وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ
And [remember] her who guarded her chastity, so We breathed into her Our spirit, and made her and her son a sign for all the nations.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:91
[Pooya/Ali Commentary 21:91] Refer to Ali Imran: 44 to 55 and Maryam: 16 to 35 for Maryam and Isa.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:91
2- "روحنا" سے مراد
2- "روحنا" سے مراد : جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں ، ایک باعظمت اور بلند حوصلہ روح کی طرف اشارہ ہے اور اصطلاح میں اس قسم کی اضافت " اضافت تشریفیہ کہلاتی ہے ، کہ ہم کسی چیز کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے اس کی اضافت خدا کی طرف کردیتے ہیں، مثلًا : "بیت اللہ" (خدا کا گھر) اور " شهراللہ" (خدا کا مہینہ)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:91
1- ایک ابہام کی وضاحت
چند اہم نکات 1- ایک ابہام کی وضاحت : فرج اصل میں لغت کے لحاظ سے فاصلہ اور شگاف کے معنی میں ہے ۔ اور کنائے کے طور پر عورت کی اندام نہائی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور چونکہ فارسی میں اس کے کنائی معنی کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ لہذا بعض اوقات یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ لفظ کہ جو عورت کے اس عضو خاص کے لیے بولا ہے ، قرآن میں کیسے آیا ہے ؟ لیکن اس کے کنایہ ہونے کی طرف توجہ اس سوال کو حل کر دیتی ہے۔ زیادہ واضح اور روشن تعبیر میں اگر ہم کنائی معنی کو ٹھیک طور سے تعبیر کرنا چاہیں تو " احصنت فرجھا" کے جملہ کا متبادل فارسی میں یہ ہے کہ "اپنے دامن کو پاک رکھا" تو کیا فارسی میں تعبیر بری ہے ؟ بلکہ بعض کے نظریہ کے مطابق عربى لغت میں ایسے الفاظ کہ جو عضو خاص کے لیے صراحتًا ہوں ، یا جنسی اختلاط میں صراحت رکھتے ہوں ، اصلًا موجود ہی نہیں ہیں ۔ جو کچھ بھی ہے وہ کنائے کا ہی پہلو رکھتا ہے۔ مثلا قرآن کی مختلف آیات میں اختلاط کے بارے میں ،"لمس کرنا" "داخل ہونا" "ڈھانپنا" (غشیان) ۔؎2 "یا بیوی کے پاس جانا" ؎3 کے لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ کہ جوسب کنایہ کا پہلو رکھتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات فارسی زبان میں ترجمہ کرنے والے ان کے کنائی معنی کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس کنائی معانی کے متبادل کی بجائے فارسی ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر نمونہ جلد 13 سورۂ مریم کی ابتدائی آیات کی تفسیر دیکھئے. ؎2 سوره اعراف ۔ 189 - ؎3 بقرہ - 322- ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ کے صریح الفاظ لکھ دیتے ہیں اور یہ بات سوال کا موجب بن جاتی ہے بہرحال اس قسم کے الفاظ کی تفسیر میں کہ جو قرآن میں آئے ہیں ، حتمی طور پر ان کے اصلی اور بنیادی معنی کی طرف توجہ کرنا چاہیے تاکہ اس کے کنایہ ہونے کا پہلو واضح ہو جائے اور ہرقسم کا ابہام ختم ہوجائے۔ اس نکتے کا ذکربھی ضروری ہے کہ زیر بحث آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ حضرت مریمؑ نے اپنی عفت کی حفاظت کی ، لیکن بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی میں یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے کسی مرد سے (چاہے حلال ہو یا حرام) ہر قسم کے میل جول سے خود کو بچائے رکھا۔ ؎1 جیسا کہ سور مریم کی آیہ 20 میں ہے کہ: ولم یمسنی بشرولم ان بغیًا نہ تو کبھی کسی بشر نے مجھے چھوا ہے اور نہ ہی میں کوئی بدکار عورت ہوں۔ ؎2 درحقیقت یہ حضرت عیسٰی کی معجزانہ پیدائش اور ان کے معجزہ ہونے کے ذکر کی تمہید ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:91
