وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ
and We made the son of Mary and his mother a sign, and sheltered them in a level highland with flowing water.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:50
[Pooya/Ali Commentary 23:50] For Maryam and Isa please refer to the commentary of Ali Imran: 35 to 56 and Maryam: 16 to 40. Aqa Mahdi Puya says: It is mentioned in this verse that Allah gave Maryam and Isa shelter on a fertile plateau. Some commentators have made futile attempts to interpret "fertile plateau" as the valley of Kashmir. They even have found out an old tomb, in which a holy man named Yusuf Asa is buried, to be the grave of prophet Isa. According to the Ahl ul Bayt this fertile land is near river Furat in Iraq. Whether it refers to pre or post crucifixion (unsuccessful attempt made by the Jews to kill Isa) period is not mentioned here, but as the crucifixion story is untrue it cannot refer to it.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:50
الله کی ایک اور نشانی
انبیاء کے حالات کی تفصیل کے آخری حصّے میں مختصرسا اشارہ حضرت عیسیٰعلیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریمعلیہ السلام کی طرف کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ”ہم نے عیسیٰعلیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریمعلیہ السلام اپنی عظمت وقدرت کی نشانی قرار دیا (وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاٴُمَّہُ آیَةً) ۔ لفظ ”عیسیٰ“ کی بجائے ”ابن مریم“ کہہ کر اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ آپعلیہ السلام بغیر باپ کے الله خاص حُکم سے پیدا ہوئے ہیں، اور یوں پیدا ہونا بجائے خود الله کی قدرت کاملہ کی ایک بڑی نشانی تھی ۔ مزید برآن چونکہ اس محیر العقول پیدائش کا تعلق ایک طرف حضرت عیسیٰ سے ہے اور دوسری طرف جناب مریم سے، لہٰذا دونوں کوالگ الگ نشانی اور آیت شمار کیا گیا ہے، البتہ دو مختلف زاویوں سے یہ ایک ہی حقیقت ہے (یعنی بچے کا بغیر باپ کے پیدا ہوجانا اور ایک عورت کا بغیر کسی مرد سے ملاپ کے حاملہ ہوجانا) اس کے بعد ان کو عطاء کی گئی چند عظیم نعمتوں اور آسائشوں کا تذکرہ کیا گیا ہے: ہم نے ان دونوں کو ایک بلند پُرسکون اور جاری پانی والی جگہ دی“ (وَآوَیْنَاھُمَا إِلَی رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِینٍ) ۔ ”ربوہ“ ، ”ربا“ کے مادہ سے ہے اور اس کا معنیٰ زیادہ ہونا اور افزائش ہے اور یہاں بلند اور اونچی جگہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ ”معین“ ، ”معن“ (بروزن ”شاٴن“ سے ہے اوراس کا مطلب جاری پانی ہے، اس لئے جاری پانی کو ”ماء معین“ کہتے ہیں، بعض نے اس لفظ کو ”عین“ سے ماخوذ مانا ہے یعنی وہ پانی جو ظاہر ہو اور آنکھوں سے دیکھا جاسکے (1) ۔ بہرحال یہ اس پُرسکون اور پُر آزمائش مقام کی طرف ایک مجمل سا اشارہ ہے جو الله نے ان دونوں ماں بیٹے کو عطا کیا تھا تاکہ دشمن کی آنکھوں سے اوجھل اطمینان سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، البتہ یہ مقام جغرافیائی لحاظ سے کہاں واقع ہے اس بارے میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ۱۔ بعض مفسرین کے خیال کے مطابق شامات کا ایک شہر ”ناصرہ“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے ولادت ہے، ان کے بقول جب عیسیٰعلیہ السلام پیدا ہوئے تو بعض دشمنوں کو ان کی ولادت اور آئندہ پروگرام کے متعلق اجمالی سی معلومات ملیں اور وہ انھیں نقصان پہنچانے کے درپے ہوئے، مگر الله نے انھیں ایک محفوظ اور پُرآسائش مقام پر پہنچادیا اور انھیں محفوظ رکھا ۔ ۲۔ دوسروں کے خیال میں یہ مصر کا کوئی علاقہ ہے، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ نے دشمنوں سے محفوظ رہنے کے لئے ان دونوں علاقوں میں کچھ مدّت تک قیام کیا تھا ۔ ۳۔ بعض کے خیال میں یہ دمشق کا علاقہ ہے ۔ ۴۔ بعض کے خیال میں یہ ”رملہ“ (بیت المقدس کے شمال میں ایک شہر ہے) کا علاقہ ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ نے ان دونوں علاقوں میں کچھ عرصہ قیام کیا تھا ۔ ۵۔ یہ خیال بھی ہے کہ مذکورہ جُملے سے مراد بیت المقدس کے گرد ونواح میں وہ جنگل ہو، جہاں آپعلیہ السلام کی ولادت ہوئی، جہاں ماں بیٹے کے لئے خوشگوار پانی جاری کیا گیا اور تازہ کھجوروں سے ان کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا اور اس جگہ کو ان کے لئے ہر طرح سے محفوظ بھی بنایا گیا ۔ بہرحال یہ آیت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ الله اپنے پیغمبروں اور ان کے اصحاب وانصار کا ہمیشہ حامی وناصر رہا ہے اور آیت ببانگ دہل کہہ رہی ہے کہ اگر ساری دنیا کا اسلحہ کسی کو تباہ کرنے کے لئے جمع کرلیا جائے ،لیکن الله نہ چاہے تو اس کا بال بھی بیکار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کی تنہائی اور یار و انصار کی کمی اس کی شکست کا سبب بن سکتی ہے ۔ 1۔ پہلی صورت میں ”معین“ کا میم جزوِ لفظ ہے اور ”فعیل“ کے وزن پر ہے، دوسری صورت میں ”میم“ زائدہ ہوگی اور مفعول کے وزن پر ”مبیع“ کی طرح ہوگی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:50
سوره مؤمنون / آیه 50
۵۰ وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاٴُمَّہُ آیَةً وَآوَیْنَاھُمَا إِلَی رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِینٍ ترجمہ ۵۰۔ ہم نے عیسیٰ ابن مریم اور ان کی والدہ (مریم) کو اپنی نشانی قرار دیا اور ہم نے انھیں ایک بلند وبالا پرسکون اور چشموں والے علاقے میں جگہ دی ۔