وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَى رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا
Those who do not expect to encounter Us say, ‘Why have angels not been sent down to us, or why do we not see our Lord?’ Certainly, they are full of arrogance within their souls and have become terribly defiant.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:21
[Pooya/Ali Commentary 25:21] Many a clear signs of Allah was made visible to the disbelievers on several occasions but they belied each of them because of their rebellious nature, a satanic tendency. Their arrogance and insolence were beyond all bounds. Like the Jews (in al Baqarah : 55) they insisted upon seeing Allah with their own eyes which turned blind because of falsehood. Aqa Mahdi Puya says: The tendency of the disbelievers to reject whatever is not experienced by the senses is still the yardstick of truth among the so-called educated persons.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 25:21-34
1. Love for the Ahl al-Bayt, who are “truth personified” which is essential for guidance, must result in following them, to attain salvation, and which will be evident as death approaches their intercession for their faithful followers to the angel of death at partition of soul and pangs thereof. Then during questioning of the angels in the grave, again on the Field of Judgment Day, again near the cistern, when thirst will turn men, out of spirits, during exposition of chart deeds, and their scrutiny, crossing of the bridge over hell, and final admission to Paradise are places of salvation, needing intercession of Divine Lights. 2. The Prophet will complain having neglected his family (Divine Lights) despite his repeated warnings at the time of his departure, and for having followed usurpers of his succession, due to their over-awing influence. 3. There will be men going to the accounting plain on (a) camelback, (b) others on foot , and (c) the rest on head over heels, as per couplet 34.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:21-24
اعمال صالح کی تباہی
لفظ ”ھباء “ کا غبار کے وہ نہایت ہی باریک ذرّات ہیں جو عام حالات میں دیکھنے میں نہیں آتے لیکن جب سورج کی روشنی بند کمرے کے سوراخ سے کمرے کے اندر آتی ہے تو اس میں یہی ذرّات تیرتے نظر آتے ہیں ۔ اس تعبیر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کفار اور مشرکین کے اعمال اس قدر بے قیمت اوربے اثر ہوں گے کہ گویا ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہوگا خواہ وہ اپنے اعمال کے لئے سالہا سال تک کوشش ہی کیوں نہ کرتے رہے ہوں ۔ یہ آیت سورہ ابراہیم کی آیت ۱۸ کی مانند ہے جس میں خدا فرماتا ہے :۔ مثل الذین کفروا بربھم اعمالھم کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف جن لو گوں نے پر وردگار کا انکار کیا ہے ان کے اعمال کی سزا ایسی ہے جیسے کسی طوفانی دن میں تیز ہوا کے سامنے راکھ کا ڈھیر۔ اس کی منطقی دلیل بھی واضح ہے کیونکہ جو چیز انسان کے اعمال کو شکل و صورت ، حیثیت اور قدر و منزلت عطا کرتی ہے وہ ہے انسان کی نیت اور اس کا قصد و ارادہ ، کیونکہ مومنین کے اعمال میں رضائے خدا ، توحید ،پاکیزہ مقصد اور صحیح و سالم منصوبہ بندی پیشِ نظر ہوتی ہے جبکہ بے ایمان افراد کے پیش نظر ظاہر داری ، ریا کاری ،جھوٹ ، فریب اور ذاتی مفادات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے اعمال صالح بھی ان کی قدر و منزلت کھو دیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ہم ایسی مساجد کو بھی جانتے ہیں ۔جو صدیوں پرانی ہیں ۔ سینکڑوں سال گزر جانے کے بعد بھی ان میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا جبکہ اس کے بر عکس ایسے گھروں کو بھی جانتے ہیں جو ایک ماہ یا ایک سال گزر جانے کے بعد خراب ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ان میں کوئی نہ کوئی نقص پیدا ہوگیاہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مساجد کی تعمیر کے سلسلے میں خدا کی خشنودی مطلوب ہو تی ہے لہٰذا انھیں ہر لحاظ سے پختہ اور تمام حوادث کو پیش نظر رکھ کر بہترین مٹیریل کے ساتھ تعمیر کیا گیا ، جبکہ رہائشی مکانوں کے سلسلے میںظاہر داری اورفریب کاری کے ذریعے مال و دولت کا جمع کرنا مقصود تھا صرف ان ظاہری آب وتاب اور نقش و نگار کی طرف توجہ دی گئی (1) ۔ اصولی طور پر اسلامی منطق کی رو سے اعمال صالح کے لئے کچھ آفتیں ہیں جن کی طرف زیادہ توجہ دینا چاہئیے کہ کبھی تو وہ اپنے آغاز ہی سے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں جیسے وہ اعمال جو ”ریا“ کے طور پر انجام دئے جائیں۔ کبھی ان عمال کی انجام دہی کے دوران ہی انسان غرور، تکبر اور خود پسندی کا شکار ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اعمال کی قدر وقیمت وضائع ہو جاتی ہے ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اعمال خیر کی ادائیگی کے بعد انسان سے ایسے نا مناسب کام سر زد ہو جاتے ہیں جن سے ان اعمال کا اثر بالکل ختم ہو جاتا ہے مثلا ًراہ خدا میں خرچ کرنے کے بعد احسان جتانا اس کے اثر کو زائل کردیتا ہے یا جن نیک اعمال کی انجام دہی کے بعد انسان کا فر یا مرتد ہو جائے ۔ حتی کے بعض اسلامی روایات کے مطابق بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی انجام دہی سے پہلے کے گناہ کی وجہ سے ان کاکوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوتا۔ جس طرح شراب خور کے بارے میں ہے کہ اس کے اعمال چالیس روز تک بار گاہ ایزدی میں قبول نہیں ہوتے (2) ۔ بہر حال اسلام کے نزدیک عمل ِ صالح کا ایک بچا تلال اور منظم معیار ہے ۔ ایک روایت میں جو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے : قیامت کے دن خدا وند عالم ایک ایسے گروہ کو مبعوث فرمائے گا جن کے سامنے ان کے سفید لباس کی مانند روشنی چمک رہی ہو گی( یہ روشنی ان کے اعمال ہوں گے )پھر خدا ن کے اعمال کو حکم دے گا کہ ذرّات میں تبدیل ہو جاوٴ ( تو وہ سب ذرّات میں تبدیل ہو جائیں گے)۔ وہ کو ن لوگ ہوں گے اس بارے میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں :۔ انھم کانوا یصومون و یصلون و لٰکن کانوا اذا عرض لھم شیء من الحرام اخذوہ واذا ذکرلھم شیء من فضل امیرالموٴمنین انکروہ۔ وہ لوگ نماز و روزہ کی بھی ادائیگی کرتے تھے لیکن جب کوئی حرام چیز ان کے سامنے آجاتی تو وہ اس سے بھی چمٹ جاتے اور جب علی امیر المومنین علیہ اسلام کی کوئی فضیلت ان کے سامنے بیان کی جاتی تو وہ اس کا انکار کرتے(3) ۔ جہاں تک قرآن مجید کا طریقہ کار ہے تو وہ نیک اور بد کو ایک ساتھ بیان فرماتا ہے تاکہ دونوں کا آپس میں موازنہ کرکے ہر ایک کی کیفیت کو اچھی طرح سمجھا جا سکے چنانچہ بعد والی آیت دوزخیوں کے بارے میں گفتگو کرتی ہے ۔