أَوۡ كَظُلُمَٰتٖ فِي بَحۡرٖ لُّجِّيّٖ يَغۡشَىٰهُ مَوۡجٞ مِّن فَوۡقِهِۦ مَوۡجٞ مِّن فَوۡقِهِۦ سَحَابٞۚ ظُلُمَٰتُۢ بَعۡضُهَا فَوۡقَ بَعۡضٍ إِذَآ أَخۡرَجَ يَدَهُۥ لَمۡ يَكَدۡ يَرَىٰهَاۗ وَمَن لَّمۡ يَجۡعَلِ ٱللَّهُ لَهُۥ نُورٗا فَمَا لَهُۥ مِن نُّورٍ
Or like the manifold darkness in a deep sea, covered by billow upon billow, overcast by clouds; manifold [layers of] darkness, one on top of another: when he brings out his hand, he can hardly see it. One whom Allah has not granted any light has no light.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 24:35-40
This is the essence of the chapter and of the text wherein God has clearly “laid down and restricted” the method of His guidance by selection of Prophets and Imams as Divine Lights, only acceptable sources of guidance – exemplifying them as “lights amidst darkness,” regarding having developed reason against undeveloped reason of man in general giving their attributes to enable men to distinguish the authorized from false claimants who simply wad through the deep dark ocean, overcast with dark clouds. “Where no sign of guidance is visible (but a streak here and there)” meaning thereby having obscure Divine knowledge being, not being initiated by Him, are not in a position to guide others being blind themselves. He has most eloquently represented 12 Divine Lights by a Lamp with (1) a wick, in a glass chimney (2 and 3), emitting light like a shining star (4), by means of oil of live (5), froman auspicious tree (6) which is neither eastern (7) nor western (8) and is automatically klighted (9) up without a touch of fire (10) and these lights emanate one from another (11) and by means of which (12) God guides whom He likes. In the mineral kingdom are radioactive materials, which alike Divine Lights automatically glow. These Divine Lights, having perfect reason, and thus capable of viewing the Eternal Path can lead followers to the Divine Way and none others can do so. They are thus allegorically termed Divine Lights or Benchmarks on the way leading to Divine Proximity. God has similarly termed the Prophet, in the text (vide Couplet 46 Surah “The Tribes”). (He has sent you) an inviter towards God, with His sanction and as an Emissive Luminary, a Torch Bearer of Islam, i.e. a Divine Light, and just as light dispels darkness, so Divine Light dispels darkness of the soul, i.e. misguidance of man. This is why Jesus calls himself as “Divine Light” of his age, vide St. John (9:5): “As long as I am in the world, I Am the light of the world.” St. John (13:46): “I am come a light unto the world, whosoever believeth in me should not abide in darkness.” St. John (14:6): “I am the way, the truth and the life. No man cometh unto the Father but by me.” What is, therefore, true of Jesus is true of Prophet Mohammad and his Immaculate Family. Thus, Divine Guidance in Islam is limited