وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ كُلٌّ مِّنَ الصَّابِرِينَ
And [remember] Ishmael, Idris, and Dhul-Kifl—each of them was among the patient.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:85
[Pooya/Ali Commentary 21:85] Refer to the commentary of Maryam: 54 (and Baqarah : 124 to 127) for Ismail, and Maryam: 56 for Idris. Dhul-Kifl literally means "possessor of, or giving, a double requital or portion". It is said that probably Dhul-Kifl is an Arabicized form of Ezekiel.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:85-86
ادریسؑ اور ذا الکفلؑ
ادریسؑ اور ذا الکفلؑ : ادریس خدا کے بزرگ پیغمبر تھے ۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ بہت سے مفسرین کے مطابق وہ حضرت نوحؑ کے والد کے وادا تھے۔ ان کا نام تورات میں اخنوخ اور عربی میں "ادریس" ہے کہ جسے بعض "درس" کے مادہ سے ماخوذ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ پہلے شخص تھے کہ جنہوں نے قلم کے ساتھ لکھنا شروع کیا ۔ وہ مقام نبوت کے علاوہ علم نجوم اور علم ہیت پر بھی دسترس رکھتے تھے اور ہیں کہ وہ پہلے شخص ہیں کہ جنہوں نے لباس سینے کا طریقہ انسانوں کو سکھایا تھا۔ باقی رہے ذوالکفلؑ ، تو مشہور یہ ہے کہ وہ انبیاء میں سے تھے۔ ؎1 اگر بعض کا نظریہ ، یہ ہے کہ وہ ایک صالح اور نیک انسان تھے۔ قرآن کی آیات کا ظاہری مفہوم بھی یہی ہے کہ وہ نبی تھے کیونکہ انہیں بزرگ انبیاء کے ساتھ شمار کیاگیا ہے اور زیادہ تر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وه انبیا بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ؎2 اس نام کے ساتھ ان کو موسوم کرنے کی علت کے بارے میں متعدد احتمالات پیش کیے گئے ہیں البتہ اس بات کی طرف توجہ رہے کہ "کفل" (بروزن "فکر") حق کے معنی میں بھی ہے، اور کفالت کے معنی میں بھی آیا ہے ـــــ بعض تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے بکثرت عبادات کیں اور اعمال انجام دیئے اس پر اللہ نے اپنی رحمت اور ثواب کا وافرحصہ ، انہیں مرحمت فرمایا تھا لہذا وہ ذوالکفل کے نام ہوگیا۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ انہوں نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ وہ راتیں عبادت میں کھڑے سے ہوکر گزاریں گے اور دن میں روزہ رکھا کریں گے اور فیصلہ کرتے وقت ہرگز غصے میں نہ آئیں گے اور انہوں نے آخرتک اپنے اس عہد کو پورا کیا لہذا ذوالکفل نام ہوگیا۔ بعض یہ نظر سے بھی رکھتے ہیں کہ ذوالكفل حضرت الیاسؑ کا لقب ہے، جیسا کہ اسرائیلؑ حضرت یعقوبؑ کے لقب ہے ، مسیح حضرت عیسٰی کا لقب ہےاور ذا النون حضرت یونسؑ کا لقب ہے۔ ؎3 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر کبیر فخررازی زیر بحث آیہ کے ذیل میں - ؎2 تفسیر فی ظلال ، جلد 5 ص 556- ؎3 تفسیر فخر رازی زیر بحث آیہ کے ذیل میں اور تاریخ کامل میں بھی یہی لکھا ہے کہ ذوالکفل حضرت ایوبؑ کے ایک بیٹے تھے اور ان کا اصلی نام "بشر"تھا اور وہ شام میں رہتے تھے۔ کامل ابن اثیر ج 1 ص 136-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:85-86
سورہ انبیاء / آیه 85 - 86
(85) وَاِسْـمَاعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ كُلٌّ مِّنَ الصَّابِـرِيْنَ (86) وَاَدْخَلْنَاهُـمْ فِىْ رَحْـمَتِنَا ۖ اِنَّـهُـمْ مِّنَ الصَّالِحِيْنَ ترجمہ (85) اور اسمٰعیل ، ادریسں اور ذالکفل (کو یاد کرو) کہ وہ سب صابرین میں سے تھے۔ (86) اور ہم نے انہیں رحمت میں داخل کیا ، کیونکہ وه صالحین میں سے تھے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:85-86
اسماعیلؑ ادریسؑ اور ذا الکفلؑ
تفسیر اسماعیلؑ ادریسؑ اور ذا الکفلؑ : ایوب کی سبق آموز سرگزشت اور طوفان حوادث کے مقابلہ میں ان کے صبرو ضبط کو بیان کرنے کے بعد ، زیر بحث آیات میں خدا کے تین دوسرے پیغمبروں کے مقام صبروشکیبائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : اسمعيل ادریسؑ اور ذاالکفلؑ کو یاد کرو ، وہ سب کے سب صابرین میں سے تھے . ( واسماعيل وادریس و ذا الكفل كل من الصابرين) - ان میں سے ہرایک نے دشمنوں کے مقابلہ میں یا زندگی کی طاقت فرسا مشکلات کے سامنے صبرواستقامت دکھائی ہے اور انہوں نے ان حوادث کے سامنے ہرگز گھٹنے نہیں ٹیکے ۔ ان میں سے ہرایک استقامت اور پامردی کا ایک نمونہ تھا۔ اس کے بعد اس صبر و استقامت پر ان کے لیے خدا کے عظیم انعام کا ذکر ہے : ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا کیونکہ وہ صالحین میں سے تھے ۔ ( وادخلنا هم فی رحمتنا انهم من الصالحين )- یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں کہا کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی بلکہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا گویا وہ اپنے پورے جسم وجان کے ساتھ رحمت الٰہی میں غوطہ زن ہوئے ، جیسے کہ وہ پہلے مشکلات کے دریا میں غرق تھے۔