وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا
We did not send any apostles before you but that they indeed ate food and walked in marketplaces. We have made you a [means of] test for one another, [to see] if you will be patient and steadfast, and your Lord is all-seeing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:20
[Pooya/Ali Commentary 25:20] This verse gives answer to the question asked by the disbelievers in verse 7. The believers have been advised to bear hardships inflicted upon them by the disbelievers to serve the cause of Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:20
سوره فرقان / آیه 20
۲۰۔ وَما اٴَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ الْمُرْسَلِینَ إِلاَّ إِنَّہُمْ لَیَاٴْکُلُونَ الطَّعَامَ وَیَمْشُونَ فِی الْاٴَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً اٴَتَصْبِرُونَ وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیرًا ۔ ترجمہ ۲۰۔ہم نے تجھ سے پہلے رسولوں کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہ بھی کھانا کھاتے اور بازار میں چلتے پھرتے اور تم سے بعض کو دوسرے بعض لوگوں کے لئے آزمائش کا ذریعہ قرار دیا ہے کہ آیا صبر کرتے ہو؟(اور امتحان سے عہدہ بر آتے ہو؟)اور تیرا پر پردگار بصیر اور دیکھنے والا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:20
شان نزول
بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیات میں سے پہلی شان نزول کے بارے میں یہ روایت بیان کی ہے کہ مشرکین کے کچھ سر غنے آنحضرت کی خدمت میں آکر کہنے لگے اے محمد !تو ہم سے کیا چاہتا ہے ؟ اگر حکومت کی ضرورت ہے تو ہم تجھے اپنا حاکم اور سر پرست بناتے ہیں اگر مال چاہتے ہو تو ہم تجھے مال دئے دیتے ہیں وغیرہ ۔لیکن جب آپ نے ان کی کسی پیش کش کو بھی قبول نہ کیا اور نہ ہی ان کی خواہشات کے سامنے سر تسلیم خم کیا تو لگے وہ مختلف قسم کی الزام تراشی کرنے اور کہنے لگے کہ تو خدا کا رسول کیسے ہو سکتا ہے جبکہ تو کھانا کھاتا ہے اور بازار میں بھی آیا جاتا ہے ؟ وہ آنحضرت کو کھانا کھانے پر مطعون کرنے لگے کیونکہ ان کے خیال میں پیغمبر کو فرشتہ ہو نا چاہیئے تھا وہ آپ کو بازار آنے جانے پر ملامت کرنے لگے کیونکہ وہ کسریٰ اور قیصر اور دوسرے جابر بادشاہوں کے بارے میں جانتے تھے کہ انھوں کبھی بھی بازار میں قدم نہیں رکھا جبکہ آنحضرت کا عام لوگوں کے ساتھ بازار میں میل میلاپ اور اٹھنا بیٹھنا تھا ۔ جس سے وہ لوگوں کو خدا کے امر و نہی کی تبلیغ فرمایا کرتے تھے چنا نچہ مکار لوگوں نے اعتراض کرنا شروع کردیا کہ وہ ہم پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے جبکہ اس کی روش اور طریقہ کار باد شاہوں کے بر عکس ہے تو ایسے موقع پر اوپر والی آیت نازل ہوئی اور اس حقیقت کو واضح کردیا کہ پیغمبر اسلام کی سیرت سابقہ انبیاء جیسی ہے (1) ۔ 1۔ اگر چہ روایت بالا کا مضمون بہت سی تفاسیر میں آیا ہے لیکن ہم نے جو کچھ اوپر ذکر کیا ہے اس روایت کے مطابق ہے جسے قرطبی نے اپنی تفسیر کی جلد ۷ ص۷۲۱پر درج کیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:20
تمام پیغمبر ایسے تھے
گذشتہ چند آیات میں مشرکین کی مکاری اور اعتراضات کا ذکر ہے کہ پیغمبر کیوں کھا نا کھاتا ہے اور کیوں بازاروں میں آتاجاتا ہے ؟پھر ان اعتراضات کا مجمل اور مختصر سا جواب بھی دیا گیا ہے لیکن اس آیت میں مندرجہ بالا اعتراضات کا واضح اور صریح تر جواب دیا گیا ہے ۔ ار شاد ہو تا ہے :تجھ سے پہلے ہم نے کسی بھی رسول کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ ان سب کا تعلق نوعِ انسانی سے تھا وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی آیا جایا کرتے تھے ( اور لوگوں سے بھی ان کا میل ملاپ تھا)(وَما اٴَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ الْمُرْسَلِینَ إِلاَّ إِنَّہُمْ لَیَاٴْکُلُونَ الطَّعَامَ وَیَمْشُونَ فِی الْاٴَسْوَاقِ)۔ اس کے ساتھ ساتھ ”ہم نے تم میں سے بعض کو دوسرے بعض لوگوں کے لئے آزمائش و امتحان کا ذریعہ قرار دیا“ ( وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً )۔ یہ آز مائش ممکن ہے کہ اس وجہ سے ہو کہ انبیاء کا انتخاب نوع ِ انسانی سے کیا گیا ہے اور وہ بھی ان انسانوں سے جن کا تعلق معاشرے کے غریب اور محروم طبقے سے ہے اوریہ ایک بہت بڑی آزمائش ہے کیونکہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ہم نوع افراد کا کہنا ماننے سے گھبراتے ہیں خاص کر ان لوگوں کا جو مالی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں اور ان کا اپنا تعلق معاشرتی لحاظ سے اونچے گھرانوں سے ہوتا ہے یا ان کی عمر زیادہ ہوتی ہے یا معاشرے میں خوب جانے پہچانے ہوتے ہیں ۔ آز مائش سے متعلق یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد عام لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے آزماناہے کیونکہ جو افراد کام کرنے سے عاجز ہوتے ہیں ، بیمار، یتیم اور مصیبت زدہ ہوتے ہیں وہ ضعیف و ناتواں افرادکے لئے آزمائش ہوتے ہیں کہ اوّل الذکر اپنے انسانی فریضے کو دوسرے گروہ کے ساتھ کیسے پورا کرتا ہے اور ثانی الذکر خدا کی رضا پر کیونکر راضی ہوتا ہے ۔ جہاں تک ان دونوں تفاسیر کا تعلق ہے ان کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور ہوسکتا ہے کہ دونوں تفسیریں آیت وسیع مفہوم میں جمع کی جائیں اوروہ مفہوم ہے لوگوں کی ایک دوسرے کے ذریعے آزمائش ۔ اسی کے ساتھ ساتھ قرآن سب کو خطاب کرتے ہوئے سوال فرماتا ہے : آیاصبر کروگے (اٴَتَصْبِرُونَ)۔ کیونکہ ایسی تمام آزمائشوں میں کامیابی کا اہم ترین عنصر صبر و شکیبائی ہے ۔ ایسی سر کش خواہشات کا مقابلہ بھی صبر و استقامت ہی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے جو قبول ِحق میں مانع ہوتی ہیں اور صبر و استقامت ہی کے ذریعے ان مشکلات کا سامنا کیا جاسکتا ہے جو فرض کی ادائیگی میں حائل ہوتی ہیں ۔اسی طرح صبر ہی کے ذریعے ان مصائب اور سخت حوادث کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے جو قدم قدم پر ان کو در پیش ہوتے ہیں ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ صبر ہی کے ذریعے اس عظیم امتحان میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے(2) ۔ آخر میں تنبیہ کی صورت میں ارشاد فرمایا گیاہے :تمہارا پر وردگار ہمیشہ سے اورہمیشہ کے لئے بصیر اور دیکھنے والاہے ( وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیرًا )۔ مبادا وہ یہ تصور کرلیں کہ خدائی آزمائش کے سلسلے میں کوئی چیز اس کی دیدہٴ بینا اور علم مطلق سے پوشیدہ رہ گئی ہے نہیں نہیں وہ ہر ایک چیز کو اچھے طریقے سے جانتا ہے اور دیکھتا ہے ۔ ایک اور سوال اور اس کا جواب یہاں پر ایک سوال پیش آتا ہے کہ آیاتِ بالا میں قرآن مجید نے انبیاء کے بارے میں مشرکین کے جن اعتراضات کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ سب نوعِ انسانی میں سے تھے اس سے نہ صرف مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ اشکال اور بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس طرح سے وہ اپنے اعتراض کو پیغمبر اسلام کی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے تمام دوسرے انبیاء پر بھی اعتراض کرسکتے ہیں (کہ وہ کیسے پیغمبر تھے کہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی آتے جاتے تھے )۔ قرآنی آیات کی رو سے ان کا اعتراض صرف پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی کی ذات گرامی تک ہی محدود نہیں تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ آپ نے یہ روش اور طریقہ کار اپنا رکھا ہے لہٰذا وہ کہتے تھے ۔ مال ھٰذا الرسول یہ رسول اس طرح کیوں ہے ؟ قرآن اس کے جواب کا اعتراض دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” یہ صرف تجھی پر منحصر نہیں کہ تو کھا نا بھی کھا تا ہے اور بازاروں میں بھی آتا جاتا ہے بلکہ انبیاء ماسلف بھی یونہی کیا کرتے تھے بالفرض اگر وہ اپنے اعتراضات کا دائرہ تمام انبیاء علیہم السلام تک وسیع کرتے ہیں تو قرآن اس کا بھی جواب دے رہا ہے اور وہ یہ کہ : ولو جعلناہ ملکاًلجعلناہ رجلا ( انعام۹) فرض کرلیا کہ ہم پیغمبر کو فرشتہ بناتے تو پھر بھی ناگریز تھا کہ ہم اسے انسانی صورت میں بھیجتے(تاکہ وہ تمام حالات میں بنی نوع ِ انسان کے لئے ایک نمونہ عمل ہوتا)۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسانوں کی رہبری اور پیشوائی صرف انسان ہی کرسکتا ہے جو ان کی ہر قسم کی ضروریات ، مشکلات اور مسائل سے آگاہ ہوتا ہے ۔ 2 ۔ خدائی آزمائش کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد اول سورہ بقرہ کی آیت ۱۵۵کی تشریح ۔