أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ
Have you not regarded that Allah is glorified by everyone in the heavens and the earth, and the birds spreading their wings. Each knows his prayer and glorification, and Allah knows best what they do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:41
[Pooya/Ali Commentary 24:41] Refer to the commentary of Bani Israil: 44 and Anbiya: 19 and 20. Every being celebrates the praises of Allah. Each one has his own mode of prayer and praise. It is not necessarily with words, because language is peculiar to man only, but other beings celebrate the glory of Allah through other modes of self-expression. Unto Allah is the ultimate return of all.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 24:41-57
Self-sufficient with bodily notes.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:41-42
۱۔ ”اٴَلَمْ تَریٰ“ کا مفہوم
اس کا لفظی معنی ہے ”کیا تونے نہیں دیکھا“ بہت سے مفسرین کے بقول اس کا مفہوم ہے ”اٴَلَمْ تَریٰ“ (کیا تجھے علم نہیں) کیونکہ موجوداتِ عالم کی تسبیح عمومی کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو آنکھ سے دیکھی جائے بلکہ یہ جس معنی میں بھی ہو اس کا ادراک دل اور عقل کے ذریعے ہوتا ہے لیکن مسئلہ اس قدر واضح ہے کہ گویا آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے لہٰذا یہاں ”اٴَلَمْ تَریٰ“ فرمایا گیا ہے ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں اگرچہ مخاطب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ہیں لیکن بعض مفسرین کے بقول اس سے مراد عام لوگ ہیں اور اس کی مثالیں قرآن میں بہت ہیں ۔ لیکن بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ اس کا مشاہدہ پیغمبر اکرم سے مخصوص ہے اس لئے آپ ہی سے خطاب ہے کیونکہ الله نے آپ کو ایسی نظر دے رکھی تھی کہ آپ اس عالم کے تمام موجودات کی تسبیح وحمد کا مشاہدہ کرتے تھے اسی طرح الله کے خاص بندے کہ جو آنحضرت کے مکتب کے پیرو ہیں وہ بھی شہودِ عینی کے مقام تک پہنچ جاتے ہیں لیکن عام لوگوں کے لئے شہودِ علمی اور شہودِ عقلی ہے نہ کہ شہودِ عینی (1)۔ 1۔ تفسیر صافی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:41-42
۵۔ ”صلاة“ سے کیا مراد ہے؟
بعض مفسرین مثلاً طبرسی مرحوم نے مجمع البیان اور آلوسی نے روح البیان میں اس مقام پر ”صلاة“ کا معنی ”دعا“ کیا ہے کہ اس کا اصل لغوی معنی ہے، اس معنی کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین وآسمان کے موجودات زبانِ حال یا زبانِ مقال سے بارگاہِ خدا میں دعا کرتے ہیں اور اس سے فیض کا تقاضا کرتے ہیں اور وہ بھی چونکہ فیاض مطلق ہے انھیں ان کی استعداد کے مطابق عطا کرتا ہے اور نوازنے میں دریغ نہیں کرتا۔ البتہ ان میں ہر کوئی اپنے آپ میں جانتا ہے کہ اسے کس چیز کی احتیاج ہے اور اسے کیا مانگنا چاہیے اور کیا دعا کرنا چاہیے ۔ علاوہ ازیں ان آیات کے مطابق کہ جن کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے اس کی بارگاہِ عظمت اور قوانینِ آفرینش کے سامنے وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں اور دوسری طرف اپنے تمام وجود کے ساتھ الله کی صفاتِ کمال بیان کرتے ہیں اور اس سے ہر قسم کے نقص کی نفی کرتے ہیں اور اس طرح ان کی چاروں عبادات حمد، تسبیح، دعا اور سجود کی تکمیل ہوتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:41-42
۴۔ ”کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہُ وَتَسْبِیحَہُ“ کی تفسیر
