يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَن تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
Allah advises you lest you should ever repeat the like of it, should you be faithful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:17
[Pooya/Ali Commentary 24:17] (see commentary for verse 11)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:17-20
۳۔ گناہ کو معمولی سمجھنا
زیرِ بحث آیات میں جہاں برائیاں پھیلانے جیسے گناہ کی مذمت کی گئی ہے وہاں اس گناہ کو معمولی سمجھنے کی بھی مذمت کی گئی ہے، واقعاً گناہ کو معمولی اور چھوٹا سمجھنا بذاتِ خود ایک گناہ ہے ۔ جو شخص گناہ کرتا ہے پھر اسے یہ خیال ستاتا ہے کہ اس سے بہت برا کام ہوگیا اور وہ اپنے کام پر بہت ناراحت ہوتا ہے ۔ ایسا شخص ہی توبہ کی طرف مائل ہوتا ہے لیکن جو شخص اپنے گناہ کو معمولی سمجھتا ہے اور اسے اہمیت نہیں دیتا یہاں تک کہ کہہ گزرتا ہے: کیا ہوا اگر میں نے یہ گناہ کیا ہے؟ اس شخص نے بہت خطرناک راستہ اختیار کرلیا ہے اور اس خیال کے باعث وہ گویا مسلسل گناہ جاری کھے ہوئے ہے ۔ اسی بناء پر ایک حدیث میں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اشدّ الذنوب ما استھان بہ صاحبہ“. ”سب سے بڑا گناہ وہ ہے کہ جسے انجام دینے والا معمولی سمجھے“(1)۔ 1۔ نہج البلاغہ، کلمات قصار، نمبر۳۴۸.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:17-20
سوره نور / آیه 17 - 20
۱۷ یَعِظُکُمْ اللهُ اٴَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِہِ اٴَبَدًا إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ۱۸ وَیُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ الْآیَاتِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ۱۹ إِنَّ الَّذِینَ یُحِبُّونَ اٴَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِینَ آمَنُوا لَھُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَاللهُ یَعْلَمُ وَاٴَنْتُمْ لَاتَعْلَمُونَ ۲۰ وَلَوْلَافَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ وَاٴَنَّ اللهَ رَئُوفٌ رَحِیمٌ ترجمہ ۱۷۔ الله تمھیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو ہرگز ایسے کام کا تکرار نہ کرنا۔ ۱۸۔ اور الله اپنی آیتیں تمھارے لئے واضح کرتا ہے اور خدا علیم وحکیم ہے ۔ ۱۹۔ جو لوگ اہل ایمان میں برائیوں کی اشاعت چاہتے ہیں ان کے لئے دنیا وآخرت میں دردناک عذاب ہے اور الله جانتا ہے لیکن تم نہیں جانتے ۔ ۲۰۔ اور اگر الله کا فضل ورحمت تمھارے شامل حال نہ ہوتا اور یہ خدا مہربان اور رحیم (اگر ایسا نہ ہوتا تو تمھیں سزا دیتا) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:17-20
۲۔ غلط پرو پیگنڈا، ایک بلا
