ثُمَّ أَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ
Then after them We brought forth another generation,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:31
[Pooya/Ali Commentary 23:31] (see commentary for verse 23)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:31-41
۲۔ ”تراب“ اور ”عظام“ کا مفہوم
”تراب“ کا مطلب مٹی اور ”عظام“ کا معنیٰ ہڈیاں ہے، مرنے کے بعد عام طور پر جسدِ خاکی پہلے بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوتا ہے اور اس کے بعد مٹی بن جاتا ہے لیکن مذکورہ آیت میں ”تراب“ کو ”عظام“ پر مقدم کیا گیا ہے، سوال کیا جاسکتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا ایک جواب یہ ہوسکتا ہے کہ ”تراب“ کہ شاید آیت میں جسد خاکی کو دوحصّے مانا گیا ہو، یعنی گوشت اور ہڈیاں، گوشت پہلے ہڈیوں سے الگ ہوکر گرجاتا ہے اور مٹی میں فنا ہوجاتا ہے، ہڈیاں سالوں بعد فنا ہوتی ہیں ۔ دوسرا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ ”تراب“ سے مراد زمانہٴ قدیم کے لوگ ہوں جو بالکل مٹی ہوچکے ہیں اور ”عظام“ سے ماضی قریب کے اسلاف ہوں، جن کی بوسیدہ ہڈیاں ابھی باقی ہیں (1) ۔ 1۔ تفسیر روح المعانی، زیر بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:31-41
۴۔ ایک عمومی انجام
دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ آیت کے آخری حصّے میں مسئلے کو خصوصی کیفیت سے نکال کر ایک عمومی شکل دے دی گئی ہے، یعنی ایک قاعدہ کلیّہ بتایا گیا ہے کہ ”ظالم لوگ رحمتِ پروردگار سے دور ہیں ۔ در اصل یہ ان آیات میں بیان شدہ کفر، تکذیب اور معاد وقیامت سے انکار اور نافرمان قوم کے عبرتناک انجام سارے واقعے کا آخری اور حتمی نتیجہ ہے، جو کسی خاص امّت اور گروہ سے خصوصیت نہیں رکھتا بلکہ تمام نافرمان لوگ اس میں شامل ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:31-41
پرتعیش زندگی اور اس کے منحوس نتائج
مذکورہ بالا آیتوں میں اشراف کی پر تعیش زندگی اور قیامت ومعاد سے انکار میں ایک خاص ربط نظر آتا ہے، حقیقت بھی یہی ہے، پُرتعیش زندگی بسر کرنے والے عام طور پر ماوٴ پدر آزادی چاہتے ہیں، حیوانی لذّات اور مادی جذبات کی تسکین کے لئے ہر ہتھکنڈے کو جائز سمجھتے ہیں، واضح ہے کہ الله کی نگرانی اور قیامت کی عدالت پر ایمان ان کے اس طرزِعمل میں زبردست رکاوٹ پیدا کرتا ہے ۔ ان کے دل مطمئن رہتے ہیں اور عوام الناس کو ان کے خلاف زبان کھولنے کی جرئت ہوتی ہے، اسی سبب سے ایسے مبداء اور الله کی طرف بازگشت کاانکار کردیتے ہیں اور اس کی بندگی کا جواز یکسر اپنے گلے سے اتار پھینکتے ہیں اور مذکورہ بالا آیت کے بقول وہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ زندگی اسی دنیا کی زندگی ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور جو شخص بھی اس کے علاوہ کچھ کہتا ہے ۔ وہ جھوٹا ہے، اس دنیا میں جتنا وقت بھی ملے اس کو غنیمت جانو، چار دن کی زندگی ہنسی خوشی گزار دو، ہر درخت کا پھل چکھو، لذّت کا ذریعہ استعمال کرو اور ہر لذّت کا لطف اٹھاوٴ.... وغیرہ وغیرہ۔ یوں وہ اپنی سیاہ کاریوں اور بداعمالیوں کی توجیہہ کرتے رہتے ہیں ۔ علاوہ بریں ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی کے وسائل دوسروں کے حقوق نصب کرکے ہی مہیّا کئے جاسکتے ہیں اور ان پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا جاتا ہے، انبیاء کی نبوت اور قیامت کا انکار کئے بغیر طمطراق سے زندگی بسر ہی نہیں ہوسکتی اور وہ یہ مقام ہے جہاں تک پہنچنے والوں کی اکثریت عام مشاہدہ کے مطابق ہر حقیقت سے صرف نظر آتی ہے اور قابلِ احترام حقائق کو نہایت تحقیرکے ساتھ روندتی چلی جاتی ہے ۔ یہ دل کے اندھے اور بہرے، ہوس نفسانی کے چنگل میں پوری طرح جکڑے ہوتے ہیں ۔ الله کی اطاعت اور لطف وکرم سے محروم ہوجاتے ہیں، مگر شہوات حیوانی کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں، دوسروں کے غلاموں کی بندگی کرتے ہیں، یہ لوگ کوتاہ فکر ، پست خیال، کورہ ذہن، غلیظ رُوح اور تاریک دل ہوتے ہیں، ان کی زندگی کا دور منتظر اور ظاہر شاید بعض لوگوں کے لئے خوش نماز اور جاذبِ نظر ہو، مگر قریب کا منظر اور حقیقی حال وحشتناک اور گھناوٴنا ہوتا ہے، کیونکہ ارتکاب گناہ اور جرائم کی وجہ سے برابر مضطرب اور بے چین رہتے ہیں ۔ اور تعیش وعیش پرستی کے وسائل چھن جانے اور موت آنے کا خوف ہمہ گیر خوف ان کو مسلسل بے قرار رکھتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:31-41
