وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ
Certainly We created man from an extract of clay.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:12
[Pooya/Ali Commentary 23:12] Refer to the commentary of al Hajj: 5. Aqa Mahdi Puya says: "Another creature" in verse 14 refers to the beginning of the human psyche in the new-born child.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:12-16
۳۔ ہڈیوں پر گوشت کا غلاف
زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں تفسیر ”فی ظلال القر آن“ کا موٴلف ایک مراحل سے گزر جاتا ہے تو اس کے تمام سیل ہڈیوں کے خلیوں میں تبدیل ہوتے ہیں اور اس کے بعد تدریجاً سائنسی معجزہ ہے جو ایسے مسئلہ کی نقاب کشائی کررہا ہے جو اس زمانے میں کسی کو معلوم ہی نہیں تھا، کیونکہ قرآن مجید یہ نہیں کہتا کہ ہم نے ”مضغہ“ کو ہڈی اور گوشت میں بدلا، بلکہ یہ کہتا ہے کہ ”مضغہ“ کو ہڈی بنایا، پھر اس پر گوشت کا غلاف چڑھایا، گویا واضح کررہا ہے کہ ”مضغہ“ پہلے ہڈی میں تبدیل ہوتا ہے اور اس کے بعد اس پر گوشت کی تہ چڑھتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:12-16
۲۔ رحم مادر میں انسان کی ارتقاء کا آخری مرحلہ
توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ زیرِ بحث آیت میں رحم میں انسان کی خلقت کے پانچ مراحل کا ذکر ”خلق“کے ساتھ کیا گیا ہے، مگر آخری مرحلے کو ”انشاء“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، ماہرین لغت کے بقول ”کسی چیز کو ایجاد کرنے کے ساتھ ساتھ اُسے پالنے کو“ کو انشاء کہتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آخری منزل تمام مراحل (نطفہ، علقہ، مضغہ ہدی اور گوشت کے غلاف) سے مکملطور پر مختلف ہے، یہ ایک اہم مرحلہ ہے کہ جس کے بارے میں قرآن مجید اجمالی طور پر صرف یہ کہہ رہا کہ پھر ہم نے ایک ایک نئی خلقت دی اور اس کے بعد فوراً پکار اُٹھتا ہے ”فَتَبَارَکَ اللهُ اٴَحْسَنُ الْخَالِقِینَ“ یہ کیسی منزل ہے کہ جو اس قدر اہمیت کی حامل ہے، یہ وہی مرحلہ ہے جب بے جان ”جنین“ زندگی سے ہم کنار ہوتا ہے، اس میں حرکت اور احساس پیدا ہوتا ہے، جنبش کرتا ہے، اسلامی روایات میں اس مرحلے کو ”نفخ روح“ (روح پھونکے جانے کا مرحلہ) کہتے ہیں، یہ وہ منزل ہے جہاں انسان ایک جست کے جماداتی اور نباتاتی زندگی سے حیواناتی اور اس سے بھی کہیں آگے انسانی زندگی میں قدم رکھتا ہے اور اس کا فاصلہ پہلے مراحل سے اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ ”ثُمَّ خَلَقْنَا“ کے الفاظ اس کا مفہوم ادا کرنے سے کوتاہ دامنی کی شکایت کرنے لگتے ہیں لہٰذا ”ثُمَّ اٴَنشَاٴْنَا“ فرماکر اس منزل کی رفعت کو واضح کیا گیا ہے ۔ یہ وہ منزل ہے جہاں انسان ایک مخصوص ساخت اور پرداخت کا حامل ہوکر عالم میں مختار حیثیت حاصل کرلیتا ہے جس بناء پر یہ الله کی خلافت کا اہل بنتا ہے اور جو امانت آسمان اور پہاڑ نہ اٹھاسکے تھے اس کا قرعہ اس کے نام نکلتا ہے ۔ واقعی یہ وہ مقام ہے جہاں ”عالم کبیر“ اپنی تمام تر وسعتوں اور رفعتوں کے ساتھ اس ”عالم صغیر“ میں سمودیا جاتا ہے اور حقیقی معنی میں (فَتَبَارَکَ اللهُ اٴَحْسَنُ الْخَالِقِینَ) کا شاہکار قرار پاتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:12-16
