وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَؤُلَاءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيلَ
On the day that He will muster them and those whom they worship besides Allah, He will say, ‘Was it you who led astray these servants of Mine, or did they themselves stray from the way?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 25:17
[Pooya/Ali Commentary 25:17]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:17-19
۱۔ معبود سے کیا مراد ہے ؟
اس سوال کے جواب میں مفسرین کے درمیان دو تفسیریں مشہور ہیں : پہلی تفسیر تو یہ ہے کہ ان سے مراد انسانی معبود ( جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) یا شیطانی معبود (جیسے جنات) یا فرشتے ہیں ان میں سے ہر ایک کو مشرکین کے مختلف گروہوں نے انتخاب کیا ہواتھا۔ چونکہ یہ صاحبان عقل و شعور ہیں لہٰذا ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی کیونکہ مشرکین کہتے ہیں کہ ان معبودوں ہی نے ہمیں اپنی عبادت کی طرف بلا یا ہے لہٰذا اتمام حجت کے طور پر ان سے پوچھا جائے گا کہ آیا ان کی یہ بات صحیح ہے تو وہ بڑی صراحت کے ساتھ اس کی تر دید کریں گے ۔ دوسری تفسیر جسے کچھ اور مفسرین نے ذکر کیا ہے یہ ہے کہ بروز قیامت خدا وند عالم ”بتوں“کو ایک طرح کی زندگی ، ادراک اور شعور عطا فرمائے گا تاکہ ان سے جوباز پرس کی جائے تو وہ اس کا بہتر طریقے پر جواب دے سکیں کہ خداوند ا ! ہم نے انھیں گمراہ نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی خواہشات ِ نفسانی اور کبرو غرور کی وجہ سے گمراہ ہو چکے ہیں ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ جملہ تمام معبودوں کے لئے ہو خواہ وہ صاحبان ِ عقل و شعور ہیں اور جو اپنی زبان سے حقائق اور واقعات بیان کریں گے خواہ عقل و شعور سے عاری خدا کی مخلوق ہے اور جو زبان حال سے حقائق کو بیان کرے گی ۔ لیکن آیت میں پائے جانے والے قرائن پہلی تفسیر سے زیادہ ہم آہنگ ہیں کیونکہ افعال اور ضمائر بتا رہے ہیں کہ یہاں صاحبان عقل و شعور کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور فرشتوں جیسے معبودوں کے لئے زیادہ مناسب ہے ۔ اس کے علاوہ ” فقدکذبوکم“ (انھوں نے تمہیں جھٹلایا) کے جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین نے پہلے یہ دعویٰ کیاکہ ان معبودوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے اوراپنی عبادت کی دعوت دی ہے اوریہ بعید ہے کہ وہ ایسا دعویٰ پتھر اور لکڑٰ کے بنے ہوئے بتوں کے بارے میں کریں کیونکہ جیساکہ ابراہیم علیہ السلام کی داستان میںمذکور ہے کہ انھیں اچھی طرح یقین ہے کہ بت بولا نہیں کرتے”لقد علمت ماھٰوٴلاء لاینطقون“ (سورہٴ انبیاء۶۵) جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ خدا عیسیٰ علیہ اسلام سے دریافت فرمائے گا: ” ء انت قلت للناس اتخذونی و امی الٰھین من دون اللہ “ آیا تم نے لوگوں سے کہا ہے کہ خدا کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کا معبود بناوٴ؟(مائدہ۱۱۶) معبودوں کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہویہ بات مسلم ہے کہ مشرکین اور بت پرستوں کے دعوے بے بنیاد اور فضول ہیں اور کسی معبود نے انھیں اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی ۔ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ یہ معبود جواب میں یہ نہیں کہیں گے کہ خدایا ہم نے انھیں اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی بلکہ یہ کہیں گے کہ ہم نے تو اپنی عبادت کے لئے تیری ہی ذات کا اتخاب کیا تھا ، یعنی جب ہم خود تیری عبادت کرتے ہیں تو دوسروں کو تو بطریق اولیٰ تیرے غیر کی طرف راہنمائی نہیں کی۔ خاص کر یہ با” سبحانک“(تو پاک ہے )اور ” ماکان ینبغی لنا“ ( ہمارے لئے زیبا نہیں تھا)کے جملوں سے مربوط ہے جو ان کے ادب اور توحید کے اعتراف نمایا ں کرتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:17-19