سازشی عناصر کا نفسیاتی جنگ کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ وہ جعلی باتیں گھڑتے ہیں اور پھر اُن کا خوب پراپیگنڈا کرتے ہیں ۔ جو لوگ سامنے آکے مقابلے کی ہمت نہ رکھتے ہوں تو یہ ہتھکنڈا اختیار کرتے ہیں ۔ وہ لوگوں کی فکر کو مسموم کرتے ہیں ۔ انھیں اپنی طرف مشغول رکھنے کے لئے پراپیگنڈا کا سہارا لیتے ہیں اور لوگوں کی توجہ حساس اور ضروری مسائل سے ہٹادیتے ہیں ۔ نیک اور پاک لوگوں کی عزّت ووقار کو مجروح کرنے اور عوام کو ان سے دور کرنے کے لئے پراپیگنڈا اور کردار کشی ایک تباہ کن ہتھیار ہے ۔ زیرِ بحث آیات کی مشہور شانِ نزول کے مطابق منافقین نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی حیثیت ووقار کو داغدار کرنے کے جعلی پراپیگنڈا کا بزدلانہ طریقہ اختیار کیا، انھوں نے کسی موقع سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہونے آپ کی ایک زوجہ کی پاکدامنی کے خلاف پراپیگنڈا شروع کردیا، اس سے ایک اچھی خاصی مدّت تک مسلمانوں کے اذہان پریشان رہے، یہاں تک کہ ثابت قدم اور سچّے مومنین بھی سخت اذیّت میں تھے ۔ پھر خدا کی وحی ان کی مدد کے لئے آئی اور ایسا پراپیگنڈا کرنے والے منافقوں کی خوب خبر لی کہ جو سب کے لئے باعثِ عبرت بن گئی۔ جن معاشروں میں سیاسی گھٹن ہو وہاں پراپیگنڈا کا ہتھیار بہت موٴثر سمجھا جاتا ہے ۔ دوسروں سے انتقام لینے، کردار کشی کرنے، اعتماد کی فضا خراب کرنے اور بنیادی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے پراپیگنڈا کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ یہ بات تو کافی نہیں کہ ہم ایسے پراپیگنڈا کے محرکات سے آگاہ ہوں بلکہ اہم تو یہ ہے کہ عوام کو ایسا پراپیگنڈا کرنے والوں کا آلہٴ کار بننے سے بچایا جائے اور انھیں اپنے ہاتھوں اپنی نابودی سے روکا جائے اور انھیں سمجھایا جائے کہ ایسی بات جہاں سنیں وہیں دفن کردیں ورنہ دشمن کی خوشنودی اور کامیابی کا باعث بن جائیں گے اور اس کے علاوہ دنیا وآخرت میں عذاب الیم کا مزہ بھی چکھنا ہوگا جیسا کہ زیرِ بحث آیات میں اشارہ کیا جاچکا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:17-20
۱۔ ”فحشاء“ کی اشاعت سے کیا مراد ہے؟
انسان کے معاشرتی وجود ہے ۔ یہ معاشرہ انسان کے لئے ایک طرح سے اس کے گھر کی مانند ہے ۔ اس کی حرمت اور احترام اس کے اپنے گھر کی حرمت اور احترام کی طرح ہے ۔ معاشرے کی پاکیزگی اس کی اپنی پاکیزگی کے لئے مددگار ہے اور معاشرے کی آلودگی اس کی اپنی آلودگی کی طرح ہے ۔ اس اصول کی وجہ سے اسلام نے ہر اس کام کی شدید مخالفت کی ہے کہ جو معاشرے کو غلیظ یا زہرآلود کرنے کا سبب بنے ۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے غیبت کی شدید مخالفت کی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ غیبت چھپے ہوئے عیوب کو آشکار کرتی ہے اور اس سے معاشرے کا احترام مجروح ہوتا ہے ۔ عیب پوشی کے حکم کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ گناہ معاشرے میں نہ پھیل جائے ۔ اسلام کے احکام کی نظر میں کھلے بندوں گناہ کی اہمیت مخفی گناہ سے زیادہ ہے ۔ یہاں تک کہ ایک روایت میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام نے فرمایا: ”المذیع بالسیئة مخذول والمستتر بالسیئة مغفور لہ“. ”جو شخص گناہ کی تشہیر کرے وہ مردود ہے اور جو گناہ کو مخفی رکھے اس کے لئے الله کی مغفرت ہے (۱) ۔ یہ جو ہ دیکھتے ہیں کہ زیرِ بحث آیات میں برائیوں کو پھیلانے کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اس عمل پر شدید ڈانٹ ڈپٹ کی گئی ہے تو اس کی بھی یہی وجہ ہے ۔ اصولی طور پر گناہ آگ کی مانند ہے ۔ اگر معاشرے میں کسی جگہ یہ بھڑک اٹھے تو اسے بجھانے کی کوشش کرنا چاہیے یا کم از کم یہ کوشش ہونی چاہیے کہ یہ پھیلنے نہ پائے ورنہ یہ ہرجگہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور پھر اس پر کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ اگر لوگوں کی نظر میں گناہ ایک بڑی چیز نہ ہو تو یہ امر بذات خود گناہوں کے راستے میں ایک بڑی دیوار کی مانند ہے لیکن گناہوں اور برائیوں کی نشر واشاعت اس دیوار کو گرادیتی ہے اور لوگ گناہوں کو معمولی سمجھنے لگتے ہیں ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: ”من اذاع فاحشة کان کمبتدئھا“ ”بُرے کام کی تشہیر کرنے والا اس کی ابتداء کرنے والے کے برابر ہے (۲) ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ایک شخص امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کی خدمت میں آیا، اس نے عرض کیا: میں آپعلیہ السلام پر قربان، لوگ میرے ایک دینی بھائی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس نے ایک ایسا کام انجام دیا ہے کہ جسے میں ناپسند کرتا ہوں ۔ میں نے خود اس سے پوچھا تو اس نے انکار کیا جبکہ متعدد افراد نے اس کے بارے میں یہ بات بتائی ہے ۔ میرے لئے کیا حکم ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: کذب سمعک وبصرک عن اخیک واٴن تشھد عندک خمسون قسامہ وقال لک قول فصدقہ وکذبھم، ولاتذیعن علیہ شیئاً تشینہ بہ وتھدم بہ مروتہ، فتکون من الذین قال الله عزوّجل: <إِنَّ الَّذِینَ یُحِبُّونَ اٴَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِینَ آمَنُوا لَھُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ. اپنے مومن اور مسلمان بھائی کے مقابلے میں اپنے کان اور آنکھ کو جھٹلادو ۔ یہاں تک کہ اگر پچاس آدمی بھی آکر قسم کھاکر کہیں اس نے فلاں کام کیا ہے جبکہ وہ کہے کہ میں نے نہیں کیا تو اس بھائی کی تصدیق کرو اور ان کی بات ہرگز قبول نہ کرو ۔ جو چیز ننگ ورسوائی کا باعث ہو اور اس کی شخصیت کو ختم کردے اسے معاشرے میں نہ پھیلاوٴ ورنہ تم ان لوگوں میں سے شمار ہوگے کہ جن کے بارے میں الله فرماتا ہے:”جو لوگ مومنین کی برائیاں معاشرے میں پھیلانا پسند کرتے ہیں ان کے لئے دنیا وآخرت میں دردناک عذاب ہے ۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ برائیوں کے پھیلاوٴ کی مختلف صورتیں ہیں: ۱۔ کبھی جھوٹ اور بہتان کو ہوا دی جاتی ہے اور ہر کسی کو بتایا جاتا ہے ۔ ۲۔ کبھی ایسے مراکز کی بنیاد رکھی ہے کہ جو برائیاں پھیلنے کا سبب بنتے ہیں ۔ ۳۔ کبھی گناہ کے اسباب فراہم کرکے یا لوگوں کو ترغیب دے کر گناہ پھیلا یا جاتا ہے ۔ ۴۔ کبھی بے شرمی اور بے حیائی عام کرکے اور برسرِ عام ارتکاب گناہ کرکے برائی پھیلائی جاتی ہے ۔ یہ سب برائیاں پھیلانے کے طریقے ہیں اور اشاعتِ فحشاء کے مصداق ہیں کیونکہ اس لفظ کا ایک وسیع مفہوم ہے ۔ (غور کیجئے گا) ۔ 1۔ اصول کافی، ج۲، باب ستر الذنوب. 2۔ اصول کافی، ج۲، باب التعبیر.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:17-20
برائیوں کی اشاعت ممنوع ہے
