قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ
Tell the faithful men to cast down their looks and to guard their private parts. That is more decent for them. Allah is indeed well aware of what they do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:30
[Pooya/Ali Commentary 24:30] The rule of modesty applies to men as well as women. It is man, as the stronger sex, who ignites the flame of passion into woman, so he is addressed first to observe the rules of discipline mentioned in these verses. Not to look freely at the faces of the women who are not his sisters, daughters, mothers or wives is the fundamental injunction to put a complete ban on the lusting with the eyes which serves as a most powerful agency for the prevention and control of sexual crimes. The way in which sense-perceptions give rise to sex stimulation can hardly be overrated. Islam does not allow free and unrestricted intermingling of the sexes. It insists upon segregation of the sexes and bans altogether lewd audio and video presentation of life, real as well as imaginary. It completely bans every form of nudity. On account of the differentiation of the sexes in nature, temperament, and social life, a stricter discipline is required for woman than for man, especially in the matter of dress and public exhibition of the beauty of the body. Zinat implies the beauty of the body as well as the adornment a women adds to make it more attractive and stimulating. The woman is asked not to make a display of her figure except to the classes of people mentioned in verse 31. It is reported that once Abdullah bin Makhtum, a blind companion of the Holy Prophet, came to meet him at his daughter's house. Bibi Fatimah immediately went inside her room. Afterwards she told her father that she went away because, although Abdullah was a blind man, she was not. Earlier in a similar situation the Holy Prophet had advised his wives Ummi Salima and Maymuna not to stay in the company of even a blind man like Abdullah because of the same reason Bibi Fatimah had given. The Holy Prophet has strongly disapproved the women who do not keep their bodies clean and attractive for their husbands, or give false excuses to avoid the fulfilment of their husband's desires. He has also condemned the husbands who allow their wives to display the beauty of their bodies to others. In another tradition it is stated that the Holy Prophet has advised all wives to obey the instructions of their husbands, no matter what the circumstances are, because obedience and faithfulness unto their husbands would earn forgiveness of the sins they have committed. Aqa Mahdi Puya says: These verses contain the legislation regarding modesty in dress, and discipline in intermingling of sexes, for both men and women. Women are not allowed to display their parts of body, adorned or not, to men except those mentioned in verse 31. They have to cover their bodies except face, hands (from the wrist) and feet (including ankles), but they should not be adorned as to stimulate sexual desire when they go out of their homes. There is no restriction on them if they have to come out from their houses. In any event what the Muslim women are doing under the influence of western civilisation is against the tenets of Islam.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
3۔ چہرے اور ہاتھوں کا استثنائ
اس سلسلے میں کہ کیا چہرے اور کلائیوں سے نیچے ہاتھوں کے لئے بھی پردے کا حکم ہے یا نہیں، اس سلسلے میں فقہاء میں بہت اختلاف ہے اور اس پر بہت بحث کی گئی ہے ۔ بہت سے فقہاء کا نظریہ ہے کہ منھ اور ہاتھوں کا چھپانا پردے کے حکم سے مستثنیٰ ہے جبکہ بعض کا فتویٰ ہے کہ ان کا چھپانا بھی واجب ہے یا کم از کم احتیاط کے مطابق ہے، البتہ جو فقہاء ان دونوں کا چھپانا واجب نہیں سمجھتے وہ بھی یہ شرط لگاتے ہیں کہ جب ان کا نہ چھپانا گناہ وانحراف کا سبب بنتا ہو تو ان کا چھپانا واجب ہے ۔ زیرِ بحث آیت میں اس استثناء کے قائن موجود ہیں کہ جن سے پہلے قول کی تائید ہوتی ہے مثلاً: ( الف) زیرِ بحث آیت میں زینتِ ظاہر کو مستثنیٰ کیا گیا ہے چاہے یہ مقامِ زینت کے معنی میں ہیں، یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ چہرہ اور دونوں ہاتھوں چھپانا واجب نہیں ہے ۔ (ب) زیرِ بحث آیت میں چادر ایک پلّو گریبان پر ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تمام سر، گردن اور سینہ چھپایا جائے، اس میں منھ کے چھپانے کی کوئی بات نہیں کی گئی، یہ ہمارے بیان کردہ مفہوم کی تائید کے لئے ایک اور قرینہ ہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ جیسا کہ شانِ نزول میں بھی ہم نے بیان کیا ہے کہ اس زمانے میں عرب عورتیں دوپٹہ یا چادر اوڑھا کرتی تھیں، اس کے آنچل پر دوش پر اور پس گردن ڈال لیتی تھیں، اس طرح سے چادر ان کے کانوں کے پیچھے ہوتی تھی سر اور گردن کی پشت کا حصّہ چھپا ہوتا تھا لیکن گلے کے نیچے کا کچھ حصّہ جو گریبان کے اوپر ہوتا تھا وہ نمایاں رہتا تھا۔