۴۔ ہڈیوں کا پائدار اور محافظ غلاف
در اصل عضلات اور گوشت کو ہڈیوں کے لباس سے تعبیر کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ اگر ہڈیوں کے اُوپر یہ لباس نہ ہوتا تو انسان کا جسم نہایت کریہہ المنظر اور بدصورت دکھائی دیتا ۔ (بالکل ان انسانی سانچوں کی طرح جو اگرچہ ہم نے دیکھے نہیں، البتہ ان کی تصاویر ضرور دیکھی ہیں) ۔ قطع نظر اس کے کہ لباس انسان کے جسم کی حفاظت کرتا ہے ۔ گوشت پوست اور عضلات بھی ہڈیوں کی حفاظت کرتے ہیں، اگر ہڈیوں پر یہ موٹا غلاف نہ ہوتا تو جسم پر لگنے والی ہر چوٹ ہڈیوں کو براہِ راست نقصان پہنچاتی اور انھیں توڑ دیتی ۔ جس طرح لباس انسان کے جسم کی سردی یا گرمی سے حفاظت کرتا ہے ۔ اسی طرح گوشت ہڈیوں کی حفاظت کرتا ہے ۔ جو انسانی جسم کا اصل ڈھانچہ ہیں ۔ ان تمام امور کا واضح بیان قرآن مجید کے علوم کی گہرائی کی روشن علامت ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:12-16
سوره مؤمنون / آیه 12 - 16
۱۲ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِینٍ ۱۳ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَةً فِی قَرَارٍ مَکِینٍ ۱۴ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ اٴَنشَاٴْنَاہُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَکَ اللهُ اٴَحْسَنُ الْخَالِقِینَ ۱۵ ثُمَّ إِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُونَ ۱۶ ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ تُبْعَثُونَ ترجمہ ۱۲۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا ۔ ۱۳۔ پھر ہم نے اسے نطفے کی صورت میں ایک اطمینان بخش جگہ (رحم) میں رکھا ۔ ۱۴۔ پھر نطفے کو علقہ (جمے ہوئے خون) کی صورت میں دی اور علقہ کو مضغہ (گوشت کے لوتھڑے کی سی چیز) کی شکل بخشی اور پھر ہم نے اس لوتھڑے کو ہڈیوں کی شکل دی ۔ پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ۔ اس کے بعد ہم نے اس کو ایک نئی صورت میں پیدا کیا ۔ وہ خدا عظیم ہے، جو خلق کرنے والوں میں سے سب سے بہتر ہے ۔ ۱۵۔ اس کے بعد تمھیں مرنا ہے ۔ ۱۶۔ پھر روز قیامت دوبارہ اُٹھائے جاوٴگے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:12-16
رحم مارد میں ”جنین“ کے ارتقائی مراحل
گذشتہ آیتوں میں سچّے مومنین کے اوصاف اور ان کی بہترین اُخروی اجزاء کا ذکراور ا کی صفوں میں شامل ہونے کے شوق کو اجاگر کیا گیا ہے، لیکن کیونکر اور کس طریقے سے؟ زیرِ بحث اور اس کے بعد آنے والی آیتوں کا ایک حصّہ ایمان اور معرفت کے حصول کے بنیادی طریقوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے، پہلے انسان کے باطنی اور اندرونی اسرار ورموز کی طرتوجہ دلائی گئی ہے ۔ اس مقام پر قرآن درحقیقت انسانِ النفس کی سیر کرواتا ہے اور اس کے بعد آنے والی آیتوں میں انسان کی توجہ خارجی کائنات کے حیرت انگیز وجود کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور یہ در اصل سیرآفاقی ہے، سب سے پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا(وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِینٍ) (1)۔ بیشک یہ انسان کی خلقت کی پہلی منزل ہے، وہ انسان جو بے پناہ قابلیتوں اور صلاحیتوں کا مالک ہے، اتنی رفعت کا حامل ہے کہ ”افضل مخلوقات اور افضل موجودات اس کا طُرّہ ہے ۔ اس بے قیمت مٹی سے بنا ہے، وہ مٹی جو بے اہمیت ہونے میں ضرب المثل ہے، یہی تو الله کی قدرت کا کمال ہے کہ اس نے حقیر سے مادے سے ”رفیع شاہکار“ بنایا ۔ ا س کے بعد ارشاد ہوتا ہے: پھر ہم نے اسے پُرامن جگہ پر بطور نطفہ ٹھہرایا (ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَةً فِی قَرَارٍ مَکِینٍ) دراصل پہلی آیت مجموعی طور پر تمام انسانوں کی خلقت کی ابتداء کی طرف اشارہ کررہی ہے، اس میں آدم بھی شامل ہیں اور اس کی اولاد بھی اور یہ بتارہی ہے کہ سب مٹی اور گارے سے پیدا کئے گئے ہیں، دوسری آیت میں دوام اور افزائشِ نسل آدم کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ رحم مادر میں نر ومادہ کا نطفہ کس طرح ترکیب پاتا ہے ۔ درحقیقت یہ بحث سورہٴ سجدہ آیت۷ اور ۸ میں بیان شدہ مطلب کے مشابہ ہے اور وہ یہ ہے: <وَبَدَاٴَ خَلْقَ الْإِنسَانِ مِنْ طِینٍ، ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہُ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَھِینٍ ”انسانی کی ابتداء گارے سے ہوئی، پھر اس کی نسل ایک ٹپکنے والے حقیر پانی کے ذریعے باقی رکھی گئی“۔ رحم مارد کو قرار مکین پر اُمن قیام گاہ کہہ کر انسانی جسم میں اس کی خاصی حیثیت اور مقام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ رحم مادر، انسانی جسم میں ایک محفوظ ترین مقام پر واقع ہے، ایک طرف سے ریڑھ کی ہڈی کا مضبوط ستون ہے دوسری طرف پیندے کی کمر کی مضبوط ہڈیاں، تیسری طرف سے پیٹ کے تہہ تہہ پردے اور چوتھے طرف بازوٴں کی حفاظت یہ سب اس پُرامن قیام گاہ کے واضح مظاہر ہیں، اس کے بعد رحم مارد میں نطفے کے تعجب انگیز اور ہوس رُبا مختلف مراحل اور خلقت کی مختلف صورتیں جو انسان کی رسترس سے باہر یکے بعد دیگرے اس پُرامن قیامگاہ میں وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: پھر ہم نطفے کو جمے ہوئے خون کی شکل میں لے آئے، پھر جمے ہوئے خون کو چبائے ہوئے گوشت کی صورت میں تبدیل کردیا گیا، پھر اس کو ہڈی کی شکل دی اور پھر ہڈیوں پر گوشت کہ تہہ چڑھادی (ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا) ۔ نطفے کے مرحلے سمیت مذکورہ بالا پہنچ مختلف مراحل تشکیل پاتے ہیں، جن میں کا ہرایک بجائے خود ایک حیرت انگیز عالم ہے، جو عجائبات کا مجموعہ ہے اور آج کے ترقی یافتہ دور میں جنین شناس جس پر گہری تحقیق کرر ہے ہیں، بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن جس زمانے میں قرآن مجید نے ”انسانی جنین“ کی خلقت کے عجوبے کا انکشاف کیا تھا ۔ اس وقت اس سائنسی ترقی کا نام ونشان تک نہ تھا ۔ آیت کے آخری حصّے میں واقعی اہم ترین مرحلے کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے، یہ مرحلہ بلاشبہ سربستہ اورمعنی خیز ہے، پھر ہم نے اس میں ایک نئی خلقت پیدا کردی (ثُمَّ اٴَنشَاٴْنَاہُ خَلْقًا) ۔ وہ خدا جو خلق کرنے والوں میں سے بہترین ہے وہ بہت عظیم ہے (آخَرَ فَتَبَارَکَ اللهُ اٴَحْسَنُ الْخَالِقِینَ) ۔ بیشک، رحم مادر میں تاریکی کے پردوں کے اندر حقیر پانی کے قطرے سے اتنی عمدہ خوبصورت اور عجیب وغریب کمالات کی حامل تصویر بنانے کا بے مثال کمال لائق تحسین وآفرین ہے، اس حقیر سے موجود میں اتنی قابلیتیں اور صلاحتیں بھر دینے والا علم وحکمت کا حامل لائق ستائش وتحسین ہے ۔ آفرین اس پر اس کی بے نظیر خلقت پر ۔ ضمنی طور پر یہ بھی بیان ہوجائے کہ ”خالق“ مادہ ”خلق“ ہے اور اس کا مطلب ماپنا اور پیمایش کرنا ہے، عرب جب چمڑے کو کاٹنے کے لئے ماپتے ہیں تو اس کے لئے ”خلق“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ خلقت میں چونکہ پیمائش اور ناپ تول کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے، لہٰذا اس پر بھی ”خلق“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ ”اٴَحْسَنُ الْخَالِقِینَ“اضافت کی یہ ترکیب ذہنوں میں ایک سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا الله کے علاوہ کوئی دوسرا خالق بھی ہے ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی طرح طرح سے توجیہہ کی ہے، حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں اور لفظ ”خلق“ غیر الله کی ایجاد، اختراع اور صنعت کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے، البتہ الله کسی چیز کو خلق کرنا اور مخلوق کا خلق کرنا ان میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔ الله کسی چیز کو خلق کرتے ہوئے اس کے اصل مادہ اور شکل وصورت دونوں کو خلق کرتا ہے، جبکہ انسان کسی چیز کو ایجاد کرتا ہے تو پہلے سے موجود مواد کو استعمال کرکے نئی شکل دیتا ہے مثلاً تعمیراتی مواد (ریت، مٹی، پتھر) سے عمارتیں اور لوہے اور دیگر دھاتوں سے کاریں، بسیں یا مشینیں بنالیتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ الله کی خلقت اور پیدا کرنا، لامتناہی وغیر محدود ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت کاملہ رکھتا ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ۔ <اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ(رعد/۱۶) جبکہ انسان بہت سے محدود پیمانے پر ایجادات کرسکتا ہے، اس پر مستزاد یہ کہ انسان کی ایجادات میں کئی نقائص پائے جاتے ہیں اور چاہیے کہ مسلسل عمل کرتے ہوئے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے، مگر الله کی مخلوق ہر قسم کے عیوب ونقائص سے مبرّا ہے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر انسان یہ قابلیت رکھتا ہے تو یہ الله کی مرضی سے ہی ہے، کیونکہ اس کی اجازت کے بغیر تو درخت کا پتہ بھی حرکت نہیں کرسکتا، جیسا کہ سورہٴ مائدہ کی آیت ۱۱۰ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہورہا ہے: <إِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّینِ کَھَیْئَةِ الطَّیْرِ بِإِذْنِی ”جب تم میری اجازت سے گیلی مٹی سے پرندے کی طرح کی ایک شکل بناتے تھے“۔ بعد کی آیت توحید اور مبداء کے بارے میں بات کرتے ہوئے بڑی خوبصورتی لطافت اور سلیقے سے مسئلے کا رُخ معاد اور قیامت کی طرف موڑ دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ان تمام عجیب وغریب خوبیوں اور صلاحیتوں کے باوصف انسان ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا بلکہ ایک وقت آئے گا کہ یہ عجیب عمارت زمین بوس ہوجائے گی اور پھر تم اس زندگی کے بعد سب کے سب مرجائیں گے (ثُمَّ إِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُونَ) ۔ لیکن اس تصور کی نفی کے لئے انسان کے مرنے سے تمام چیزیں ختم ہوجائیں گی، چند روزہ عظمت وشوکت کس کام کی، بس یہ ایک فضول کھیل ہے، (فوراً یہ کہا جاتا ہے: پھر تم روزِ قیامت، اُٹھائے جاوٴگے)دوبارہ تمھیں زندگی دی جائے گ۔ البتہ اعلیٰ درجہ کی اور وسیع تر جہان میں ہوگی (ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ تُبْعَثُونَ) ۔ 1۔ ”سلاسة“ (بروزن ”عصارة“ اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے لی جائے اور درحقیقت اس کا نچوڑ اور جوہر ہو ۔ (تفسیر مجمع البیان).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:12-16
۱۔ ایک دلیل سے مبداء اور معاد کا اثبات
توجہ طلب بات یہ ہے کہ ”عالمِ جنین میں خلقت انسان کے مختلف مراحل کو زیرِ بحث آیت میں الله کی قدرت کاملہ اور بے مثال کمال کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے سورہٴ حج میں اسی مسئلے کو انسان کی بازگشت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اس پر مستزاد یہ کہ زیرِ بحث آیت میں بھی اس مسئلے کی بنیاد پر معاد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے (1)۔ جی ہاں! پنہاں رحم میں انسانی خلقت کے عجائبات ہر روز نیا رخ اختیار کرتے ہیں، اس عظمتِ الٰہی کو پہچاننا چاہئے ۔ گویا ماہر مصوروں ، کاریگروں اور دیگر تخلیق کاروں کا ایک گروہے، جو پانی کے ایک قطرے کے پاس بیٹھا اور شب وروز اس پر کام کررہا ہے اور اس قطرہٴ ناچیز کو بڑی باریکی سے اور انتہائی لطیف انداز سے زندگی کے مختلف مراحل سے گزر رہا ہے ۔ جنین کے رشد اور شنو ونما کے مختلف مراحل کی ایک مکمل اور صحیح فلم بن سکتی ہے اور ہم اسے دیکھ سکتے تو سمجھتے کہ کیسے عجائب اور غرائب اور کیسی عمدہ کارگری اس میں پنہاں ہے ۔ تا ہم عصر حاضر میں جنین شناسی کے بارے میں بہت پیش رفت ہوئی ہے، ماہرین کی روز افزوں تحقیقات اور تجربات نے اس سلسلے میں بہت سے مسائل واضح کردیے ہیں، انسان کی نگاہ جن ان تحقیقات کے نتائج پر پڑتی ہے تو بے اختیار ”فَتَبَارَکَ اللهُ اٴَحْسَنُ الْخَالِقِینَ“ کا نغمہ اس کی زبان پر جاری ہوجاتا ہے ۔ دوسری طرف ہر روز نیا روپ اختیار کرلینے والی پے درپے تخلیقات اور پھر خصوصاً پانی کے ایک چھوٹے سے قطرے سے ایک مکمل انسان کی پیدائش اس امر کی غماز ہے کہ الله معاد اور انسان کو حیاتِ نو عطا کرنے پر قادر ہے ۔ اس طرح سے ایک دلیل سے دو مقصد پورے ہوتے ہیں اور ایک کرشمے سے دو کام انجام پاتے ہیں (2) ۔ 1۔ سورہٴ حج کی ابتداء میں آیت ۵تا۷ کے ذ یل میں ہم نے جنین شناسی کے حوالے سے معاد پر گفتگو کی ہے ۔ (اسی چودھویں جلد کے آغاز کی طرف رجوع کیجئے) ۔ 2 ۔ مراحل جنین اور شاہکار تخلیق کے بارے میں تفسیر نمونہ کی دوسری جلد میں ہم نے سورہٴ آل عمران کی چھٹی آیت کے ذیل میں بھی بحث کی ہے ۔