سُورَةٌ أَنزَلۡنَٰهَا وَفَرَضۡنَٰهَا وَأَنزَلۡنَا فِيهَآ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖ لَّعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ
[This is] a surah which We have sent down and prescribed, and We have sent down in it manifest signs so that you may take admonition.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 24:1
[Pooya/Ali Commentary 24:1] The stress on the word "We" implies the special importance of the commandments referring to sex offences mentioned in this surah. It is Allah who has ordained these obligatory statutes, and therefore they are all to be complied with implicitly, and cannot be changed or modified by individual or collective "rethinking". Strict observance of divine laws not only benefits man in the life of this world but also ensures spiritual welfare in the life of hereafter. Aqa Mahdi Puya says: Surah means a piece of land surrounded by walls to distinguish it; or a higher place. It is figuratively used to refer to the pieces of the holy book distinguished from each other by bismillah, except al Bara-at which begins without bismillah, but is not a continuation of the preceding surah. The word surah here and in other places proves the existence of the Quran in the form of surahs during the time of its revelation.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 24:1-10
This chapter is particularly required to be strictly studied and followed and obeyed by the Muslim ladies so as to guard their chastity. Fornication is a major sin and so also false allegation, which brings about forced divorce, in the absence of evidence, on either side, except in involving of Divine curse and these commands prove intense Divine Mercy for, without them, religion and social life should have been impossibility.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:1-3
۴۔ اس سے پہلے زانی کے لئے کیا سزا تھی؟
سورہء نساء کی آیت ۱۵ اور ۱۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہٴ نور میں زانی اور بدکار مردوں اور عورتوں کے بارے میں حکم نازل ہونے سے پہلے شادی شدہ عورتوں کے لئے اس گناہ پر عمر قید کی سزا تھی ۔ ارشاد ہوتا ہے: <فَاٴَمْسِکُوھُنَّ فِی الْبُیُوتِ حَتَّی یَتَوَفَّاھُنَّ الْمَوْتُ انھیں کمروں میں بندرکھو یہاں تک کہ انھی موت آجائے ۔ لیکن غیر شادی شدہ کی صورت میں سزا اذیت کی صورت میں تھی ۔ <فَآذُوھُمَا ان دونوں کو اذیت دو ۔ لیکن اس اذیت کی مقدار معین نہ تھی جبکہ زیرِ بحث آیت میں ایک سو کوڑے سزا مقرر کردی گئی ہے لہٰذا زیرِ بحث آیت میں محصنہ کے بارے میں سزائے موت کا حکم عمر کی قید کی جگہ پر ہے اور سو کوڑوں کا حکم اذیت کی حد معیّن کرنے کے لئے ہے ۔ )مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی تیسری جلد میں سورہٴ نساء کی آیت ۱۵ اور ۱۶ کی تفسیر دیکھئے) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:1-3
۲۔ زانی عورت کا ذکر مرد سے پہلے کیوں؟
اس میں شک نہیں کہ فحاشی اور بے حیائی ہر شخص کے لئے باعث ذلت ورسوائی ہے مگر عورتوں کی طرف سے اس قبیح فعل کا ارتکاب زیادہ ذلت آمیز ہے کیونکہ وہ حیاء، شرم اور پردہ داری کی زیادہ حامل ہیں اور باوجود اس کے ان کا دامن عفت کو چاک کردینا شدید بغاوت وسرکشی کی علامت ہے ۔ اس کے علاوہ اس فعل کا انجام اگرچہ دونوں کے لئے بڑا ہے مگر عورتوں کے لئے زیادہ رسوا کن اور عبرتناک ہے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ زنا کے سلسلے میں اکثر تحریک انہی کی طرف سے اور اکثر مواقع پر اس کا اصلی محرک وہی ہوتی ہیں یہ اسباب مجموعی طور پر اس آیت میں مرد سے پہلے عورت کے ذکر کا سبب بنے ہیں مگر صاحبان ایمان اور پاک دامن خواتین وحضرات کا معاملہ ان سے بالکل الگ تھلگ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:1-3
