الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
Vicious women are for vicious men, and vicious men for vicious women. Good women are for good men, and good men for good women. These are absolved of what they say [about them]. For them is forgiveness and a noble provision.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:26
[Pooya/Ali Commentary 24:26] This verse says that the wives of the Holy Prophet are free from impurity of adultery. Aqa Mahdi Puya says: This verse is like verse 3 of this surah. There is no legislative significance. The pure consort with the pure, and the impure with the impure. It refers to the general pattern of human behaviour. Verse 10 of At Tahrim says that the wicked wives of Nuh and Lut betrayed their purified husbands, the prophets of Allah. To remove the contradiction it is necessary to restrict the meaning of the cleanness to chastity and impurity to adultery in this verse, because it was revealed in connection with the accusation of adultery. "They are free from what they say" confirms it. Verse 10 of At Tahrim clearly accuses the wicked wives of the two prophets of disloyalty to their husbands. The wives of the prophets are free from the dirt of adultery but they are not free from other evils.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:26
”کند ہمجنس با ہمجنس پرواز“
یہ آیت بھی درحقیقت آیاتِ افک اور اس سے پہلے کی آیات کا تسلسل ہے اور انھی کے مفاہیم پر ایک اور تاکید ہے، اس میں جہانِ خلقت میں رائج ایک فطری نظام کابیان ہے کہ شریعت بھی جس سے ہم آہنگ ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: خبیث وناپاک عورتیں خبیث وناپاک مردوں کے لئے ہیں جیسا کہ خبیث وناپاک مردوں کا تعلق خبیث وناپاک عورتوں سے ہے (الْخَبِیثَاتُ لِلْخَبِیثِینَ وَالْخَبِیثُونَ لِلْخَبِیثَاتِ) ۔ اور اس کے مدّمقابل بھی ”طیب وپاک عورتیں طیّب وپاک مردوں کے لئے ہیں جیسا کہ طیب وپاک مردوں کا تعلق طیب وپاک عورتوں سے ہے (وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِینَ وَالطَّیِّبُونَ لِلطَّیِّبَاتِ) ۔ اورآیت کے آخر میں دوسرے گروہ کے بارے میں مزید فرمایا گیا ہے: وہ ان ناروا تہمتوں سے مبرّا ہیں کہ جو ان پر لگائی جاتی ہیں (اٴُوْلٰئِکَ مُبَرَّئُونَ مِمَّا یَقُولُونَ) ۔ اور اسی بناء پر الله مغفرت اور اسی طرح پرارزش رزق ان کے انتظار میں ہے (لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَرِیمٌ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:26
سوره نور / آیه 26
۲۶ الْخَبِیثَاتُ لِلْخَبِیثِینَ وَالْخَبِیثُونَ لِلْخَبِیثَاتِ وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِینَ وَالطَّیِّبُونَ لِلطَّیِّبَاتِ اٴُوْلٰئِکَ مُبَرَّئُونَ مِمَّا یَقُولُونَ لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَرِیمٌ ترجمہ ۲۶۔ خبیث وناپاک عورتیں خبیث وناپاک مردوں کے لئے ہیں اور خبیث وناپاک مرد بھی خبیث وناپاک عورتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد بھی پاکیزہ عورتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ ان ناروا تہمتوں سے منزّہ ومبرّاء ہے کہ جو ان پر لگائی جاتی ہیں اور ان کے لئے (الله کی) مغفرت وبخشش اور رزقِ کریم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:26
۱۔ ”خبیثات“ اور ”خبیثون“ کون ہیں؟
