وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
As for those who accuse chaste women and do not bring four witnesses, strike them eighty lashes, and never accept any testimony from them after that, and they are transgressors,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:4
[Pooya/Ali Commentary 24:4] In view of the severe punishment if a woman is charged with the crime of adultery, it should be supported by evidence twice as strong as would ordinarily be required for other offences, even in murder cases. Therefore four witnesses (God-fearing and upright whose impartiality is beyond all doubts in the eyes of the people) are required instead of two. If the accuser fails to produce such preponderant evidence, then he should be punished with eighty stripes. Not only is he subjected to the disgrace of punishment but is also deprived of the right of giving evidence in all matters all his life. It is a very effective check. It almost puts a stop to false accusations, slander and gossip. It is a necessary provision to protect the honour, integrity and reputation of innocent women. Refer to fiqh. Refer to Nisa: 16.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:4-5
۴۔ احکامِ قذف
ہمارے ہاں حدود میں ایک باب ”حدقذف“ کے عنوان سے ہے ۔ ”قذف“ (بروزن ”حذف“) لغت کے اعتبار سے دور کی جگہ چھلانگ لگانے اور پھینکنے کے معنی میںہے لیکن ایسے موقع پر ”رمی“ کسی کی عزّت پر تہمت لگانے کے مفہوم میں بطور کنایہ استعمال ہوتا ہے اور دوسرے لفظوں میں فحش کلامی اور گ۔الیاں دینے کے معنی میں ہے ۔ اگر قذف صریح لفظ کے ساتھ ہو اگرچہ کسی بھی زبان اور شکل میں ہو اس کی حد اسّی کوڑے ہے اور اگر صراحت سے نہ ہو تو پھر اس کے لئے تعزیر ہے (تعزیر ایسے گناہوں کے لئے ہوتی ہے جن کی حد شریعت نے معیّن نہیں کی بلکہ حاکمِ شرع کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مجرم کی خصوصیات، جرم کی کیفیت اور دیگر حالات کو مدّنظر رکھتے ہوئے ایک خاص حد تک سزا مقرر کرے) ۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص متعدد افراد پر تہمت لگائے اور انھیں گالی دے اور ان میں ہر ایک کی طرف اس گناہ کی نسبت دے تو ہر ایک نسبت کے مقابلے میں اس پر حدِ قذف جاری ہوگی لیکن بیک مرتبہ مجموعی طور پر ان پر تہمت لگائے اور وہ بھی باہم اکھٹے ہوکر اس کی سزا کا مطالبہ کریں تو اس پر ایک حد جاری ہوگی لیکن اگر وہ الگ الگ دعویٰ دائر کریں تو ہر ایک کے مقابلے میں اس پر ایک حد جاری ہوگی ۔ یہ معاملہ اس قدر اہم ہے کہ اگر کسی پر تہمت لگائی جائے اور وہ فوت ہوجائے تو اس کے وارث دعویٰ دائر کرسکتے ہیں اور حد جاری کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں، البتہ یہ حکم چونکہ ایک شخص کے حق کے ساتھ مربوط ہے اس لئے اگر صاحبِ حق مجرم کو معاف کردے تو پھر اس کی حد ساقط ہوجائے گی لیکن اگر اس جرم کا اس قدر تکرار ہو کہ معاشرے کی عزّت ووقار خطرے میں پڑجائے تو پھر صورت اور ہوگی ۔ اگر دو افراد ایک دوسرے پر تہمتِ ناموس لگائیں تو اس صورت میں دونوں سے حد ساقط ہوجائے گی، لیکن قاضی کے حکم سے دونوں پر تعزیر جاری ہوگی، لہٰذا کسی مسلمان کو حق نہیں کہ گالی کا جواب گالی سے دے بلکہ صرف قاضی کے ذریعے حق حاصل کرسکتا ہے اور گالی دینے والے کے لئے سزا کا مطالبہ کرسکتا ہے ۔ بہرحال اس اسلامی حکم کا مقصد اوّلاً انسانوں کی عزت وآبرو کی حفاظت ہے اور ثانیاً بہت سے ایسے سماجی اور اخلاقی مفاسد کی روک تھام ہے کہ جو اس کام سے معاشرے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ اگر برے اور فاسد افراد کو کھلی چھٹی مل جائے کہ وہ ہر کسی کو گالیاں دیں اور تہمتیں لگائیں اور پھر انھیں کوئی سزا نہ ملے تو لوگوں کی آبرو اور ناموس ہمیشہ معرضِ خطر میں رہے گی، یہاں تک کہ ان تہمتوں کے باعث بیوی اور شوہر کا ایک دوسرے سے اعتماد اٹھ جائے گااور باپ کو اعتبار نہیں رہے گا کہ اس کا بیٹا اس کی جائز اولاد ہے، مختصر یہ کہ گھرانے کا وجود خطرے میں پڑجائے گا اور پاک ذہن اور پاک فکر داغدار ہوکر رہ جائے گی ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سخت اور ٹھوس اقدام کی ضرورت ہے، وہی سختی جو اسلام نے ایسے بد زبان اور آلودہ دہن افراد کے لئے روا رکھی ہے ۔ ہاں ہاں، ایسے افراد کو ایک بدی، تہمت اور گالی پر اسّی کوڑے کھانے چاہئیں تاکہ وہ لوگوں کی عزت وآبرو سے نہ کھیل سکیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:4-5
تہمت کی سزا
گزشتہ آیات میں زانی مرد اور عورت کے لئے سخت سزا بیان کی گئی ہے، ہوسکتا ہے خود غرض اور بے تقویٰ افراد اس سے غلط فائدہ اٹھائیں اور پاکدامن افراد پر تہمت لگانا شروع کردیں اس لئے زانیوں کے لئے شدید سزا بیان کرنے کے ساتھ ہی ہوئے استفادہ کرنے والوں اور تہمت لگانے کے لئے سخت سزا بیان کردیں تاکہ ایسے افراد کے ہاتھوں پاکدامن گھرانوں کی حیثیت اور احترام محفوظ رہے اور کوئی شخص کسی کی عزت وآبرو کوزائل کرنے کی جرئت نہ کرسکے ۔ ارشادہوتا ہے: جو افراد پاکدامن عورتوں پر منافی عفت عمل کا الزام لگاتے ہیں انھیں چاہیے کہ اس دعوے کے ثبوت کے لئے چار (عادل) گواہ پیش کریں اور اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو ان میں سے ہر ایک کو اسّی کوڑے لگاوٴ(وَالَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاٴْتُوا بِاٴَرْبَعَةِ شُھَدَاءَ فَاجْلِدُوھُمْ ثَمَانِینَ جَلْدَةً) ۔ یہ سخت سزا بیان کرنے کے بعد قرآن دواحکام کا اضافہ کرتا ہے ۔ اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو (وَلَاتَقْبَلُوا لَھُمْ شَھَادَةً اٴَبَدًا) ۔ اور وہ فاسق ہیں(وَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْفَاسِقُونَ) ۔ اس طرح سے ایسے افراد کے لئے نہ صرف سخت سزا مقرر کی گئی ہے بکہ انھیں گواہی دینے کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا ہے اور ان کی ہر بات کو بے وقعت بناکر رکھ دیا گیا ہے تاکہ پاکدامن افراد کا وقار مجروح نہ کرسکیں، علاوہ ازیں قرآن نے ان کے ماتھے پر فسق کی علامت بھی لگادی ہے اور معاشرے میں انھیں ذلیل ورسوا کرکے رکھ دیا ہے ۔ پاک دامن افراد کی عزت ووقار کے تحفظ کے لئے ایسا سخت اقدام صرف یہیں پر نہیں ہے بلکہ بہت سی دیگر اسلامی تعلیمات میں بھی موجود ہے، ان تعلیمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی نظر میں باایمان اور پاک دامن عورت اور مرد کا عزت ووقار کس قدر اہم ہے ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) فرماتے ہیں: اذاتھم الموٴمن اخاہ انماث الایمان منن قلبہ کما ینماث الملح فی المائ اگر کوئی مومن اپنے مومن بھائی پر کسی ایسی چیز کا الزام لگائے کہ جو اس میں نہیں ہے تو ایمان اس کے دل میں اس سے گھل جاتا ہے جیسے پانی نمک میں ۔ لیکن اسلام کسی پر واپسی کی راہ بند نہیں کرتا بلکہ ہر موقع پر گناہگاروںکو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنا آلودہ دامن پاک کریں اور گزشتہ خطاوٴں کی تلافی کریں لہٰذا بعد والی آیت میں فرمایا گیا: مگر وہ لوگ جو بعد ازاں توبہ کرلیں اور اصلاح وتلافی کرلیں تو خدا انھیں معاف کردیتا ہے کیونکہ الله غفور ورحیم ہے (إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاٴَصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ) ۔ کیا یہ استثناء صرف ”اٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْفَاسِقُونَ“ کے لئے یا ”وَلَاتَقْبَلُوا لَھُمْ شَھَادَةً اٴَبَدًا“ کے لئے بھی ہے، اس سلسلے میں مفسرین اور علماء کی آراء مختلف ہیں یہ استثناء صرف آخری جملے کی طرف لوٹے تو اب فاسق شمار نہیں ہوں گے لیکن ان کی گواہی آخرِ عمر تک قابلِ اعتبار نہیں ہوگی ۔ البتہ اصولِ فقہ میں جو قواعد تسلیم کئے جاچکے ہیں ان کے مطابق جو استثناء دو یا چند جملوںکے بعد آئے اس کا تعلق صرف آخری جملے سے ہوتا ہے لیکن اگر کچھ قرائن ایسے موجود ہوں کہ جو بتائیں کہ اس کا تعلق پہلے دو جملوں سے بھی ہے تو پھر بات دوسری ہے ۔ اتفاق کی بات ہے کہ زیرِ بحث آیت میں اس قسم کا قرینہ موجود ہے کیونکہ توبہ کے ذریعے فسق کا حکم اٹھ جائے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ گواہی قابلِ قبول نہ رہے کیونکہ شہادت کی عدم قبولیت فسق کی وجہ سے تھی، اب جس شخص نے توبہ کرلی ہے اور نئے سرے سے اُس نے ملکہٴ عدالت حاصل کرلیا ہے تو فسق اس سے دور ہوگیا ہے ۔ اہل بیت علیہم السلام سے متعدد روایات ایسی منوقل ہیں کہ جو اسی مفہوم پر زور دیتی ہیں، یہاں تک کہ امام صادق علیہ السلام اس تصریح کے بعد کہ جنھوں نے توبہ کرلی ہے ان افراد کی شہادت قابلِ قبول ہے، سوال کرنے والے شخص سے پوچھتے ہیں: جو فقہاء تھارے قریب رہتے ہیں وہ کیا کہتے ہیں؟ اس نے عرض کیا: وہ کہتے ہیں ان کی توبہ الله اور اس کے درمیان تو قبول ہوگی لیکن ان کی شہادت ہمیشہ کے لئے ناقابل ہے ۔ امام(علیه السلام) فرماتے ہیں: بئس ما قالوا کان اٴبی یقول: اذا تاب ولم یعلم منہ الاخیر جازت شھادتہ. انھوں نے بہت بُری بات کہی ہے، میرے والد فرمایا کرتے تھے: جو شخص توبہ کرلے اور پھر اس سے خیر اور اچھائی کے سوا کچھ نہ دیکھا جائے تو اس کی شہادت قبول ہے (1) ۔ متعدد دیگر روایات بھی اسی طرح کی وسائل الشیعہ کے اس باب میں موجود ہیں جس سے ہم نے مذکورہ بالا حدیث درج کی ہے یہ سب روایات ہم آہنگ ہیں، سوائے ایک روایت کے اور اسے تقیہ پر محمول کیا گیا ہے ۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ”وَلَاتَقْبَلُوا لَھُمْ شَھَادَةً اٴَبَدًا“ میں ”اٴَبَدًا“ حکم کی عمومیت ی دلیل ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہر عمومیت میں استثناء (خصوصاً ”متصل“ کا استثناء) ہوسکتا ہے اس بناء پر یہ محض اشتباہ ہے کہ ”اٴَبَدًا“ کی تعبیر توبہ سے مانع ہے ۔ 1۔ وسائل الشیعہ، ج۱۸، کتاب الشہادات، باب۳۶، ص۲۸۲.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:4-5
