وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
Allah has promised those of you who have faith and do righteous deeds that He will surely make them successors in the earth, just as He made those who were before them successors, and He will surely establish for them their religion which He has approved for them, and that He will surely change their state to security after their fear, while they worship Me, not ascribing any partners to Me. Whoever is ungrateful after that—it is they who are the transgressors.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:55
[Pooya/Ali Commentary 24:55] Imam Ali bin Husayn Zayn al Abidin says: "This verse refers to the period when the last of the holy Imams, Al Mahdi al Qa-im will rule the world. He will root out iniquity and polytheism for ever." Aqa Mahdi Puya says: If the removal of fear, inheritance of authority for the overall good and welfare of the people, establishment of religion, and peace and security are mentioned here in connection with the administration of human society in this world, then it either refers to the advent of the awaited saviour, Imam Muhammad al Mahdi, before the resurrection, or to the nature of legislative process to be applied to the succession of the Holy Prophet, which should be by the divine command. "Establishment" implies full awareness and masterly ability to apply religious and natural laws made by Allah in all aspects of material and spiritual life with maximum degree of certitude. "Whosoever disbelieves" refers to those who disagree with the method of succession laid down by Allah. The legislative character of this verse is clearly asserted. It does not refer to the historical development of the khilafat, because then it has to be admitted that true believers ceased to exist after the first four caliphs, or all the subsequent caliphs up to Ataturk were good believers which is historically not true, and that after the termination of caliphate there have been no believers at all.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:55
مستضعفین کی عالمی حکومت
گزشتہ آیات میں الله اور اس کے رسول کے حکم پر سرتسلیم خم کرنے کے بارے میں گفتگو تھی، اب زیرِ بحث آیت میں بھی وہی موضوع سخن جاری رکھتے ہوئے اس اطاعت کا نتیجہ عالمی حکومت کا قیام بیان کیا گیا ہے، آیت زور دیتے ہوئے کہتی ہے: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اعمالِ صالح انجام دیئے ہیں الله سے ان کا وعدہ ہے کہ یقیناً اُنھیں زمین پر خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلافت بخشی ہے (وَعَدَ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُم فِی الْاٴَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ) ۔ اور جو دین ان کے لئے پسند کیا ہے اسے مضبوط بنادوں زمین پر قائم کرے گا (وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِینَھُمْ الَّذِی ارْتَضَی لَھُمْ) ۔ اور ان کے خوف کو امن وسکون میں بدل دے گا (وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اٴَمْنًا) ۔ اور یہ عالم ہوجائے گا کہ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک قرار نہیں دیں گے (یَعْبُدُونَنِی لَایُشْرِکُونَ بِی شَیْئًا) ۔ مسلم ہے کہ حکومتِ توحید کے قیام، دینِ الٰہی کے استحکام اور ہر قسم کے اضطراب، بدامنی اور شرک کے خاتمے کے بعد بھی، جو لوگ پھر کافر ہوجائیں گے وہ فاسق ہیں (وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْفَاسِقُونَ) ۔ بہرحال اس آیت سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خدا ان مسلمانوں کو تین خوشخبریاں دیتا ہے کہ جو صاحب ایمان ہیں اور اعمال صالح بجالاتے ہیں، خوش خبریاں یہ ہیں: ۱۔ روئے زمین پر حکمرانی ۲۔ ہر جگہ مستحکم بنیادوں پر دین حق کی اشاعت (یہ بات لفظ ”تمکین“ سے ظاہر ہوتی ہے) ۔ ۳۔ تمام اسبابِ خوف وبدامنی کا خاتمہ۔ ان امور کا نتیجہ یہ ہوگا وہ بڑی ازادی سے الله کی پرستش کرسکیں، اس کے احکام بجالائیں گے اور اس کے لئے کسی شریک کے قائل نہ ہوں اور توحیدِ خالص کو ہر جگہ پھیلادیں ۔ یہ وعدہٴ الٰہی پورا ہوا یا نہیں، اس سلسلے میں ہم ذیل کے نکات میں بحث کریں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:55
۱۔ ”کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ“کی تفسیر:
مسلمانوں سے پہلے جن لوگوں کو خلافت ملی وہ کون تھے، اس سلسلے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں، مثلاً: بعض نے اسے حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت داوٴدعلیہ السلام اور حضرت سلیمانعلیہ السلام کی طر ف اشارہ سمجھا ہے کیونکہ قرآن سورہٴ بقرہ آیت ۳۰ میں حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے: <اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْصِ خَلِیْفَة ”میں زمین میں خلیفہ بنانا چاہتا ہوں“ سورہٴ ص کی آیت ۲۶ میں حضرت داوٴد علیہ السلام کے بارے میں ہے: <یا داوٴد انّا جعلناک خلیفة فی الارض ”اے داوٴد! ہم نے تجھے زمین پر خلیفہ بنایا“۔ اسی طرح سورہٴ نمل کی آیت ۱۶ کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام حکومتِ داوٴد کے وارث تھے لہٰذا وہ بھی خلیفہ ہوئے ۔ بعض دوسرے حضرات مثلاً مفسر عالیقدر علامہ طباطبائی نے ”الیمزان“ میں اس معنیٰ کو بعید قرار دیا ہے کیونکہ انھوں نے ”الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ“ کے الفاظ کو انبیاء کے شایانِ شان نہیں سمجھا کیونکہ اس طرح کے الفاظ قرآن میں انبیاء کے بارے میں استعمال نہیں ہوئے، لہٰذا علامہ طباطبائی اسے گزشتہ امتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ جو ایمان وعمل کی حامل تھیں اور انھیں زمین پر حکمرانی حاصل ہوئی ۔ لیکن بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ آیت بنی اسرائیل کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے اقتدار کی تباہی کے بعد وہ حکمران ہوئے، جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیت ۱۳۷ میں فرمایا گیا ہے: <وَاٴَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْاٴَرْضِ وَمَغَارِبَھَا الَّتِی بَارَکْنَا فِیھَا ”ہم نے (مومنین بنی اسرائیل کے) کمزور کردہ لوگوں کو اس زمین کے مشارق ومغارب کا وارث بنا دیا کہ جسے ہم نے پُربرکت بنایا ہے“۔ نیز انہی کے بارے میں قرآن فرماتا ہے: <ونمکن لھم فی الارض ”ہم نے ارادہ کریا کہ اس مستضعف قوم کو زمین پر اقتدار دیں“۔ یہ ٹھیک ہے کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰعلیہ السلام کے زمانے میں غلط اور فاسق بلکہ بعض اوقات کافر لوگ بھی تھے لیکن حکومت بہرحال صالح مومنین کے ہاتھ میں تھی، (اس لحاظ سے اس تفسیر کے بارے میں بعض مفسرین نے جو اعتراض کیا ہے وہ دور ہوجاتا ہے) یہ تیسری تفسیر ہمیں مفہوم کے زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:55