زیرِ بحث آیات میں ”خبیثات“ اور ”خبیثون“ نیز ”طیبات“ اور ”طیبین“ سے کون مراد ہیں، اس سلسلے میں مختلف بیانات ہیں مثلاً: ۱۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد پاک باتیں ، تہمت، افتراء اور جھوٹ ہے کہ جن کا تعلق غلط اور گندے افراد کے ساتھ ہے اور اس کے برعکس پاکیزہ باتیں پاک وباتقویٰ افراد کے لئے ہیں ۔ ۲۔ بعض کہتے ہیں کہ ”خبیثات“ اور ”سیّئات“ کے معنی میں ہے یعنی اس سے مراد مطلق بُرے اور ناپسندیدہ کام ہیں کہ جو ناپاک مرد بجالاتے ہیں اس کے برعکس حسنات پاک لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ۳۔ بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراد ”خبیثات“ اور ”خبیثون“ آلودہ دامن عورتوں اور مردوں کی طرف اشارہ ہے اور اس کے برعکس ”طیبات“ اور ”طیبین“ پاکدامن عورتوں اور مردوں کی طرف اشارہ ہے، ظاہراً بھی آیت سے یہی مراد ہے کیونکہ ایسے قرائن موجود ہیں کہ جو اس آخری معنی کی تائید کرتے ہیں مثلاً: الف) یہ آیات، آیاتِ افک کے بعد آئی ہیں اوراسی طرح اس آیت سے پہلے یہ آیت بھی گزر چکی ہے: <الزَّانِی لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِیَةً اٴَوْ مُشْرِکَةً وَالزَّانِیَةُ لَایَنکِحُھَا إِلاَّ زَانٍ اٴَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ اور یہی تیسری ان آیات کے مفہوم کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ ب) اس آیت میں یہ جملہ: ”اولٰئک مبروٴن مما یقولون“ پاکدامن مردو اور عورتوں پر ناروا تہمتیں لگائی جاتی ہیں وہ اس سے پاک ومنزّہ ہیں ۔ یہ جملہ بھی مذکورہ بالا تفسیر کی تائید کرتا ہے ۔ ج) اصولی طور پر قرینہٴ مقابلہ اس بات کی نشانی ہے کہ ”خبیثات“ سے مراد حقیقی جمع موٴنث ہے اور ناپاک عورتوں کی طرف اشارہ ہے چونکہ اس کے مقابلے میں ”خبیثون“ ہے کہ جو حقیقی جمع مذکر ہے ۔ د) ان سب باتوں سے قطع نظر امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں منقول ہے کہ: یہ آیت بھی <الزَّانِی لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِیَةً اٴَوْ مُشْرِکَةً کی طرح ہے کیونکہ کچھ ایسے لوگ تھے کہ جنھوں نے بری عورتوں سے شادی کا ارادہ کررکھا تھاتو الله نے انھیں اس کام سے منع کیا اور اسے ناپسند فرمایا (1) ۔ ھ) روایاتِ نکاح میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات آئمہ علیہ السلام کے اصحاب ”خبیثات“ سے شادی کے بارے میں سوال کرتے تو انھیں ایسا کرنے سے منع کیا جاتا، یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ ”خبیثات“ ناپاک عورتوں کی طرف اشارہ ہے نہ کہ ناپاک باتوں اور ناپاک اعمال کی طرف (2) ۔ اس مقام پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ خبیث یا طیّب ہونے سے صرف عفت وناموس کا پہلو مراد ہے یا ہر قسم کی فکری، عملی اور زبانی ناپاکی ان کے مفہوم میں داخل ہے؟ اگر اس سلسلے کی آیات وروایات کے سیاق وسباق کو نظر میں رکھا جائے تو اس زیرِ بحث آیت کا مفہوم محدود نہیں ہونا چاہیے یعنی عفّت وناموس کے مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن بعض ایسی روایات بھی ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر خبیث وطیب کا وسیع معنی ہے اور ا س کا مفہوم آلودگی اور پاکیزگی میں منحصر نہیں ہے، اس نظریے کی بنیاد پر بعید نہیں ہے کہ پہلا مفہوم آیت کا خاص معنی ہو لیکن ملاک، فلسفہ اور علت کے لحاظ سے اسے عمومیت اور وسعت دی جاسکتی ہو ۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت ہے تو عمومی بیان کے لئے لیکن زیرِ بحث مسئلے کے اعتبار سے جنسی امور میں آلودگی اور پاکیزگی کی بات کرتی ہے (غور کیجئے گا) ۔ 1۔ مجمع البیان، زیرِ بحث آیات کے ذیل میں ۔ 2۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص۳۳۷، با ب۱۴ از ابواب ”ما یحرم بالمصاھر ونحوھا“.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:26
۲۔ یہ حکم تکوینی ہے یا تشریعی؟