۷۔ حرمتِ زنا کا فلسفہ
ہم نہیں سمجھتے کہ کسی شخص پر اس فعل کے بُرے اور منحوس تنائج مخفی ہوں کہ جو افراد معاشرے پر مترتب ہوتے ہیں لیکن اس ضمن میں تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے ۔ اس قبیح عمل کا وجود اور پھیلاوٴ بلا شبہ خاندانی نظام کو درہم وبرہم کردیتا ہے، اس سے باپ اور بیٹے کا تعلق مبہم اور تاریک ہوجاتا ہے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جو بچے نسب اور نسل کی پہچان سے محروم ہوں وہ خطرناک مجرم بن جاتے ہیں اور معاشرے میں جرائم کے اضافے کا سبب بنتے ہیں ۔ یہ شرمناک عمل ہوس پرستوں کے درمیان طرح طرح کے جھگڑے پیدا کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں اس سے کئی طرح کی نفسیاتی اور مخلوط بیماریاں پیدا ہوتی ہیں کہ جن کے بُرے اور منحوس نتائج کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ بچوں کا قتل، اسقاط حمل اور قسم کے دوسرے جرائم اسی عمل کے قبیح نتائج میں سے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:1-3
۶۔ زانی کے ساتھ شادی بیاہ کی حرمت کے شرائط
ہم کہہ چکے ہیں کہ زیرِ بحث آیات کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ زانی مرد اور زانی عورت سے شاہدی بیاہ حرام ہے البتہ اسلامی روایات میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ حکم ایسے مردوں اور عورتوں کے بارے میں ہے جو اس کام کے لئے مشہور ہوں اور انھوں نے توبہ نہ کی ہو، لہٰذا اگر کوئی اس عمل کے ساتھ مشہور نہ ہو یا اس نے اپنے گزشتہ اعمال سے کنارہ کشی اختیار کرکے پاکیزہ اور باعفت زندگی گزارنے کا مصمم ارادہ کرلیا ہو اور اس کی توبہ کے عملی آثار دکھائی دیں تو پھر اس سے شادی بیاہ میں کوئی ممانعت نہیں ہے اس صورت میں وہ زانی یا زانیہ کا مصداق نہیں رہتے اور گویا ایک حالت تھی جو ختم ہوگئی ہے لیکن پہلی صورت میں ممانعت ہے اور آیت کی شانِ نزول بھی اس کی تائید کرتی ہے ۔ ایک معتبر حدیث کے مطابق مشہور فقیہ زرارہ نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: <الزَّانِی لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِیَةً.... اس آیت کی کیا تفسیر ہے؟ امام(علیه السلام) نے فرمایا: ھنّ نساء مشھورات بالزنا مشھورون بالزنا، قد شھروا بالزنا وعرفوا بہ، والناس الیوم بذلک المنزل، فمن اٴقیم علیہ حد الزنا، اٴو شھر بالزنا، لم ینبع لاٴحد یناکحہ حتّی یعرف منہ توبتہ. یہ آیت ان عورتوں اورمردوں کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو زنا میں مشہور تھے اور اس قبیح عمل کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے، آج بھی اسی طرح ہیں، جس شخص پر زنا کی حد جاری ہو یا جس کی شہرت اس بڑے عمل کے حوالے سے ہو وہ اس لائق نہیں کہ کوئی اس سے شادی کرے جب تک اس کی توبہ ثابت وظاہر نہ ہوجائے (۱) ۔ یہی مضمون دیگر روایات میں بھی موجود ہے ۔ 1. اسلسلے میں مزید تفصیل کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد ۱۲ میں سورہٴ بنی اسرائیل کی ایت۳۲ کی تفسیر د یکھئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:1-3
سوره نور / آیه 1 - 3