سوره فرقان / آیه 17 - 19
۱۷۔ وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَیَقُولُ اٴَاٴَنْتُمْ اٴَضْلَلْتُمْ عِبَادِی ھَؤُلَاءِ اٴَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیلَ ۔ ۱۸۔ قَالُوا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِی لَنَا اٴَنْ نَتَّخِذَ مِنْ دُونِکَ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ وَلَکِنْ مَتَّعْتَھُمْ وَآبَائَھُمْ حَتَّی نَسُواالذِّکْرَ وَکَانُوا قَوْمًا بُورًا ۔ ۱۹۔ فَقَدْ کَذَّبُوکُمْ بِمَا تَقُولُونَ فَمَا تَسْتَطِیعُونَ صَرْفًا وَلاَنَصْرًا وَمَنْ یَظْلِمْ مِنْکُمْ نُذِقْہُ عَذَابًا کَبِیرًا ۔ ترجمہ ۱۷۔اس دن کا سوچو جب خدا ن سب کو اور ان معبودوں کو جن کی یہ خدا کے علاوہ پرستش کرتے ہیں اکٹھا کرے گا اور ان سے کہے گا : کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا ہے یا وہ خود گمراہ ہوئے ہیں ؟ ۱۸۔تو وہ( جواب میں ) کہیں گے تو پاک و منزہ ہے ہمارے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ ہم تیرے علاوہ اور لوگو ں کو اپنا ولی مانتے ، لیکن تونے انھیں او ر ان آباوٴ ااجداد کو نعمتوں سے نوازا ۔ یہاں تک کہ انہوں نے ( شکر نعمت کی بجائے)تیرے ذکر کو فراموش اور ہلاک ہو گئے ۔ ۱۹۔( خدا وند عالم ان سے فرمائے گا دیکھو)جو کچھ کہہ رہے ہو یہ تمہاری تکذیب کرچکے ہیں اب نہ تو تم عذاب ِخدا کو بر طرف کرسکتے ہو اور نہ ہی کسی سے مدد طلب کرسکتے ہو اور تم میں سے جو شخص بھی ظلم کرے گا ہم اسے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:17-19
معبودوں اورگمراہ ایجاریوں کا مقدمہ
گزشتہ آیات میں قیامت کے دن مومنین اور مشرکین کے انجام کی بابت بات ہو رہی تھی ۔ زیر بحث آیات اسی موضوع کوایک اور صورت میں پیش کررہی ہیں ۔خدا وند عالم بروز قیامت ” مشرکین کے معبودوں “ سے جوسوال کرے گا اسے اور وہ جو جواب دیں گے اسے بھی ایک تنبیہ کی صورت میں بیان فرمارہا ہے ۔ پہلے تو فرماتا ہے : اس دن کا سوچو جب خدا ان سب کو اور ان کے معبودوں کو کہ جن کی اللہ کے علاوہ یہ لوگ عبادت کرتے ہیں جمع اور محشور کرے گا ( وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ )۔ اور ان سے سوال کرے گا ” آیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا ہے یا یہ خود گمراہ ہوئے ہیں (فَیَقُولُ اٴَاٴَنْتُمْ اٴَضْلَلْتُمْ عِبَادِی ھَؤُلَاءِ اٴَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیلَ )۔ لیکن وہ جواب دیں گے پر وردگارا تو پاک و منزہ ہے ہمارے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ تجھے چھوڑ کر دوسروں کو اپنا ولی بناتے ( قَالُوا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِی لَنَا اٴَنْ نَتَّخِذَ مِنْ دُونِکَ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ)۔ نہ صرف یہ کہ ہم نے انھیں اپنی طرف دعوت نہیں دی بلکہ ہم تو تیری ولایت اور عبودیت کے معترف بھی تھے اور تیرے علاوہ کسی اور کو نہ تو اپنا معبود سمجھا اور نہ ہی دوسروں کا۔ ان کی گمراہی کا سبب یہ تھا کہ تونے انھیں اور ان کے آباوٴ اجداد کو دنیاوی نعمتوں سے نوازا ( اور وہ تیری ان نعمتوں کو شکر ادا کرنے کے بجائے عیش و عشرت اور دنیاوی لذتوں میں کھو گئے )اور تجھے بھلا دیا ( وَلَکِنْ مَتَّعْتَھُمْ وَآبَائَھُمْ حَتَّی نَسُواالذِّکْرَ ) اسی وجہ سے وہ تباہ و بر باد ہو گئے( وَکَانُوا قَوْمًا بُورًا )۔ اب خدا کا روئے سخن مشرکین کی طرف ہے اور فرماتا ہے :تمہارے یہ معبود تو تمہاری تکذیب کررہے ہیں (اور یہ جو تم کہتے ہو کہ انھوں نے تمہیں گمراہ کیا ہے اور اپنی عبادت کی طرف دعوت دی ہے اب صورت حال یہ ہے کہ وہ تمہیں جھٹلارہے ہیں )( فَقَدْ کَذَّبُوکُمْ بِمَا تَقُولُونَ )۔ جب یہ صورت حال ہے اور تم خود ہی گمراہ ہوئے ہو تو اب تم عذاب الٰہی کو اپنے سے بر طرف نہیں کرسکتے ہو اور نہ ہی کسی دوسرے سے مدد طلب کرسکتے ہو (فَمَا تَسْتَطِیعُونَ صَرْفًا وَلاَنَصْرًا) ۔ اور جو شخص بھی تم میں سے ظلم کا ارتکاب کرتے گا ہم اسے بڑے سخت عذاب کا مزہ چکھائےں گے ( وَمَنْ یَظْلِمْ مِنْکُمْ نُذِقْہُ عَذَابًا کَبِیرًا )۔ اس میں شک نہیں کہ ظلم کا ایک وسیع مفہوم ہے اگر چہ اس آیت میں موضوع ِ بحث ”شرک“ ہے لیکن یہ بھی ظلم کا ایک واضح ترین مصداق ہے اس طرح سے مفہوم آیت کے کلی ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ”من یظلم“ فعل مضارع کی صورت میں آیا ہے اور اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ بحث کا ابتدائی حصہ اگر چہ قیامت سے متعلق ہے لیکن آخری جملہ انھیں دنیا میں خطاب کی صورت میں آیا ہے ۔گویا قیامت کے دن گمراہ کاروں اور معبودوں کی گفتگو سن کر مشرکین کے دل اثر حاصل کرنے کےلئے تیار ہوچکے ہیں ، لہٰذا روئے سخن آخرت سے دنیا کی طرف کرلیا اور فرمایا ”تم میں سے جو شخص بھی ظلم کا مرتکب ہو گا ہم اسے بڑے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے (1) ۔ 1. ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ آخری جملہ شاید قیامت میں مشرکین کے ساتھ گفتگو کا ایک حصہ ہے اور فعل مضارع ہو نے کی وجہ سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ”و من یظلم کاجملہ ایک قاعدہ کلیہ کی صورت میں آیا ہے جوکہ ”جملہ شرطیہ“ کی صورت میں ہے اہل علم جانتے ہیں کہ جملہ شرطیہ میں افعال کا تعلق صرف شرط اور جزا کی حد تک ہوتا ہے زمانے کا مفہوم ختم ہوجاتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:17-19
۲۔ توحید سے انحراف کیوں ؟
قابل توجہ امر یہ ہے کہ یہ معبود ،مشرک لوگوں کے انحراف کی وجہ سے ان کی آسودہ اور خوشحال زندگہ بتاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ خدا وندا !تو نے انھیں اور ان کے آباوٴ اجدا جداو کو اس زندگی کی نعمتوں سے نوازا جس وجہ سے انہوں نے تجھے بھلا دیا وہ نعمت عطاکرنے والے کی معرفت حاصل کرنے ، اس کا شکر ادا کرنے اور کی اطاعت کرنے کے بجائے غفلت اور غرور کے چکر میں پھنس کر تجھے اور روز قیامت کو بھول گئے سچی بات ہے کہ جن لوگوں کو ظرف چھوٹا اور ایمان کی بنیادیں کمزور ہیں ان کے لئے خوشحال زندگی ایک تو ” غرور آفرین “ ہے کیونکہ جب انھیں بے پناہ نعمتیں مل جاتی ہیں تو وہ اپنے قابوں میں نہیں رہتے اور خداکو بھلا دیتے ہیں حتی کہ کبھی کبھی تو فرعون کی مانند” انا اللہ“ ( میں خدا ہوں)کا نعرہ لگا نا بھی شروع کرتے دیتے ہیں ۔ دوسرے وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ بے لگام اور آزاد ہوں اور ان کی عیش و عشرت اورخواہشات کی تکمیل کے آگے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ ہو اور حلال و حرام اور جائز و ناجائز نامی کوئی چیزیں انھیں اپنے مقصد پہنچنے سے نہ روکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شرعی قوانین اور روز جزا کو تسلیم کرنے سے کنی کتراتے ہیں ۔ اب بھی آسودہ حال لوگوں میں سے بہت کم ایسے ہیں جو خدا کے دین اور انبیاء کی تعلیمات کے طرفدار ہوں یہ تو مستضعف اور غریب لوگ ہیں ہوتے ہیں جو دیں اور مذہب کے طرفدار اور ایثار پیشہ وفا شعار ہوتے ہیں ۔ البتہ استثنا تو دونوں طبقوں میں ہوتا ہی ہے لیکن بات اکثریت کی ہورہی ہے اور اکثریت ان لوگوں کی ہے جو ابھی بتا یا جا چکا ہے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ آیت بالا میں صرف ان لوگوں کی امارت اور خوشحالی تک ہی بات محدود نہیںہے بلکہ ان کے آباوٴ اجداد کی خوشحالی کا بھی ذکر بھی ہے کیونکہ انسان جب بچپن ہی سے نازو نعمت کی زندگی میں پرورش پائے گا تو فطری بات یہ ہے کہ وہ عموماًاپنے اور دوسرے میں فرق محسوس کرے گا اور آسانی کے ساتھ خوشحال زندگی کو خیر باد کہنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس خدائی احکام کی بجا آوری اور مذہبی مسائل کی پابندی کے لئے ایثار ، ہجرت ، جہاد بلکہ بعض اوقات شہادت تک کو قبول کرنا پڑتا ہے ،انواع و اقسام کی نعمتوں سے محروم ہونا پڑتا ہے اور دشمن کے آگے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے اور یہ بات امراء طبقہ کے مزاج بالکل خلاف ہے البتہ جن لوگوں کی شخصیت مادیت کے بندھنوں سے بالکل آزاد ہے اگر کبھی کچھ پاس ہوتا ہے تو خدا کا شکر بجا لاتے ہیں اور اگر نہیں ہوتا تو گھبرانہیں جاتے دوسرے لفظوں میں وہ اپنی مادی زندگی پر حاکم ہوتے ہیں نہ کہ محکوم ۔ اس وضاحت سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ ” نسو الذکر “ کے جملے سے مراد یاد ِ خدا کو فراموش کردینا ہے جیسا کہ سورہ حشر آیہ ۱۹ میں اس جملے کی بجائے ” ولا تکونوا کالذین نسو اللہ “ آیا ہے یا ذکر کی فراموشی سے مراد یومِ قیامت اور عدل الہٰی کی فراموشی ہے جیسا کہ سورہ ص کی آیہ ۲۶ میں ہے : لھم عذاب شدید بما نسو ا یوم الحساب روزحساب کو فراموش کردینے کی وجہ سے ان کے لئے سخت عذاب ہے ۔ اور یا خدا اور قیامت دونوں کو فراموش کرنا مراد ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 25:17-19
۳۔ ”بور“ کیا ہے ؟
”بور“ کالفظ ”بوار “ سے لیا گیا ہے جو اصل میں کسی چیز کی سخت کسا و بازی کے معنی میں ہے اور چونکہ کسا و بازی کی شدت اس کے فاسد ہونے کا سبب بن جاتی ہے جیسا کہ عربوں کی ضرب المثل ہے ”کسد حتیٰ فسد“ لہٰذا یہ کلمہ فاسد ہونے اور ہلاک ہوجانے کے معنی میں بولا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بنجر زمین کو ”بائر“ کہتے ہیں جو درختوں ، پھولوں اور سبزے سے خالی ہوتی ہے کیونکہ در حقیقت وہ مردہ اور فاسد ہو چکی ہوتی ہے ۔ بنابرین ” کانوا قوماًبوراً“ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امراء کا یہ گروہ خوشحال او رمادی زندگی میں مستغرق ہو کر خدا اور قیامت کو فراموش کرچکا ہے اور اس کا دل بنجر زمین کی مانند خشک ہو چکے ہیں اب ان سے نہ تو انسانیت کی سر بلندی کے لئے قیمتی پھولوں کی توقع ہے اور نہ ہی معنوی زندگی اور فضیلت کے میووں کی ۔ ان قوموں کے حالات کا اگر غور سے مطالعہ کیا جائے جو آج ناز و نعمت میں غرق خدا اور خلق خدا سے بے خبر ہیں تو آیت کے عمیق معانی کا پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کس طرح اخلاقی فساد کے سمندر میں غرق ہو چکی ہیں اور فضائل ِ انسانی کے میوے ان کی بنجر زمین سے کس طرح ناپید ہو چکے ہیں(1) ۔ 1۔ بعض لوگ ”بور“ کو مصدر سمجھتے ہیں جو کبھی کبھار اس کے فاعل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور واحد تثنیہ اور جمع کے صیغے کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے جبکہ بعض نے اسے ”بائر“ کی جمع مانا ہے۔