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ”علم“ کی ضمیر ”کل“ کی طرف لوٹتی ہے، اس کے مطابق اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا۔ آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے اور پرندے ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح سے آگاہ ہیں ۔ لیکن بعض دیگر مفسرین کے مطابق ”علم“ کی ضمیر الله کی طرف لوٹتی ہے، یعنی خدا ان میں سے ہر ایک کی نماز اور تسبیح سے آگاہ ہے ۔ البتہ پہلی تفسیر آیت کے معنی سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے، ک۔گویا تسبیح کرنے والا ہر کوئی اپنی ”تسبیح“ اور اپنی ”نماز“ کی خصوصیات جانتا ہے ۔ اگر اس سے مراد شعور کے ساتھ تسبیح ہو تو اس کا مطلب تو واضح ہے لیکن اگر زبانِ حال کے ساتھ ہو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر ایک کا اپنا خاص نظام ہے کہ جو ایک خاص طریقے سے عظمتِ پروردگار کا ترجمان ہے اور ہر ایک اس کی قدرت وعظمت کا مظہر ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:41-42
۳۔ پرندوں کی تسبیح
زیرِ بحث آیت میں تمام موجودات عالم میں سے بالخصوص پرندوں کی تسبیح کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی اس عالم میں جبکہ وہ آسمان پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہوں ۔ اس میں ایک نکتہ پنہاں ہے اور وہ یہ کہ انتہائی زیادہ تنوع کے علاوہ پرندوں میں بہت سی ایسی خصویات موجود ہیں کہ جو ہر عاقل کی آنکھ اور دل کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں ۔ کششِ ثقل کے قانون کے برخلاف پرندوں کے بھاری جسم آسمانوں پر بڑی تیز رفتاری سے پرواز کرتے ہیں خصوصاً جب انھوں نے اپنے پروں کو پھیلایا ہوتا ہے اور ہوا کی موجوں پر سوار ہوتے ہیں اور بغیر اپنے آپ کو ہلائے جس طرف چاہیں تیزی کے ساتھ پھر جاتے ہیں اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ ہوا شانسی کے امور میں پرندے گہری آگاہی رکھتے ہیں، زمین کے جغرافیائی حالات سے بہت باخبر ہوتے ہیں، ایک برّاعظم سے دوسرے برّاعظم کی طرف ہجرت کرجاتے ہیں، یہاں تک کہ بعض پرندے قطب شمالی سے قطب جنوبی تک جاپہنچتے ہیں، عجیب وغریب اور پراسرار نظام انھیں اس طویل سفر میں راہنمائی کرتا ہے یہاں تک کہ آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا ہو تب بھی وہ اپنا سفر جاری رکھتے ہیں، ان کی یہ آگاہی توحید کے حیران کن اور روشن ترین دلائل میں سے ہے ۔ چمگادڑ کے اندر ایک خاص قسم کا راڈار نصب ہوتا ہے اس کے راڈار کے ذریعے وہ رات کی تاریکی میں اپنے راستے کی تمام رکاوٹوں کو دیکھ لیتی ہیں، یہاں تک کہ وہ پانی کی موجوں کے اندر مچھلی کا نشانہ باندھتی ہیں اور انھیں بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اچک لیتی ہیں ۔ بہرحال پرندوں کے اندر بہت سے عجائبات چھپے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے قرآن نے خصوصیّت سے ان کا ذکر کیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:41-42
۲۔ موجودات عالم کی تسبیح
قرآن کی مختلف آیتوں میں اس عظیم کائنات کے تمام موجودات کی چار عبادتیں بیان ہوئی ہیں: ۱۔ تسبیح ۲۔حمد ۳۔سجدہ ۴۔نماز زیرِ بحث آیت میں نماز اور تسبیح کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے ۔ سورہٴ رعد کی آیت۱۵ میں عمومی سجدے کے بارے میں بات کی گئی ہے: <وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۴۴ میں تمام موجودتِ کائنات کی تسبیح اور حمد کا ذکر ہے ۔ <وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہِ موجودات عالم کی عمومی تسبیح کی حقیقت اور اس سلسلے میں مختلف تفاسیر کے بارے میں سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت۴۴ کے ذیل میں تفصیلی بحث کرچکے ہیں یہاں ہم اس کے بارے میں اختصار کے ساتھ کچھ بات کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں دو تفاسیر قابلِ توجہ ہیں ۔ ۱۔ اس عالم کے تمام ذرّات چاہے ہم انھیں عاقل شمار کرلیں چاہے وہ بے جان وبے عقل سب ایک طرح کا شعور وادراک رکھتے ہیں وہ اپنے انداز سے الله کی تسبیح وحمد کرتے ہیں اگرچہ ہم اس کا ادراک نہیں کرسکتے اس سلسلے میں آیاتِ قرآن سے بھی شواہد پیش کئے گئے ہیں ۔ ۲۔ تسبیح وحمد سے مراد وہی ہے جسے ہم ”زبانِ حال“ کہتے ہیں، جہانِ ہستی کا نظام اور تمام موجودات میں پنہاں کائنات کے حیرت انگیز اسرار زبانِ بے زبانی صراحت کے ساتھ اپنے خالق کی قدرت وعظمت اور لامتناہی علم وحکمت بیان کرتے ہیں کیونکہ کائنات کا ہر موجود، بدیع، عمدہ اور تعجب خیز ہے ۔ مصوری کا نفیس مرقع اور ایک عمدہ خوبصورت شعر بھی اپنے بنانے والے کی حمد وتسبیح کرتا ہے، یعنی ایک طرف تو اس کی عمدہ صفات بیان کرتا ہے (حمد) اور دوسری طرف اس سے عیب ونقص کی نفی کرتا ہے (تسبیح) ۔ تو پھر یہ باعظمت جہان، اس کے یہ سب عجائبات اور اس کی بے پایاں تعجب خیز چیزیں، کیا اپنے مصور وخالق کی حمد وتسبیح نہیں کرتیں ۔ البتہ اگر ”یُسَبِّحُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ“ کو آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں کی تسبیح کرنے کے معنی میں لیں اور ”مَن“ کو ذوی العقول کے لئے محدود رکھیں تو پھر بھی تسبیح پہلے معنی میں ہوگی کہ جو شعوری اور اختیاری ہے لیکن اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم پرندوں کے لئے بھی اس قسم کا شعور تسلیم کریں، مندرجہ بالا آیت میں ”مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ“ سے مراد پرندے ہیں ۔ البتہ ایسا ہونا کوئی عجیب وغریب نہیں ہے کیونکہ بعض دوسری آیات میں بعض پرندوں کے ایسے شعور کی کی طرف اشارہ ہو ۔ (اس بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ جلد پنجم میں سورہٴ انعام کی آیت ۲۸ کے ذیل میں گفتگو کی ہے)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:41-42
سب اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔
گزشتہ آیات میں نورِ خدا یعنی ہدایت وایمان اور کفر وضلالت کی تہ در تہ تاریکیوں کے بارے میں گفتگو تھی زیرِ بحث آیات میں توحید کے دلائل پیش کئے گئے یہ دلائل انوار الٰہی کی نشانیاں اور ہدایت کے اسباب ہیں ۔ پہلے روئے سخن پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کی طرف اشارہ ہے، ارشاد ہوتا ہے: کیا تونے دیکھا نہیں کہ آسمان اور زمین میں جو کوئی بھی ہے الله کی تسبیح کرتا ہے (اٴَلَمْ تَریٰ اٴَنَّ اللهَ یُسَبِّحُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ) ۔ اور پرندے بھی کہ جب آسمان پر اپنے پر پھیلائے ہوتے ہیں اس کی تسبیح میں مشغول ہوتے ہیں (وَالطَّیْرُ صَافَّاتٍ) ۔ وہ سب کے سب اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتے ہیں (کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہُ وَتَسْبِیحَہُ) ۔ اور وہ جو کام بھی کرتے ہیں الله ان سے آگاہ ہے(وَاللهُ عَلِیمٌ بِمَا یَفْعَلُونَ) ۔ موجودات کی یہ عمومی تسبیح الٰہی اس کی خالقیت کی دلیل ہے اور اس کی خالقیت تمام ہستی پر اس کی مالکیت کی دلیل ہے ۔ نیز اس بات کی دلیل ہے کہ تمام موجودات لوٹ کی اسی کی طرف جائیں گے، اس لئے مزید فرمایا گیا ہے: اور آسمانوں اور زمین کی مالکیت خدا کے لئے ہے اور تمام موجودات کو اس کی طرف لوٹ جانا ہے (وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَإِلَی اللهِ الْمَصِیرُ) گزشتہ سے اس آیت کا تعلق یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گزشتہ آیت کے آخری جملے میں تمام انسانوں اور تسبیح کرنے والوں کے اعمال علمِ خدا میں ہیں اور اس آیت میں دوسرے جہاں اس کی عدالت، تمام آسمانوں اور زمین پر اس کی مالکیت اور اس کے حقِ عدالت کی طرف اشارہ کیاگیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:41-42
سوره نور / آیه 41 - 42
۴۱ اٴَلَمْ تَریٰ اٴَنَّ اللهَ یُسَبِّحُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَالطَّیْرُ صَافَّاتٍ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہُ وَتَسْبِیحَہُ وَاللهُ عَلِیمٌ بِمَا یَفْعَلُونَ ۴۲ وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَإِلَی اللهِ الْمَصِیرُ ترجمہ ۴۱۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جو آسمان اور زمین ہیں، الله کی تسبیح کرتے ہیں اور پرندے بھی جب آسمانوں پر اپنے پر پھیلائے ہوتے ہیں ان میں سے ہر کوئی اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں الله اس سے واقف ہے ۔ ۴۲۔ آسمانوں اور زمین کی حکومت اور مالکیت الله کے لئے ہے اور تمام موجودات کو اسی کی طرف لوٹ جانا ہے ۔