اس میں شک نہیں کہ ”نوری صرف نوری نوریوں کے طالب ہیں“ اور ”ناری صرف ناریوں کے طالب ہیں“ نیز فارسی مثل مشہور ہے: کند ہمجنس با ہمجنس پرواز اسی طرح عربی مثل بھی مشہور ہے کہ: السنخیة علة الانضمام یہ سب ضرب الامثال سنّت تکوینی کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جو آسمان وزمین میں کائنات وموجودات کے ذرّے ذرّے پر محیط ہے ۔ بہرحال ہر جگہ ہم نوع اپنے نوع کی طرف کھینچتا ہے اور ہر گروہ اپنے ہم مزاج کی کے ساتھ مخلص ہے، لیکن یہ حقیقت اس سے مانع نہیں کہ زیرِ بحث آیت <الزَّانِی لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِیَةً اٴَوْ مُشْرِکَةً کی طرح ایک شرعی حکم کی طرف اشارہ ہو کہ بری عورتوں کے ساتھ کم از کم ایسے مواقع پر ممنوع ہے کہ جب وہ بدکاری میں مشہور ومعروف ہوں ۔ ویسے بھی کیا سب شرعی احکام کی بنیاد پر تکوینی نہیں ہے اور کیا شریعت اور تکوین آپس میں ہم آہنگ نہیں ہیں؟ یقیناً ہیں ۔ مزید وضاحت کے لئے مذکورہ آیت کی تفسیر دیکھئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:26
۳۔ ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال پیش آتا ہے کہ تاریخ میں اور خود اپنی زندگی میں ہم نے ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ جو اس قانون کے ساتھ ہم آہنگ نہیں، مثال کے طور پر خود قرآن میں آیا ہے حضرت نوح علیہ السلام اور داوٴد علیہ السلام کی بیویاں بری تھیں اور انھوں نے ان انبیاء کرامعلیہ السلام سے خیانت کی تھی۔(تحریم/۱۰( جبکہ اس کے مقابلے میں فرعون کی بیوی باایمان اور پاکدامن خاتون تھی کہ جو اس بے ایمان طاغوت کے چنگل میں گرفتار تھی۔(تحریم/۱۱( ہادیانِ اسلام کے بارے میں ایسے کئی نمونے دکھائی دیتے ہیں ۔ اس سوال کے جواب میں ایک بات تو یہ پیش نظر رہے کہ ہر عمومنی قانون کے استثنائی پہلو بھی ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان دو نکات کی طرف بھی توجہ کرنا چاہیے ۔ ۱۔ آیت کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں کہ اصولی طور پر خباثت سے مراد جنسی لحاظ سے ناپاکی ہے اور ”طیب“ ہونا اس کی ضد ہے ۔ اس طرح سے سوال کا واضح ہوجاتا ہے کیونکہ انبیاءعلیہ السلام اور آئمہ علیہ السلام کی ازواج میں سے ہرگز کوئی بھی جنسی اعتبار سے بے راہ رونہ تھی، حضرت نوحعلیہ السلام اور حضرت لوطعلیہ السلام کے واقعے میں خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ کافروں کے فائد ے میں جاسوسی کرتی تھیں اور یہاں عفّت وناموس کے معاملے میں خیانت مراد نہیں ہے ۔ اصولی طور پر یہ عیب قابلِ نفرت عیوب شمار ہوتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ انبیاء کی ذاتی زندگی کو ایسے واقعات سے پاک ہونا چاہیے کہ جو لوگوں کی نفرت کا باعث بنیں تاکہ مقصدِ نبوت کہ جو لوگوں کو دینِ خدا کی طرف جذب کرنا ہے، کونقصان نہ پہنچے ۔ ۲۔ علاوہ ازیں انبیاء کرامعلیہ السلام اور آئمہٴ طاہرین کی بیویاں ابتداء میں کافر اور بے ایمان نہ تھیں ۔ بعض اوقات وہ بعثتِ نبوت کے بعد گمراہ ہوجاتی تھیں اور یقیناً ان انبیاء کے پہلے کے سے روابط ایسی بیویوں کے ساتھ جاری نہ رہتے تھے ۔ فرعون کی بیوی کا بھی ایسا ہی مسئلہ ہے، جب اس کی فرعون کے ساتھ شادی ہوئی تھی اس وقت وہ حضرت موسیٰعلیہ السلام پر ایمان نہیں لائی تھی، اصولاً تو حضرت موسیٰعلیہ السلام پیدا بھی نہ ہوئے تھے، بعد میں جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مبعوث برسالت ہوئے تو وہ ایمان لے آئی، البتہ اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہٴ کار نہ تھا کہ وہ فرعون کے ساتھ اپنی زندگی کو جاری رکھتی، لیکن حمایتِ حق میں اس نے اپنی جد وجہدجاری رکھی اور انجام کار یہ باایمان خاتون شہادت کی منزل سے ہمکنار ہوئی ۔