اسلام آیا تو اس نے اس کیفیت کی اصلاح کی، اسلام نے حکم دیا کہ عورتیں چادر پلّو کان کے نیچے یا سر کے پیچھے سے آگے لے آئیں اور اسے گریبان اور سینے کے اوپر ڈالیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف چہرہ کھلا رہ گیا اور باقی سب کچھ چھپ گیا۔ ج) کتب حدیث میں اس سلسلے میں بہت سی روایات موجود ہیں کہ جو ہمارے دعویٰ پر زندہ دلیل ہیں(1) اگرچہ ان کی معارض روایات بھی ہیں مگر ان میں اس حد تک صراحت نہیں ہے ۔ ایسی دونوں طرح کی روایات کو یکجا کیا جاسکتا ہے، اس لحاظ سے کہ جن روایات میں چہرہ اور ہاتھ چھپانے کی بات ہے انھیں مستحب حکم سمجھا جائے یا اس حکم کو ان مواقع کے لئے سمجھا جائے کہ جہاں گناہ، برائی اور انحراف کا اندیشہ ہو ۔ تاریخی شواہد بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ صدر اسلام میں عورتیں عموماً چہرے پر نقاب ڈالتی تھیں، (اس مسئلے کی روایات پر نیز اس کے مختلف فقہی پہلووٴں پر تفصیلی بحث کے لئے کتب فقہ کا باب نکاح دیکھئے) ۔ ہم ایک مرتبہ پھر تاکید کرتے ہیں کہ چہرے اور ہاتھوں کے کھلے رہنے کی اجازت اس صورت میں ہے جب ایسا کرنا سوئے استفادہ اور انحراف کا سبب نہ بنے ۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کے پردے سے استثنیٰ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جائز ہے کہ دوسرے لوگ جان بوجھ کر دیکھتے رہیں بلکہ درحقیقت یہ عورتوں کے لئے امور زندگی میں سہولت کی خاطر ہے ۔ 1۔ کتاب وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۱۴۵، باب۱۰۹، از ابواب مقدمات نکاح ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
7۔ کونسے بچے اس حکم سے مستثنیٰ ہیں؟
ہم پڑھ چکے ہیں کہ بارہواں گروہ جس سے پردہ کرنا واجب نہیں ہے وہ بچے ہیں کہ جنھیں ابھی تک جنسی امور کی تمیز نہیں ”لَمْ یَظْھَرُوا“ کا معنی کبھی ”لَمْ یَطْلَعُوا“ (آگاہی نہیں رکھتے) کیا گیا ہے اور کبھی ”لَمْ یَقْدَرُوا“ (طاقت نہیں رکھتے) کیا گیا ہے کیونکہ یہ مادہ ان دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے، قر آن میں بھی یہ مادہ دونوں مفاہیم کے لئے استعمال ہوا ہے، مثلاً سورہٴ کہف کی آیت ۲۰ میں ہے: <إِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوکُمْ ”اگر اہل شہر کو تمھاری موجودگی کا پتہ چل گیا تو تمھیں سنگسار کردیں گے“۔ نیز سورہٴ توبہ کی آیت۸ میں ہے: <کَیْفَ وَإِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوا فِیکُمْ إِلًّا وَلَاذِمَّةً ”تم عہد وپیمان توڑنے والوں سے کیسے جنگ نہیں کرتے ہو حالانکہ اگر وہ تم پر قدرت حاصل کرلیں“۔ بہرحال زیرِ بحث آیت میں نتیجے کے لحاظ سے ان دونوں معانی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مراد ایسے بچے ہیں کہ جو جنسی احساس نہ ہونے کی بناء پر نہ توانائی رکھتے ہیں اور نہ آگاہی، لہٰذا ایسے بچے کہ جو اس عمر کو پہنچ گئے ہیں کہ ان میں یہ میلان اور توانائی پیدا ہوچکی ہے مسلمان عورتوں کو ان سے پردہ کرنا چاہیے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
6۔ ”اٴُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ“ کی تفسیر
”اربہ“ بنیادی طور پر ”ارب“ (بروزن ”عَرَب“) مفردات میں بقولِ راغب شدّت احتیاج کے معنی میں ہے کہ جسے پورا کرنے کے لئے انسان کوشش کرتا ہے اور کبھی یہ لفظ مطلق حاجت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اور ”اٴُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ“ سے یہاں ایسے مرد مراد ہیں کہ جو جنسی خواہش اور بیوی کی ضرورت رکھتے ہوں، لہٰذا ”غَیْرِ اٴُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ“ سے ایسے مرد مراد ہیں کہ جو یہ میلان اور خواہش نہ رکھتے ہوں (1) ۔ مفسرین میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ ان سے کون لوگ مراد ہیں، بعض اس سے وہ بوڑھے افراد مراد لیتے ہیں کہ جن کے جنسی جذبات ختم ہوچکے ہوں جیسے ”القواعد من النساء“ (ایسی عورتیں جو شادی کے قابل نہیں رہ گئی ہوتیں اور اس لحاظ سے بیٹھ چکی ہوتی ہیں) ۔ بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے خُسرے اور خواجہ مراد ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد ایسے افراد ہیں کہ جو الہٴ تناسل نہیں رکھتے ۔ لیکن جس معنی میں زیادہ افراد کا اتفاق ہے اور جو امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے چند معتبر احادیث میں نقل ہوا ہے یہ ہے کہ اس سے مراد ایسے بے سمجھ مرد ہیں کہ جو ہرگز احساسِ جنسی نہیں رکھتے اور عام طور پر ان سے آسان کام لیے جاتے ہیں، آیت میں ”التابعین“ کی تعبیر بھی اس معنی کو تقویت دیتی ہے (2) ۔ البتہ چونکہ یہ وصف یعنی جنسی میلان نہ ہونا بعض بوڑھے افراد پر بھی صادق آتا ہے لہٰذا بعید نہیں کہ آیت کے مفہوم میں ایسے بوڑھے افراد بھی شامل ہوں، ایک حدیث میں امام کاظم علیہ السلام نے بھی ایسے بوڑھوں کو اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے ۔ لیکن بہرحال آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسے مرد محرموں کی طرح ہیں، یہ بات مسلّم ہے کہ ایسے افراد سے سر، ہاتھ، یا بازو کا کچھ حصّہ یا جسم کا کوئی ایسا حصّہ چھپانا واجب نہیں ہے ۔ 1۔ وسائل الشیعہ، باب۱۲۴، از مقدمات نکاح، حدیث۸. 2 ۔ مزید وضاحت کے لئے جواہر الکلام، ج۲۹، ص۹۴ کے بعد اور اسی طرح وسائل الشیعہ، باب۱۱۱ از ابواب نکاح اور اسی طرح تہذیب، ج۷، ص۴۶۸ کی طرف رجوع کریں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
4۔ ”نسائھن“ سے کون مراد ہیں؟