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۱ سُورَةٌ اٴَنزَلْنَاھَا وَفَرَضْنَاھَا وَاٴَنزَلْنَا فِیھَا آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ ۲ الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَاتَاٴْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاٴْفَةٌ فِی دِینِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ۳ الزَّانِی لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِیَةً اٴَوْ مُشْرِکَةً وَالزَّانِیَةُ لَایَنکِحُھَا إِلاَّ زَانٍ اٴَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ ترجمہ رحمن ورحیم الله کے نام سے ۱۔ یہ سورت ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے اور واجب کیا ہے اور اس میں ہم نے آیات بیّنات نازل کی ہیں ۔ ۲۔ زانی عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاوٴ اور اگر تم خدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو دین خدا کے معاملے میں ہرگز ترس (اور جھوٹی محبت) تمھیں دامن گیر نہ ہو اور ان دونوں کی سزا کے وقت کچھ مومنین کو مشاہدے کے لئے ہونا چاہیے ۔ ۳۔ زانی مرد صرف زانی یا مشرک عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانی عورت صرف زانی یا مشرک مرد سے نکاح کرتی ہے اور یہ کام مومنین پر حرام کیا گیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:1-3
زانی مرد اور زانی عورت کی سزا
ہم جانتے ہیں کہ آیتِ نور کی اس سورت کانام سورہٴ نور ہے اور یہ آیت نہایت جاذبِ نظر ہے لیکن اس سے قطع نظر اس سورہ کے مضامین ومطالب ایک خاص نورانیت کے حامل ہیں، یہ سورت انسانوں کو انسان کے خاندان کو اور عورت ومرد کو پاکدامنی کا نور عطا کرتی ہے، زبان وکلام کو تقویٰ وصداقت کا نور بخشتی ہے، دلوں کو نورِ خدا پرستی اور قیامت پر ایمان سے منور کرتی ہے اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی دعوت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا نورانی درس دیتی ہے ۔ اس سورت کی پہلی آیت در حقیقت اس کے تمام مطالب کی طرف اجمالی اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے، یہ وہ سورت ہے جسے ہم نے نازل کیا اور واجب کیا اور اس میں ہم نے آیات بیّنات نازل کیں کہ شاید تم نصیحت حاصل کرو (سُورَةٌ اٴَنزَلْنَاھَا وَفَرَضْنَاھَا وَاٴَنزَلْنَا فِیھَا آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ) ۔ سورہ ”سور“ کے مادہ سے کسی عمارت کی بلندی کے معنی میں ہے، بعد ازاں یہ ان بلند دیواروں کے معنی میں استعمال ہونے لگا جو گزشتہ زمانے میں حملہ آوروں سے محفوظ رہنے کے لئے بنائی جاتی تھیں، یہ دیواریں چونکہ شہر کو بیرونی علاقے سے جدا کردیتی تھیں اس لئے رفتہ رفتہ یہ لفظ کسی چیز کے ٹکڑے اور حصّے کے معنی میں استعمال ہونے لگان اسی طرح قرآن کے ایک ایسے ٹکڑے اور حصّے کو بھی ”سورہ“ کہا جاتا ہے کہ جو باقی ماندہ سے جدا ہوتا ہے ۔ بعض اہل لغت نے بھی کہا ہے کہ ”سورہ“ خوبصورت اور بلند عمارت کو کہا جاتا ہے اور ایک عظیم عمارت کے مختلف حصّوں کو بھی ”سورہ“ کہتے ہیں، اسی بناپر قرآن کے مختلف حصّوں کو جو ایک دوسرے سے جدا ہیں، پر اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے ۔ بہرحال یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس سورت کے تمام مطالب بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ الله کی طرف سے نازل ہوئے ہیں چاہے وہ عقائد ہوں، آدابِ معاشرت ہوں یہ احکام ہوں ۔ خصوصاً یہاں لفظ ”فَرَضْنَاھَا“ (ہم نے اسے فرض قرار دیا ہے) استعمال کیا گیا ہے اور ”فرض“ کا معنیٰ یقین اور ”قطع“ ہے اس لفظ سے بھی مذکورہ امر پر تاکید ہوتی ہے ۔ ”آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ“ کی تعبیر ہوسکتا ہے توحید، مبداء ومعاد اور نبوّت جیسے حقائق کی طرف اشارہ ہو کہ جن کا ذکر اس سورت میں آیا ہے جبکہ ”فرضنا“ اس احکام وقوانین کی طرف اشارہ ہے کہ جو اس سورت بیان کئے گئے ہیں، بالفاظ دیگر ایک عقائد کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسرا احکام کی طرف۔ ”لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ“ (شاید تم نصیحت حاصل کرو) یہ جملہ ایک بار پھر اس حقیقت کا ترجمان ہے کہ اسلام کے تمام سچّے عقائد اور عملی پروگراموں کی جڑ انسانی فطرت کے اندر موجود ہے کہ ا ن کا ذکر ایک قسم کا ”تذکر“ اور یاد دہانی ہے ۔ اس عمومی اور کلّی بیان کے بعد زانی عورت اور زانی مرد کے بارے میں پہلا قطعی اور حتمی قانون بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: زانی عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاوٴ (الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ) ۔ مزدی تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اس خدائی حدا کا اجراء کرتے ہوئے تمھیں ہرگز ترس نہیں آنا چاہیے، اگر تم الله اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو (وَلَاتَاٴْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاٴْفَةٌ فِی دِینِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ) ۔ اس خدائی سزا سے مکمل نتیجہ حاصل کرنے کے لئے آیت کے اختتام پر ایک اور نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مومنین کا ایک گروہ حد جاری ہوتے وقت مشاہدے کے لئے موجود ہونا چاہیے (وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ) ۔ یہ آیت دراصل ان تین احکام پر مشتمل ہے: ۱۔ زانی عورتوں اور زانی مردوں کی سزا (زنا سے مراد اس مرد اور عورت کا آپس میں جنسی ملاپ ہے کہ جو آپس میں شادی شدہ نہیں کہ جس کے لئے کوئی شرعی جواز موجود نہیں) ۔ ۲۔ اس امر کی تاکید کہ اس سزا کے کے اجراء کے لئے ہرگز ترس اور بے محل نرمی کے احساسات نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ ایسے ترس اور نرمی کا نتیجہ معاشرے کی آلودگی اور ترویجِ گناہ کے سوا کچھ نہیں ہے البتہ ایسے احساسات کو ختم کرنے کے لئے قرآن نے الله اور روزِ جزا پر ایمان کا ذکر کیا ہے کیونکہ مبداء ومعاد پر ایمان کی علامت یہ ہے کہ انسان الله کے فرمان کے سامنے کاملاً سرتسلیم خم کرلے، خدائے حکیم پر ایمان لانا اس امر کا سبب بنتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ اس کے ہرحکم کا کوئی فلسفہ ہے اور اس میں کوئی حکمت پوشیدہ ہے اور وہ بلاوجہ نہیں ہے جبکہ معاد پر ایمان رکھنا سبب بنتا ہے کہ انسان کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ مجھے اپنی غلطیوں کا جواب دینا ہوگا ۔ اس سلسلے میں رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک عمدہ حدیث نقل کی گئی ہے، اس کی طرف توجہ ضروری ہے آپ فرماتے ہیں: یوٴتی بوال نقص من الحد سوطاً فیقال لہ لم فعلت ذاک؟ فیقول: رحمة لعبادک. فیقال لہ: اٴنت اٴرحم بھم منّی؟ فیوٴمر بہ الی النّار، ویٴتی بمن زاد سوطاً، فیقال لہ: لم فعلت ذٰلک؟ فیقول: لینتھوا عن معاصیک! فیقول: اٴنت اٴحکم بہ منّی؟ فیوٴمر بہ الی النّار. روزِ قیامت اس حاکم اور قاضی کو جس نے کسی خدائی حد میں سے کم کیا ہوگا میدانِ محشر میں پیش کیا جائے گا ۔ اور اس سے کہا جائے گا: تونے ایسا کیوں کیا؟ وہ کہے گا: تیرے بندوں پر رحکم اور مہربانی کرتے ہوئے ۔ پروردگار اُس سے کہے گا: کیا تو ان کے لئے مجھ سے زیادہ مہربان تھا؟ اس کے ساتھ ہی حکم ہوگا کہ اسے آتشِ دوزخ میں ڈال دو ۔ اس کے بعد ایک اور کو لایا جائے گا جس نے خدائی حد سے ایک تازیانہ زیادہ کیا ہوگا ۔ اس سے کہا جائے گا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ وہ جواب میں کہے گا: تاکہ تیرے بندے تیری نافرمانی سے رُک جائیں ۔ الله فرمائے گا: کیا تو مجھ سے زیادہ آگاہ اور حکیم تھا؟ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے بھی آتش جہنم میں لے جاوٴ (۱) ۔ ۳۔ تیسراحکم یہ ہے کہ حد جاری کرتے ہوئے کچھ مومنین موجود ہوں کیونکہ اس سزا کا صرف یہ مقصد نہیں کہ گنہگار کو عبرت حاصل ہو بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس کی سزا دوسروں کے لئے بھی درس عبرت ہو ۔ انسانی معاشرے کی تشکیل اور بناوٹ سے یہ بات عیاں ہے کہ اخلاقی برائیاں صرف ایک شخص ہی میں نہیں رہتیں بلکہ معاشرے کی طرف بھی سرایت کرتی ہیں لہٰذا معاشرے کی تطہیر کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح کا گناہ برملا ہوا ہے سزا بھی برملا ہو ۔ اس گفتگو سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ اسلام ایک شخص کی عزّت دوسروں کے سامنے برباد ہونے کی اجازت کیوں دیتا ہے کیونکہ جب تک گناہ واضح نہ ہو اور مسئلہ اسلامی عدالت تک نہ پہنچے الله کہ جو ”ستار العیوب“ ہے پردہ دری پر راضی نہیں ہے لیکن جرم ثابت ہوجانے، راز کھل جانے، معاشرے کے آلودہ ہوجانے اور گناہ کو معمولی چیز سمجھے جانے کے بعد سزا اسی صورت میں ملنا چاہیے کہ گناہ کے منفی اثرات مٹ جائیں اور گناہ کی بڑائی کا احساس اسی طرح لوٹ آئے ۔ اصول طور پر ایک صحیح وسالم معاشرے میں قانون کی خلاف ورزی کو بہت اہم سمجھا جانا چاہیے، مسلّم ہے کہ اگر خلاف ورزی کا تکرار ہو تو اس کی اہمیت ختم ہوجائے گی اور اس کی اہمت کا احساس بھی تبھی اجاگر ہوگا اگر خلاف ورزی کرنے والوں کو کھلے بندوں ہونا ہی ان کی سرکش ہواوہوس کے راستے میں بند باندھ دے گا ۔ زیرِ بحث آیت میں چونکہ زانی عورت اور زانی مرد کے بارے میں گفتگو کی جارہی ہے اس لئے مناسبت سے ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسی عورت سے شادی کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ۔ تیسری آیت میں اس سوال کا جواب دیا جارہا ہے، ارشاد ہوتا ہے: زانی مرد سوائے زانیہ مشرک عورت کے شادی نہیں کرتا جیسا کہ زانی عورت سوائے زانی یا مشرک مرد کے کسی سے بیاہ نہیں کرتی (الزَّانِی لَایَنکِحُ إلاَّ زَانِیَةً اٴَوْ مُشْرِکَةً وَالزَّانِیَةُ لَایَنکِحُھَا إِلاَّ زَانٍ اٴَوْ مُشْرِکٌ) ۔ اور یہ کام مومنین پر حرام کیا گیا ہے (وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ) ۔ یہ آیت ایک حکم الٰہی بیان کرتی ہے یا یہ ایک خارجی معاملے کی خبر ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض کا نظریہ ہے کہ یہ آیت صرف ایک عینی حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ آلودہ دامن افراد ہمیشہ ناپاک افراد کے پیچھے ہی جاتے ہیں اور بقولے: کند ہم جنس با ہم جنس پرواز لیکن باایمان اور پاکباز افراد ہرگز آلودہ دامن اور ناپاک افراد کو جیون ساتھی بنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور انھیں اپنے اوپر حرام قرار دے لیتے ہیں ۔ آیت کا ظاہری مفہوم اسی تفسیر کا شاہد ہے کیونکہ آیت ”جملہ خبریہ“ کی صورت میں ہے ۔ البتہ بعض دیگر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت ایک خدائی اور شرعی حکم بیان کررہی ہے اور خصوصیت سے اس کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان زانی عورتوں اور مردوں سے شادی بیاہ سے اجتناب کریں کیونکہ جسمانی بیماریوں کی طرح عموماً اخلاقی بیماریاں بھی متعدی ہوتی ہیں اور ایک سے دوسرے میں سرایت کرجاتی ہیں جبکہ اس سے قطع نظر ایسے رشتے پاکدامن افراد کے لئے ننگ وعار کا بھی باعث ہیں، علاوہ ازیں ایسی اولاد جو مشکوک اور داغدار دامنوں میں پرورش پائے اس کا مستقبل محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتان اس بناپر اسلام نے ایسے رشتوں سے منع کیا ہے ۔ اس تفسیر کے لئے یہ جملہ شاہد ہے: ”وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ“ اس میں حرام قرار دینے کی تعبیر موجود ہے ۔ اس تفسیر کے لئے دوسرا شاہد وہ بہت سی روایات ہیں جو اس سلسلے میں پیغمبر اسلام اور آئمہ معصومین(علیه السلام) سے ہم تک پہنچی ہیں، ان کے مطابق یہ آیت ایک حکم بیان کررہی ہے یہاں تک کہ بعض مفسرین نے اس آیت کے لئے یہ شان نزول بھی لکھی ہے: امّ نہرول دورِ جاہلیت میں ایک مشہور بدکار عورت تھی یہاں تک کہ اُس نے اپنی علامت اور ہیجان کے طور پر اپنے گھر کے دروازے پر ایک جھنڈا بھی گاڑ رکھا تھا، ایک مسلمان نے اس سے شادی کرنے کے لئے رسول الله سے اجازت چاہی تو یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں اس کے تقاضے کا جواب دیا گیا (۲) ۔ ایک اور حدیث امام باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ: یہ آیت ان مردوں اور عورتوں کے بارے میں ہے کہ جو رسول ا لله کے زمانے میں زنا سے آلودہ تھے، الله نے مسلمانوں کو ان سے شادی بیاہ کرنے سے منع کیا، نیز یہ حکم آج بھی باقی ہے کہ جو شخص اس عمل کی انجام دہی میں مشہور ہو اس پر الله کی حد جاری ہونا چاہیے اس سے اس وقت تک شادی نہیں ہونا چاہیے جب تک اس کی توبہ ثابت نہ ہوجائے (۳) ۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ بہت سے احکام ”جملہ خبریہ“ کی صورت میں بیان ہوئے ہیں اور ضروری نہیں کہ احکام الٰہی ہمیشہ ”امر“ اور ”نہی“ کے جملوں کی صورت میں ہوں ۔ ضمناً توجہ رہے کہ مشرکین کا زانیوں پر عطف مطلب کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے ہے کیونکہ بعض روایات میں بھی آیا ہے کہ زانی جب اس کام کا ارتکاب کرتا ہے وہ ایمان سے دور سے ہوتا ہے ۔ رسول الله صلی الله علیہ آلہ وسلّم کا ارشاد گرامی ہے: لایزن الزانی حین وھو موٴمن ولایسرق الساریق حین یسرق وھوموٴمن فانّہ اذا فعل ذلک خلع عنہ الایمان کخلع القمیص جب کوئی زانی اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور اسی طرح جب کوئی چور چوری کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا کیونکہ اس فعل کے ارتکاب کے وقت اس کے سینے سے ایمان نکال لیا جاتا ہے جیسے لباس بدن سے اتار لیا جاتا ہے (۴) ۔ 1۔ تفسیر کبیر، از فخر الدین رازی، ج۲۳، ص۱۴۸. 2۔ مجمع البیان زیرِ بحث آیت کے ذیل میں نیز تفسیر قرطبی میں اسی آیت کے ذیل میں یہ حدیث نقل کی گئی ہے ۔ 3۔ مجمع البیان زیرِ بحث آیت کے ذیل میں. 4 ۔ اصول کافی، ج۲، ص۲۶ (مطبعہ اسلامیہ ۱۳۸۸ھ (جیسا کہ تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۷۱ پر درج ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:1-3
۱۔ وہ مواقع جہاں زانی کی سزا ”موت“ ہے
مذکورہ بالا آیات میں زنا کی حد سے متعلق ایک عام حکم ہے، زنا کے بارے میں بعض استثنائی احکام بھی ہیں مثلاً شادی شدہ عورت یا مرد کا زنا کرنا ثابت ہوجانے کی صورت میں اس کی سزا ”موت“ ہے ۔ محصن یا شادی شدہ مرد سے مراد یہ ہے کہ وہ عورت رکھتا ہو اور عورت سے قربت اس کے اختیار میں بھی ہو، محصنہ یا شادی شدہ عورت سے مراد وہ عورت ہے جس کا مرد اس کے پاس رہتا ہو، جب بھی کسی کے لئے جنسی تسکین کی شرعی اور قانونی سہولت موجود ہو اگر وہ زنا کا مرتکب ہو تو اس کو سزائے موت دی جائے گی، اس حکم کے نفاذ کی جملہ شرائط اور تفصیلات فقہی کتب میں دیکھی جاسکتی ہیں اس کے علاوہ اپنی محرم اور دوسری عورتوں کے ساتھ زنا کی سزا بھی موت ہے، اسی طرح زنابالجبر کی سزا بھی موت ہے ۔ البتہ بعض حالات ایسے بھی ہیں جن میں کوڑے ، جلاوطنی اور دوسری سزاوٴں کا حکم سنایاجاتا ہے، ان کی تفصیلات فقہی کتب دیکھی جاسکتی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:1-3
۵۔ اجرائے حد میں کمی بیشی ممنوع ہے.
