قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ
Certainly, the faithful have attained salvation
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:1
[Pooya/Ali Commentary 23:1] In verse 5 of al Baqarah also it is said that as the believers achieve their aim in this world by following the true guidance, their success is certain and lasting in the world to come. There is no word in Arabic language more comprehensive than al falah in connotating what is good in the life of this world and in the life of the hereafter.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 23:1-22
This paragraph gives attributes of these faithful who are destined for one of the highest grades of Paradise viz, Firdaus which will lead them to be inheritors of Paradise of those condemned to hell (virtues of latter being transferred to the former). The attributes of these are fully described in nine couplets. God again describes His further obligations to man, being created from earth, right up to a wholesome figure, energized with pure soul to keep him fit for securing paradise by guarding virtues and avoiding vices, as per precepts of Divine Lights. He further points out sources of worldly provisions He made by rain growing food for self and animals, whose flesh and skin further contribute to his comfort and call for further acknowledgement oof Divine Gratitude.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:1-11
۲۔ دائمی اور کم مدتی شریکِ حیات
مذکورہ بالا آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں مردوں پر دو طرح سے حلال ہیں: ۱۔بیوی کی صورت میں ۲۔کنیز اور لونڈی کی صورت میں (خاص شرائط کے ساتھ) اس لئے یہ آیت فقہی کتاب میں ”باب نکاح“میں کئی مباحث کے لئے مستند قرار پائی ہے ۔ بعض اہل سنّت مفسرین نے کوشش کی ہے کہ اس آیت کو نکاح موقت کی نفی اور اسے زنا ہی کے ذیل میں ثابت کرنے کے لئے سند کے طور پر پیش کریں ۔ یہ حقیقت ہے کہ نکاح موقت متعہ مسلّمہ طور پر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے زمانے میں رائج تھا، بعض کہتے ہیں کہ آغاز اسلام میں بہت سے صحابہۻ نے اس پر عمل کیا تھا، اور کوئی مسلمان اس کی صحت سے انکار نہیں کرتا، زیادہ سے زیادہ اس میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں رائج تھا، مگر بعد میں منسوخ کردیا گیا، بعض کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے اسے حرام قرار دیا ۔ اس مسلّمہ حقیقت کے پیش نظر مذکورہ اہلِ سنّت کے نظرئیے کا یہ مفہوم سمجھا جائے گا (العیاذ بالله) پیغمبر اکرم صلی الله عیہ وآلہ وسلّم نے زنا کو جائز جانا (چاہے تھوڑی سی مدّت کے لئے یہی سہی)مگر یہ ناممکنات میں سے ہے کہ بہرحال اس بحث سے قطعِ نظر غور کیجئے کہ حقیقت یہ ہے کہ ”متعہ“ بھی نکاح کا ایک طریقہ ہے اور اس کی اکثر شرائط وہی ہیں جو دائمی شادی کی ہیں اس لئے یہ بھی (الّا علیٰ ازواجھم) کے جملے میں شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ ”کچھ مدتی شادی“ کا صیغہٴ نکاح پڑھتے ہوئے وہی الفاظ اور صیغے ”انکحتُ“ ”زوجّتُ“ کی قید کے ساتھ استعمال کئے جاتے ہیں اور یہی اس کی حلّت اور جواز کی بہترین دلیل ہے ۔ اسی تفسیر کی جلد۳ میں سورہٴ نساء آیت ۲۴ کی تفسیر کے ذیل میں ہم نکاح موقت اسلام میں اس کا شرعی اس کا منسوخ نہ ہونا اور اس کا اجتماعی فلسفہ وغیرہ جیسے مسائل پر سیر کامل بحث کرچکے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:1-11
مومنین کے نمایاں اوصاف
پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ اس سورہ کا نام اس کی ابتدائی آتیوں کی وجہ سے ہے، جو مومنین کی خصوصیات پُرمغز اور بامعنی چھوٹے چھوٹے جملوں میں بیان کرتی ہیں ۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ مومنین کے اوصاف کے بیان سے پہلے ان کی پُرکیفیت اور مایہٴ ناز زندگی پر ورشنی ڈالی گئی ہے، تاکہ دلوں میں اس بلند وبالا مرتبے کو حاصل کرنے کا ذوق وشوق پیدا ہو، سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: مومنین کامیاب ہوگئے اور ہر لحاظ سے اپنے مقصد کو پاگئے (قَدْ اٴَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ) ۔ ”اٴَفْلَحَ“ ”فلح“ اور ”فلاح“ سے ہے، اس کے اصلی معنیٰ چیرنا اور پھیڑنا ہیں، اس کے علاوہ ہمہ جہت کامیابی حاصل کرنا مقصد کو پالینا اور خوش نصیب ہونا بھی اس مفہوم میں شامل ہے، دراصل جتنے افراد کامیاب نجات یافتہ اور خوش بخت ہوتے ہیں، وہ ہرقسم کی رکاوٹوں کو چیر کر ہی اپنی منزل کامیابی کی راستہ بناتے ہیں ۔ البتہ فلاح اور کامیابی مادی اور معنوی دونوں پہلووٴں پر محیط ہے اور مومنین کے لئے دونوں جہات مراد ہیں ۔ دنیاوی کامرانی و کامیابی یہ ہے کہ انسان آزاد، سربلند، مستحکم اور بے نیاز ہے اور ایمان کے بغیر یہ مقام حاصل نہیں ہوا کرتا، اُخروی کامیابی یہ ہے کہ الله کے جوارِرحمت میں اچھے ساتھیوں اور ابدی نعمتوں میں باوقار اور سربلند رہے، راغب اپنی کتاب ”مفردات“ میں لکھتے ہیں: دنیاوی فلاح تین چیزوں میں مضمر ہے: ۱۔بقاء ۲۔بے نیازی ۳۔عزت ووقار اور فلاح اُخروی چار چیزوں میں ہے: ۱۔بقاء غیرفانی ۲۔ہرقسم کی احتیاج سے بے نیازی ۳۔ہمہ جہت وقار اور عزّت ۴۔ہر قسم کی جہالت سے نجات دینے والا علم۔ اس کے بعد مومنین کے اوصاف میں سب سے پہلے نماز کی طرف اشارہ کیا جارہاہے: وہ ایسے لوگ ہیں جو عالم نماز میں سراپا عجز وانکساری بنے ہوئے ہوتے ہیں (الَّذِینَ ھُمْ فِی صَلَاتِھِمْ خَاشِعُونَ) ۔ ”خَاشِعُونَ“ ”خشوع“ سے ہے، اس کا معنیٰ جسمانی اور ذہنی عجز وانکساری ہے، یہ لفظ اس حالت کو بیان کرتا ہے جو ایک بزرگ وبرتر کی موجودگی میں کسی شخص میں پیدا ہوتی ہے، اس کے اعضاء وجوارح سے ظاہر ہوتی ہے ۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید مومنین کے نماز پڑھنے کو اس کی علامت شمار نہیں کرتا بلکہ نماز میں عجز و انکساری کو ان کی خصوصیت قرار دیتا ہے، یعنی یہ واضح کرتا ہے کہ مومنین کی نماز بے معنیٰ اور بے روح حرکات وسکنات نہیں، بلکہ عالمِ نماز میں وہ پوری طرح