أَلَمْ تَكُنْ آيَاتِي تُتْلَى عَلَيْكُمْ فَكُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
‘Was it not that My signs were recited to you but you would deny them?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:105
[Pooya/Ali Commentary 23:105]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:105-111
سوره مؤمنون / آیه 105 - 111
۱۰۵ اٴَلَمْ تَکُنْ آیَاتِی تُتْلَی عَلَیْکُمْ فَکُنتُمْ بِھَا تُکَذِّبُونَ ۱۰۶ قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَالِّینَ ۱۰۷ رَبَّنَا اٴَخْرِجْنَا مِنْھَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ ۱۰۸ قَالَ اخْسَئُوا فِیھَا وَلَاتُکَلِّمُونِی ۱۰۹ إِنَّہُ کَانَ فَرِیقٌ مِنْ عِبَادِی یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاٴَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِینَ ۱۱۰ فَاتَّخَذْتُمُوھُمْ سِخْرِیًّا حَتَّی اٴَنسَوْکُمْ ذِکْرِی وَکُنتُمْ مِنْھُمْ تَضْحَکُونَ ۱۱۱ إِنِّی جَزَیْتُھُمَ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوا اٴَنَّھُمْ ھُمَ الْفَائِزُونَ ترجمہ ۱۰۵۔ کیا میری آیتیں تمھارے سامنے نہ پڑھی جاتی تھیں جبکہ تم ان کی تکذیب کرتے تھے ۔ ۱۰۶۔ وہ کہیں گے: پروردگارا! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ لوگ تھے ۔ ۱۰۷۔ پروردگارا! ہمیں اس سے باہر لے جا، اگر پھر ہم نے ایسا کیا تو یقیناً ہم ظالم ہوں گے (اور عذاب کے مستحق ہوں گے) ۔ ۱۰۸۔ (الله) کہے گا: دُور ہوجاوٴ جہنم میں اور مجھ سے بات نہ کرو ۔ ۱۰۹۔ (بھول گئے ہو) میرے بندوں میں سے ایک گروہ تھا کہ جو کہا کرتا تھا! اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ہیں ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے ۔ ۱۱۰۔ لیکن تم نے ان کا مذاق اڑایا یہاں تک کہ تم میری یاد سے غافل ہوگئے اور تم ان پر ہنستے تھے ۔ ۱۱۱۔ مگر آج میں تے تمھیں ان کے صبر واستقامت کی بناء پر جزاء دی ہے اور وہ کامیاب ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:105-111
مجھ سے بات نہ کرو
گذشتہ آیات میں اہل جہنم کی سخت سزا کے بارے میں بات کی گئی تھی ، زیرِ بحث آیات میں ان سے پروردگار کی کچھ گفتگو بیان کی گئی ہے ۔ الله تعالیٰ عتاب آمیز لہجے میں ان سے کہتا ہے: کیا میری آیات تمھارے سامنے پڑھی نہیں جاتی تھیں، جبکہ تم ان کی تکذیب کرتے تھے (اٴَلَمْ تَکُنْ آیَاتِی تُتْلَی عَلَیْکُمْ فَکُنتُمْ بِھَا تُکَذِّبُونَ)(1) ۔ کیا میں نے کافی واضح آیات اور دلائل اپنے پیغمبروں کے ذریعے تمھارے لئے نہ بھیجے تھے، کیا میں نے تم پر حجت تمام نہ کردی تھی، لیکن تم نے ہمیشہ انکار اور تکذیب کی راہ اپنائی ۔ ”تتلیٰ“ اور ”تکذبون“ دونوں فعل مضارع ہیں اور تسلسل پر دلالت کرتے ہیں، ان الفاظ سے خاص طور پر واضح ہوتا ہے کہ پیہم ان کے سامنے آیاتِ الٰہی کی تلاوت ہوتی اور وہ مسلسل ان کی تکذیب کرتے رہے ۔ اس سوال کے جواب میں وہ اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں: جی ہاں! ایسا ہی ہے اے ہمارے پروردگار! لیکن ہماری بدبختی پر غالب آئی اور اور ہم گمراہ لوگ تھے (قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَالِّینَ) ۔ ”شقوة“ اور ”شقاوة“ ”سعادة“ کی ضد ہے اور ابتلا، سزا ومصیبت کے اسباب فراہم ہونے کے معنی میں ہے، دوسرے لفظوں میں انسان کو دامنگیر ہونے والی آفت اور مصیبت کو ”شقاوة“کہتے ہیں، جبکہ ”سعادت“ نعمت اور نیکی کے اسباب فراہم ہونے کے معنی میں ہے، بہرحال شقاوت اور سعادت دونوں ہی اعمال، نیتوں اور گفتار کے نتیجے کے علاوہ کچھ نہیں اور یہ عقیدہ ایک تصور کے سوا کچھ نہیں کہ خوش بختی وبدبختی انسان کے ساتھ ہی پیدا ہوتی ہے، یہ عقیدہ تمام نبیوں، راہنماوٴں اور انسانیت کے معلّموں کی دعوت اور مساعی کے خلاف کے، یہ عقیدہ ذمہ داریوں سے فرار کا دوسرا نام ہے، یہ تصور درحقیقت غلط کاموں اور تباہ کاریوں کی توجیہ کے لئے بنایا گیا ہے، یہ جہالت کی توجیہ کے لئے گھڑا گیا ہے ۔ اسی بنیاد پر دوزخی گناہگار صراحت کے ساتھ اعتراف کرتے ہیں کہ خدا طرف سے اتمام حجت ہوگیا تھا لیکن ہم نے اپنے ہاتھوں اپنی بدبختی کے وسائل فراہم کئے اور ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم گمراہ لوگ تھے ۔ شاید یہ اعتراف کرکے وہ الله کی رحمت حاصل کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا ساتھ ہی کہتے ہیں: ”پروردگارا! ہمیں اس آگ سے باہر نکال“ اور پھر دنیا کی طرف بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل انجام دے سکیں (رَبَّنَا اٴَخْرِجْنَا مِنْھَا) ۔ اگر ہم وہی پہلے سے طرزِ عمل کا مظاہرہ کریں تو پھر ہم یقیناث ظالم ہوں گے اور تیری بخشش کے لائق نہیں ہوں گے (فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ) ۔ یہ گفتگو ایسے کریں گے کہ گویا وہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ دارِ آخرت دارِ جزاء ہے نہ کہ دارِ عمل اور دنیا کی طرف لوٹ کر جانا ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ الله تعالیٰ انھیں پوری قاطعیت سے جواب دیتا ہے: دور ہوجاوٴ، یونہی جہنم میں رہو، چپ رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو (قَالَ اخْسَئُوا فِیھَا وَلَاتُکَلِّمُونِی) ۔ ”اخْسَئُوا“ فعل امر ہے، عام طور پر یہ لفظ کتّے کو دھتکارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اگر انسان کے لئے استعمال ہو تو اس کی پستی اور سزا کے مستحق ہونے کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس کے بعد اس دھتکارنے کی دلیل بیان کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: کیا تم بھول گئے ہو کہ میرے کچھ خاص بندے کہتے تھے: پروردگارا! ہم ایمان لائے ہیں، ہمیں بخش دے، ہم پر رحم کر اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے (إِنَّہُ کَانَ فَرِیقٌ مِنْ عِبَادِی یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاٴَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِینَ( لیکن تم نے ان کا مذاق اڑایا اور اس معاملے میں اتنی ہٹ دھرمی کی کہ اس تمسخر بازی نے تمھیں یادِ خدا سے بالکل غافل کردیا (فَاتَّخَذْتُمُوھُمْ سِخْرِیًّا حَتَّی اٴَنسَوْکُمْ ذِکْرِی) ۔ تم مسلسل ان پر ہنستے رہے اور ان کی باتوں، ان کے عقائد اور ان کے طرزِ عمل پر مسکراتے رہے (وَکُنتُمْ مِنْھُمْ تَضْحَکُونَ( لیکن آج، ان کے صبر استقامت کے باعث تمھارے تمسخر کے مقابلے میں پامردی کی وجہ سے اور الٰہی پروگراموں پر بغیر ڈگمگائے قائم رہنے کے سبب ہم نے انھیں جزا دی ہے اور وہ کامیاب وکامران ہیں (إِنِّی جَزَیْتُھُمَ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوا اٴَنَّھُمْ ھُمَ الْفَائِزُونَ( لیکن تم تو آج بدترین انجام اور دردناک ترین عذاب میں گرفتار ہو اور کوئی تمھاری فریاد کو نہیں پہنچتا اور ایسا ہی ہونا بھی چاہیے تھا، کیونکہ تم اسی سزا کے مستحق ہو ۔ گویا ان آخری چار آیتوں میں اہلِ جہنم کی بدبختی کا اور اہلِ بہشت کی کامیابی کی اصل وجہ صراحت سے یان کردی گئی ہے، پہلا گروہ ان کا لوگوں کا ہے کہ جنھوں نے اپنی بدبختی اور گمراہی کے اسباب اپنے ہاتھوں فراہم کیے ہیں، یہ لوگ حق کے طرفداروں کا مذاق اڑاتے تھے اور ان کے پاکیزہ عقائد کی تحقیر کرتے تھے، لہٰذا اس انجام کو پہنچے ہیں کہ وہ اس خطاب کے بھی لائق نہیں کہ جو ایک انسان کو کیا جاتا ہے، جی ہاں! انھوں نے مومنین کی تحقیر کی تھی، لہٰذا انھیں تحقیر وتذلیل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ جبکہ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے، جنھوں نے مغرور، خود پسند اور بے منطق دشمنوں کے مقابلے میں راہِ خدا میں مسلسل پامردی، صبرا ور استقامت کا مظاہرہ کیا لہٰذا انھوں نے بارگاہِ الٰہی میں سب سے بڑی کامیابی حاصل کرلی ۔ ۱۔ اس جملے میں درحقیقت کچھ الفاظ محذوف اور تقدیر ہیں، یہ جملہ یوں تھا (یقول الله تعالیٰ الم تکن.....).