جیسا کہ ہم نے آیت کی تفسیر میں پڑھا ہے کہ نواں گروہ جس کے سامنے عورت کو زینت ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ہے ان عورتوں کا ہے جنھیں ”نسائھن“ (ان کی عورتیں) کہا گیا ہے ۔ ا س سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں صرف مسلمان عورتوں کے سامنے اپنا پردہ اتار سکتی ہیں، لیکن غیر مسلم عورتوں کے سامنے انھیں اسلامی پردے میں جانا چاہیے، اس حکم فلسفہ جیسا کہ روایات میں آیا ہے یہ ہے کہ ممکن ہے وہ عورتیں واپس جاکر مسلمان عورتوں کے بارے میں جو کچھ انھوں نے دیکھا اس کی تعریف اپنے شوہروں کے سامنے کریں اور یہ بات مسلمان عورتوں کے حق میں درست نہیں ہے ۔ کتاب ”من لایحضرہ الفقیہ“ میں ایک روایت امام صادق علیہ السلام مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: لاینبغی للمراٴة اٴن تنکشف بین یدی الیھودیة والنصرانیة، فانّھن یصفن ذٰلک لازواجھن. مناسب نہیں ہے کہ مسلمان عورت کسی یہودی عورت اور عیسائی عورت کے سامنے عریاں ہو کیونکہ جو کچھ وہ دیکھیں گی اپنے شوہروں سے بیان کریں گی(1)۔ 1۔ تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص۵۹۳، بحوالہٴ من لایحضرہ الفقیہ.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
5۔ ”اٴَوْ مَا مَلَکَتْ اٴَیْمَانُھُنَّ“ کی تفسیر
ظاہری الفاظ کے اعتبار سے یہ جملہ وسیع مفہوم رکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ عورت اپنے غلام ومملوک کے سامنے بے پردہ آسکتی ہے لیکن بعض احادیث میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ اس سے مراد کنیزوں کے سامنے بے پردہ آنا ہے، چاہے وہ غیر مسلم ہی ہوں اور اس کے مفہوم میں غلام شامل نہیں ہیں، ایک حدیث میں امیرالموٴمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لاینظر العبد الیٰ شعر مولاتہ“. غلام اپنے آقا کیعورت کے بال نہیں دیکھ سکتا۔ البتہ کچھ روایات ایسی بھی ہیں کہ جن سے اس لفظ کی عمومیت معلوم ہوتی ہے لیکن یہ بات مسلّمہ ہے کہ عمومیت خلاف احتیاط ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
2. پردے کے مخالفین کے اعتراضات
اب ہم کچھ ان اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں کہ جو پردے کے مخالفین پیش کرتے ہیں: ۱۔ اس بنیادی اعتراض پر پردے کے سب معترضین کا اتفاق ہے کہ عورتیں معاشرے کا نصف حصّہ ہیں لیکن پردہ معاشرے کی اتنی بڑی آبادی کو گوشہ بناکر رکھ دیا ہے اور اس طرح سے انھیں فکری، تمدنی اور ثقافتی لحاظ سے پیچھے دھکیل کر پسماندہ کردیتا ہے، خصوصاً اس اقتصادی دوڑ کے زمانے میں فعال انسانی قوتوں کی ضرورت زیادہ ہے لیکن پردے کی صورت میں اس اقتصادی دوڑ میں عورتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ہے، جبکہ ثقافتی اور سماجی مراکز میں بھی ان کی جگہ اس طرح خالی رہے گی، اس طرح سے عورتیں معاشرے کا غیر پیداواری حصّہ بن کر ایک بوجھ بن جائیں گی۔ لیکن یہ اعتراض کرنے والے چند امور سے بالکل غافل ہیں یا جان بوجھ کر تفاغل برتتے ہیں کیونکہ: اولاً: کون کہتا ہے کہ اسلامی پردہ عورت کو گوشہ نشین بنادیتا ہے اور اسے معاشرے کے منظر سے دور پھینک دیتا ہے گزشتہ زمانے میں شاید ضروری تھا کہ اس سلسلے میں ہم استدلال پیش کریں لیکن آج انقلاب اسلامی کے بعد تو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم خود دیکھتے ہیں کہ عورتیں گروہ درگروہ اسلامی پردے کے اندر ہر جگہ موجود ہوتی ہیں، دفتروں، کارخانوں، سیاسی مظاہروں، ریڈیو، ٹیلی ویژن، اسپتال اور مراکز صحت میں خصوصاً جنگ کے زخمیوں کی دیکھ بھال کے لئے اور اسی طرح میدانِ ثقافت میں اور تعلیمی اداروں میں یہاں تک کہ دشمن سے جنگ کے میدان میں ہر کہیں پر عورتیں موجود ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ یہ کیفیت ان تمام اعتراضات کا دندان شکن جواب ہےں انقلاب سے پہلے اگر ہم ”امکان“ پر بات کرتے تھے تو آج اس کا ”وقوع“ اور ”موجودگی“ ہمارے سامنے ہے اور فلاسفہ نے کہا ہے کہ کسی شے کے امکان کی بہترین دلیل اس کا وقوع ہے اور یہ آج ایسا آشکار ہے کہ محتاج بیان نہیں ۔ ثانیاً: کیا گھر کو چلانا ، بچوں کی تربیت کرکے انھیں آبرومند بنانا اور ایسے انسان تیار کرنا کہ جو آئندہ اپنے توانا بازووٴں سے معاشرے کے عظیم پہیوں کو چلاسکیں، کوئی کام نہیں؟ جو لوگ عورت کی اس عظیم خدمت کو مثبت شمار نہیں کرتے وہ اس امر سے بے خبر ہیں کہ ایک خاندان ایک صحیح وسالم اور آبادومتحرک معاشرے کی تعمیر میں کیا کردار ادا کرتا ہے ۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ بس یہی صحیح راستہ ہے کہ ہمارے مرد اور عورتیں مغربی مردو اور عورتوں کی طرح صبح سویرے گھر سے نکلیں بچوں کو پرورش گاہوں کے سپرد کردیں یا گھر میں چھوڑکر دروازے بند کرجائیں اور خود دفتر یا کارخانے کی طرف روانہ ہوجائیں اور اُن اَن کھلی کلیوں کو اسی عمر سے قیدخانے کا تلخ ذائقہ چکھنے کے لئے چھوڑ جائیں ۔ یہ لوگ اس امر سے غافل ہیں کہ یہ عمل بچوں کی شخصیت کو درہم وبرہم کردیتا ہے، اس طرح بے روح انسانی احساسات سے عاری بچے پروان چڑھتے ہیں کہ جو معاشرے کے لئے بوجھ ہی نہیں بلکہ اس کے مستقبل کے لئے خطری بھی ہوتے ہیں ۔ ۲۔ دوسرا اعتراض ان کا یہ ہے کہ پردہ ہاتھ پاوٴں کو باندھ دینے والالباس ہے اور بھاگ دوڑ اور کام کاج میں بالخصوص جدید مشینی دور میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، ایک عورت آخر اپنی حفاظت کرے، اپنی چادر سنبھالے، بچے کو تھامے یا اپنا کام کاج کرے؟ لیکن یہ اعتراض کرنے والے ایک نکتے سے غافل ہیں اور وہ یہ کہ پردہ ہمیشہ چادر اور برقعے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ایسا لباس جو پورے جسم کو ڈھانپ دے وہی پردہ ہے، اگر چادر سے ہو تو کیا ہی بہتر اور جہاں چادر سے نہ ہو تو مکمل پہناوے پر قناعت ہوجائے گی۔ ہماری کسان اور دیہاتی عورتیں کاشت اور کٹائی کا کام کرتی ہیں، دھان کے کھیتوں میں ان کا کام کچھ زیادہ ہی مشکل ہوتا ہے انھوں نے یہ اہم اور مشکل کام اسلامی پردے کے ساتھ انجام دے کر ان اعتراضات کا جواب دے دیا ہے اور اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ ایک دیہاتی عورت اسلامی پردے کے ساتھ بعض اوقات مردوں سے بھی زیادہ اور بہتر کام کرتی ہے اور اس کام میں اس کا پردہ ہرگز رکاوٹ نہیں بنتا۔ ۳۔ ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ پردہ عورتوں اور مردوں کے درمیان حائل ہوکر مردوں کو زیادہ حریص بنادیتا ہے، اس سے ان کے حرص کی آگ بجھنے کے بجائے اور بھڑک اٹھتی ہے کیونکہ: ”الانسان حریص علی یمنع“ جس چیز سے انسان کو روکا جائے اس پر زیادہ حریص ہوتا ہے ۔ اس سوال کا جواب یا زیادہ صحیح الفاظ میں اس مغالطے کا جواب ہمارے آج کا ایرانی معاشرہ ہے، آج پردہ بلا شبہ استثناء ہمارے تمام معاشرے میں اور تقریباً تمام مراکز میں موجود ہے، اس دور کا مقابلہ سابقہ شہنشاہی طاغوتی دور سے کیا جاسکتا ہے جبکہ اس زمانے میں عورتوں سے پردہ زبردستی اتروایا گیا تھا۔ اس زمانے میں ہر گلی کوچہ مرکزِ گناہ تھا، گھرانوں اور خاندانوں کی عجیب بے لگام زندگی تھی، طلاق معاشرے میں انتہائی زیادہ ہوچکی تھی، ناجائز بچوں کی شرح پیدائش بڑھ چکی تھی اور اسی طرح ہزارہا بدبختیاں تھیں ۔ ہم نہیں کہتے کہ ان میں سے ہر چیز بنیاد سے بالکل اکھڑگئی ہے لیکن بلاشبہ ان بدبختیوں میں بہت زیادہ کمی آئی ہے اور اس اعتبار سے سلامتی ہمارے میں لوٹ آئی ہے اور انشاء الله اگر حالات اسی صورت پر رہے اور بچی کچھی قباحتیں بھی ختم ہوگئیں تو ہمارا معاشرہ خاندانوں کی پاکیزگی اور عورت کی قدر ومنزلت کے تحفظ کے لحاظ سے منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
سوره نور / آیه 30 - 31
۳۰ قُلْ لِلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ اٴَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَھُمْ ذٰلِکَ اٴَزْکَی لَھُمْ إِنَّ اللهَ خَبِیرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ ۳۱ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اٴَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَھُنَّ وَلَایُبْدِینَ زِینَتَھُنَّ إِلاَّ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلیٰ جُیُوبِھِنَّ وَلَایُبْدِینَ زِینَتَھُنَّ إِلاَّ لِبُعُولَتِھِنَّ اٴَوْ آبَائِھِنَّ اٴَوْ آبَاءِ بُعُولَتِھِنَّ اٴَوْ اٴَبْنَائِھِنَّ اٴَوْ اٴَبْنَاءِ بُعُولَتِھِنَّ اٴَوْ إِخْوَانِھِنَّ اٴَوْ بَنِی إِخْوَانِھِنَّ اٴَوْ بَنِی اٴَخَوَاتِھِنَّ اٴَوْ نِسَائِھِنَّ اٴَوْ مَا مَلَکَتْ اٴَیْمَانُھُنَّ اٴَوْ التَّابِعِینَ غَیْرِ اٴُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اٴَوْ الطِّفْلِ الَّذِینَ لَمْ یَظْھَرُوا عَلیٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَایَضْرِبْنَ بِاٴَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِینَ مِنْ زِینَتِھِنَّ وَتُوبُوا إِلَی اللهِ جَمِیعًا اٴَیُّھَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ترجمہ ۳۰۔ مومنین سے کہہ دو: اپنی آنکھوں کو (نامحرموں کو دیکھنے سے) بند رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے، جو کچھ تم کرتے ہو الله اس سے آگاہ ہے ۔ ۳۱۔ اور باایمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو (نگاہِ ہوس آلود سے) بند رکھیں اور اپنا دامن محفوظ رکھیں اور سوائے اس حصّے کے کہ جو ظاہر ہے اپنے بناوٴ سنگھار کو آشکار نہ کریں اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے سینے پر ڈالیں (تاکہ اس سے گردن اور سینہ چھپ جائے) نیز اپنے شوہروں، اپنے آباوٴ اجداد ، اپنے شوہروں کے آباوٴ اجداد، اپنے بیٹوں، اپنے شوہروں کے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنے بھائیوں کے بیٹوں، اپنی بہنوں کے بیٹوں، اپنی ہم مذہب عورتوں، اپنی مملوک عورتوں اور کنیزوں، کسی عورت کا طرف میلان نہ رکھنے والے مردوں یا ان بچوں کے، جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے آگاہ نہ ہوں، کے علاوہ کسی کے سامنے اپنا باوٴ سنگھار ظاہر نہ کریں، وہ اس طرح سے زمین پر پاوٴں مارکر نہ چلیں کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر ہوجائے (اور پازیبوں کی جھنکار لوگوں کو سنائی دے) اور الله کی طرف لوٹ آوٴ تاکہ فلاح پاجاوٴ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
بے پردگی اور بے حیائی کے خلاف قیام
ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ سورت عفّت وپاکدامنی کا درس لئے ہوئے ہے، اس میں جنسی بے راہ روی کے خلاف اقدامات کئے گئے ہیں، اس لحاظ سے اس کے مباحث واضح طور پر ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔ زیرِ بحث آیات میں غیر محرم کی طرف نگاہ کرنے، ہوسناک نگاہوں سے دیکھنے اور پردے کے بارے میں احکام بیان کئے گئے ہیں، ان آیات کا خلافِ ناموس تہمتیں لگانے کی بحث سے ربط کسی سے مخفی نہیں ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: مومنین سے کہہ دو کخ (نامحرموں کی طرف سے اور ہر اس چیز سے کہ جن پر نظر ڈالنا حرام ہے) اپنی آنکھیں بند رکھیں اور اپنے دامن کی حفاظت کریں (قُلْ لِلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ اٴَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَھُمْ) ۔ ”یَغُضُّوا“ ”غض“ (بروزن ”خز“) کے مادہ سے در اصل کم کرنے اور نقصان کے معنی میں ہے، بہت سے مواقع پر یہ لفظ آواز کم اور آہستہ کرنے اور نگاہی کم یا نیچی کرنے کے لئے بولا جاتا ہے، لہٰذا آیت یہ نہیں کہتی کہ موٴمنین اپنی آنکھیں بند کرلیں بلکہ کہتی ہے کہ وہ اپنی نگاہیں کم اور نیچی کرلیں، یہ لطیف تعبیر ہے، کسی وقت کسی مرد کا کسی نامحرم عورت سے سامنا ہو تو اگر وہ آنکھیں بند کرلے تو اس کے لئے چلنا اور دوسرے کام کرنا ممکن نہ ہرے، لیکن اگر نظریں اس عورت کے چہرے اور بدن سے ہٹالے اور نگاہیں نیچی کرلے تو گویا اس نے اپنی نگاہ میں کمی کردی ہے اور وہ منظر کہ جو اس کے لئے دیکھنا ممنوع ہے اسے اس نے اپنی نگاہوں کی پہنچ سے بالکل حذف کردیا ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن یہ نہیں کہتا کہ کس چیز سے آنکھیں بند کریں (اصلاح کی زبان میں فعل کے متعلق کو حذف کردیا گیا ہے) تاکہ یہ حکم عمومیت پیدا کرے یعنی ان تمام چیزوں کے دیکھنے سے آنکھیں بند کرلیں کہ جن کی طرف نگاہ کرنا حرام ہے ۔ لیکن سیاق وسباق بالخصوص اگلی آیت کی طرف دیکھنے سے معاملہ واضح ہوجاتا ہے کیونکہ اگلی آیت میں پردے کا مسئلہ بیان ہوا ہے، لہٰذا یہاں نامحرم عورتوں کی طرف نگاہ کرنا ہے، مذکورہ بالا شان نزول بھی اسی مفہوم کی موٴید ہے(1) ۔ جو کچھ کہا جاچکا ہے اس سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ زیرِ بحث آیت کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ مرد عورتوں کے چہرے میں کھوکر نہ رہ جائیں کیونکہ اس سے تو یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ اس ارادے کے بغیر نگاہیں کرنا جائز ہے، درحقیقت اس سے مراد یہ ہے کہ عام طور پر دیکھتے ہوئے انسان کی نظر ایک وسیع حصّے پر پڑتی ہے اگر ایسے میں ان کی نگاہ کسی نامحرم عورت پر پڑے تو چاہیے کہ اس کی طرف نہ دیکھے اور اس کی طرف سے آنکھیں بند کرلے البتہ اپنے راستے اور اونچ پر نظر رکھے، یہ جو ”غض“ کا معنی کیا گیا ہے اس سے یہی مراد ہے (غور کیجئے گا) ۔ زیرِ بحث آیت میں دوسرا حکم حفظِ فروج کے بارے میں ہے ۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے ”فرج“ بنیادی طور پر شگاف اور دو چیزوں کے درمیانی فاصلے کو کہتے ہیں لیکن اس قسم کے مواقع پر کنایتاً شرمگاہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ہم نے اس کے کنائی معنی کے لئے لفظ ”دامان“ انتخاب کیا ہے ۔ جیسا کہ روایت آیا ہے حفظِ فرج سے مراد دوسروں کی نظروں سے چھپانا ہے، ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے: کل آیة فی القرآن فیھا ذکر الفروج من الزنا الّا ھٰذہ الآیة فانّھا من النظر. قرآن کی ہر آیت جس میں حفظ فرج کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے اس سے مراد زنا سے محفوظ رہنا ہے مگر اس آیت میں اس سے مراد دوسروں کی نگاہ سے محفوظ رکھنا ہے ۔ بعض اوقات یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے اس کام سے کیوں منع کیا ہے کہ جو خواہشاتِ دل کا تقاضا ہے، اس سلسلے میں آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: یہ ان کے لئے بہتر اور پاکیزہ ہے (ذٰلِکَ اٴَزْکَی لَھُمْ) ۔ اس کے بعد ان لوگوں کو خطرے سے آگاہ کیا ہے جو بیان کہ جو جان بوجھ کر نا محرموں پر ہوس آلود نگاہیں ڈالتے ہیں اور پھر اسے غیر اختیاری قرار دیتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ تم انجام دیتے ہو الله اس سے یقینی طور پر آگاہ ہے (إِنَّ اللهَ خَبِیرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ( اگلی آیت میں اس سلسلے میں عورتوں کی ذمہ داری بیان کی گئی ہے، پہلے تو وہ ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں جو مردوں کی ذمہ داریوں جیسی ہیں، ارشاد ہوتا ہے: باایمان عورتوں سے کہہ دوکہ اپنی آنکھیں رکھیں (اور نامحرم مردوں کی طرف دیکھنے سے بچیں اور اپنے دامن کی حفاظت کریں (وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اٴَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَھُنَّ) ۔ گویا جیسے مردوں پر ہوس آلود نگاہوں سے عورتوں کی طرف دیکھنا حرام ہے اسی طرح عورتوں پر بھی حرام ہے، اسی طرح دوسروں سے اپنی شرمگاہ کو چھپانا جیسے مردوں کے لئے ضروری ہے اسی طرح عورتوں پر بھی واجب ہے ۔ اس کے بعد تین جملوں میں مسئلہ حجاب کا خصوصیت سے عورتوں سے متعلق ہے، ان تیں جملوں کو ہم ذیل میں دیکھتے ہیں: ۱۔ انھیں نہیں چاہیے کہ اپنا بناوٴ سنگھار دکھاتی پھریں سوائے اتنی مقدار کے کہ جتنی فطری طور پر ظاہر ہوجاتی ہے (وَلَایُبْدِینَ زِینَتَھُنَّ إِلاَّ مَا ظَھَرَ مِنْھَا) ۔ جس زینت کا چھپانا عورتوں کے لئے ضروری ہے اور جس کے اظہار کی اجازت دی گئی ہے اس کے مصداق کے بارے میں مفسرین میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے ۔ بعض نے زینتِ پنہاں کو عورت کی فطری زینت (اس کے خوبصورت بدن) کے معنی میں لیا ہے جبکہ لفظ ”زینت“ اس معنی میں بہت ہی کم بولا جاتا ہے ۔ بعض دوسروں نے اسے مقامِ زینت کے معنی میں لیا ہے کیونکہ خود زینت مثلاً گوشوارہ، دست بند اور بازو بند وغیرہ کو ظاہر کرنے میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کی ممانعت کی جائے، ظاہر کرنے کی ممانعت تو مقامِ زینت کے ساتھ مربوط ہے یعنی کان، گردن، ہاتھ اور بازو ۔ کچھ مفسرین نے اپنے زینت کی چیزوں کے معنی میں لیا ہے البتہ جس وقت وہ بدن پر ہوں، واضح ہے کہ ایسی زینت آشکار ہوگی تو ساتھ بدن کا وہ حصّہ بھی ظاہر ہوگا کہ جس پر زینت موجود ہے ۔ آخری دو تفاسیر نتیجے کے اعتبار سے یکساں ہیں اگرچہ مسئلہ مختلف طریقے سے بیان کیا گیا ہے ۔ حق یہ ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم پہلے سے کئے گئے فیصلے کے بغیر اور اس کے ظاہری مفہوم کے مطابق اس کی تفسیر کریں اور ظاہری مفہوم کے اعتبار سے مذکورہ بالا تیسرا معنی ہی درست ہے ۔ لہٰذا عورتوں کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ زینتیں اور بناوٴ سنگھار کہ جو عموماً چھپا ہوتا ہے اسے ظاہر کریں، اگرچہ بدن نہ بھی ظاہر ہو، اس لحاظ سے عام چار یا برقعے کے نیچے جو زینت آمیز لباس ہوتا ہے اسے ظاہر کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ قرآن نے ایسی زینتوں کے اظہار سے منع کیا ہے ۔ آئمہ اہل بیت علیہم السلام جو متعدد روایات نقل ہوئی ہیں ان میں یہی معنی نظر آتا ہے، ان کے مطابق زینت باطن سے مراد گلوبند بازوبند اور پازیب ہے(2) ۔ متعدد روایات میں زینتِ ظاہر سے انگوٹھی اور سرمہ وغیرہ مراد لیا گیا ہے، ان روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ چھپی ہوئی زینتوں سے بھی زیورات اور بناوٴ سنگھار کی وہ چیزیں ہی مراد ہیں کہ جو ہموماً چھپی ہوئی ہیں (غور کیجئے گا) ۔ ۱۔ اس آیت میں عورتوں کو دوسرا حکم دیا گیا ہے: اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے سینے پر ڈال لیں (وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلیٰ جُیُوبِھِنَّ) ۔ ”خمر“ ”خمار“ (بروزن ”حجاب“) کی جمع ہے بنیادی طور پر یہ لفظ پردے اور چھپانے والی چیز کے معنی میں ہے لیکن عام طور پر اس چیز کو کہا جاتا ہے کہ جس سے عورتیں اپنا سرچھپاتی ہیں (دوپٹہ یا چادر وغیرہ) ۔ ”جیوب“ ”جیب“ (بروزن ”غیب“) کی جمع ہے جس کا معنی ہے گریبان، بعض اوقات یہ لفظ سینے کے اوپر والے حصّے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے عورتیں اپنے دوپٹوں اور چادروں کے آنچل شانوں پر یا سر کے پچھلی طرف ڈالتی تھیں، اس طرح سے ان کی گردن اور سینے کا کچھ حصّہ دکھائی دیتا تھا، قرآن حکم دیتا ہے کہ عورتیں اپنی چادر اپنے گریباں کے اوپر ڈال لیں تاکہ گردن اور سینے کا دکھائی دینے والا حصّہ چھپ جائے (مذکورہ شانِ نزول سے بھی یہی معنی معلوم ہوتا ہے) ۔ ۳۔ تیسرے حکم میں ان افراد کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جن کے سامنے عورتیں پردہ ہٹاسکتی ہیں اور چھپی ہوئی زینت کو ظاہر کرسکتی ہیں ۔ بات یوں شروع ہوتی ہے: عورتیں اپنی زینت اور سنگھار ظاہر نہ کریں (وَلَایُبْدِینَ زِینَتَھُنَّ) ۔ سوائے ان بارہ مواقع پر: ۱۔ اپنے شوہروں کے لئے (إِلاَّ لِبُعُولَتِھِنَّ) ۔ ۲۔ اپنے آباوٴ اجداد کے سامنے (اٴَوْ آبَائِھِنَّ) ۔ ۳۔ اپنے شوہروں کے آباء واجداد کے سامنے (اٴَوْ آبَاءِ بُعُولَتِھِنَّ) ۔ ۴۔ اپنے بیٹوں کے سامنے (اٴَوْ اٴَبْنَائِھِنَّ) ۔ ۵۔ اپنے شوہروں کے بیٹوں کے سامنے (اٴَوْ اٴَبْنَاءِ بُعُولَتِھِنَّ) ۔ ۶۔ اپنے بھائیوں کے سامنے (اٴَوْ إِخْوَانِھِنَّ) ۔ ۷۔ اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے سامنے (اٴَوْ بَنِی إِخْوَانِھِنَّ) ۔ ۸۔ اپنی بہنوں کے بیٹوں کے سامنے (اٴَوْ بَنِی اٴَخَوَاتِھِنَّ) ۔ ۹۔ اپنی ہم مذہب عورتوں کے سامنے (اٴَوْ نِسَائِھِنَّ) ۔ ۱۰۔ اپنی مملوک کنیزوں کے سامنے (اٴَوْ مَا مَلَکَتْ اٴَیْمَانُھُنَّ( ۱۱۔ ان زیر دست مردوں کے سامنے کہ جو کوئی رغبت نہ رکھتے ہوں (اٴَوْ التَّابِعِینَ غَیْرِ اٴُوْلِی الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ) ۔ ۱۲۔ یا ان چھوٹے بچوں کے سامنے کہ جو ابھی عورتوں کے پوشیدہ امور کی تمیز نہیں رکھتے (اٴَوْ الطِّفْلِ الَّذِینَ لَمْ یَظْھَرُوا عَلیٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ) ۔ ۴۔ آخر میں چوتھا حکم اس طرح بیان کیا گیا ہے: راہ چلتے اپنے پاوٴں پریوں مارکر نہ چلیں کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر ہوجائے (وَلَایَضْرِبْنَ بِاٴَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِینَ مِنْ زِینَتِھِنَّ) ۔ وہ اپنی عفّت وپاکدامنی کا پاس کریں اور ایسے کام نہ کریں کہ جن سے مردوں کے جذبات کو انگیخت ملتی ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ جادہٴ عفّت سے بھٹک جائیں، اس سلسلے میں اتنی احتیاط سے کام لیں کہ پازیب کی آواز بھی غیر مردوں کو سنائی نہ دے، یہ حکم اس امر کا مظہر ہے کہ اسلام اپنے احکام میں انتہائی باریک بینی سے کام لیتا ہے ۔ آخر میں تما م مومنین کو چاہے وہ مرد ہوں یا عورت خدا کی طرف لوٹ آنے کی اور توبہ کی دعوت دی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان والوں! سب خدا کی طرف لوٹ آوٴ تاکہ فلاخ پاجاوٴ (وَتُوبُوا إِلَی اللهِ جَمِیعًا اٴَیُّھَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ) ۔ اگر اس سلسلے میں گزشتہ زندگی میں تم نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس وقت جبکہ تمھارے سامنے اسلامی احکام واضح طور پر بیان کردیئے گئے اپنی خطاوٴں سے توبہ کروں اور نجات وفلاح کے لئے بارگاہِ الٰہی کا رخ کرو کیونکہ نجات وفلاح صرف اس کے بغیر ممکن نہیں، اپنے آپ کو اسی کے سپرد کردو ۔ یہ بجا ہے کہ ان احکام کے نزول سے پہلے ان کے بارے میں گناہ کا کوئی مفہوم نہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ جنسی امور سے متعلق بہت سارے مسائل عقلی پہلو رکھتے ہیں اصطلاح کی زبان میں ایسے عقلی ”مسلّمات عقلیہ“ کہتے ہیں اور یہ وہ مسلّمات ہیں کہ جن میں حکمِ عقل ہی ذمہ داری کے لئے کافی ہے ۔ 1۔ ”یَغُضُّوا مِنْ اٴَبْصَارِھِمْ“ میں لفظ ”من“ سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں، بعض نے اسے ”تبعیض“ کے لئے ، بعض نے ”زائدہ“ اور بعض نے ”ابتدائیہ“ سمجھا ہے، لیکن ظاہراً پہلا معنی ہی صحیح ہے ۔ 2۔ نور الثقلین، ج۳، ص۵۸۷ و۵۸۸ بحوالہٴ اصول کافی اور تفسیر علی ابن ابراہیم ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
8۔ چچا اور ماموں کو محارم کیوں شمار نہیں کیا گیا؟