to these 14 Torch Bearers of Islam alone (as per Shia Tenets) viz. (1) The Prophet, with his daughter, (2) Fatima, Queen of Paradise , and the 12 Divine Lights beginning with Ali and ending with the 12th Divine Taught and Heaven Born. These Lights are steady at prayers and payment of tithe is not being affected by their worldly avocations and trials and in their homes. Divine remembrance is being ever heard by the Crier due to Divine awe all prevailing when hearts and eyes will shiver. They realize future events in this world guard themselves against them and ward off those who listen to them. Their enemies similarly are likened to darkness under the deep sea.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:39-40
سوره نور / آیه 39 - 40
۳۹ وَالَّذِینَ کَفَرُوا اٴَعْمَالُھُمْ کَسَرَابٍ بِقِیعَةٍ یَحْسَبُہُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّی إِذَا جَائَہُ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا وَوَجَدَ اللهَ عِنْدَہُ فَوَفَّاہُ حِسَابَہُ وَاللهُ سَرِیعُ الْحِسَابِ ۴۰ اٴَوْ کَظُلُمَاتٍ فِی بَحْرٍ لُجِّیٍّ یَغْشَاہُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِہِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِہِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا اٴَخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرَاھَا وَمَنْ لَمْ یَجْعَلْ اللهُ لَہُ نُورًا فَمَا لَہُ مِنْ نُورٍ ترجمہ ۳۹۔اور جو لوگ کافر ہوگئے ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں سراب، جسے پیاسا شخص دور سے پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس جاتا ہے تو اسے کچھ نہیں ملتا اور الله کو وہاں موجود پاتا ہے اور الله اس کا حساب چکادیتا ہے اور الله کو حساب چکاتے دیر نہیں لگتی۔ ۴۰۔ یا جیسے کسی گہرے سمندر میں تاریکی ہو، اسے ایک موج نے چھپا رکھا ہو اور اس کے اوپر ایک اور موج ہو، اور اس کے اوپر تاریک بادل، تاریکیوں کے اوپر تاریکیوں ہیں، ایسی تاریکیاں کہ اگر کوئی اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے دیکھ نہ سکے، جسے الله نور عطا نہ کرے اس کے لئے کوئی نہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:39-40
سراب کی طرح اعمال
گزشتہ آیات میں نور الٰہی اور نور ایمان وہدایت کے بارے میں گفتگو تھی اب زیرِ نظر آیات میں کفر، جہالت، بے ایمانی، گمراہی اور منافقت کی تاریکی کے بارے میں بات کی گئی ہے، مومنین کی زندگی اور ان کے افکار تو ”نورعلیٰ نور“ تھے جبکہ منافقوں اور کافروں کا وجود ”ظُلُمَاتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ“ ہے، اب ایسے لوگوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے کہ جو زندگی کے خشک، بے آب وآگ برساتے صحراء میں پانی کے بجائے سراب کے پیچھے دوڑتے ہیں اور شدّت پیاس سے جان دیتے ہیں جبکہ مومنین کے سر پر ایمان کا سایہ ہے اور وہ ہدایت کے میٹھے اور شفاف چشمے کے کنارے راحت وآرام سے بیٹھے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ کافر ہوگئے ہیں ان کے اعمال بے آب صحرا میں سراب کی طرح ہیں پیاسا آدمی اس دور سے قریب سمجھتا ہے (وَالَّذِینَ کَفَرُوا اٴَعْمَالُھُمْ کَسَرَابٍ بِقِیعَةٍ یَحْسَبُہُ الظَّمْآنُ مَاءً) ۔ لیکن جب اس کے قریب جاتا ہے تو کچھ نہیں پاتا (حَتَّی إِذَا جَائَہُ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا) ۔ البتہ الله کو اپنے اعمال کے پاس پاتا ہے اور الله اس کا حساب چکا دیتا ہے (وَوَجَدَ اللهَ عِنْدَہُ فَوَفَّاہُ حِسَابَہُ) ۔ اور الله کو حساب چکاتے دیر نہیں لگتی (وَاللهُ سَرِیعُ الْحِسَابِ) ۔ ”سراب“ بنیادی طور پر ”سرب“ (بروزن ”شرف“) کے مادے سے اوپر کی طرف جانے کے معنی میں ہے اور ”سرب“ (بروزن ”حرب“) اوپر جانے والے راستے کے معنی میں ہے، اسی مناسبت سے ”سراب“ بیابانوں میں دور سے نظر آنے والی چمک کو کہتے ہیں کہ جو پانی معلوم ہوتی ہے جبکہ سورج کی روشنی کے انعکاس کے سوا وہاں کچھ نہیں ہوتا(1)۔ ”قیعہ“ بعض نظریے کے مطابق ”قاعہ“ کی جمع ہے اور وسیع وعریض بے آب وگیاہ زمین کے معنی میں ہے دوسرے لفظوں میں ایسے چٹیل میدان کو ”قاعہ“کہتے ہیں کہ جس میں عام طور پر سراب نظر آتا ہے ۔ لیکن بعض مفسرین اور اہلِ لغت ”قیعہ“ کو مفرد سمجھتے ہیں کہ جس کی جمع ”قیعان“ یا ”قیعات“ ہے(2). البتہ معنی کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا لیکن آیت کی مناسبت تقاضا کرتی ہے کہ یہ لفظ مفرد ہو کیونکہ لفظ ”سراب“ مفرد صورت میں آیا ہے اور ظاہر ہے اس قسم کا سراب ایک ہی بیابان میں ہوگا نہ کئی بیابانوں میں (غور کیجئے گا) ۔ اس کے بعد دوسری مثال بیان کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: یا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک وسیع سمندر پر چھائے ہوئے اندھیرے، جیسے سمندر ہے اس پر ایک موج چھائی ہوئی ہے اور اس موج کے اوپر ایک اور موج ہے اور اس کے اوپر ایک تاریک بادل ہے (اٴَوْ کَظُلُمَاتٍ فِی بَحْرٍ لُجِّیٍّ یَغْشَاہُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِہِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِہِ سَحَابٌ) ۔ اور اندھیرے سے ایک دوسرے کے اوپر چھائے ہوئے ہیں(ظُلُمَاتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ) ۔ حالت یہ ہے کہ اگر ایسے میں کوئی شخص ہو اور وہ اپنا ہاتھ باہر نکالے تو تاریکی کا یہ عالم ہے کہ اسے ہاتھ سجھائی نہ دے گا (إِذَا اٴَخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرَاھَا) ۔ جی ہاں! انسانوں کی زندگی میں نور حقیقی صرف نورِ ایمان ہے اور اس کے بغیر فضائے حیات تیرہ وتار ہے، لیکن یہ نور ایمان صرف الله کی طرف سے ہے اور جسے الله نور نہ بخشے اس کے لئے کوئی نور نہیں ہے (وَمَنْ لَمْ یَجْعَلْ اللهُ لَہُ نُورًا فَمَا لَہُ مِنْ نُورٍ) ۔ اس مثال کی گہرائی کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ لفظ ”لجی“ کے معنی کی طرف توجّہ کی جائے ”لجی“ (بروزن ”کجی“) گہرے اور وسیع سمندر کے معنیٰ میں ہے یہ لفظ بنیادی طور پر ”لجاج“ کے مادہ سے کسی کام کے پیچھے پڑجانے کے معنی میں ہے (اور عام طور پر غلط کاموں کے پیچھے لگ جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے) رفتہ رفتہ لفظ سمندر کی لہروں کے ایک دوسرے کے پیچھے جانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا اور چونکہ سمندر جتنا گہرا اور وسیع ہوگا اس کی موجیں اتنی ہیں زیادہ ہوں گی لہٰذا یہ لفظ ہوتے ہوتے وسیع سمندر کے لئے استعمال ہونے لگا۔ اب آپ عمیق، گہرے اور وسیع ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو ذہن میں رکھیں اور ہم جانتے ہیں کہ سورج کی روشنی کہ جو قوی ترین روشنی ہے اس کی شعاعیں ایک حد تک پانی کے اندر جاسکتی ہیں اس کی تیز ترین شعاعیں تقریباً سات سو میٹر گہرائی میں جاکر محو ہوجاتی ہیں اور اس کے بعد گہرائیوں میں دائمی تاریکی اور شب جاوداں ہے وہاں روشنی کا بالکل گزر نہیں ۔ یہ بات بھی ہم جانتے ہیں کہ اگر پانی بالکل صاف وشفاف ہو اور ٹھہرا ہوا تو تو روشنی کی بہتر منعکس کرسکتا ہے لیکن تلاطم خیز موجیں روشنی کی شعاعوں کو درہم برہم کردیتی ہیں اور روشنی کی بہت ہی کم مقدار پانی کی گہرائیوں میں منتقل ہوپاتی ہے اب اگر ان ٹھاٹھیں مارتی ہوئی موجوں کے اوپر سیاہ بادل بھی چاہئے ہوں تو اس سے پیدا ہونے والی تاریکی کس قدر تہ بہ تہ ہوگی(3)۔ ایک طرف پانی کی گہرائی کی تاریکی، دوسری طرف چیختی چنگھاڑتی ہوئی موجوں کی تاریکی اور تیسری طرف سیاہ بادلوں کے اندھیرے، یہ سب تہ بہ تہ ظلمتیں ہیں، واضح ہے کہ تاریکی کے ایسے عالم میں نزدیک ترین چیز بھی سجھائی نہ دے گی، یہاں تک کہ اگر انسان اپنا ہاتھ بھی اپنی آنکھوں کے پاس لے جائے تو نظر نہیں آئے گا۔ وہ کافر کہ جو نورِ ایمان سے بے بہرے ہیں ایسے شخص کی مانند ہیں کہ جو اس سے کئی گنا تاریکی میں گرفتار ہو، جبکہ ان کے برعکس روشن ضمیر ”مومنین“ ”نور علیٰ نور“ کے مصداق ہیں ۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وہ تین قسم کی تاریکی کہ جن میں یہ بے ایمان غوطہ زن ہیں یہ ہیں: ۱۔ غلط اعتقاد کی ظلمت ۲۔ غلط گفتار کی ظلمت اور ۳۔ غلط کردار کی ظلمت بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ یہ تین قسم کی ظلمتیں ان کی جہالت کے تین مرحلے ہیں: ۱۔ یہ کہ وہ نہیں جانتے ۲۔ یہ کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ نہیں جانتے ۳۔ یہ کہ اس کے باوجود سمجھتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں ۔ اور اسی کو جہل مرکب کئی گنا جہالت کہتے ہیں ۔ بعض دوسروں نے کہا کہ معرفت کے بنیادی عامل دل، آنکھ اور کان ہیں (دل سے یہاں مراد عقل ہے) جیسا کہ سورہٴ نحل کی آیہ۷۸ میں ہے: <وَاللهُ اٴَخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُونِ اٴُمَّھَاتِکُمْ لَاتَعْلَمُونَ شَیْئًا وَجَعَلَ لَکُمْ السَّمْعَ وَالْاٴَبْصَارَ وَالْاٴَفْئِدَةَ الله نے تمھیں ماوٴں کے پیٹوں سے ایسی حالت میں پیدا کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور پھر تمھیں کان، آنکھیں اور دل دیئے ۔ لیکن کافر دل کا نور بھی گنوا بیٹھے اور سماعت وبصارت کی روشنی بھی اور تاریکیوں میں غوطہ زن ہیں(4) ۔ واضح ہے کہ یہ تینوں تفسیریں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ہوسکتا ہے آیت کے مقصود میں سب ہی شامل ہوں، بہرحال زیر بحث دو آیات کے مضمون سے آخرکار ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پہلے بے ایمان افراد کے اعمال کو جھوٹی روشنی سے دی گئی ہے کہ جو خشک اور آگ برساتے بیابان میں ایک سراب کی حیثیت رکھتی ہے، سراب کہ جو نہ صرف تشنہ لبوں کی پیاس نہیں بجھا سکتا بلکہ اس کے پیچھے زیادہ دوڑنے کے باعث شدّت پیاس میں اضافہ بھی ہوجاتا ہے ۔ یہ جھوتی روشنی اور بے ایمان منافقین کے نظر فریب اعمال کی باطنی حیثیت کو بیان کیا گیا ہے ان کا باطن ایسا ہولناک ہے کہ وہاں تمام انسانی ہواس معطل ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ اور گرد وپیش کے قریب ترین چیزیں بھی اس میں پنہاں ہوجاتی ہیں یہاں تک کہ آدمی اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھ سکتا چہ جائیکہ دوسروں کو دیکھے، واضح ہے کہ ایسی ہول انگیز تاریکی میں آدمی بالکل تنہا ہوکر رہ جاتا ہے اور مکمل جہالت وبے خبری میں ڈوب جاتا ہے نہ راستہ سجھائی دیتا ہے اور نہ کوئی ہم سفر دکھائی دیتا ہے نہ اسے اپنی جگہ نظر آتی ہے اور نہ یہاں سے نکلنے کا کوئی وسیلہ اس کے پاس ہوتا ہے کیونکہ اس نے منبع نور یعنی الله سے روشنی حاصل نہیں کی اور خود پرستی وجہالت کے پردوں میں جاپڑا ہے ۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ نور تمام زیبائیوں، رنگوں، زندگی اور حرکت کا سرچشمہ ہے جبکہ اس کے برعکس برائیوں موت اور خاموشی کا منبع ہے، وحشت ونفرت کا مرکز تاریکی ہے سرد مہری اور افسردگی ظلمت کے ساتھ ہیں جو لوگ نور ایمان کھوکر کفر کی ظلمت میں ڈوب جاتے ان کی یہی حالت ہوتی ہے ۔ 1۔ آج کے ماہرین طبیعات کہتے ہیں کہ جب ہوا گرم ہوجاتی ہے تو زمین سے ملحق ہوا کا طبقہ شدّت گرمی کی وجہ سے بہت پھیل جاتا ہے اور اپنے ملحق حصّے سے جدا ہوجاتا ہے، روشنی کی لہریں بھی اس میں ٹوٹ جاتی ہیں اور سراب روشنی کی لہروں کے اسی ٹوٹ جانے کا نام ہے ۔ 2 ۔ تفسیر مجمع البیان، تفسیر روح المعانی، تفسیر قرطبی، تفسیر فخر رازی اور مفردات راغب کی طرف رجوع کریں ۔ 3۔ جیسا کہ ’ لسان العرب“ میں آیا ہے ”سحاب“ بارش والے بادل کے معنی میں ہے اور برسنے والے بادل عام طور پر تہ بہ تہ ہوتے ہیں لہٰذا زیادہ سیاہ ہوتے ہیں ۔ 4۔ تفسیر فخر الدین رازی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:40
[Pooya/Ali Commentary 24:40] This verse gives a graphic picture of darkness (infidelity) in the depths of ocean, wave upon wave, and on top of all, dense dark clouds. In verse 35 the likeness of the divine light is as "light upon light" unto which the believers are drawn to be rightly guided, and in contrast, in this verse, the disbelievers are overwhelmed in utter darkness; and darkness is not a reality but a negation of reality. The darkness over darkness alludes to the persistent disbelief of the infidels, the depth of ocean is the dark chamber of a disbeliever's heart, the wave over wave is the thick cover of disbelief under which the obstinate mind of the disbeliever works, and the "dark clouds" is the seal of infidelity with which the disbelieving heart is closed up and locked for ever. A man who belies and rejects the message of Allah presented to him with clear signs and decisive arguments can go no where but to the bottom of utter darkness. The Holy Prophet said: "My followers will cross the bridge of sirat guided and aided by the light of Ali, and Ali by my light, and I by the light of Allah. Those who are not attached with us shall not have the light to cross it, because to whom Allah does not give light, for him there is no light." Aqa Mahdi Puya says: Verses 123 of An-am and 52 of Shura, together with this verse, clearly indicate that the light of guidance comes from the divine source-prophets, Imams and the revealed scriptures. Even the proper understanding of the revealed scriptures requires divine endowment of knowledge as per verse 32 of al Fatir.