الله کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، غیرالله سے مکمل طور پر منقطع ہوتے ہیں، اور صرف ذات پرودگار عالم سے رشتہ جوڑے ہوئے ہوتے ہیں، ایسے میں وہ ذہنی اور جسمی طور پر اپنے پالنے والے سے راز ونیاز کرتے ہوئے عالم استغراق میں کچھ اس طرح کھوجاتے ہیں، کہ ان کے بدن کے ہر ایک عضو پر اس کا اثر ہوتا ہے، وہ ذاتِ لامتناہی کے مقابلے میں اپنے کوایک ذرّہ اور بحرِ ناپیدا کنار کے مقابلے میں ایک قطرہ سمجھنے لگتے ہیں، نماز کے لمحات ان کے لئے تہذیب نفس اور تربیت روح کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں ۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے ایک شخص کو حالت نماز میں اپنی ڈاڑھی سے کھیلتے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”اٴَ مَا اٴنّہ لَو خَشَعَ قَلْبَہُ لَخَشَعَت جَوَارِحَہُ“. ”اگر اس کا دل حالت عجز میں ہوتا کہ اس کے اعضاء بھی ہوتے“۔ یہ روایت اس حقیقت پر روشنی ڈال رہی ہے کہ نماز میں خشوع، ایک باطنی کیفیت ہے جو ظاہر پر اثر انداز ہوتی ہے، عظیم ہادیانِ اسلام عالمِ نماز میں اس درجہ خضوع وخشوع میں ہوتے تھے کہ غیرالله سے بالکل بیگانہ ہوجاتے تھے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے کبھی پیغمبر اسلام حالتِ نماز میں آسمان کی طرف دیکھ لیا کرتے تھے، مگر اس آیت کے نزول کے بعد آپ ہمیشہ اپنی نظریں زمین کی طرف رکھتے تھے(1) ۔ عالمِ نماز میں عجز وانکساری کے ۔ذکر کے بعد مومنین کی دوسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہےے نیز وہ ہر قسم کی بیہودگی سے منھ موڑے ہوئے ہوتے ہیں (وَالَّذِینَ ھُمْ عَنْ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ) ۔ در اصل مومنین کی زندگی کی تمام حرکات وجہات، مقصد اور نصب العین کے حصول کے لئے ہیں اور مقصد بھی تعمیری اور مفید کیونکہ لغو کا مطلب بے مقصد یا وہ مقصد جس کا نتیجہ برآمد نہ ہو، بقول عظیم مفسروں کے لغو کے مندرجہ ذیل معانی ہیں: ۱۔باطل ۲۔گناہ ۳۔جھوٹ ۴۔گالی یا جوابی گالی ۵۔موسیقی اور گانا بجانا ۶۔شِرک مندرجہ بالا سب کے سب معانی مجموعی اور کلی معنیٰ کا حصّہ ہیں ۔ ”لغو“ میں صرف بیہودہ باتوں اور افعال کا مفہوم ہی نہیں پایا جاتا، بلکہ وہ بیہودہ باتیں یا وہ فضول قسم کے افعال جو انسان کو الله کی یاد سے غافل کردیں ۔ نیز معقول اور مفید امور پر غور وفکر کرنے کا موقع نہ دیں ۔ سب لغو کے مفہوم میں شامل ہیں ۔ درحقیقت مومنین ایسے تربیت یافتہ لوگ ہیں، جونہ صرف باطل افکار، بیہودہ گفتگو اور فضول کاموں میں سے مشغول نہیں ہوتے، بلکہ ان سے منھ موڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد مومنین کی تیسری صفت بیان کی گئی ہے جو معاشرتی اور مادی پہلو رکھتی ہے، ارشاد ہوتا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو زکوٰة دیتے ہیں (وَالَّذِینَ ھُمْ لِلزَّکَاةِ فَاعِلُونَ)(2). ہم بالا سطور میں بیان کر آئے ہیں کہ چونکہ یہ سورت مکّی ہے اور مکّہ میں عام زکوٰة کا حکم نہیں آیا تھا، لہٰذا مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ ۳۔ یہاں ”زکٰوة “ مصدری معنیٰ رکھتی ہے اسی لئے بعد میں ”فاعلون“ آیا ہے، مگر بعض مفسرین نے زکوٰة کے مشہور معنی ہی سمجھے ہیں، یعنی اپنے مال میں سے ایک معیّن مقدار، راہِ خدا میں خرچ کرنا، اس صورت میں ”فاعلون“یعنی ”موٴدون“ (ادا کرنے والا) ہوگا ۔ ہماری نظر میں صحیح بات یہ ہے کہ اس آیت میں زکوٰة کا حکم واجب زکوٰة کے لئے مخصوص نہیں ہے، بلکہ مستحبی زکاتیں شریعت اسلام میں بکثرت جس زکوٰة کا حکم مدینہ میں آیا وہ واجب تھی، لیکن، مستحبی زکوٰةکا حکم مدینہ سے پہلی ہی آچکا تھا ۔ بعض مفسرین کے بقول مکّہ میں بھی واجب زکٰوة کا حکم تھا مگر نصاب مقرر نہ تھا، مسلمان پابند تھے کہ اپنے مال میں سے کچھ مقدار محتاجوں اور ضرورتمندں کو دیں، جب مدینہ میں اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی گئی ”بیت المال“ تشکیل دیا گیا اور ایک مالی نظام کے طور پر ”زکات“ کا سلسلہ شروع کیا گیا جب نصاب مقرر ہواور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف سے ملک مختلف حصوں میں عمّال بھیجے گئے تاکہ حکومتی سطح پر زکات جمع کرسکیں ۔ البتہ فخر الدین رازی اور آلوسی جیسے مفسرین نے اور راغب نے اپنی کتاب ”مفردات“ میں لکھا ہے کہ اس آیت میں زکات سے مراد ہر قسم کا کارِخیر، تزکیہ اور تہذیب نفس ہے مگر ہماری نظر میں یہ بعید بات ہے، کیونکہ قرآن مجید کے اسلوب کے تحت جہاں بھی نماز اور زکات اکھٹے ذکر ہوئے ہیں وہاں زکات سے مراد مالی خرچ ہے، لہٰذا یہاں بھی زکات راہ خدا خرچ کرنے کے معنی میں ہے، اس کے علاوہ کوئی اور معنی کرنے کے لئے قرینے کی ضرورت ہے جو یہاں مفقود ہے ۔ مومنین کی چوتھی صفت پاکدامنی، عفّت اور ہرقسم کے غیر قانونی جنسی اختلاط سے پرہیز ہے ارشاد ہورہا ہے، وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنی شرمگاہ کو بے حیائی سے محفوظ رکھتے ہیں (وَالَّذِینَ ھُمْ لِفُرُوجِھِمْ حَافِظُونَ) (3) ۔ البتہ اپنی بیویوں، کنیزوں سے جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں اور ایسا کرنے میں وہ کسی طرح بھی قابل ملامت نہیں ہیں (إِلاَّ عَلیٰ اٴَزْوَاجِھِمْ اٴوْ مَا مَلَکَتْ اٴَیْمَانُھُمْ فَإِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُومِینَ) ۔ نفسانی خواہشات میں جنسی خواہش، بڑی طاقتور اور سرکش ہے، لہٰذا اس پر قابو پانے کے لئے قوی ایمان اور بلند درجے کے تقویٰ کی ضرورت ہے، اس نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے بعد کی آیت میں ارشاد ہورہا ہے: جو شخص (قانونی تلذذِ جنسی) کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرے، وہی حد سے تجاوز کرنے والا ہے (فَمَنْ ابْتَغَی وَرَاءَ ذٰلِکَ فَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْعَادُونَ) ۔ ”شرمگاہ کی حفاظت“ کی اصطلاح اس حقیقت کو آشکار کررہی ہے، اگر جنسی خواہش کو دبانے کے لئے نفس کی مسلسل اور برابر نگرانی نہ کی جائے تو جنسی بے راہ روی کا زبردست اندیشہ ہے ۔ ”بیویوں“ سے مراد دائمی اور وقتی دونوں ازدواج ہیں، البتہ بعض اہل سنّت مفسرین اس مسئلے میں ایک بڑی غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں، جس کا ذکر آگے آئے گا ۔ ”غیر ملومین“ (وہ قابل ملامت نہیں ہیں) کی اصطلاح شاید گمراہ عیسائیوں کے باطل افکار کی طرف اشارہ کررہی ہے، بعض عیسائی جو اصل مذہب عیسائیت سے منحرف ہوچکے ہیں، یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ ہر قسم کا جنسی اختلاط حرام ہے اور انسانی شرف کے منافی ہے اور اسے ترک کرنا انسان کی شان تصور کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان میں ”رومن کیتھولک“ فرقے کی عورتیں اور مرد تارک الدنیا ہوتے ہیں اور کنوارپن میں ہی زندگی بسر کرتے ہیں، اور شادی کو روحانی منصب کے خلاف تصور کرتے ہیں (اگرچہ درپردہ وہ جنسی تسکین کے کئی راستے اپناتے ہیں) عیسائی مصنفین نے خود اس عنوان سے جو کتابیں لکھی ہیں وہ پادریوں اور راہباوٴں کے جنسی اختلاط کے واقعات سے بھری پڑی ہیں (4) ۔ بہرحال یہ ناممکنات میں سے ہے کہ جو فطری میلان اور خواہش ایک بہترین نظام کے اہم جزو کے طور پر پیدا کیا جائے اور پھر اس کی تسکین کو حرام سمجھا جائے یا اسے انسانی شرف کے منافی سمجھا جائے ۔ یہ بتانے کی چندان ضرورت نہیں ہے کہ بیوی کی علت کے سلسلے میں بعض استثنائی مواقع پر قربت سے ممانعت مثلاً ان کے ماہانہ مخصوص ایّام میں اصل مسئلہ سے کوئی تضاد نہیں رکھتا، کنیزوں کے حلال ہونے کے مسئلے میں بھی بعض شرائط عائد کی گئی ہیں، جن کا ذکر فقہی کتابوں میں موجود ہے، یُوں نہیں ہر کنیز ہر مالک پر ہر حالت میں حلال ہو ۔ بہت سے پہلووٴں اور حالات کے اعتبار سے کنیزوں کی شرائط بیویوں کی شرائط سے ملتی جلتی ہیں ۔ زیرِ بحث آٹھویں آیت میں مومنین کی پانچویں اور چھٹی صفت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جو امانتیں لوٹاتے ہیں اور وعدہ وفا کرتے ہیں (وَالَّذِینَ ھُمْ لِاٴَمَانَاتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُونَ) ۔ امانتوں کی حفاظت اور ان کا صحیح وسالم مالک کو لوٹانا اپنے وسیع تر مفہوم میں مومنین کی نمایاں صفت ہے اور اس طرح خالق ومخلوق سے کئے گئے وعدوں کو نبھانا بھی امانت کے وسیع تر مفہوم میں الله اور انبیاءعلیہ السلام کی امانتیں بھی شامل ہیں، اسی طرح لوگوں کی امانتیں بھی اس میں آتی ہیں ۔ الله کی انگنت نعمتوں میں سے ہر ایک اس کی امانت ہے، دین، قانون الٰہی، آسمانی کتابوں، دینی راہنماوٴں کی ہدایات سب کی سب امانتیں ہیں ۔ اور اس طرح اولاد، مال منصب اور مقام بھی مومنین ساری زندگی ان امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کی ادائیگی کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور دنیا سے جاتے ہوئے اپنی شریف النفس نسل جسے انھوںنے ان کی حفاظت کے لئے تربیت کیا ہوتا ہے کے سپرد کردیتے ہیں ۔ لفظ ”امانت“ کی عمومیت کی دلیل لفظ وسعت اور اطلاق کے علاوہ، امانت کے مفہوم کے بارے میں متعدد روایات بھی ہیں، جو امانت کی تفسیر بیان ہوئی ہیں ۔ کبھی امانت سے مراد آئمہ معصومین علیہم السلام کی امانت ہے جیسے ایک امام دُنیا سے جاتے ہوئے اپنے بعد کے امام کے سپرد کرتا ہے ۔ (5) اور کبھی مطلقاً ”ولایت وحکومت“۔ امام باقر اور امام صادق علیہما السلام کے متعمد علیہ شاگرد جناب زرارہ سورہٴ نساء آیت نمبر۵۸ <اٴَنْ تُؤَدُّوا الْاٴَمَانَاتِ إِلیٰ اٴَھْلِھَاکی تفسیر کے ذیل میں فرماتے ہیں: یہاں امانت سے مراد حکومت وولایت ہے، جس کو اس کے اہل کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے (6)۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت وولایت اہم ترین امانت ہے، جسے اس کے اہل کے سپرد کرنا کرنا چاہیے، اسی طرح عہد وپیمان نبھانے کے لئے عمومی دلیل بھی قرآن مجید کی دیگر آیات میں بیان کی گئی ہیں، منجملہ فرمایا گیا ہے: <وَاٴَوْفُوا بِعَھْدِ اللهِ إِذَا عَاھَدْتُمْ(نحل/۹۱) ”جب تم الله سے کوئی وعدہ کرو تو وفا کرو“۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ بعض آیتوں میں امانت کی ادائیگی یا امانت میں خیانت نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ جبکہ زیرِ بحث آیت میں صرف ”امانت“ کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جو امانت کی مکمل حفاظت نگرانی اور صحیح ادائیگی دونوں پر محیط ہے، اس بناء پر اگر کبھی کسی امانت کے ضمن میں اس چیز کی اصلاح میں کوتاہی کی وجہ سے نقصان کا ڈر ہو تو امانت دار کی یہ ذمہ داری بھی ہوگی کہ مطلوبہ اصلاح بھی کرے تو یوں امانت کے ذیل میں تین کام سپرد کئے جاتے ہیں ۔ ۱۔ ادائیگی ۲۔حفاظت ۳۔اصلاح بہرحال یہ مسلمہ امر ہے کہ انسان کے اجتماعی نظام کی بنیادوں کی وفا امانتوں کی حفاظت اور ان کی ادائیگی پر ہے ۔ ورنہ معاشرے کا توازن بگڑ جائے گا اور ہر چیز درہم وبرہم ہوجائے ۔ یہی وجہ ہے کہ لادین افراد اور معاشرے بھی اپنے توازن کو برقرار رکھنے کے وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت سے بچتے ہیں اور کم از کم اپنے مجموعی مسائل میں ان دو امور کی حفاظت اپنی ذمہ داری جانتے ہیں ۔ امانت کی اہمیت کے عنوان سے ہم اسی تفسیر کی جلد نمبر ۳ میں، سورہٴ نساء کی آیت ۱۸۵ ، اور جلد نمبر ۷ میں سورہٴ انفال آیت نمبر۲۷ کی تفسیر کے ذیل میں تفصیلاً بحث کرچکے ہیں، نیز وعدہ وفائی کے عنوان سے جلد ۴ میں سورہٴ مائدہ آیت ۱۱، اور جلد۱۱ میں سورہٴ نحل کی آیت۱۱ کی تفسیر کے ذیل میں مفصل لکھ چکے ہیں ۔ نویں آیت میں مومنین کی نمایاں صفت ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کے لئے کوشاں رہتے ہیں(وَالَّذِینَ ھُمْ عَلیٰ صَلَوَاتِھِمْ یُحَافِظُونَ) ۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ مومنین کی بیان شدہ خصوصیت وصفت ”نماز میں خضوع وخشوع“ ہے اور آخری صفت ”نماز کی حفاظت“ مختصر یہ کہ مومنی کے اوصاف کی ابتداء بھی نماز ہے اور انتہا بھی نماز، کیونکہ نماز خالق ومخلوق کے درمیان بہترین رابطہ ہے، نماز اعلیٰ تربیت کا اعلیٰ سطح کا مدرہ ہے، نماز روح کی بیداری کا ذریعہ اور گناہوں سے بچاوٴ کا ذریعہ ہے، نماز رُوح کی بیداری کا ذریعہ اور گناہوں سے بچاوٴ کا ذریعہ ہے، مختصر یہ کہ اگر نماز تمام آداب وشرائط کے ساتھ ادا کی جائے تو تمام تر نیکیوں اور خوبیوں کے لئے قابلِ اطمینان وسیلہ بن جاتی ہے ۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس سلسلے کی پہلی اور آخری آیت دو مختلف مفاہیم پیش کررہی ہیں، پہلی آیت میں ”صلٰوة“ مفرد استعمال ہوا ہے جبکہ آخر میں ”صلوات“ جمع کی صورت میں آیا ہے، پہلی آیت رُوح نماز یعنی خضوع و خشوع اور ایک باطنی کیفیت کی اہمیت بیان کررہی ہے اور یہ وہ کیفیت ہے جو انسان کے تمام اعضاء وجوارج پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ جبکہ آخری آیت نماز کے اوقات، آدابِ شرائط اور مقامِ نماز، تعداد وغیرہ کی اہمیت کو اُجاگر کررہی ہے، گویا کہ سچّے مومن نمازیوں کو ہدایات دے رہے ہیں کہ ہر ایک نماز کی ادائیگی کے عالم میں تمام مذکورہ آداب وشرائط کا لحاظ رکھنا از بس ضروری ہے، نماز کی اہمیّت کے بارے میں ہم اسی تفسیر کی جلد ۹ میں سورہٴ ہود آیت ۱۱۴، اور جلد۴ سورہٴ نساء آیت نمبر ۱۰۳، اور جلد نمبر ۱۳ سورہٴ طٰہٰ آیت ۱۴ تفسیر کے ذیل میں مفصل بیان کرچکے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں ۔ مومنین کے نمایاں اوصاف کے بیان کے بعد نتیجةً بیان کیا جاتا ہے، وہی وارث ہیں (اٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْوَارِثُونَ) ۔ ”فردوس“ لغوی طور پر اس لفظ پر کافی اختلاف پایا جاتا ہے کہ در اصل یہ کس زبان کا لفظ ہے، بعض اسے رومی زبان کا لفظ سمجھتے ہیں، بعض کے نزدیک یہ عربی کا لفظ ہے اور بعض کے خیال میں فارسی زبان سے آیا ہے، بہرحال اس کا معنیٰ باغ یا ایسا باغ جس میں زندگی کی تمام نعمات خداوندی موجود ہوں، بہرحال یہ ایسی بہشت بریں ہے جو جنّت کے بہترین باغوں میں سے ہے ۔ وارث ہونے سے شاید یہ مراد ہو کہ مومنین بغیر زحمت کے اس مقام تک پہنچ جائیں گے جس طرح انسان بغیر کسی زحمت وکوشش کے وراثت پالیتا ہے، یہ صحیح ہے کہ مومنین کو جنت تک پہنچنے کے لئے دنیا میں تزکیہٴ نفس کے عمل کو پورا کرتے ہوئے بڑی جانسوز مشقت اٹھانا پڑی، مگر فردوس بریں کی شکل میں جتنی عظیم کثیر اور اعلیٰ جزاء نہیں دی جائے گی اس کے مقابلے میں ان کے اعمالِ دُنیا گویا کچھ بھی نہیں اور یوں معلوم ہوگا، جیسے بغیر کچھ کئے ہی اتنا مل گیا ہو ۔ اس سلسلے میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک حدیث پیش نظر رہنی چاہیے: ”ما منکم من اٴحد الّا ولہ منزلان: منزل فی الجنة منزل فی النار فان مات ودخل النار ورث اھل الجنة منزلہ“. ”تم میں سے ہر ایک شخص دوگھروں کا مالک ہے، ایک جنّت میں دوسرا جہنّم میں، اگر ایک شخص مرجائے اور دوزخ میں جائے تو اس کا جنّت والا گھر اہلِ جنّت کو ورثے میں مل جائے گا ”ورثہ“ کی اصطلاح کے ذیل میں مفسرین نے اس احتمال کو بھی بعید از قیاس نہیں جانا کہ یہ لفظ مومنین کے انجام کے طور پر استعمال کیا گیا ہے چونکہ ورثہ آخر کار ورثاء تک پہنچتا ہے ۔ بہرحال مندرجہ بالا آیتوں کے مطابق جنت کا یہ عالیشان درجہ ان مومنین کے لئے مخصوص ہے جو مذکورہ اوصاف کے حامل ہوں، رہ گئے دوسرے جنتی لوگ تو وہ نچلے درجے میں ہوں گے ۔ 1۔ تفسیر صافی اور مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں ۔ 2 ۔ تفسیر مجمع البیان اور تفسیر فخر الدین رازی. 3 ۔ ”فروج“ ”فرج“ کی جمع ہے اور افزائش نسل کی طرف اشارہ ہے ۔ 4۔ ویل ڈیورانٹ کی مشہور تاریخ ملاحظہ ہو ۔ 5 ۔ تفسیر برہان، ج۱، ص۳۸۰. 6۔ تفسیر برہان، ج۱، ص۳۸۰.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:1-11