اس آیت سے جو سوالات ابھرتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے چچا اور ماموں کو محارم میں کیوں شمار نہیں کیا گیا حالانکہ یہ بات مسلّم ہے کہ وہ بھی محرم ہیں اور ان سے بھی پردہ ضروری نہیں ہے ۔ ہوسکتا ہے اس کی یہ وجہ ہو کہ قرآن اپنے مطالب کو نہایت بلاغت کے ساتھ بیان چاہتا ہے اور وہ ایک لفظ بھی اضافی استعمال نہیں کرنا چاہتا، بھتیجے اور بھانجے کو مستثنیٰ قرار دینا نشاندہی کرتا ہے کہ پھوپھی، خالہ اور ممانی بھی محرم ہیں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کا چچا اور ماموں بھی اس کے محرم ہیں، زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کہ محرم ہونے کے دو پہلو ہیں، لہٰذا ایک پہلو سے جب بھانجے اور بھتیجے محرم ہیں تو فطری سی بات ہے کہ دوسروں پہلو سے ان کے باپ بھی محرم ہوں گے (غور کیجئے گا) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
۱۔ پردے کا فلسفہ
اس میں شک نہیں کہ ہمارے زمانے میں کہ جسے عریانی اور جنسی آزادی کا زمانہ کہتے ہیں بعض لوگوں کو ہمارا پردے کی بات کرنا سخت ناگوار گزرتا ہے، یہ وہی بے لگام افراد ہیں کہ جو عورتوں کو زمانے کی آزادی کا حصّہ سمجھتے ہیں، کبھی یہ لوگ پردے کو گزشتہ زمانے کی کہانی قرار دیتے ہیں لیکن ان بے لگام آزادیوں نے بے حساب مشکلات اور قباحتوں کو جنم دیا ہے اور روز افزوں مصائب پیدا کئے یہی وجہ ہے کہ رفتہ رفتہ پردے کی بات سننے والے کان بھی پیدا ہوگئے ہیں ۔ البتہ اسلامی اور مذہبی ماحول میں ، خصوصاً ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد بہت سے مسائل حل ہوگئے ہیں اور اس قسم کے سوالات تسلّی بخش جواب دیئے گئے ہیں، لیکن پھر بھی موضوع کی اہمیت تقاضا کرتی ہے کہ اس مسئلے پر ذرا کھل کر بات کی جائے ۔ انتہائی معذرت کے ساتھ، سوال یہ ہے کہ کیا عورتوں کے بارے میں آزادی ہونی چاہیے کہ سمع، بصر اور لمس کے حوالے سے (سوائے اختلاطِ جنسی کے) سب مرد ان سے فائدہ اٹھائیں اور وہ تمام مردوں کے اختیار میں ہوں یا یہ امور ان کے شوہروں کے ساتھ مخصوص ہوں ۔ بحث یہ ہے کہ کیا عورتیں ایک ختم نہ ہونے والے مقابلے میں اپنا تن بدن دکھاتی رہیں، تحریکاتِ شہوات کے کام آتی رہیں اور ناپاک مردوں کی ہوس پرستی میں گرفتار رہیں یا پھر یہ باتیں معاشرے سے ختم ہوجائیں اور ان کا تعلق بیوی اور شوہر کی گھریلو زندگی سے مخصوص ہوجائے، (اسلام دوسرے طرزِ عمل کا حامی ہے اور اسلام کے اس پروگرام کے لئے پردہ ایک اہم عنصر ہے) جبکہ اہل مغرب اور مغرب زدہ ہوس پہلے طرزِ عمل کے حامی ہیں ۔ اسلام کہتا ہے کہ جنسی لذّت سمعی حوالے سے ہو یا بصری حوالے سے یا پھر لمس کے ذریعے، سب بیوی کے ساتھ مخصوص ہیں اور اس اگر کچھ اس کے علاوہ ہو تو گناہ اور معاشرے کی ناپاکی کا سبب ہے، جیسا کہ زیرِ بحث آیات میں ہے کہ: ”ذٰلِکَ اٴَزْکَی لَھُمْ“۔ یہ تمھارے لئے پاکیزہ ہے ۔ پردے کا فلسفے کوئی راز کی بات نہیں کیونکہ: ۱۔ عورتوں کی بے پردگی، عریانی اور آرائش مردوں کے لئے (بالخصوص جوانوں کے جنسی تحریک کا باعث ہے اور اگر یہ بے حیائی جاری ہے تو یہ تحریک بھی دائمی ہوگی) ایسی تحریک کہ جو مردوں کے اعصاب کو شکستہ کرکے رکھ دے گی، اس سے اعصابی بیماریاں پیدا ہوں گی، یہ کیفیت طبیعت میں ہیجان اور نفسیاتی امراض کا سرچشمہ بن جاتی ہے ۔ لیکن آخر انسان کے اعصاب کس قدر ہیجان کے متحمل ہوسکتے ہیں؟ کیا تمام ماہرین نفسیات نہیں کہتے ہیں کہ مستقل جنسی ہیجان بیماری کا سبب ہے ۔ خاص طور پر اس مسئلے کی طرف توجہ رہے کہ انسانی جبلت میں جنسی قوت بہت قوی پہلو دار اور گہری ہے، انسانی تاریخ میں اس نے ہولناک حوادث، جرائم اور مظالم کو جنم دیا ہے یہاں تک کہ بعض نے کہا ہے کہ کوئی اہم حادثہ تاریخ بشر میں ایسا نہیں ملے گا کہ جس میں عورت کا دخل نہ ہو کیا ایسی قوت وجبلت کو عریانی وفحّاشی کے ذریعے ابھارنا اور ہوا دینا آگ سے کھیلنے کے مترادف نہیں ہے؟ کیا یہ عاقلانہ کام ہے؟ اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان مردوں اور عورتوں کی روحیں پُرسکون ہوں، آنکھ اور کان پاکیزہ ہوں اور اس کے لئے پردہ ناگزیر ہے ۔ ۲۔ یہ اور مستند اعداد وشمار سے یہ بات آئی ہے کہ عریانی میں اضافے کی وجہ سے دنیا میں طلاق اور ازدواجی زندگی میں علیحدگی کا تناسب بڑھتا چلا جارہا ہے چونکہ ”جو کچھ آنکھ دیکھے دل اسے یاد رکھتا ہے“ اور جب ہوا وہوس کی آگ سرکش ہوجائے اور آنکھ ہر روز نئے نظارے دیکھے تو دل ہر روز کسی نئے محبوب کے پیچھے لے جاتا ہے اور پہلے کو الوداع کہہ دہتا ہے ۔ لیکن جس ماحول میں پردہ ہے (اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر اسلامی شرائط کی بھی پاسداری ہوتی ہے) وہاں بیوی اور شوہر ہی کو ایک دوسرے سے تعلق ہوتا ہے، ان کے احساسات، جذبات اور محبتیں ایک دوسرے سے مربوط اور مخصوص ہوتی ہیں، جبکہ عریانی کے آزاد وبازار میں کہ جہاں عورت مشترکہ ساز وسامان کی حیثیت رکھتی ہے وہاں ازدواجی عہد وپیمان کا تقدس کوئی مفہوم نہیں رکھتا، وہاں گھرانے تارِعنکبوت کی طرف تیزی سے ٹوٹ کر بکھرجاتے ہیں اور بچے بے سہارا ہوکر سرگرداں ہوجاتے ہیں ۔ ۳۔ فحّاشی کا پھیلاوٴ اور ناجائز اولاد کی کثرت بے پردگی کے دردناک ترین نتائج میں سے ہیں اور یہ بات اس قدر آشکار ہے کہ ہمارے خیال میں اعداد وشمار کی محتاج نہیں ہے اور اس کی وجوہ خصوصاً مغربی معاشروں میں پورے طور پر نمایاں ہیں بلکہ اس قدر عیاں ہیں کہ بیان کی ضرور نہیں ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ فحاشی اور ناجائز بچوں کا اصلی عامل بے پردگی ہے اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس میں بے شرم استعمار اور تباہ کن سیاسی مقاصد کارفرما ہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس کا ایک عمال بے پردگی اور عریانی ہے ۔ اگر اس حقیقت کی طرف توجہ کی جائے تو اس مسئلے کے خطرناک پہلو زیادہ واضح ہوجاتے ہیں کہ فحاشی اور اس سے بڑھ کر ناجائز بچے انسانی معاشروں میں جرائم کا سرچشمہ تھے اور ہیں ۔ اعداد وشمار کے مطابق انگلستان میں ہر سال پانچ لاکھ ناجائز بچے پیدا ہوتے ہیں، انگلستان کے محققین ودانشوروں نے اس سلسلے میں ملک کے ارباب بسط وکشاد کو اس مسئلے کے سنگین خطرے سے آگاہ کیا، ان دانشوروں کے مطابق اخلاقی ومذہبی لحاظ سے نہیں بلکہ اس ناجائز اولاد کا وجود معاشرے کے امن وامان کے لئے شدید خطرہ بن چکا ہے یہاں تک کہ جرائم کی بہت سی فائلوں میں انہی کا نام ہوتا ہے ۔ اس بات سے ہم اس مسئلے کی اہمیت کو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ فحاشی وبدکاری کا مسئلہ ان لوگوں کے لئے بھی شدید کرب انگیز ہوچکا ہے کہ جو مذہب واخلاق کی کسی اہمیت کے قائل نہیں، لہٰذا ہر وہ چیز جو انسانی معاشرے میں جنسی بے راہ روی کے پھیلنے کا موجب ہو وہ امن وامان کے لئے خطرہ شمار ہوگی اور ہر لحاظ سے اس کے نتائج معاشرے کے لئے نقصان دہ ہوں گے ۔ تربیتی امور کے محققین کا مطالعہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ جن تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم ہے اور جن مراکز میں عورت اور مرد مل کر کام کرتے ہیں اور ان کا میل جول آزاد ہے وہاں کام کی رفتار اور معیار کم ہے اور حساس ذمہ داری بھی کم ہے ۔ ۴۔ بے پردگی اور عریانی عورت کے مقام کے زوال کا بھی باعث ہے، اگر معاشرہ عورت کو عریاں بدن دیکھنا چاہے گا تو فطری بات ہے کہ ہر روز اس سے آرائش کا تقاضا بڑھ جائے گا اور اس کی نمائش میں اضافہ ہوگا، جب عورت جنسی کشش کی بناء پر ساز وسامان کی تشہیر کا ذریعہ بن جائے گی، انتظارگاہوں میں دل بہلاوا ہوجائے گی اور سیاحوں کو متوجہ کرنے کا ذریعہ بن جائے گی تو معاشرے میں اس کی حیثیت ایک کھلونے یا بے قیمت مال واسباب تک گرجائے گی اور اس کی شایانِ شان انسانی اقدار فراموش ہوجائیں گی اور اس کا اعزاز وافتخار صرف اس کی جوانی، زیبائش اور نمائش تک محدود ہوکر رہ جائے گا، اس طرح سے وہ چند ناپاک فریب کار انسان نما درندوں کی سرکش ہوا وہوس پوری کرنے کے ذریعے میں بدل جائے گی۔ ایسے معاشرے میں ایک عورت اپنی اخلاقی خصوصیات، علم وآگہی اور بصیرت کے مظاہرے کیسے کرسکتی ہے اور کوئی بلند مقام کیسے حاصل کرسکتی ہے؟ واقعاً یہ بات تکلیف دہ ہے کہ مغربی اور مغرب زدہ ممالک میں عورت کا مقام کس قدر گرچکا ہے، خود ہمارے ملک ایران میں انقلاب سے پہلے یہ حالت تھی کہ نام، شہرت، دولت اور حیثیت ان چند ناپاک اور بے لگام عورتوں کے لئے تھی کہ جو ”فنکارہ“ اور آرٹسٹ کے نام سے مشہور تھیں، جہاں وہ قدم رکھتی تھی اس گندے ماحول کے ذمہ دار ان کے لئے آنکھیں بچھاتے اور انھیں خوش آمدید کہتے ۔ الله کا شکر ہے کہ ایران میں وہ بساط لپیٹ دی گئی اور عورت اپنے اس دور سے نکل آئی ہے جس میں اسے رسوا کردیا گیا تھا اور وہ فرنگی کھلونے اور بے مول ساز وسامان بن رہ کر گئی تھی، اب اس نے اپنا مقام ووقار دوبارہ حاصل کرلیا ہے اور اپنے آپ کو پردے سے ڈھانپ لیا ہے لیکن یہ نہیں کہ وہ گوشہ نشین ہوگئی ہے بکہ معاشرے کے تمام مفید اور اصلاحی کاموں میں حتّیٰ کہ میدانِ جنگ میں اسی اسلام پردے کے ساتھ خدمات انجام دی رہی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
شان نزول
زیرِ نظر پہلی آیت کے بارے میں کتاب کافی میں امام باقر علیہ السلام سے یہ شانِ نزول نقل ہوئی ہے: انصار میں سے ایک نوجوان کا راہ چلتے ہوئے ایک عورت سے سامنا ہوا، اس زمانے میں عورتیں اپنی چادر کانوں کے پیچھے رکھتی تھیں (ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح گردن اور سینے کی کچھ مقدار نمایاں ہوجاتی تھی) اس نوجوان کی نظر اس عورت کے چہرے پر پڑی تو وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا، وہ عورت پاس سے گزر گئی یہ جوان ٹکٹکی باندھے اسے دیکھتا رہا، قدم بھی اٹھا رہا تھا اور اس کی طرف دیکھے بھی جارہا تھا، یہاں تک کہ ایک تنگ گلی میں داخل ہوگیا، مڑمڑ کر عورت کی طرف بھی دیکھے جاتا تھا، اچانک اس کا چہرہ ایک دیوار پر لگا کہ جس میں ہڈی کی نوک یا شیشے کا ٹکڑا باہر نکلا ہوا تھا، چہرہ اس پر جالگا، عورت دور چلی گئی تو نوجوان کو ہوش آیا، اس نے دیکھا کہ خون اس کے چہرے سے جاری ہے اور اس کے لباس اور سینے پر گررہا ہے (اسے بہت افسوس ہوا) وہ اپنے آپ سے کہنے لگا بخدا میں رسول الله کے پاس جاتا ہوں اور یہ ماجرا ان سے کہتا ہوں، جس وقت رسول خدا کی نگاہ اس پر پڑی تو فرمایا: تجھے کیا ہوا؟ اس جوان نے آپ سے وہ تمام واقعہ بیان کیا، اس وقت وحی خدا کا قاصد جبرئیل نازل ہوا اور یہ آیت پہنچائی: <قُلْ لِلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ اٴَبْصَارِھِمْ....(1). 1۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۱۳۹، تفسیر نور الثقلین، المیزان اور روح المعانی (کچھ فرق کے ساتھ) زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:30-31
9۔ جنسی جذبات کو تحریک دینے والے تمام عوامل ممنوع ہیں
زیرِ بحث آیت کے حوالے سے آخری گفتگو اس مسئلے کے بارے میں ہے کہ آیت کے آخر میں آیا ہے کہ عورتیں راہ چلتے ہوئے اس طرح پاوٴں زمین پر نہ ماریں کہ ان کی پازیبوں کی جھنکار سنائی دے، یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام عفّت وپاکدامنی کے مسئلے میں اس قدر حساس ہے اس قسم کے کام کی بھی اجازت نہیں دیتا، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بطریق اولیٰ اسلام ان تمام عوامل کی ممانعت کرتا ہے کہ جوانوں کے جنسی جذبات کو ابھاریں مثلاً عریاں وفحش تصویریں کی اشاعت، گمراہ کن لچر اور جنسی فلمیں اور ایسی داستانیں وغیرہ کی نشر و اشاعت کی اسلام اجازت نہیں دیتا، اسلام ان تمام چیزوں کا مخالف ہے کہ جو نوجوانوں لڑکے اور لڑکیوں کو گمراہی، بدکاری اور گناہ کی طرف مائل کرتی ہیں، اسلام خریداری کے مراکز اور بازاروں کو ان چیزوں سے پاک کردینا چاہتا ہے ۔