سورہ انبیاء / آیه 91
(91) وَالَّتِىٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْـهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَآ اٰيَةً لِّلْعَالَمِيْنَ ترجمہ (91) اور یاد کرو اس خاتون کو کہ جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی اور ہم نے اس کے اندر اپنی روح میں سے پھونکا اور اسےاور اس کے بیٹے کو ہم نے عالمین کے لیے ایک عظیم نشانی قراردیا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:91
3- ماں بیٹا ایک معجزه
3- ماں بیٹا ایک معجزه : زیر نظر آیت کہتی ہے : "ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو تمام جہان والوں کے لیے ایک آیت اور نشانی قرار دیا۔ انہیں دو آیتیں ! دو معجزات نہیں کہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کی اس بزرگ آیت اور معجزه میں ، مریم کا وجود ان کے بیٹے کے ساتھ اس طرح ملا ہوا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے جدا شمار نہیں کیے جا سکتے تھے۔ بیٹے کا باپ کے بغیر پیدا ہونا اتنا ہی اعجاز آمیز ہے، جتنا کہ کسی عورت کا شوہر کے بغیر حاملہ ہونا ۔ علاوہ ازیں حضرت عیسٰی کے معجزات بچپن میں بھی اور بڑے ہو کر بھی ، ان کی والدہ کی عظمت کی یاد دلاتے ہیں۔ ان تمام امور میں سے ہر ایک ، عام طبعی اسباب سے ہٹ کر اور خلاف معمول تھا۔ یہ سب امور اس حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں کہ سلسلہ اسباب کے ماورا ایک ایسی قدرت بھی موجود ہے جوجب چاہے ، ان کی روش کو بدل دے. بہرحال مسیحؑ اور ان کی والدہ مریم کی کیفیت پوری انسان تاریخ میں بے نظیر ہے نہ اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ اس کے بعد دیکھا گیا ہے اور شاید لفظ "آیت" "کائرہ" کی صورت میں کہ جو عظمت کی دلیل ہے ، اسی معنی کی طرف اشارہ ہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر کبیر فخررازی اور تفسیر فی ظلال زیر بحث آیہ سے ذیل میں - ؎2 سورۂ مریم 20-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:91
مریم پاک دامن خاتون
تفسیر مریم پاک دامن خاتون : اس آیت میں حضرت مریمؑ اور ان کے بیٹے حضرت عیسٰی کے مقام ، عظمت اور احترام کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ مریم کا ذکر ــــ بزرگ انبیاء سے مربوط مباحث کے درمیان ــــ یا تو ان کے بیٹے عیسٰی کی وجہ سے ہے یا اس بنا پر کہ مریم کی ولادت بھی کئی جہات سے یحیٰی کی ولادت کے مشابہ تھی کہ جس کی تفصیل ہم نے سورہ مریم کی آیات کے ذیل میں بیان کی ہے۔ ؎1 اور یا اس بنا پر ہے کہ اس بات کو واضح کیا جائے کہ عظمت ،عظیم مردوں ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ ایسی عظیم عورتیں بھی ہوگزری ہیں کہ جن کی تاریخ ان کی عظمت کی نشانی ہے، جو عالم کی عورتوں کے لیے ایک اسوہ اورنمونہ ہیں۔ ارشاد ہوتاہے ، یاد کرو مریم کو جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی (والتي احصنت فرجها) - پھر ہم نے اپنی روح میں نے اس میں پھونکا ( فنفخنا فيها من روحنا)۔ اور اسے اور اس کے بیٹے عیسٰی کو ہم نے عالمین کے لیے عظیم نشانی قراردیا ( وجعلناها وابنها اية للعالمين )-