خدا فرماتا ہے :اس دن بہشتیوں کا ٹھکانہ سب سے بہتر اور ان کی رہائش گاہ سب سے عمدہ ہو گی(اٴَصْحَابُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُسْتَقَرًّا وَاٴَحْسَنُ مَقِیلاً)۔ اس بات کا مقصد یہ نہیں ہے کہ دوزخیوں کی حالت اچھی ہو گی اور بہشتیوں کی حالت ان سے زیادہ اچھی ہو گی، کیونکہ ،”افعل التفضیل “ کا لفظ بعض اوقات ایسے مواقع پر بھی استعمال ہوتا ہے جن میں ایک فریق میں ایسی صفات پائی جاتی ہیں دوسرا فریق جن سے بالکل عاری ہوتا ہے جس طرح سورہٴ حٰم سجدہ کی آیت ۴۰ میں ہے : افمن یلقیٰ فی النار خیر ام من یاٴتی اٰمناً یوم القیامة آیا جو شخص جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا وہ بہتر ہے یا جو شخص بروز قیامت مطمئن ہو کر عرصہ ٴ محشر میں آئے گا ۔ ” مستقر“ کے معنیٰ قرار گاہ اور ٹھکانا کے ہیں اور ”مقیل “کا دوپہر کے وقت آرام کرنے کی جگہ ہے (”قیلولہ“ کے مادہ سے ہے جس کا معنیٰ ہے دو پہر کی نیند)۔ 1 اس سلسلے میں ہم سے زیادہ مفصل طریقے پرتفسیر نمونہ کی جلد نمبر ۱۰ سورہ ابراہیم کی آیت ۱۸ کے ضمن میں بحث کرچکے ہیں ۔ 2 ۔سفینة البحار جلد ۱ ص۴۲۷ مادہ” خمر“ 3۔ تفسیر علی بن ابراہیم ۔منقول از تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۹۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:21-24
سوره فرقان / آیه 21 - 24
۲۱۔ وَقَالَ الَّذِینَ لاَیَرْجُونَ لِقَائَنَا لَوْلاَاٴُنزِلَ عَلَیْنَا الْمَلَائِکَةُ اٴَوْ نَرَی رَبَّنَا لَقَدْ اسْتَکْبَرُوا فِی اٴَنفُسِھِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیرًا۔ ۲۲۔ یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلَائِکَةَ لاَبُشْرَی یَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِینَ وَیَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا۔ ۲۳۔ وَقَدِمْنَا إِلَی مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاہُ ھَبَاءً مَنْثُورًا۔ ۲۴۔اٴَصْحَابُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُسْتَقَرًّا وَاٴَحْسَنُ مَقِیلاً۔ ترجمہ ۲۱۔اور وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیںرکھتے(اور قیامت کا انکار کرتے ہیں )کہتے ہیں :ہم پرفرشتے کیوں نازل نہیں ہوتے ؟یا ہم اپنے رب کی آنکھوں سے کیوں نہیں دیکھتے ؟انھوں نے اپنے بارے میں تکبر کیا اور بہت بڑی سرکشی کے مرتکب ہوئے۔ ۲۲۔(وہ اپنی آرزووٴں کو پہنچ جائیں گے لیکن )جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے وہ دن مجرمین کی خوشخبری کا نہیں ہوگا ( بلکہ ان کی سزا اور عذاب کا دن ہو گا )اور وہ کہیں گے کہ ہمیں امان دو ہمیں معاد کردو۔ ۲۳۔ اور ہم ان کے اعمال کی طرف آگے بڑھیں گے جو وہ انجام دے چکے ہیں اور ان اعمال کو غبار کے ذرّوں کی مانند بکھیر دیں گے ۔ ۲۴۔اس دن بہشتیوں کا ٹھکانا سب سے بہتر اور ان کی رہائش گاہ سب سے عمدہ ہو گی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:21-24
بہت بڑے دعوے
ہم بتا چکے ہیں کہ توحید اور قیامت پر عقیدہ رکھنے کے نتیجے میں انسان پر جو فرائض عائد ہوتے ہیں اور اسے جو ذمہ داریاں نبھا نے پڑتی ہیں ان سے جان چھڑانے کے لئے ہٹ دھرم مشرکین نے پیغمبر ِخداکی ذات پرمختلف قسم کے اعتراضات شروع کردیتے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ پیغمبر ہماری طرح کھا تا پیتا کیوں ہے اورکیوں ہماری طرح بازار میں آتا جاتا ہے ؟ اس کا جواب ہم ابھی ابھی پڑھ چکے ہیں ۔ ان آیات میں ان مشرکین کے دو اور دو اعتراضات کا تذکرہ ہے اور ساتھ ہی ان کا جواب بھی پیش کیا گیا ہے ۔ پہلے تو فرمایا گیا ہے :جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے (اور قیامت کا انکارکرتے ہیں )کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں نازل ہوتے یا اپنے پروردگار کو ہم اپنی آنکھوں سے کیوں نہیں دیکھ پاتے (وَقَالَ الَّذِینَ لاَیَرْجُونَ لِقَائَنَا لَوْلاَاٴُنزِلَ عَلَیْنَا الْمَلَائِکَةُ اٴَوْ نَرَی رَبَّنَا )۔ بالفرض مان لیا کہ پیغمبر بھی ہماری طرح عمومی زندگی گزار سکتے ہیں لیکن یہ بات تو ماننے کے قابل نہیں ہے کہ وحی کا فرشتہ ان کے پاس آئے اور ہم نہ دیکھ پائیں اگر فرشتہ ظاہری طور پر ہمیں نظر آئے اور آپ کی نبوت کی تصدیق کرے یا وحی کا کچھ حصہ ہمارے سامنے بیان کرے تو اس میں کیا حرج ہے ؟ یا اگر ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تو ہمارے شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے ۔ یہی باتیں بار بار سوال کی صورت میں ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں اور محمد کی دعوت کو قبول کرنے سے روکتی رہتی ہیں ۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید ایسے معترضین کو ” لاَیَرْجُونَ لِقَائَنَا“کے عنوان سے موصوف کرتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان بے بنیاد باتوں کا سر چشمہ آخرت پر ایمان سے انکار اور خدا کی طرف سے عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے فرار ہے ۔ سوہ حجر کی آیت ۷ میں بھی اسی سے ملتی جلتی گفتگو موجود ہے ، کفار کہتے ہیں : لوما تاٴتینا بالملائکة ان کنت من الصادقین اگر تو اپنے قول میں سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتا تاکہ وہ آکر تیری تصدیق کریں ۔ اسی سورہ فرقان کے آغاز میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے :۔ لولا انزل الیہ ملک فیکون معلہ نذیراً تیرے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں کیا گیا تاکہ وہ بھی لوگوں کو ڈراتا۔ جبکہ ایک حق طلب انسان کسی بات کے ثبوت کے لئے صرف دلیل ہی طلب کرتا ہے اس دلیل کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو ، جب اسلام کے عظیم الشان پیغمبر نے قرآن سمیت متعدد معجزات پیش کرکے اپنی دعوت کی حقانیت اورصداقت کو روز روشن کی طرح ثابت کردکھا یا تو پھر ان بے بنیاد باتوں اور حیلے بہانوں کا کیا معنیٰ؟ پھر یہ کہ وہ لوگ نبوت کی تحقیق اور ثبوت کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کرتے تھے اس کی بہترین دلیل یہ ہے کہ انھوں نے خدا کو دیکھنے کا مطالبہ کرکے اسے ایک قابل رویت جسم کی حد تک گرادیا ۔ وہی بے بنیاد مطالبہ جو بنی اسرائیل کے مجرم لوگوں نے کیا تھا اور اس کا شافی جواب بھی سن لیا تھا اس کی تفصیل سورہ ٴ اعراف کی آیت ۱۴۳ میں گزر چکی ہے ۔ لہٰذا قرآن مجید ایسے مطالبات کا جواب زیر بحث آیت میں دے رہا ہے : انھوں نے اپنے بارے میں تکبر سے کام لیا ہے اور غرور، تکبر اور خود پسندی کا شکار ہو گئے ہیں (لَقَدْ اسْتَکْبَرُوا فِی اٴَنفُسِھِمْ)۔ انھوں نے طغیان اور سر کشی کی ، بہت بڑی سر کشی ( وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیرًا)۔ ”عتو“(”غلو“کے وزن پر ہے )جس کا معنی ٰ ہے اطاعت سے ایسی رو گردانی اور حکم کی خلاف ورزی کہ جس کے ساتھ دشمنی اور ہٹ دھر می بھی شامل ہو ۔ ”فی انفسھم “کی تعبیر ممکن ہے اس معنی میں ہو کہ وہ خود اپنے بارے تکبر اور خود پسندی کا شکار ہیں یہ معنیٰ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تکبر اور غرور کو تو اپنے دل میں چھپاتے ہیں ہیں اور اس قسم کے حیلے بہانوں کو آشکار کرتے ہیں ۔ ہمارے اس دور میں بھی کئی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس زمانے کے مشرکین کی منطق کو دہرارہے ہیں کہ جب تک ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے اور روح کے آپریشن کے ذریعے نہ دیکھ لیں اس وقت تک نہیں مانےں گے دونوں کے خیالات کا ایک ہی سر چشمہ ہے اور وہ ہے تکبر اور سر کشی ۔ - اصولی طور پر جو لو گ شناخت کا معیار صرف حس اور تجربے ہی کو جانتے ہیں تقریباًایسی ہی باتیں کرتے رہتے ہیں ۔ تمام مادہ پرست افراد(Melerialists)اسی گروہ میں شامل ہیں ۔ حالانکہ ہماری حس تو اس کائنات کے مادے کے صرف تھوڑے سے حصے کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ اس کے بعد قرآن دھمکی کی صورت میں فرماتا ہے کہ جو فرشتوں کے دیکھنے کا مطالبہ کررہے ہیں آکرکار انہیں دیکھ ہی لیں گے لیکن اس دن دیکھیں گے کہ جس دن مجرمین کے لئے خوشخبری نہیں ہوگی ( کیونکہ وہ دن ان کے اعمال کی سخت سزا کا دن ہوگا)(یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلَائِکَةَ لاَبُشْرَی یَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِین)(۱) ۔ یقینااس دن فرشتوں کو دیکھ کر وہ خوش تو نہیں ہو ں گے بلکہ جونہی وہ ان فرشتوں کے ہمراہ عذاب کی علامات دیکھیں گے تو اس قدر وحشت زدہ ہوجائیں گے کہ ایسے جملے زبان پر لائیں گے جو خطرناک مواقع پر لوگوں کو دیکھ کر کہا کرتے تھے چنانچہ وہ کہیں گے کہ ہمیں امامن دوہمیں معاف کردو( وَیَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا)۔ اس میں شک نہیں ہے کہ انھیں اپنے حتمی برے انجام سے نہ تو یہ جملہ بچا سکے گا اور نہ ہی کوئی دوسرا جملہ کیونکہ جو آگ خود انہوں نے بھڑ کائی ہے وہ انھیں ہر صورت میں اپنی طرف کھینچ لے گی اور جن برائیوں کا وہ دنیا میں ارتکاب کرچکے ہیں وہ مجسم ہو کر ان کے سامنے آجائیں گی اور خود کردہ را علاجے نیست ۔ ”حِجر“(بر وزن ”قشر“)اس علاقے کوکہا جاتا ہے جس کے ارد گرد پتھر چن دئے جائیں اور اس طرح سے اس کی حد بندی کردی جائے کہ اس حدود میں کوئی شخص داخل نہ ہو سکے ۔ ” حجر اسماعیل “ کو اس لئے حجر کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ارد گرد دیوار بنا کر باقی جگہ سے اسے علیحدہ کر دیا گیا ہے ۔ عقلکو بھی حجر کہتے ہیں کیونکہ انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے اسی لئے سورہٴ فجر کی آیت ۵ میں ہے :۔ حل فی ذٰلک قسم لذی حجر ان باتوں میں صاحبان عقل کے لئے قانع کرنے والی قسم ہے ۔ نیز قول صالح کو ”اصحاب ِ حجر“ کہا گیا ہے جیسا کہ قرآن مجید کی سورہٴ حجر آیت ۸۰ میں ہے کیونکہ وہ پہاڑوں کے اندر اپنی رہائش کے لئے پتھروں کے بہت ہی پختہ مکانات تراش کر ان میں محفوظ ہو جا یا کرتے تھے ۔ یہ تو تھا لفظ ”حجر “ کے بارے میں میں ، رہا ”حجراً محجوراً“ کے بارے میں یہ تو عربوں کی ایک اصطلاح ہے کہ جب ان کا کسی ایسے شخص سے سامنا ہو جائے جس سے وہ ڈرتے ہوں تو امان حاصل کرنے کے لئے یہ جملہ کہتے ہیں ۔ خصوصاً عربوں میں یہ رسم تھی کہ جن حرمت والے مہینوں میں جنگ ممنوع ہوئی تھی اگر کسی شخص کا سامنا کسی ایسے شخص سے ہو جاتا جس کے متعلق یہ احتمال ہوتا کہ شاید یہ شخص حرمت کی پابندی کو توڑ کر جنگ کا آغاز کردے گا اور اس طرح سے دوسرے فریق کو صدمہ ہو گا تو دوسرا فریق یہی جملہ زبان پر لاتا تو اسے امان دے دی جاتی ۔ اس طر جسے ہر قسم کی وحشت و پریشانی اور اضطراب دور ہو جاتا ۔بنابر ین ”حجراً محجوراً“کا یہ معنی ہوگا میں ایسی امان چاہتا ہوں جس میں کوئی تبدیلی نہ ہو“(۲)۔ آیت میں موجود افعال کی مناسبت ،، جملے کا تاریخی سفر اور عربوں میں اس کا استعمال بھی اسی بات کا متقاضی ہے ہر چند کہ بعض لوگوں نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ بات کہنے والے فرشتے ہوں گے جن کا مقصد” مشرکین کو رحمت الہٰی سے محروم کرنا “ ہو گا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ بات کہنے والے مجرم لوگ ہی ہوں گے جو ایک دوسرے سے حجراًمحجوراًکہیں گے لیخں بہتر اور ظاہر وہی پہلا معنی ٰ ہے جسے بہت سے مفسرین نے بھی اختیار کیا ہے یا پھر اسے اولین تفسیر کے نام سے یاد کیا ہے(۳) ۔ رہی یہ بات کہ مجرمین کس دن فرشتوں سے ایسی ملاقات کریں گے تو مفسرین نے اس بارے میں دو احتمال ظاہر کئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ وہ موت کا دن ہے جب وہ موت کے فرشتوں کو دیکھیں گے جیسا کہ سورہٴ انعام کی آیت ۹۳ میں ہے :۔ ولو تریٰ اذالظالموں فی غمرات الموت و الملائکة باسطوا ایدیھم اخرجوا انفسکم ۔ اگر تم ظالم کو دیکھو گے کہ جب وہ موت کی موجوں میں پھنسے ہوئے ہوں اور موت کے فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ان سے کہ رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں بعض مفسرین نے اس دن سے قیامت کا دن مراد لیا ہے کیونکہ اس دن مجرم اورگناہ گار لوگ عذاب کے فرشتوں کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے اور اپنی آں کھوں سے ان کا مشاہدہ کریں گے ۔ آیات میں قیامت کے ذکر کے پیش نظر اور خاص کر ”یومئذٍ“ کے جملے کو مد نظر رکھ کر یہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن آیت کے مفہوم سے زیادہ نزدیک ہے ۔ بعد والی آیت آخرت میں مجرمین کے اعمال کی کیفیت کو مجسم کرکے کہتی ہے : ہم ان کے ان اعمال کی طرف آگے بڑھیں گے جو وہ انجام دے چکے ہوں گے اور ان اعمال کو غبار کے ذرّوں کی مانند ہوا میں بکھیر دیں گے ( وَقَدِمْنَا إِلَی مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاہُ ھَبَاءً مَنْثُورًا)۔ راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ ”عمل“ سے مراد وہ ہر کام ہے جو ارادے کے ساتھ انجام دیا جائے لیکن ” فعل “ کا معنیٰ عام ہے خواہ وہ ارادے سے انجام دیا جائے یا بغیر ارادے کے ۔ یعنی عمل ارادی کا موں کا نام ہے اور فعل ارادی اورغیر ارادی دونوں کا نام ہے(۴) ۔ ”قدمنا“ ”قدوم“سے ہے جس کا معنیٰ ” وارد ہونا “ یا ”کسی چیز کی تلاش میں نکلنا “ ہے یہاں پر موضوع کے یقینی اور تاکیدی ہونے پر دلیل ہے یعنی یہ بات مسلم اور یقینی ہے کہ انھوں نے جو اعمال بھی اپنے ارادے اور اختیار سے انجام دئے ہیں خواہ وہ ظاہرا ً کارِخیر ہی کیوں نہ ہوں ، ان کے کفر اور شرک کی وجہ سے ہم ان کے تمام اعمال کو غبار کے ذرّوں کی مانند ہوا میں بکھیر کر نیست و نابود کر دیں گے ۔ 1۔ ممکن ہے کہ اس جگہ ”لا“ نفی کے معنی میں ہو جیسا کہ بہت سے مفسرین کہتے ہیں ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ شاید یہ نفرین کے لئے استعمال ہوا ہو تو ایسی صورت میں اس جملہ کا معنی ٰ یہ ہوگا کہ ” اس دن مجرمین کے لئے خوشخبری نہ ہو“۔ 2۔ادبی نکتہ نظر سے ”حجراً“ فعل مقدر کا مفعول ہے اور ”محجوراً“ اس مفعول کی تاکید کے طور پر ہے اس جملے کی اصل یوں ہوگی:۲ اطلب منک منعاً لا سبیل الیٰ رفعہ و دفعہ جو کچھ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ”حجراًمحجوراً“کا یہ جملہ کہنے والے گناہ گار جہنمی لوگ ہوں گے ۔ ۳۔اسی آیت کے ذیل میں ملاحظہ ہو تفسیر المیزان، فخر رازی۔ تفسیر فی ظلال القرآن اور تفسیر ابوفتوح رازی ۔ ۴۔ راغب نے یہ فرق ”عمل“کے مادہ میں ذکر کیا ہے جبکہ ”فعل “کے مادہ میں ا س کے بر عکس کہا ہے لیکن دونوں کلموں کے استعمال کے پیش نظر یہ فرق صحیح معلوم ہو تا ہے البتہ ممکن ہے کہ کچھ استثنائی موارد بھی ہوں جیساکہ کام کرنے والے بیلوں کو ”عوامل“ کہا جا تا ہے ۔