب ومجالسة الموتی، وقیل لہ یا رسول اللہ و ما الموتی؟ قال کل غنی مترف چار چیزریں انسانی دل کو مردہ کردیتی ہیں ،گناہ کاتکرار (یہاں تک کہ فرمایا ) مردوں کے ساتھ ہم نشینی ،کسی نے پوچھا حضور!وہ مردے کون ہیں ؟فرمایا وہ دولتمند جو اپنی دولت کے نشے میں مست ہوتے ہیں(4) ۔ 1 ۔ سفینة البحار جلد ۲ ص ۲۷ (مادہ”صدق“)۔ 2۔ بحار الانوار جلد ۷۴ ص ۱۹۷۔ 3 ۔ بحار الانوار جلد ۷۴ ص ۱۹۸۔ 4 ۔ فصال صدوق ( منقول از بحار الانوار جلد ۷۴ ص ۱۹۵)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:27-29
سوره فرقان / آیه 27 - 29
۲۷۔ وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْہِ یَقُولُ یَالَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیلًا۔ ۲۸۔ یَاوَیْلَتِی لَیْتَنِی لَمْ اٴَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیلًا۔ ۲۹۔ لَقَدْ اٴَضَلَّنِی عَنْ الذِّکْرِ بَعْدَ إِذْ جَائَنِی وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا۔ ترجمہ ۲۷۔اس دن کو یاد کیجئے جب سخت حسرت کی وجہ سے ظالماپنے ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا او رکہے گا :اے کاش !میں نے رسول کے ساتھ ہی راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ۲۸۔مجھ پر افسوس ہے کہ میں نے فلاں ( گمراہ شخص) کو اپنا دوست نہ بنا یاہوتا۔ ۲۹۔ اس نے مجھے یاد حق سے بھٹکادیا جب کہ میرے پاس آگاہی پہنچ چکی تھی اور شیطان تو ہمیشہ سے انسان کو چھوڑدینے والا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:27-29
شان نزول
مفسرین نے ان آیات کی جو شان ِ نزول بیان کی ہے ، مختصراًیوں ہے : پیغمبر اسلام کے دور میں مشرکین میں ” عقبہ“ اور ” ابی“ نامی دو شخص رہتے تھے جو ایک دوسرے کے دوست تھے جب بھی عقبہ کسی سفر سے گھر واپس لوٹتا تو اپنی قول کے سرداروں کو کھانے کی دعوت دیتا۔ اگر چہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن اس کا جی چاہتا تھا کہ رسول اللہ کی بار گاہ میں بھی حاضر ہو۔ حسب معمول ایک دن جب سفر سے واپس آیاتو کھانے کا انتظام کیا اور دوستوں کو دعوت دی اور ساتھ ہی حضرت پیغمبر اسلام کو بھی کھانے پر بلا لیا ۔ جب دسترخوان بچھا دیا گیا اور کھانا لایا گیا تو آنحضرت نے فرمایا میں تمہارا کھانا اس وقت تک نہیں کھاوٴں گا جب تک تم کلمہ شہادتین ( اقرار توحید و رسالت ) زبان پر جاری نہیں کروگے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ یہ خبر جب اس کے دوست”ابی“ تک پہنچی تو اس نے کہا :” عقبہ! کیا تم اپنے دین سے پھر گئے ہو“؟ عقبہ نے جواب دیا :” بخدا میں دین سے منحرف نہیں ہوا لیکن چونکہ ایک ایسا شخص میر امہمان تھا جومیرے شہادتین کے اقرار کئے بغیر کھانا کھانے کے لئے تیار نہیں تھا اور چونکہ مجھے اس بات سے شرم آئی تھی کہ وہ کھانا کھائے بغیر میرے دستر خوان سے اٹھ چلاجائے لہٰذا مجھے یہ کہنا پڑا“۔ ابی نے کہا :” میں اس وقت تک تم سے راضی نہیں ہو ں گا جب تک کہ اس ( پیغمبر اسلام )کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی زبر دست توہین نہ کرو“۔ چنانچہ عقبہ نے ایسا ہی کیا اور مرتد ہوگیا اور انجام کار جنگ بدر میں کفار کی صف میں مارا گیا اسی طرح اس کا دوست” ابی“ بھی جنگ احد میں اپنے انجام کو پہنچ گیا(۱)۔ مندر بالاآیات نازل ہو ئیں اور ان میں ایسے شخص کا انجام بیان کیا گیاجو اس دنیا میں اپنے گمراہ دوست کی دوستی کی وجہ سے گمراہ ہو جا تا ہے ۔ ہم کئی مرتبہ بتاچکے ہیں کہ اگر چہ آیات کی شانِ نزول خاص ہوتی ہے لیکن اسے آیات کا مفہوم ہر گز محدود نہیں ہوتا بلکہ ان کے کلیے اور قاعدے اس قسم کے تمام افراد کے لئے ہوتے ہیں ۔ 1۔ مجمع البیان انہی آیات کے ذیل میں ۔