سوره نور / آیه 4 - 5
۴ وَالَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاٴْتُوا بِاٴَرْبَعَةِ شُھَدَاءَ فَاجْلِدُوھُمْ ثَمَانِینَ جَلْدَةً وَلَاتَقْبَلُوا لَھُمْ شَھَادَةً اٴَبَدًا وَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْفَاسِقُونَ ۵ إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاٴَصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ترجمہ ۴۔ اور وہ لوگ کہ جو پاکدامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں اور پھر (اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لئے) چارہ گواہ پیش نہیں کرسکتے انھیں اسّی کوڑے لگاوٴ اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو کہ و ہفاسق ہیں ۔ ۵۔ مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ کریں اور اصلاح وتلافی کریں تو خدا غفور ورحیم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:4-5
۱۔ آیت میں ”رمی“ کا کیا معنی ہے؟
”رمی“ دراصل تیر، پتھر یا کوئی ایسی چیز پھینکنے کے معنی میں ہے، فطری سی بات ہے کہ بہت سے مواقع ایسی چیز تکلیف پہنچاتی ہے، بعد ازاں یہ لفظ کنائے کے طور پر الزام دینے، گالیاں بکنے اور غلط نسبت دینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا، کیونکہ یہ باتیں بھی دوسرے کو تیر کی طرح مجروح کردیتی ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ زیرِ بحث آیات میں اور اسی طرح آئندہ آیات میں یہ لفظ مطلق صورت میں استعمال ہوا ہے، مثلاً یہ نہیں فرمایا: ”والّذین یرمون المحصنات بالزنا“ جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں ۔ کیونکہ ”یرمون“ کے مفہوم میں خصوصاً کلام میں موجود قرائن کے حوالے سے لفظ زنا موجود ہے نیز اس مقام پر جبکہ پاکدامن عورتوں کے بارے میں گفتگو کررہی ہے، یہ لفظ استعمال نہ کرنا ایک طرح کا احترام اور ادل شمار ہوتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:4-5
۲۔ چار گواہ کیوں؟
ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں حقوق اور جرائم ثابت کرنے کے لئے عموماً دو عادل گواہ کافی ہیں یہاں تک کہ کسی انسان کے قتل کا جرم ثابت کرنے کے لئے دو عادل گواہ کافی ہیں لیکن زنا کا الزام ثابت کرنے کے لئے خصوصیت کے ساتھ چار گواہ ضروری قرار دیئے گئے ہیں، ہوسکتا ہے اس مقام پر گواہ اس لئے زیادہ رکھے گئے ہوں کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس قسم کے الزامات بے مہابا لگاتے ہیں اور سوئے ظن سے یا بغیر اس کے لوگوں کی عزت وناموس کی حفاظت کے لئے ہے جبکہ دیگر مسائل یہاں تک کہ کسی کے قاتل کے بارے میں بھی لوگ کی عزت ووقار مجروح کرتے ہیں اسلام نے اس طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی ہے، اس سلسلے میں اسلام کی یہ سختی لوگوں کی عزت وناموس کی حفاظت کے لئے ہے جبکہ دیگر مسائل یہاں تک کہ کسی کے قتل کے بارے میں بھی لوگ اس طرح کی بے سرو پا باتیں نہیں کرتے ۔ اس سے قطع نظر در حقیقت قتل نفس کا مجرم ایک شخص ہے جبکہ زنا کے مسئلے کے مسئلے میں دو افراد کے لئے اثباتِ جرم ہوتا ہے لہٰذا اگر ہر ایک کے لئے دو گواہ درکار ہوں تو کل چار گواہ ہوجائیں گے ۔ یہی بات امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بھی آئی ہے، اہلِ سنّت کے مشہور فقیہ ابوحنیفہ کا کہنا ہے:میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: زنا زیادہ سنگین گناہ ہے یا قتل؟ تو امام(علیه السلام) نے فرمایا: قتل میں نے کہا: اگر ایسا ہے تو پھر قتل کے لئے دو گواہ کیوں کافی ہیں جبکہ زنا کے ثبوت کے لئے چار گواہ ضروری ہیں تو امام(علیه السلام) نے فرمایا: تم اس مسئلے میں کیا کہتے ہو؟ ابوحنیفہ کے پاس کوئی واضح جواب نہ تھا امام(علیه السلام) نے فرمایا: یہ اس بناء پر ہے کہ زنا کے مسئلے میں دو حدیں ہیں، ایک حد مرد پر جاری ہوتی ہے اور دوسری عورت پر لہٰذا چار گواہوں کی ضرورت ہے جبکہ قتلِ نفس میں صرف ایک حد ہے جو قاتل پر جاری ہوتی ہے (1)۔ البتہ بعض مواقع ایسے بھی ہیں کہ جن میں زنا کے مسئلے میں صرف ایک حد جاری ہوتی ہے ۲مثلاً زنا بالجبر وغیرہ) لیکن یہ معاملہ استثنائی پہلو رکھتا ہے، معمول یہی ہے کہ زنا طرفین کی رضامندی سے صورت پذیر ہوتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ عام طور پر احکام کا فلسفہ غالب اکثریت پر مبنی ہوتا ہے ۔ 1۔ نور الثقلین، ج۳، ص۵۷۴.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:4-5
۳۔ قبولیت توبہ کی اہم شرط
ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ توبہ صرف یہ نہیں کہ انسان گزشتہ گناہ پر استغفار کرے یا نادم ہو، یہاں تک کہ صرف آئندہ گنہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ بھی توبہ نہیں ہے بلکہ توبہ میں یہ سب امور شامل ہیں اور ان کے علاوہ ضروری ہے کہ گناہگار گناہ کی تلافی کے درپے ہو ۔ اگر کسی نے واقعاً کسی پاکدامن عورت کی عزت ووقار کو تہمت کے ذریعے داغدار کیا ہے تو اپنی توبہ کی قبولیت کے لئے اسے چاہیے کہ ان تمام افراد کے سامنے اپنی باتوں کی تکذیب کرے جنھوں نے اس سے یہ تہمت سنی ہے، دوسرے لفظوں میں ان کی حیثیت وعزت بحال کرے ۔ لفظ ”تابوا“ کے بعد ”واصلحوا“ کا انا اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے افراد کو گناہ سے توبہ کرکے اس خرابی کی اصلاح بھی کرنا چاہیے جس کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ ایک شخص برسر عام (یامطبوعات ونشریات اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے) کسی شخص پر جھوٹی تہمت لگائے اور اس کے بعد خلوت میں جاکر استغفار کرے اور بارگاہِ الٰہی سے معافی چاہے، الله تعالیٰ اس قسم کی توبہ ہرگز قبول نہیں کرے گا ۔ اسی لئے چند روایات میں آئمہ اسلام سے منقول ہے کہ ان سے پوچھا گیا: جو لوگ کسی کی عزّت وناموس پر تہمت لگاتے ہیں کیا حدّشرعی کے اجراء اور توبہ کے بعد ان کی شہادت قابل قبول ہے؟ فرمایا: جی ہاں اور جب سوال ہوا کہ ایسا شخص کس طرح سے توبہ کرے تو فرمایا: امام (یاقاضی) کے پاس آئے اور کہے: میں نے فلاں شخص پر تہمت لگائی ہے اور جو کچھ اس سلسلے میں میں نے کہا ہے اب اس سے توبہ کرتا ہوں (1) ۔ 1۔ وسائل الشیعہ، ج۱۸، ص۲۸۳، کتاب الشہادات، باب۳۶، حدیث۴.