شان نزول
سیطوی نے ”اسباب النزول“ میں، طبرسی نے ”مجمع البیان“ میں، سید قطب نے ”فی ظلال “ میں، قرطبی نے اپنی تفسیر میں اور اسی دطرح دیگر کئی ایک مفسرین نے (تھوڑے سے فرق کے ساتھ) اس آیت کی یہ شان نزول بیان کی ہے: جب رسول الله اور مسلمانوں نے مدینے کی طرف ہجرت کی اور انصار نے خندہ پیشانی سے انھیں خوش آمدید کہا تو تمام عرب ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ مسلمان مجبور ہوگئے کہ ہر وقت اسلحہ اپنے ساتھ رکھیں رات کو اسلحہ پاس رکھ کر سوئیں، صبح اٹھیں تو اسلحہ ساتھ لے کر اٹھیں اورہر وقت مستعد رہیں، اس حالت کا جاری رکھنا مسلمانوں کے لئے بہت مشکل تھا، بعض نے تو کھلے بندوں اس بات کا اظہار کیا کہ آحر یہ کیفیت کب تک باقی رہے گی کیا ایسا وقت بھی آئے گا ہم رات ہی کو چین کا سانس لے سکیں گے اور الله کے علاوہ ہم کسی سے نہ ڈریں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی او انھیں بشارت دی گئی کہ ہاں ایسا زمانہ آئے گا(۱) ۔ 1۔ اسباب النزول، ۱۶۳۲، مجمع البیان، تفسیر قرطبی اور تفسیر فی ظلال، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:55
۳۔ اصلی ہدف، شرک سے پاک عبادت
”یَعْبُدُونَنِی لَایُشْرِکُونَ بِی شَیْئًا“ یہ جملہ ادبی لحاظ سے حال ہو یا غایت (1) اس کا مفہوم یہ ہے حکومتِ عدل کے قیام، دینِ حق کے استحکام اور امن وامان کے حصول کا اصلی مقصد عبادت اور توحید پرستی کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے، قرآن کی ایک اور آیت میں مقصدِ تخلیق بھی بیان ہوا ہے: <وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونِ ”میں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔(زاریات/۵۶) وہ عبادت جو انسانوں کی تربیت کرتی ہے اور ان کی پرورش روح کے لئے بہت اعلیٰ مکتب ہے وہ عبادت جس سے الله بے نیاز ہے اور بندے کمال اور ارتقاء کے لئے جس کے بہت محتاج ہیں ۔ یہ اسلامی نظریہ ہے جبکہ مادی نظریے اس کے برخلاف ہیں، ان کا ہدف خوشحالی کے لحاظ سے بلند سطح کی مادی زندگی ہے جبکہ اسلام کبھی ایسی چیز کو اپنا ہدف قرار نہیں دے سکتا اس کی نظر میں تو مادی زندگی کی تبھی کوئی اہمیت ہے جب وہ ایسے روحانی ہدف کے حصول کا ذریعہ ہو ۔ البتہ اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ شرک سے پاک عبادت، غیر الٰہی قانون کی نفی اور ذاتیات وخواہشات کی حکمرانی کا خاتمہ ایک حکومتِ عدل کے قیام کے بغیر ممکن نہیں ہے، یہ تو ہوسکتا ہے کہ حکومت کے بغیر مسلسل تعلیم، تربیت اور تبلیغ کے ذریعے کچھ لوگوں کو حق کی طرف متوجہ کیا جائے لیکن معاشرے میں اسے رواج دینا ایمان صالحین کی حکومت کے بغیر ممکن نہیں ہے، اسی لئے انبیاء سب سے زیادہ کوش ومحنت اسی قسم کے قیام کے لئے کرتے تھے، خصوصاً پیغمبر اسلام کو جونہی موقع ملا ہجرت مدینہ کے موقع پر نمونے کے طور پر ایسی حکومت قائم کردی۔ یہاں سے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس قسم کی حکومت صلح کرے یا جنگ، نیز تعلیم، ثقافت، اقتصاد اور فوج غرض اس کے تمام شعبوں کے پروگرام اور سرگرمیاں الله کی عبادت کے راستے میں ہوتی ہیں، ایسی عبادت کہ جو ہر قسم کے شرک سے خالی ہو ۔اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ صالحین کی حکومکت کے قیام، دین حق کے استحکام اور شرک سے پاک عبادت کی ترویج کا یہ معنی نہیں کہ اس قسم کے معاشرے میں کوئی گنہگار اور منحرف نہیں ہوگا بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نظامِ حکومت صالح مومنین کے ہاتھ میں ہے اور معاشرہوں میں بھی منحرف افراد کا وجود ممکن ہے (غور کیجئے گا) ۔ ۔ پہلی صورت میں گزشتہ آیات میں آنے والی ضمیر ”ہم“ سے ہم آہنگ ہوکر حالیہ ہوجاتا ہے، دوسری صورت میں لام مقدر ہے اور اصل میں ”لیعبدوننی“ ہے، بعض نے اس احتمال کا بھی ذکر کیا ہے، یہ جملہ استینافیہ ہے لیکن یہ بہت کمزور احتمال ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:55
سوره نور / آیه 55
۵۵ وَعَدَ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُم فِی الْاٴَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِینَھُمْ الَّذِی ارْتَضَی لَھُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اٴَمْنًا یَعْبُدُونَنِی لَایُشْرِکُونَ بِی شَیْئًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْفَاسِقُونَ ترجمہ ۵۵۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں ان سے الله کا وعدہ ہے کہ یقیناً انھیں زمین پر خلیفہ بنائے گا جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلافت بخشی تھی اور اس نے جو دین ان کے لئے پسندکیا ہے اسے مضبوط بنیادوں پر قائم کرے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا اس طرح سے کہ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک قرار نہیں دیں گے اور اس کے بعد کافر ہوجائیں وہ فاسق ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:55
۲۔ الله کا یہ وعدہ کن سے ہے؟
آیت کے مطابق الله تعالیٰ نے زمین پر حکمرانی، دینی اقتدار اور مکمل امن وسکون کا وعدہ ان سے کیا ہے جو ایمان اورِ عمل صالح کے حامل ہیں، اس کے مصداق کون لوگ ہیں، اس سلسلے میں مفسرین کے نظریات مختلف ہیں ۔ بعض نے اسے اصحابِ رسول کے ساتھ مخصوص سمجھا ہے کہ اسلام کی کامیابی کے باعث وہ زمانہٴ رسول میں صاحبِ حکومت ہوگئے (البتہ اس تفسیر کے مطابق زمین سے مراد تمام روئے زمین نہیں بلکہ زمین کا ایک خطّہ مراد ہے) ۔ بعض نے پہلے چا رخلفاء کی حکومت کی طرف اشارہ قرار دیا ہے ۔ بعض نے اس مفہوم کو اتنا وسیع لیا ہے کہ سب نے ایسے مسلمانوں کو اس کا مصداق قرار دیا ہے کہ جن میں یہ صفات موجود ہیں ۔ بعض نے اسے حکومتِ حضرت مہدی علیہ السلام کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ عالمِ کے مشرق ومغرب جن کے زیرِ نگین ہوں گے، دینِ حق ہر جگہ حکم فرما ہوگا، بدامنی، خوف وہراس اور جنگ کا خاتمہ ہوجائے گا اور تمام لوگ شرک سے پاک عبادت بجالائیں گے ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ آیت ابتدائی مسلمانوں کے بارے میں ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت بھی آیت کا مصداق کامل ہے، تمام مسلمان چاہے شیعہ ہوں یا سنی اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت جب دنیا وظلم وجور سے بھر چکی ہوگی اسے عدل وانصاف سے معمور کردے گی تاہم اس کے باوجود اس میں میں کوئی مانع نہیں کہ آیت عمومیت کی حامل ہے ۔ مختصر یہ کہ جس زمانے میں بھی مسلمان کے درمیان ایمان اور عمل کی بنیادیں مستحکم ہوں گی وہ ایک موٴثر حکومت کے مالک بن جائیں گے ۔ بعض کہتے ہیں کہ لفظ ”ارض“ مطلق ہے اور اس سے ساری زمین مراد ہے اور یہ امر منحصراً حضرت مہدی علیہ السلام (ارواحنا لہ الفداء) کی حکومت سے مربوط ہے، یہ دعویٰ ”کَمَا اسْتَخْلَفَ....