اس میں شک نہیں کہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہر ممکن کوشش کی جائے کہ کسی بے گناہ شخص کو سزا نہ ملے اور احکامِ الٰہی جہاں تک اجازت دیتے ہیں عفو ودرگزر سے کم لیا جائے لیکن ثبوتِ جرم کے بعد سزا پر حتمی طور پر عمل کیا جانا چاہیے اور بے حقیقت احسانات وجذبات سے پرہیز کیا جانا چاہیے کہ جو نظم معاشرہ کے لئے نقصان دہ ہیں، زیر بحث آیت میں اس کے لئے خاص طور پر ”فی دین االله“ کے الفاظ آئے ہیں یعنی جب حکم خدا کا ہے تو پھر ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی رحم میں خداوندِ رحمان ورحیم سے بڑھ سے جائے ۔ آیت میں ترس کھانے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اکثر لوگوں کی یہی کیفیت ہوتی ہے اور ایسے موقع پر احساساتَ ترحّم کے غلبے کا امکان زیادہ ہوتا ہے لیکن اس امر کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زیادہ سختی کے حامی ہوتے ہیں جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں یہ لوگ بھی حکم الٰہی کے راستے سے منحرف ہوتے ہیں اور انھیں بھی اپنے جذبات پر قابو پانا چاہیے اور خدا سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کے لئے بھی شدید سزا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 24:1-3
۳۔ سزا لوگوں کی موجودگی میں یوں؟
زیرِ بحث آیت کہ جو امر کی صورت میں ہے حد جاری ہوتے وقت کچھ مومنین کو موجودگی کو واجب قرار دیتی ہے لیکن کہے بغیر واضح ہے کہ قرآن نے سزا کے لئے اسے شرط قرار نہیں دیا کہ سزا عام لوگوں کے سامنے ہو بلکہ حالات اور مصلحت کے لحاظ سے تین یا اس سے زیادہ افراد کی موجودگی کافی ہے، اہم بات یہ ہے کہ قاضی اس امر کا فیصلہ کرے کہ حد جاری کرتے ہوئے کتنے افراد کی موجودگی ضروری ہے (۱)۔ اس حکم کا فلسفہ بھی واضح ہے کیونکہ: اوّلاً: جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ سزا سب کے لئے لئے درس عبرت اور معاشرے کی تطہیر کا سبب ہے ۔ ثانیاً: مجرم کی شرمساری اسے آئندہ ارتکاب جرم سے روکے گی ۔ ثالثاً: جب حد کچھ افراد کے سامنے جاری ہوگی تو قاضی یا حد جاری کرنے والوں پر کسی سازش، رشوت لینے، کوئی ترجیح دینے یا شکنجہ دینے وغیرہ کا االزام نہیں آسکے گا ۔ رابعاً: حد جاری ہوتے وقت کچھ لوگوں کی موجودگی افراط اور زیادتی سے اجتناب کا باعث ہوگی ۔ خامساً: ممکن ہے حد جاری ہونے کے بعد مجرم قاضی اور حد جاری والوں کے بارے میں غلط پراپیگنڈا کرے اور جھوٹے الزامات لگائے، اگر اس موقع پر کچھ لوگ موجود ہوں تو وہ حقیقتِ حال واضح کرکے اس کی تخریبی سرگرمیوں کو روک سکیں گے ۔ اس کے علاوہ اور بھی فوائد ہیں ۔ 1. اسلسلے میں مزید تفصیل کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد ۱۲ میں سورہٴ بنی اسرائیل کی ایت۳۲ کی تفسیر دیکھئے ۔