وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
Maintain the prayer and give the zakat, and obey the Apostle so that you may receive [Allah’s] mercy.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:56
[Pooya/Ali Commentary 24:56]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:56-57
سوره نور / آیه 56 - 57
۵۶ وَاٴَقِیمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ۵۷ لَاتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا مُعْجِزِینَ فِی الْاٴَرْضِ وَمَاٴْوَاھُمْ النَّارُ وَلَبِئْسَ الْمَصِیرُ ترجمہ ۵۶۔ اور نماز قائم کرو، زکوٰة ادا کرو اور (الله کے) رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر (اس کی) رحمت ہو ۔ ۵۷۔ یہ گمان نہ کرو کہ کافر عذابِ الٰہی سے زمین میں کہیں بھاگ سکتے ہیں ان کا ٹھکانا آگ ہے اور وہ کیسی بُری جگہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:56-57
عذاب الٰہی سے فرار ممکن نہیں
گزشتہ آیت میں صالح مومنین سے زمین پر حکمرانی کا وعدہ کیا گیا ہے، زیرِ نظر دو آیتوں میں اس حکومت کی بنیادیں رکھنے کے لئے لوگوں کو دعوت دی جارہی ہے، اس کے ساتھ عظیم رکاوٹیں دور کرنے کی ذمہ داری بھی خدا خود لے رہا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: نماز قائم کرو (وَاٴَقِیمُوا الصَّلَاةَ) ۔ اور زکوٰة ادا کرو (وَآتُوا الزَّکَاةَ) ۔ وہی زکوٰة کہ جو انسانوں کو مخلوقِ خدا سے مربوط کردیتی ہے، ان کے باہمی فاصلوں کو کم کرنے کے لئے نہایت موٴثر ہے اور جذبات واحساسات کے رشتوں کو مستحکم کرتی ہے ۔ اور مجموعی طور پر ”ہر چیز میں حکم رسول کے فرمانبردار رہو“ (وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ) ۔ وہ اطاعت کہ جو تمھیں صالح مومنین کے راستے پر لے جائے گی اور زمین پر حکمرانی کے اہل افراد میں شامل کردے گی۔ ”تاکہ تم ان احکام پر عمل پیرا ہوکر رحمتِ خدا کے سامنے ان کی اطاعت کی کوئی حیثیت نہیں لہٰذا یہ ”گمان نہ کرو کہ کافر لوگ الله کی سزا سے بھاگ کر اس وسیع زمین سے کہیں فرار کرجائیں گے (لَاتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا مُعْجِزِینَ فِی الْاٴَرْضِ) ۔ یہ لوگ نہ صرف اس دنیا میں خدائی سزا سے محفوظ نہیں ہیں بلکہ آخرت میں ”ان کا ٹھکانا آگ ہے اور وہ کیسی بُری جگہ“ (وَمَاٴْوَاھُمْ النَّارُ وَلَبِئْسَ الْمَصِیرُ) ۔ ”معجزین“ ”معجزہ“ کی جمع ہے جو ”اعجاز“ کے مادے سے عاجز کرنے کے معنی میں ہے بعض اوقات انسان کسی کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اس سے بھاگ نکلتا ہے، یہ جتنی بھی کوشش کرتا ہے وہ ہاتھ نہیں لگتا یہاں تک کہ وہ اس کی دسترس سے باہر نکل جاتا ہے، زیرِ بحث آیت کا مفہوم ہے کہ تم اقتدارِ قدرت سے باہر نہیں جاسکتے ۔