سوره مؤمنون / آیه 31 - 41
۳۱ ثُمَّ اٴَنشَاٴْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ قَرْنًا آخَرِینَ ۳۲ فَاٴَرْسَلْنَا فِیھِمْ رَسُولًا مِنْھُمْ اٴَنْ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ اٴَفَلَاتَتَّقُونَ ۳۳ وَقَالَ الْمَلَاٴُ مِنْ قَوْمِہِ الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا بِلِقَاءِ الْآخِرَةِ وَاٴَتْرَفْنَاھُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا مَا ھٰذَا إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یَاٴْکُلُ مِمَّا تَاٴْکُلُونَ مِنْہُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ ۳۴ وَلَئِنْ اٴَطَعْتُمْ بَشَرًا مِثْلَکُمْ إِنَّکُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ ۳۵ اٴَیَعِدُکُمْ اٴَنَّکُمْ إِذَا مِتُّمْ وَکُنتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا اٴَنَّکُمْ مُخْرَجُونَ ۳۶ ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ ۳۷ إِنْ ھِیَ إِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِینَ ۳۸ إِنْ ھُوَ إِلاَّ رَجُلٌ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا وَمَا نَحْنُ لَہُ بِمُؤْمِنِینَ ۳۹ قَالَ رَبِّ انصُرْنِی بِمَا کَذَّبُونِی ۴۰ قَالَ عَمَّا قَلِیلٍ لَیُصْبِحُنَّ نَادِمِینَ ۴۱ فَاٴَخَذَتْھُمْ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنَاھُمْ غُثَاءً فَبُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ترجمہ ۳۱۔ پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور قوم کو پیدا کردیا ۔ ۳۲۔ اور ہم نے انہی میں سے ایک رسول ان کی طرف بھیجا کہ خدا ئے یکتا کی عبادت کرو، اس کے علاوہ کوئی اور تمھارا معبود نہیں، کیا (اس کے باوجود شرک وبت پرستی) سے تم پرہیز نہیں کرتے ۔ ۳۳۔ اس کی قوم کے وہ وڈیرے جو کافر ہوگئے اور انھوں نے لقائے آخرت کو جھٹلایا تھا اور جنھیں ہم نے دُنیا میں نعمتوں سے نوازا تھا ۔ بولے! یہ تو تمھاری ہی طرح کا ایک بشر ہے، جو تمھاری ہی طرح کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو یہ بھی پیتا ہے ۔ ۳۴۔ اور اگر اپنی ہی طرح کے ایک بشر کی اطاعت کرو گے تو گھاٹے میں رہو گے ۔ ۳۵۔ کیا تم سے وہ یہ وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی اور ہڈیوں میں تبدیل ہو جاوٴگے تو دوبارہ تم قبروں سے نکلوں گے ۳۶۔ بہت بعید اور بہت بعید ہیں وہ وعدے کہ جو تم سے کئے جارہے ہیں ۔ ۳۷۔ زندگی یہی دُنیا ہی کی ہے، برابر یہ ہوتا چلا آیا ہے کہ کچھ لوگ مرجاتے ہیں اور دوسرے دن کی جگہ لے لیتے ہیں، ہم ہرگز دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے ۔ ۳۸۔ یہ محض ایک جھوٹا شخص ہے جس نے الله پر بہتان باندھا ہے، ہم اس پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے ۔ ۳۹۔اس نے عرض کیا! اے پالنے والے ان کی طرف سے جھٹلانے کے خلاف میری مدد فرما ۔ ۴۰۔ الله نے فرمایا: بہت جلد وہ اپنے کئے پر پچھتائیں گے، مگر اس وقت جب کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ ۴۱۔ پس بجا طور پر آسمانی بجلی نے انھیں آلیا اور ہم نے انھیں سیلاب کے سامنے خش وخاشاک کی مانند کردیا، دُور ہو اے ظالم قوم! رحمت خدا سے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:31-41
۳۔ ”غثاء“ سے کیا مراد ہے
مذکورہ بالا آیت کے مطابق ”صیحہ آسمانی“ کی وجہ سے قومِ ثمود ”غثاء“ کی طرح ہوگئی ۔ ”غثاء“ کے لغوی معنیٰ ”بھوسے“ کے ہیں، جو سیلاب کے پانی کے اوپر انتہائی پراکندہ صورت میں نظر آتا ہے، اس جھاگ کو بھی ”غثاء“ کہتے ہیں جو پکّے ہوئے کھانے کی دیگ میں جوش کی صورت میں اوپر آجاتی ہے ۔ قوم ثمود کے بے جان لاشوں کو ”غثاء“ سے تشبیہ دینا اور در اصل ان کی نہایت کمزور شکستہ، منتشر اور ذلیل وپست کیفیت کو بیان کرنے کے لئے ہے ۔ کیونکہ سیل تندر کی طاقت وعظمت کے سامنے حقیر بھوسے کے تنکے کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے ۔ سیلاب کے وقت بھوسہ اپنے ارادے اور مرضی سے کوئی حرکت کرسکتا ہے اور نہ سیلاب کے بعد اس کا کوئی نام ونشان باقی رہتا ہے ۔ ”صیحہٴ آسمانی“ کے بارے میں اس تفسیر کی جلد ۹میں سورہٴ ہُود آیت نمبر۶۷ کی تفسیر کے ذیل میں ہم مفصّل بیان کرچکے ہیں ۔ البتہ یہ عذاب صرف قومِ ثمود پر ہی نازل نہیں ہوا، بلکہ بعض دوسری نافرمان قوموں پر بھی آیا ہے، جن کی تفصیل اپنے مقام پر بیان کردی گئی ہے ۔