يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
O you who have faith! Do not enter houses other than your own until you have announced [your arrival] and greeted their occupants. That is better for you. Maybe you will take admonition.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:27
[Pooya/Ali Commentary 24:27] Islam regards sudden and abrupt entry into another's house an act of moral offence. The conventions of propriety and privacy are essential to a refined life of decency and morality. Aqa Mahdi Puya says: Tastanisu-to seek familiarity-has been used figuratively for asking permission so as to stop the practice of entering stealthily without notice. It is essential to invoke peace on the inmates of the house (say: assalamu alaykum) and obtain definite permission to enter the house, be it of parents, brothers, sisters or any relative. The rule about dwelling houses is strict, because privacy is precious and necessary to a refined, decent and well-ordered life, but such restrictions are not applicable to other houses used for commercial and social purposes, though permission should be obtained from the owner or in-charge. Islam regulates every aspect of human life, individual as well as collective.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 24:27-34
This is a very important paragraph on ethics and morality and deals with items of everyday occurrence, but mostly neglected which results in tremendous accidents to the loss in this world and eternity. Present tendency of the world is to set at naught everything old and neglect by setting up cinemas, strikes, public agitations against state affairs, without having any consideration to the existence of God and His commands – which He will, certainly, on Reckoning Day, ask about. His suggestion to marry, where circumstances permit and wait with chastity by fasts where economic conditions are not appreciated but are strictly to be adhered to by men and women. Last, but not least, is the question of toilet by the softer sex, where and how far it is permissible are facts of great importance but the universal republican, socialistic conditions have rendered this part practically very difficult, though not impossible.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:27-29
بغیر اجازت لوگوں کے گھروں میں نہ جاوٴ
ان آیات میں اسلام کے چند ایک معاشرتی آداب واحکام بیان ہوئے ہیں، ان عفّت وپاکدامنی سے بھی قریبی تعلق ہے ۔ ان آیات میں دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے اور داخل نہ ہونے کی اجازت لینے کے آداب بیان ہوئے ہیں ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ایمان والوں اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہونا اور اس گھر والوں کو سلام بھی کرنا (اور قبل ازیں اپنی آمد کی اطلاع دینا اور داخل ہونے کے لئے اجازت حاصل کرنا) (یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِکُمْ حَتَّی تَسْتَاٴْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلیٰ اٴَھْلِھَا) ۔ یہ تمھارے لئے بہتر ہے، شاید تم توجہ دو (ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ) ۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ یہاں لفظ ”تَسْتَاٴْنِسُوا“ استعمال ہوا ہے نہ کہ ”تستاٴذنوا“ کیونکہ دوسرے لفظ میں صرف اجازت لینے کا مفہوم ہے جبکہ پہلا لفظ مادہٴ ”انس“ سے لیا گیا ہے، اس سے ایسی اجازت لینا مراد ہے کہ جس میں لطف ومحبت اور صداقتِ پنہاں ہو، یعنی موٴدبانہ طریقے سے اور بغیر کسی درشتی وسختی کے اجازت لی جائے ۔ اس لحاظ سے اگر اس جملے کا تجربہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں بہت سے آداب اشارتاً بیان کردیئے گئے ہیں، مطلب یہ ہے کہ شور نہ مچاوٴ، دروازہ زور زور سے نہ کھٹکھٹاوٴ اور تکلیف دہ خشک الفاظ نہ بولو اور جب اجازت مل جائے تو بغیر سلام کئے اندر نہ جاوٴ، ایسا سلام کہ جو صلح وسلامتی ومحبت کا پیامبر ہو ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ یہ حکم جس میں انسانی احساسات کا پہلو نمایاں ہے کہ ساتھ ساتھ دو جملے مزید آئے ہیں، ایک ”ذلکم خیر لکم“ اور دوسرا ”لعلّکم تذکرون“ یہ جملے اس امر کی دلیل ہیں کہ اس قسم کے احکام انسانی احساسات اور عقل وشعور کی گہرائیوں میں پہلے سے مت جاوٴ جب تک کہ تمھیں اجازت نہ مل جائے (فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِیھَا اٴَحَدًا فَلَاتَدْخُلُوھَا حَتَّی یُؤْذَنَ لَکُمْ) ۔ ہوسکتا ہے اس سے یہ مراد ہو کہ بعض اوقات گھر میں کچھ افراد تو ہوتے ہیں لیکن کوئی ایسا شخص نہیں ہوتا کہ جو صاحبِ اختیار اور گھر کا مالک ہو اور اجازت دے سکے، تو ایسی صورت میں تمھیں حق نہیں کہ اس گھر میں داخل ہو، یا ہوسکتا ہے کہ گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دے، اس موقع پر تم داخل ہونے کا حق رکھتے ہو، بہرحال اصل مسئلہ یہ ہے کہ تم بلااجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے کا حق نہیں رکھتے ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاوٴ تو اس بات کو قبول کرتے ہوئے واپس چلے جاوٴ کہ یہ تمھارے لئے بہتر اور پاکیزہ ہے (وَإِنْ قِیلَ لَکُمْ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ھُوَ اٴَزْکَی لَکُمْ) ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر تمھیں واپس چلے جانے والے کے لئے کہا جائے تو تمھیں اس جواب پر ہرگز پریشان اور ناراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بعض اوقات صاحبِ خانہ ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس لئے کہ تم سے ملنا پریشانی اور زحمت کا باعث ہوتا ہے یا اس کی اور اس کے گھر کی ایسی حالت نہیں ہوتی کہ وہ مہمان کو گھر بلاسکے ۔ بعض لوگوں کو نفی میں جواب ملے تو وہ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں،دروازے کے سوراخوں سے دیکھتے ہیں، کان لگاکر اندر کی آوازیں سنتے ہیں یا کسی کے ذریعے سے اس کے گھر کے راز جاننے کی کوشش کرتے ہیں، اسی بات کے پیش نظر قرآن مزید کہتا ہے: جو کچھ تم کرتے ہو الله اس سے آگاہ ہے (وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیمٌ) ۔ مسائل کے حل کے معقول صورت میں پیدا کرنے کے لئے ہرحکم میں کوئی استثنائی پہلو ہوتا ہے، اس لئے مزید فرمایا گیا ہے: جن گھروں میں کوئی نہ رہتا ہو اور ان میں تمھارا مال واسباب پڑا ہوا تو پھر ان میں داخل نہ ہونے میں تم پر کوئی گناہ نہیں (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اٴَنْ تَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ مَسْکُونَةٍ فِیھَا مَتَاعٌ لَکُمْ) ۔ یہ بھی اضافہ فرمایا گیا ہے: اور جو کچھ تو ظاہر کرتے یا چھپاتے ہو الله اسے جانتا ہے (وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ) ۔ شاید یہ اس طرف اشارہ ہو کہ بعض افراد ایسے بھی ہوسکتے ہیں کہ جو اس رعایت سے ناجائز فائدہ اٹھائیں اور غیر رہائشی گھروں میں داخل ہوکر چیزوں کو ٹوہ لگاتے پھریں یا رہائشی گھروں میں اس بہانے سے چلے جائیں کہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ یہاں کوئی رہتا ہے لیکن الله ان تمام امور سے آگاہ ہے اور غلط فائدے اٹھانے والوں کو خوب جانتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:27-29
۲۔ غیر رہائشی گھروں سے کیا مراد ہے؟