۱۔ ”افلح“ کا مفہوم
فعل ماضی کا صیغہ ہے، مومنین کی حتمی کامیابی کے سلسلے میں ماضی کا استعمال تاکید کے مفہوم میں ہے، یعنی کامیابی اور فلاح اس قدر مسلمہ امر ہے، گویا پہلے ہی طے ہے، مزید برآں جملے کے آغاز ”قد“ کا استعمال تاکید مزید کے لئے ہے ”خاشعون“ ”معرضون“ ”راعون“ اور ”یحافظون“ جو ”اسم غاعل یا ”فعل مضارع“ کے صیغے ہیں، اس حقیقت کو ظاہر کررہے ہیں کہ مومنین کے یہ اعلیٰ اوصاف وقتی اور عارضی نہیں نہیں بلکہ مستقل ودائمی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:1-11
۳۔ خضوع وخشوع رُوحِ نماز ہے
”خشوع“، عجزو انکساری اور ادب کے ساتھ دلی توجہ کا دوسرا نام ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ مومنین نماز کو ایک بے رُوح ڈھانچہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کی پوری توجہ نماز کی باطنی کیفیت اور حقیقت پر ہوتی ہے، اکثر لوگ ایسے ہیں جو نماز میں از حد کوشش کرتے ہیں کہ عالمِ نماز میں خضوع وخشوع اور الله کی طرف دلی توجہ کریں، مگر وہ ایسا نہیں کرپاتے، نماز اور دیگر عبادات کے دوران خضوع، خشوع اور حضور قلب کے لئے مندرجہ ذیل امور میں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے: ۱۔ معلومات کواس حد تک پہنچانے کہ انسان کی نگاہ میں دنیا کی ذلت وپستی اور الله کی رفعت وبلندی اور عظمت وبزرگی واضح ہوجائے تاکہ کوئی بھی دنیاوی امر بارگاہ میں حاضری کے وقت اپنی طرف متوجہ نہ کرسکے ۔ ۲۔ پریشان خیالی اور ذہنی انتشار جو اس کو ایک طرف مرکوز رکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، لہٰذا انسان جتنا ان کو کم کرے، دلی توجہ اور یکسوئی میں ممدو معاون ثابت ہوگا ۔ ۳۔ اس سلسلے میں نماز اور دیگر عبادات کے لئے مقام کا محلّ وقوع بھی خاصہ موٴثر ہے، اسی بناء پر اپنی جگہوں پر نماز ادا کرنا مکروہ ہے، جو انسان کی توجہ کو ہٹانے کا سبب ہوں، مثلاً آئینے کے سامنے نمازپڑھنا، کھلے دروازوں کے سامنے جہاں سے لوگوں کی آمد ورفت ہوتی ہو، نماز پڑھنا اور کسی تصویر یا پُرکشش منظر کے سامنے نماز ادا کرنا وغیرہ اسی وجہ سے مساجد زیب وزینت اور آرائش سے خالی ہونی چاہئیں تاکہ انسان الله کی طرف ہی رہے ۔ ۴۔ گناہ سے پرہیز کرنا، کیونکہ گنا ہ کے ارتکاب سے انسان الله سے دُور ہوجاتا ہے اور نماز میں حضور قلبی سے محروم رہتا ہے ۔ ۵۔ نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس کے معنی اور اس کے افعال واذکار سے واقفیت حاصل کرنا ۔ ۶۔ نماز کے مخصوص آداب اور مستحبات کو ادا کرنان چاہے ان کا تعلق مقدمات نماز سے ہو یا خود اصل نماز سے ۔ ۷۔ مذکورہ بالا تمام امور سے قطع نظر خضوع وخشوع کے حصول کے لئے مسلسل اور پیہم مشق اور پوری توجہ کی ضرورت ہے، کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان شروع شروع میں تھوڑی دیر کے لئے دلی یکسوئی پیدا کرلیتا ہے اور اگر وہ اس کی مسلسل مشق کرے اور ہر نماز میں برابر اس کے اضافے کی کوشش کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسا ملکہ پیدا نہ کرے کہ ہمیشہ حالتِ نماز میں وہ غیر الله سے بالکل بے نیاز ہوجائے ۔ (قابلِ غور ہے) ۔