“ کے جملے سے مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ گزشتہ مومنین کی حکومت مسلّماً ساری دنیا پر محیط نہ تھی، علاوہ ازیں آیت کی شانِ نزول بھی نشاندہی کرتی ہے کہ چاہے رسول الله کی عمر کے آخری زمانے میں ہی سہی مسلمانوں کے لئے اس حکومت کا ایک نمونہ معرض وجود میں ضرور آیا ہے ۔ بہرحال ہم اس بات کی تکرار کرتے ہیں کہ انبیاء کی تمام زحمتوں اور مسلسل تبلیغات کا ماحصل اور کامل نمونہ ایک عالمی حکومت کی صورت میں ظاہر ہوگا جس میں توحید کی حاکمیت ہوگی، ہر طرف امن وسکون ہوگا اور شرک سے پاک عبادت ہوگی، یہ حضرت مہدی علیہ السلام کا زمانہ ہوگا، وہی مہدی علیہ السلام کہ جو سلالہٴ انبیاء اور فرزندِ رسول اسلام ہیں، اس زمانے کے بارے میں تمام مسلمانوں نے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے یہ حدیث نقل کی ہے: ”لو لم یبق من الدنیا الّا یوم لطول الله ذٰلک الیوم حتّی یلی رجل من عترتی، اسمہ اسمی، یملاٴ الارض عدلاً وقسطاً کما ملئت ظلماً وجوراً“. ”اگر دنیا کی زندگی کا صرف ایک دن بھی رہ جائے گا تو الله اسے اتنا طویل کردے گا کہ اس میں میری عترت میں سے ایک فرد زمین پر حاکم ہوگا، اس کا نام میرا نام ہوگا، جیسے زمین ظلم وجور بھر چکی ہوگی وہ ایسے ہی اسے عدل وانصاف سے معمور کردے گا“(۱)۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ اس آیت کے ذیل میں مرحوم طبرسی کہتے ہیں کہ اہلِ بیتِ رسول سے یہ حدیث منقول ہے: ”انّھا فی المھدی من آل محمد“. ”یہ آیت مہدیعلیہ السلام کے بارے میں ہے کہ جو آل محمد میں سے ہوں گے“(۲)۔ تفسیر روح المعانی اور بہت سی شیعہ تفاسیر میں امام سجّاد علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ”ھم والله شیعتنا اھل البیت یفعل الله ذٰلک بھم علیٰ یدی رجل منّا، وھو مھدی ھٰذہ الامة، یملاٴ الارض عدلاً کمال ملئت ظلماً وجوراً، وھو الذی قال رسول الله (ص) لو لم یبق من الدنیا الّا یوم....“ ”الله کی قسم وہ ہمارے شیعہ ہیں، ا لله ان کے لئے یہ حکومت ہم میں سے ایک مرد کے ہاتھ سے قائم کرے گا کہ جو اس امت کا مہدی ہے، وہ زمین کو اس طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی، یہ بزرگوار وہی ہیں کہ جن کے بارے میں رسول الله (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا ہے کہ اگر دنیا کی زندگی کا ایک دن بھی باقی رہ گی.....“ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ ان تفاسیر کا یہ مطلب نہیں کہ مفہومِ آیت انہی سے منحصر ہے بلکہ یہ مصداقِ کامل کا بیان ہے، البتہ روح المعانی کے مفسر آلوسی اور چند دیگر مفسرین کہ جنھوں نے اس نکتے کی طرف توجہ نہیں کی ان احادیث کو مشکوک قرار دیا ہے ۔ اہل سنّت کے مشہور مفسر قر طبی نے مقداد بن اسود سے نقل کیا ہے: میں نے رسول الله کو یہ فرماتے سنا: ”ما علی ظھر الارض بیت حجر ولا مدر الّا ادخلہ الله کلمة الاسلام“. ”روئے زمین پر پتھر یا مٹی کا کوئی ایسا گھر نہیں رہے گا کہ جس میں اسلام داخل نہ ہوگا (اور ساری دنیا پر ایمان اور توحید پرستی کی حکومت ہوگی)(۳) ۔ حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت کے سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۷ میں سورہٴ توبہ کی آیت ۲۳کے ذیل میں رجوع کیجئے، وہاں ہم نے شیعہ اور سنّت علماء کی کتب سے مفصل مدارک اور دلائل درج کئے ہیں ۔ 1۔ کتاب ”منتخب الاثر“ میں اس مضمون کی ایک سو تیئس احادیث نقل کی گئی ہیں، یہ احادیث زیادہ تر اہل سنّت کی کتابوں سے حاصل کی گئی ہیں، قارئین اس کتاب کے صفحہ۲۴۷ سے بعد کے صفحات کی طرف رجوع کرسکتے ہیں ۔ 2۔ مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔ 3۔ قرطبی، ج۳، ص۴۹۲.