لَّقَدْ أَنزَلْنَا آيَاتٍ مُّبَيِّنَاتٍ وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
Certainly We have sent down illuminating signs, and Allah guides whomever He wishes to a straight path.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:46
[Pooya/Ali Commentary 24:46]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:46-50
2۔ عادلانہ فیصلہ صرف خدا کا ہوتا ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ انسان کو اپنے آپ کو محبّت ونفرت، خود خواہی اور ذاتی اغراض سے الگ کرنا چاہیے جو لاشعوری طور پر ان امور کے زیرِ اثر آجاتا ہے، سوائے اس کے وہ معصوم ہو اور پروردگار کی طرف سے محفوظ ہو، اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ حقیقی قانون گزار صرف خدا ہی ہے، کیونکہ وہ اپنے بے پایاں علم کی وجہ سے انسان کی تمام ضروریات کو بھی جانتا ہے اور ان ضروریات کو پوار کرنے کاراستہ بھی جانتا ہے، خود اس کی اپنی کوئی احتیاجات بھی نہیں اور محبت ونفرت کی بناء پر وہ کبھی انحراف اور کجی کا شکار نہیں ہوتا، لہٰذا عادلانہ ترین فیصلہ خدا، نبی اور امام معصوم ہی کا ہوسکتا ہے اور ان کے بعد ایسے افراد کا کہ جو ان کی راہ پر چلتے ہیں اور ان سے شباہت رکھتے ہیں، لیکن یہ خود غرض انسان ایسے عادلانہ فیصلے کا متمنی ہوتا ہے کہ جو اس کی خواہش اور حرص کو زیادہ سے پورا کرے، ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن نے کیا عمدہ بات کہی ہے کہ: ”اٴُوْلٰئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ“ ”حقیقی ظالم یہی لوگ ہیں“۔ نیز حقیقی عادلانہ فیصلے ہر انسان کے معیار ایمان کی بھی کسوٹی ہوتی ہیں ۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ قرآن ایک مقام پر کہتا ہے کہ اے رسول! حقیقی مومنین نہ صرف تیرے فیصلے پر سرتسلیم خم کرتے ہیں، بلکہ دل میں تیرے فیصلوں پر بوجھ اور ناراحتی محسوس نہیں کرتے، اگرچہ ظاہراً ان کے نقصان میں ہوں، ارشاد الٰہی ہے: <فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوا فِی اٴَنفُسِھِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیمًا ”تیرے رب کی قسم! کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے جھگڑوں میں تجھے قاضی اور فیصل قرار نہ دے، نیز تیرے فیصلے کے ضروری ہے کہ اپنے دل میں کوئی بوجھ اور ناراحتی محسوس نہ کرے اور ظاہر وبطان میں حق کے سامنے تسلیم خم کرے“۔ لیکن وہ لوگ کہ جو الله اور رسول کا حکم اس صورت میں مانتے ہیں کہ جب ان کا فائدہ ہو، حقیقت میں وہ مشرک ہیں کہ جو اپنے مفادات کے بندے ہیں، اگرچہ وہ ایمان کا دم بھرتے ہوں اور مومنین کی صفوں میں اٹھتے بیٹھتے ہوں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:46-50
۱۔ نفاق کی بیماری
یہ وہ مقام نہیں کہ جہاں قرآن مجید نے نفاق کو ایک ”مرض“ قرار دیا ہے، بلکہ اس سے پہلے سورہٴ بقرہ کی ابتداء میں منافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: <فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ فَزَادَھُمْ اللّٰہُ مَرَضًا ان کے دلوں میں ایک قسم کی بیماری ہے اور الله ان کی بیماری بڑھا دیتا ہے ۔ جیسا کہ پہلی جلد میں ہم اس آیت کے ذیل یں کہہ چکے ہیں کہ نفاق درحقیقت ایک بیماری اور انحراف ہے، جو انسان صحیح اور صحت مند ہو اس کا اس کا ایک ہی چہرہ ہوتا ہے، اس کی روح اس کا جسم آپس میں ہم آہنگ ہوتے ہیں، اگر وہ مومن ہے تو اس کے تمام وجود سے ایمان کی صدا بلند ہوتی ہے اور اگر وہ منحرف ہے تو اس کا ظاہر وباطن انحراف کا مظہر ہے، لیکن جس کا ظاہر ایمان ہے اور باطن کفر کی لو دیتا ہے، یہ تو ایک قسم کی بیماری ہے اور ایسے لوگ چونکہ اپنی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کی وجہ سے لطف وہدایت کے مستحق نہیں ہیں، لہٰذا خداوندعالم انھیں ا ن کی حالت پر چھوڑدیتا ہے تاکہ ان کی بیماری میں اضافہ ہو ۔ واقعاً کسی معاشرے کے خطرناک ترین افراد یہی منافقین ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے بار ے میں انسان پر اپنی شرعی ذمہ داری واضح نہیں ہوتی، نہ وہ حقیقی دوست ہوتے ہیں اور نہ ظاہراً دشمن، مومنین کے وسائل سے استفادہ کرتے ہیں اور کفّار کے عقاب سے بھی مامون ہوتے ہیں، لیکن ان کے اعمال کفار سے بدتر ہیں ۔ ہم جانتے ہی کہ یہ ظاہر وباطن کے کی ناہماہنگی ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی، آخرکار پردے ہٹ جاتے ہیں اور ان کی بدباطنی ظاہر ہوجاتی ہے جیسا کہ ہم زیرِ بحث آیات اور ان کی شانِ نزول میں ملاحظہ کرچکے ہیں کہ ایک مسئلہ پیش آنے سے ان کی قلعی کھُل گئی اور ان کا خبث باطن ظاہر ہوگیا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:46-50
سوره نور / آیه 46 - 50
۴۶ لَقَدْ اٴَنزَلْنَا آیَاتٍ مُبَیِّنَاتٍ وَاللهُ یَھْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ۴۷ وَیَقُولُونَ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالرَّسُولِ وَاٴَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلَّی فَرِیقٌ مِنْھُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَمَا اٴُوْلٰئِکَ بِالْمُؤْمِنِینَ ۴۸ وَإِذَا دُعُوا إِلَی اللهِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ إِذَا فَرِیقٌ مِنْھُمْ مُعْرِضُونَ ۴۹ وَإِنْ یَکُنْ لَھُمَ الْحَقُّ یَاٴْتُوا إِلَیْہِ مُذْعِنِینَ ۵۰ اٴَفِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ اٴَمْ ارْتَابُوا اٴَمْ یَخَافُونَ اٴَنْ یَحِیفَ اللهُ عَلَیْھِمْ وَرَسُولُہُ بَلْ اٴُوْلٰئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ ترجمہ ۴۶۔ ہم نے حقیقت واضح کرنے والی آیات نازل کیں اور الله جسے چاہتا صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔ ۴۷۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم الله اور رسول پر ایمان لائے ہیں اور اطاعت گزار ہیں، لیکن اس دعوے کے باوجود ان میں سے ایک گروہ روگردانی کرتا ہے (درحقیقت) وہ مومن ہی نہیں ہیں ۔ ۴۸۔ اور جب انھیں پکارا جاتا ہے کہ الله اور اس کے رسول کی طرف آئیں، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک گروہ منھ پھیر لیتا ہے ۔ ۴۹۔ لیکن اگر (فیصلہ ان کے فائدے میں ہو اور) حق انھیں مل جائے تو بڑی عاجزی سے رسول کے پاس آجاتے ہیں ۔ ۵۰۔ کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا وہ شک میں مبتلا ہیں یا انھیں خوف ہے کہ الله اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا؟ بات در اصل یہ ہے کہ وہ خود ظالم ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:46-50
شان نزول
مفسرین نے ان آیات کے کچھ حصّے کے لئے دو شان نزول ذکر کی ہیں جنھیں ہم درج ذیل کرتے ہیں: ۱۔ کسی منافق کا ایک یہودی کے ساتھ جھگڑا ہوگیا، یہودی نے مسلمان منافق سے کہا: چلو پیغمبر اسلام کے پاس چلتے ہیں اور ان سے فیصلہ کروالیتے ہیں، لیکن منافق نے یہ بات نہ مانی، اس نے کہا: کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں، کعب یہودی تھا (بعض روایات میں تو یہاں تک ہے کہ اس نے کہا: ہوسکتا ہے محمد ہمارے ساتھ انصاف نہ کرے) ۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ایسے شخص کی سخت کی مذمت کی گئی۔ ۲۔ امیرالمومنین حضرذت علی علیہ السلام اور حضرت عثمان کے درمیان ایک مسئلہ پیدا ہوگیا کہ ان میں سے کسی نے حضرت علیعلیہ السلام سے کچھ زمین خریدی تھی، اس زمین میں کچھ پتھر نکل آئے ، خریدار نے چاہا کہ اس زمین کو معیوب قرار دے کر سودا منسوخ کردیا جائے، اس پر اختلاف پیدا ہوگیا، حضرت علیعلیہ السلام نے فرمایا: چلو رسول الله کے پاس چلتے ہیں اور ان سے فیصلہ لیتے ہیں، لیکن حکم بن العاص کہ جو منافقین میں سے تھا، اس نے خریدار سے کہا ایسا نہ کرنا کیونکہ اگر تو اس کے چچازاد بھائی (یعنی رسول الله) کے پاس فیصلہ کے لئے گیا تو یقیناً وہ ا س کے حق میں دیں گے ۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور اس کی سخت مذمت کی گئی(1)۔ 1۔ تفسیر مجمع البیان ،رُوح المعانی ، تبیان، تفسیر قرطبی ، تفسیر فخررازی ،تفسیرصافی اورنو رالثقلین ، زیربحث آ یت کے ذیل مین تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:46-50
ایمان اور خدا کے فیصلے پر سرتسلیم خم کرنا
گذشتہ آیات میں الله پر ایمان لانے کے بارے میں گفتگو تھی، توحیدِ الٰہی دلائل پیش کئے گئے تھے اور الله کی نشانیوں کا ذکر تھا، زیرِ نظر آیات میں ایمان کے آثار کے بارے میں بات کی گئی ہے، توحید پر ایمان کے تقاضوں کا بیان ہے اور حق وحقیقت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی دعوت ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے واضح کرنے والی آیات نازل کیں (لَقَدْ اٴَنزَلْنَا آیَاتٍ مُبَیِّنَاتٍ) ۔ ایسی آیات کہ جو دلوں کو نور ایمان وتوحید سے منوّر کرتی ہیں، افکار انسانی کو جلا بخشتی ہیں اور زندگی کے تاریک ماحول کو بدل دیتی ہیں، یہ آیات بیّنات ایمان کے لئے راہ ہموار کرتی ہیں، لیکن حقیقی تاثیر تو ہدایت الٰہی سے ہوسکتی ہے، کیونکہ ”الله جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی ہدایت کرتا ہے“ (وَاللهُ یَھْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ) ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ الله کا ارادہ اور اس کی مشیّت بے بنیاد نہیں ہے، نورِ ایمان سے وہ ایسے دلوں کو روشن کرتا ہے جو اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں اور اس کے اہل ہوں، یعنی جنھوں نے خود مجاہدہ کی ابتداء کی ہو اس کی طرف قدم بڑھائے ہوں ۔ اس کے بعد منافقین کی مذمت کی گئی ہے کہ جو ایمان کا دم تو بھرتے ہیں، لیکن ایمان کے دلوں میں نہیں اترتا، ارشاد ہوتا ہے: وہ کہتے ہیں کہ ہم الله پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں اور ان کی اطاعت قبول کرتے ہیں، لیکن اس دعوے باوجود ان میں سے ایک گروہ منھ پھیر لیتا ہے، درحقیقت وہ مومنین ہی نہیں ہیں (وَیَقُولُونَ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالرَّسُولِ وَاٴَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلَّی فَرِیقٌ مِنْھُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَمَا اٴُوْلٰئِکَ بِالْمُؤْمِنِینَ) ۔ یہ کیسا ایمان ہے کہ جو فقط ان کی زبانوں تک محدود ہے، اور ان کے اعمال میں ظاہر نہیں ہوتا؟ اس کے بعد ان کی بے ایمانی کی دلیل کے طور پر فرمایا گیا ہے: جب انھیں دعوت دی جاتی ہے کہ الله اور اس کے رسول کی طرف آئیں تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک گروہ رُخ موڑ لیتا ہے (وَإِذَا دُعُوا إِلَی اللهِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ إِذَا فَرِیقٌ مِنْھُمْ مُعْرِضُونَ) ۔ مزید تاکید کے لئے اور ان کے شرک اور دنیا پرستی کو مزید واضح کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے: لیکن اگر یہ فیصلہ ان کے فائدے میں جاتا ہو تو بڑی عاجزی کے ساتھ رسول کی طرف آجاتے ہیں (وَإِنْ یَکُنْ لَھُمَ الْحَقُّ یَاٴْتُوا إِلَیْہِ مُذْعِنِینَ) ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ عبارت میں الله اور رسول دونوں کی طرف دعوت کا ذکر ہے لیکن بعد والی عبارت میں ”لیحکم“ مفرد کی شکل میں آیا ہے کہ جو صرف رسول الله کے فیصلے کی طرف اشارہ ہے، یہ اس بناپر ہے کہ رسول الله کا فیصلہ الله کے فیصلہ سے جدا نہیں ہے، دونوں ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتے ہیں ۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ کرنا چاہیے کہ مندرجہ بالا آیات میں رسول الله کے فیصلے سے اعراض اور منھ پھیرنے کا ذکر منافقین کے صرف ایک گروہ کے لئے ہے، شاید اس کی کہ وجہ یہ ہے کہ ان کا دوسرا گروہ اس حد تک بے حیا اور جسارت کرنے والا نہیں تھا کیونکہ نفاق بھی ایمان کی طرح مختلف درجات رکھتا ہے ۔ زیرِ بحث آخری آیت میں رسول الله کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کے اصل اسباب بیان کئے گئے ہیں، فرمایا گیا ہے کیا ان کے دلوں میں (نفاق) کی بیماری ہے (اٴَفِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ) منافقین کی ایک صفت اور ہے کہ وہ اظہار ایمان تو کرتے ہیں، لیکن الله اور سول کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے کیونکہ ان کے دل توحید سے منحرف ہیں ۔ اور اگر ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے تو پھر سچ مچ وہ ”شک میں مبتلا ہیں“ (اٴَمْ ارْتَابُوا) ۔ اور فطری بات ہے کہ جو شخص کسی دین کو قبول کرنے میں متردّد ہو وہ اس کے لوازم کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گا۔ اور اگر یہ دو نوں باتیں نہیں ہیں اور وہ مومن ہیں ”تو کیا واقعاً ڈرتے ہیں کہ الله اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا“ (اٴَمْ یَخَافُونَ اٴَنْ یَحِیفَ اللهُ عَلَیْھِمْ وَرَسُولُہُ) ۔ حالانکہ یہ واضح تضاد ہے جو شخص رسول اسلام کو الله کا بھیجا ہوا رسول اور اس کا پیغمبر سمجھتا ہے اور اس کے حکم کو خدا کا حکم سمجھتا ہے، ممکن نہیں ہے کہ اسے احتمال ہو کہ وہ ظلم کریں گے، کیا یہ ممکن ہے کہ الله کسی پر ظلم کرے؟ کیا ظلم، جہالت، احتیاج یا خود غرضی کی پیداوار نہیں؟ جبکہ ذاتِ مقدس پروردگار ان سب چیزوں سے پاک ہے، ”بات دراصل یہ ہے کہ وہ خود ظالم ہے“ (بَلْ اٴُوْلٰئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ) ۔ وہ نہیں چاہتے کہ اپنے حق پر قناعت کریں اور چونکہ وہ جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ایسی کوئی چیز انہیں دیں گے کہ جس پر کسی دوسرے کا حق ہو، لہٰذا وہ آپ کا فیصلہ قبول کرنے کو تیّار نہیں ہیں ۔ تفسیر ”فی ظلال القرآن“ کے موٴلف کے بقول ان تینوں تعبیروں میں سے ہر ایک خاص پہلو کی حامل ہے ۔ پہلی اثبات کے لئے ہے دوسری تعجب کے لئے ہے تیسری انکار کے لئے ہے ۔ پہلے جملے میں قرآن حقیقی وجہ بیان کرنا چاہتا ہے اور وہ ہے نفاق کی بیماری۔ دوسرے جملے میں عدالتِ رسول میں ان کے شک پر تعجب کا اظہار مقصود ہے ، نیز رسول الله کے فیصلے کی صحت کا اعلان ہے، جبکہ وہ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ تیسرے جملے میں ان کے واضح تضاد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کیونکہ ان کے ایمان کے دعوے سے ان کا عمل ہم آہنگ نہیں ہے(1)۔ مفسر مذکور کی بات پر صرف یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ انھوں نے ”ام ارتابوا“ کو عدالت رسول اور فیصلے کی صحت پر شک کے معنیٰ میں لیا ہے، حالانکہ ظاہر ہے کہ یہ خود نبوّت میں شک کو بیان کرتا ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین نے اس امر کو قبول کیا ہے ۔ 1۔ تفسیر فی ظلا ل القرآّن ،ج۶، صفحہ ۵ ۱۱۔