زیرِ نظر آیات میں پھر واقعہٴ افک کے حوالے سے بات کی گئی ہے ۔ ان میں غلط پراپیگنڈا کرنے اور نیک افراد پر خلافِ ناموس تہمت لگانے کے بُرے اور سنگین انجام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔ یہ مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ قرآن متعدد بار ضروری سمجھتا ہے کہ مختلف موٴثر طریقوں سے اس مسئلے کا جائزہ لے اور اس کے بارے میں ایسی سخت باز پرس کرے اور محکم طریقے سے بات کرتا ہے کہ اگر (خدا اور روزِ جزاء پر ایمان) رکھتے ہو تو ایسے کام کی ہرگز تکرار نہ کرنا (یَعِظُکُمْ اللهُ اٴَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِہِ اٴَبَدًا إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ) ۔ یعنی ایمان کی نشانی یہ ہے کہ انسان بڑے گناہوں کا ارتکاب نہ کرے اور اگر کوئی بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ بے ایمانی کی نشانی ہے یا پھر کمزور ایمان کی۔ یہ جملہ درحقیقت توبہ کے ایک پہلو اور حصّے کی نشاندہی کررہا ہے کیونکہ گزشتہ گناہ پر پشیمانی ہی کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ آئندہ گناہ کا تکرار نہ کرنے کا پختہ عزم کیا جائے تاکہ توبہ ہمہ گیر ہوجائے ۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: یہ باتیں معمولی نہیں ہیں بلکہ تمھاری سرنوشت کے لئے حقائق ہیں کہ جو بڑی وضاحت وصراحت کے ساتھ تم سے بیان کئے گئے ہیں اور یہ خدائے علیم وحکیم کی طرف سے ہیں (وَیُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ الْآیَاتِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ) ۔ وہ اپنے علم وآگاہی کی بناء پر تمھارے اعمال کی تمام تفصیلات سے باخبر ہے یا دوسرے لفظوں میں اپنے علم کے مطابق وہ تمھاری احتیاجات اور تمھارے خیر وشر کے عوامل سے آگاہ ہے اور اپنی حکمت کے مطابق اپنے احکام کو ان سے ہم آہنگ کرتا ہے ۔ اس کے بعد بات کا رخ کچھ تبدیل کیا گیا ہے ۔ اب ایک شخصی واقعے سے آگے بڑھ کر ایک عمومی اور جامع قانون کی صورت میں بات کی گئی ہے تاکہ مسئلے پر کچھ اور زور دیا جائے ۔ ارشاد ہوتا ہے: جو لوگ اہلِ ایمان میں برائیاں شائع کرنا پسند کرتے ہیں ان کے لئے دنیا وآخرت میں دردناک عذاب ہے (إِنَّ الَّذِینَ یُحِبُّونَ اٴَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِینَ آمَنُوا لَھُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ) ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ یہ تاکید اس بناء پر ہے کہ تہمت زوجہٴ رسول یا اس پائے کی کسی شخصیت پر لگائی گئی تھی بلکہ کسی بھی با ایمان شخص کے بارے میں ایسا معاملہ درپیش ہو یہ تاکید اس کے بارے میں صادق آئے گی کیونکہ یہ مسئلہ شخصی یا انفرادی پہلو نہیں رکھتا اگرچہ ممکن ہے کہ کسی موقع کی مناسبت سے اس میں دوسرے پہلووٴں کا بھی اضافہ ہوجائے ۔ اس جملے کا درحقیقت ایک لفظ مقدر ہے اور وہ ہے ”لا“ جملہ یوں ہوگا: یعظکم الله اٴن لاتعودوا لمثلہ ابداً. اور اگر یہ لفظ مقدر نہ مانیں تو پھر ”یعظکم“ کا لفظ ”ینھاکم“ کے معنی میں ہونا چاہیے خدا تمھیں ایسے کام کے تکرار سے منع کرتا ہے ۔ ضمناً توجہ رہے کہ فحشاء اور برائیوں کی اشاعت فقط یہی نہیں کہ باایمان مرد یا عورت پر تہمت لگائی گئی جھوٹی تہمت کی تشہیر کی جائے اور ان پر بدکاری کا الزام لگایا جائے تو اس کا ایک مصداق ہے بلکہ یہ تعبیر تو بہت وسیع مفہوم رکھتی ہے اور اس میں ہر قسم کی برائیوں اور گناہوں کی ترویج واشاعت اور اس میں مدد دینا شامل ہے ۔ البتہ قرآن مجید میں عموماً لفظ ”فحشاء“ یا ”فاحشة“ جنسی انحرافات اور بدکاریوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے لیکن جیسا کہ مفردات میں راغب نے کہا ہے لغوی مفہوم کے اعتبار سے ”فحش“ ”فحشاء“ اور ”فاحشة“ ہر ایسے کام کو کہتے ہیں کہ جس میں بہت زیادہ برائی اور قباحت پائی جائے ۔ کبھی کبھار قرآن مجید میں بھی یہ لفظ وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے مثلاً: <وَالَّذِینَ یَجْتَنِبُونَ کَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ ”جو لوگ گناہان کبیرہ اور قبیح اعمال سے بچتے ہیں“۔(شوریٰ/۳۷( اس سے زیرِ بحث آیت کے مفہوم کی وسعت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے ۔ اب رہا مسئلہ یہ جو قرآن نے کہا ہے کہ دنیا میں بھی ان کے لئے المناک عذاب ہے تو اس سے کیا مراد ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے اس سے شرعی حدود وتعزیرات، معاشرتی ردّعمل اور انفرادی سطح پر بُرے نتائج مراد ہوں اور یہ ان اعمال کے وہ نتائج ہیں کہ جو ارتکاب کرنے والوں کو دنیا میں ہی بھگتنا پڑتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ایسے لوگ حق شہادت سے محروم ہوجاتے ہیں اور رسوائی الگ ہوتی ہے ۔ رہا آخرت کا دردناک عذاب تو رحمتِ خدا سے دوری، غضب الٰہی اور آتش جہنم ہے ۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اور خدا جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے (وَاللهُ یَعْلَمُ وَاٴَنْتُمْ لَاتَعْلَمُونَ) ۔ الله تعالیٰ، برائیوں کی اشاعت کے منحوس نتائج اور دنیا وآخرت میں اس کے ہولناک انجام سے اچھی طرح آگاہ ہے ۔ لیکن تم اس مسئلے کے مختلف پہلووٴں سے باخبر نہیں ہو ۔ وہ جانتا ہے کہ اس گناہ کی چاہت کن لوگوں کے دل میں ہے، جو لوگ پُر فریب ناموں کے پسِ پردہ یہ بُرے عمل انجام دیتے ہیں وہ انھیں پہچانتا ہے لیکن تم نہ جانتے ہو اور نہ پہچانتے ہو اور وہ جانتا ہے کہ ان بُرے اور قبیح کاموں کو روکنے کے لئے کس طرح کے احکام نازل کرے ۔ واقعہ افک، اشاعتِ فحشاء سے ممانعت اور پاکدامن اہلِ ایمان پر تہمت بازی سے روکنے کے سلسلے کی آخری آیت میں ایک بار پھر تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اگر فضل ورحمتِ الٰہی تمھارے شامل حال نہ ہوتی اور الله تم پر رحیم ومہربان نہ ہوتا تو تمھیں اسی دنیا میں ایسی دردناک سزا دیتا کہ جس سے تمھاری زندگی تاریک اور برباد ہوکر رہ جاتی (وَلَوْلَافَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ وَاٴَنَّ اللهَ رَئُوفٌ رَحِیمٌ) (۱) ۔ 1۔ اس جملے کی نظیر گزشتہ آیات میں بھی ہے، اس میں ایک محذوف ہے، اس کی تقدیر یوں ہے: ”لولا فضل الله علیکم..... لمسکم فیما اٴفضتم فیہ عذاب عظیم. اگر فضل ورحمتِ الٰہی تمھارے شامل حال نہ ہوتی تو جس راہ میں تم چل نکلے ہو اس پر تمھیں عذاب عظیم آپکڑتا۔