اس سوال کے جواب میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے کہ اس سے ایسی عمارتیں مراد ہیں کہ جو عمومی ہوں، مثلاً کارواں سرائے، مہمان خانے، حمام وغیرہ، یہ مضمون امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک حدیث میں بالصراحت آیا ہے ۔ بعض دوسروں نے کہا ہے کہ اس سے مراد خرابے اور کھنڈرات ہیں کہ جن میں کوئی نہ رہتا ہو اور جو چاہتا ہو اس میں داخل ہوجاتا ہو، یہ تفسیر بہت بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ کوئی شخص بھی اپنا مال واسباب ایسی جگہ نہیں رکھ سکتا۔ بعض دیگر مفسرین نے اسے تاجروں کے ایسے اسٹوروں، گوداموں اور دوکانوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جن میں لوگوں کا مال بطورِ امانت رکھا جاتا ہے اور ہر صاحبِ مال حق رکھتا ہے کہ وہ انپا مال واسباب لینے کے لئے ان میں داخل ہوجائے، یہ تفسیر بھی آیت کے ظاہری مفہوم سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے ایسے گھر مراد ہوں کہ جہاں کوئی نہیں رہتا، ایسے گھر میں کسی نے اپنا مال بطور امانت رکھا ہو اور گھر کے مالک سے اس نے آنے جانے اور مال اٹھانے کی عمومی اجازت لی ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:27-29
۱۔ گھر کی چار دیواری کا تحفظ اور آزادی
اس میں شک نہیں کہ انسانی شخصیت کے دو پہلو میں، ایک انفرادی اور دوسرا اجتماعی، اسی وجہ سے انسان دو قسم کی زندگی کا حامل ہے، ایک خصوصی زندگی اور دوسری عمومی زندگی، ان میں سے ہر ایک کی اپنی کچھ خصوصیات ہیں اور ہر ایک کے لئے کچھ آداب وقوانین ہیں ۔ اجتماعی ماحول میں انسان مجبور ہے کہ اپنے اوپر کچھ پابندیاں عائد کرے اور اپنی آمد ورفت میں تحمل کرے، لیکن واضح ہے کہ شب وروز وہ اپنے تئیں ان پابندیوں میں جکڑے نہیں رکھ سکتا، اس کی خواہش ہوتی ہے کہ شب وروز میں کچھ مدّت آزاد رہے، آرام کرے، اپنے گھر والوں اور اولاد سے نجی گفتگو کرے اور جتنا ممکن ہوسکے اس آزادی سے فائدہ اٹھائے، اسی لئے وہ ایک اپنا گھر چاہتا ہے اور اس میں پناہ لیتا ہے، کچھ دیر اپنے گھر کے لئے واضح ہے کہ انسان کے لئے کچھ تحفظ اور آزادی درکار ہے، اگر ہر شخص کو آزادی ہو تو وہ آئے گھر میں داخل ہوجائے تو پھر گھر میں ازادی اور آرام وسکون کا مفہوم ختم ہوجائے گا اور وہ کوچہ وبازار کے ماحول میں بدل جائے گا یہی وجہ کہ انسان کے درمیان اس سلسلے میں ہمیشہ کچھ خاص قوانین وآداب موجود رہے ہیں اور دنیا کے تمام قوانین لوگوں کے گھروں میں ان کی اجازت کے بغیر داخل ہونا ممنوع ہے اور اس کے لئے سزا تک مقرر ہے، یہاں تک کہ تحفظ، امن اور دوسرے حوالوں سے ضروری ہو کہ بلااجازت داخل ہوا جائے وہاں محدود ومعیّن طریقے ہیں اور ادارے ہیں کہ جو یہ اجازت دینے کا حق رکھتے ہیں ۔ اسلام میں بھی اس سلسلے میں تاکیدی حکم موجود ہے اور اس سلسلے میں جیسے، حکیمانہ آداب واسلام میں موجود ہیں ان کی نظیر بہت کم نظر آتی ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول الله کے صحابی ابوسعید نے آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی اور دروازے کے بالکل سامنے کھڑا ہوگیا، پیغمبر اکرم نے فرمایا: ”اجازت لیتے وقت دروازے کے سامنے کھڑا نہ ہوا کرو“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ خود آنحضرت جب کبھی کسی کے گھر کے دروازے پر آتے تو سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے بلکہ دائیں یا بائیں ہوکر کھڑے ہوتے تھے اور ”السلام علیکم“ کہہ کر اجازت چاہتے تھے کیونکہ اس زمانے میں ابھی گھر کے دروازے پر پردہ لٹکانے کا معمول نہ تھا (1) ۔ روایات میں یہاں تک حکم دیا گیا ہے کہ جب کوئی ماں باپ کے گھر یا اپنے بیٹے کے گھر بھی جانا چاہے تو پہلے اجازت لے ۔ ایک شخص نے رسول الله سے پوچھا: یا رسول الله! جب میں اپنی ماں کے گھر جانے لگوں تو کیا وہاں بھی اجازت لوں؟ فرمایا: ہاں ۔ اس نے عرض کیا: میرے علاوہ میری ماں کا کوئی خدمت گزار بھی نہیں ہے تو پھر بھی اجازت لوں؟ فرمایا: اٴ تحب اٴن تراھا عریاناً. کیا تو پسند کرتا ہے کہ تو اپنی ماں کو برہنہ دیکھے ۔ اس نے عرض کیا: نہیں ۔ تو پھر فرمایا: فاٴستاذن علیھا جب ایسا ہے تو پھر اس سے اجازت لیا کر (2) ۔ ایک اور روایت میں ہے: ایک مرتبہ پیغمبر اکرم اپنی دختر نیک اختر حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیہا کے گھر گئے، پہلے دروازے پر آکر دروازے پر ہاتھ رکھ کر اسے تھوڑاسا پیچھے ہٹایا، پھر فرمایا: السلام علیکم ۔ جناب فاطمہ علیہ السلام نے اپنے والد گرامی کو سلام کا جواب دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا اجازت ہے کہ اندر آجاوٴں؟ عرض کیا : تشریف لائیے یا رسول الله رسول الله نے فرمایا: جو میرے ساتھ ہے کیا اسے بھی اجازت ہے کہ اندر آجائے ۔ فاطمہ علیہ السلام نے عرض کیا: میرے سر پر چادر نہیں ہے ۔ پھر گئیں اور چادر لی اور جب باپردہ ہوگئی تو رسول اللهنے پھر سلام کیا۔ فاطمہ علیہ السلام نے جوابِ سلام دیا۔ رسول الله پھر اپنے لئے داخل ہونے کی اجازت چاہی جب انھوں نے اجازت دی ہو پھر آپ نے اپنے ساتھ جابر بن عبدالله کے لئے اجازت لی(3) ۔ اس حدیث سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ رسول اکرم کہ جو تمام مسلمانوں کے لئے ایک نمونہ اور ماڈل ہیں ان نکات کا کس قدر باریک بینی سے خیال رکھتے تھے ۔ بعض روایات میں یہاں تک ہے کہ تین مرتبہ اجازت لینی چاہیے ۔ پہلی مرتبہ اس طرح سے کہ گھروالے سن لیں ۔ دوسری مرتبہ وہ اپنے آپ کو آمادہ کرلیں ۔ پھر تیسری مرتبہ اجازت طلب کی جائے ، گھر والے چاہیں تو اجازت دیں اور چاہیں تو نہ دیں (4) ۔ بعض نے تو یہ بھی ضروری قرار دیا ہے کہ ان تین اجازتوں کے درمیان کچھ وقت کا فاصلہ ہونا چاہیے کیونکہ بعض اوقات صاحبِ خانہ کے بدن پر مناسب لباس نہیں ہوتا اور کبھی وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ اس حالت میں کوئی اسے دیکھے کبھی کمرے کی حالت درہم برہم ہوتی ہے اور کبھی کوئی راز کا ایسا معاملہ ہوتا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ گھر سے باہر کسی کو پتہ چلے لہٰذا اسے وقت دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے آپ کو آمادہ کرلے اور اگر وہ اجازت نہ دے تو بغیر تھوڑے سے بھی ملال کے واپس چلے جانا چاہیے ۔ 1۔ تفسیر فخر رازی، ج۲۳، ص۱۹۸، زیر بحث کے ذیل میں ۔ 2 ۔ تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۸۶. 3 ۔ نور الثقلین، ج۳، ص۵۸۷. 4 ۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ابواب مقدمات النکاح، باب۱۲۳.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:27-29
سوره نور / آیه 27 - 29
۲۷ یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِکُمْ حَتَّی تَسْتَاٴْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلیٰ اٴَھْلِھَا ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ ۲۸ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِیھَا اٴَحَدًا فَلَاتَدْخُلُوھَا حَتَّی یُؤْذَنَ لَکُمْ وَإِنْ قِیلَ لَکُمْ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ھُوَ اٴَزْکَی لَکُمْ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیمٌ ۲۹ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اٴَنْ تَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ مَسْکُونَةٍ فِیھَا مَتَاعٌ لَکُمْ وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ ترجمہ ۲۷۔ اے ایمان والو! اپنے گھر کے سوا دوسرے گھروں میں بغیر اجازت داخل نہ ہونا اور اس گھر والو کو سلام بھی کرنا، یہ تمھارے لئے بہتر ہے شاید کہ تم توجہ کرو ۔ ۲۸۔ اور اگر اس گھر میں کسی کو نہ پاوٴ تو اس میں داخل نہ ہونا جب تک کہ تمھیں اجازت نہ ملے اور اگر کہا جائے کہ لوٹ جاوٴ تو واپس آجانا کہ یہ تمھارے لئے زیادہ پاکیزہ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو الله اس سے آگاہ ہے ۔ ۲۹۔ جن گھروں میں کسی کی رہائش نہ ہو اور وہاں تمھارا مال واسباب پڑا ہو وہاں تمھارے داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے یا چھپاتے ہو الله اسے جانتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:27-29
۳۔ بالاجازت لوگوں کے گھروں میں جھانکنے کی سزا
فقہ وحدیث کی کتابوں میں یوں آیا ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر لوگوں کے گھروں میں تانک جھانک کرے اور عورتوں کے چہرے یا برہنہ بدن کی طرف دیکھے تو پہلی مرتبہ اس گھر والے سے اسے منع کرسکتے ہیں، اگر وہ نہ رکے تو پھر پتھر مار کر اسے دور کریں اور خون رائیگان ہے، البتہ اس کام میں مختلف مرحلوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے یعنی اگر آسان طریقے سے معاملہ حل ہوسکتا ہو تو سخت طریقہ اختیار نہ کیا جائے ۔