قَالَ لَقَدۡ كُنتُمۡ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُمۡ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
He said, ‘Certainly you and your fathers have been in manifest error.’
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:51-58
1- بت پرستی کی مختلف شکلیں
چند اہم نکات 1- بت پرستی کی مختلف شکلیں : یہ ٹھیک ہے کہ ہم بت پرستی کے لفظ سے زیادہ تر پتھر اور لکڑی کے بتوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن ایک لحاظ سے بت اور بت پرستی وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ جو غیر خدا کی طرف ہر قسم کی توجہ ـــــــ خواہ وہ کسی بھی شکل و صورت میں ہو ـــــ پر محیط ہے اور مشہور و معروف حدیث کے مطابق کہ : كلما شغللک عن الله فهوصنمك جوچیز بھی انسان کو اپنی طرف مشغول اور خدا سے دور کرے ، وہ اس کا بت ہے۔ اس حدیث میں اصبغ بن نباتہ سے کہ جو علی علیہ السلام کے مشہور اصحاب میں سے ہیں ، یہ بیان ہوا ہے کہ: أن عليا مربقوم يلعبون الشطرنج فقال : ما هذه التماثيل التي انتم لھا عاكفون ؟ لقد عصيتم الله و رسوله امیرالمومنین علیہ السلام کچھ لوگوں کے قریب سے گزرے ۔ وہ شطرنج کھیل رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : یہ مجسمے (اور بت) کہ جن کے ساتھ مشغول ہو کیا ہیں ؟ تم خدا کے بھی نافرمان ہو اور اس کے رسول کے بھی ۔ ؎2 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ "اليه" کا مرجع خود حضرت ابراہیمؐ ہیں اور بعض نے کہاہے کہ اس سے مراد بڑا بت ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتاہے اوریہ جو کچھ مذکورہ بالا آیت میں بیان ہوا ہے کہ میں ان کا بڑا تھا ، ممکن ہے کہ یہ ظاہری بڑے ہونے کی طرف ا شارہ ہو یا بے ہودہ بت پرستوں کی نگاہ میں اس کے زیادہ احترام کی طرف یا دونوں کی طرف اشارہ ہو۔ ؎2 مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:51-58
سورہ انبیاء / آیه 51 - 58
(51) وَلَقَدْ اٰتَيْنَـآ اِبْـرَاهِيْـمَ رُشْدَهٝ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عَالِمِيْنَ (52) اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِيْلُ الَّتِىٓ اَنْتُـمْ لَـهَا عَاكِفُوْنَ (53) قَالُوْا وَجَدْنَـآ اٰبَآءَنَا لَـهَا عَابِدِيْنَ (54) قَالَ لَقَدْ كُنْتُـمْ اَنْتُـمْ وَاٰبَـآؤُكُمْ فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (55) قَالُـوٓا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللَّاعِبِيْنَ (56) قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ الَّـذِىْ فَطَرَهُنَّۖ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشَّاهِدِيْنَ (57) وَتَاللّهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُـوَلُّوْا مُدْبِـرِيْنَ (58) فَجَعَلَـهُـمْ جُذَاذًا اِلَّا كَبِيْـرًا لَّـهُـمْ لَعَلَّهُـمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ ترجمہ (51) ہم نے ابراہیم کو پہلے سے ہی رشد وایت (کا زریعہ) دے دیا تھا اور ہم اس (کی اہلیت) سے آگاہ تھے۔ (52) جس وقت اس نے اپنے باپ (چچا آزر) اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ بے روح اور مجسمے کہ جن کی تم ہمیشہ پرستش کرتے رہتے ہو، کیا ہیں ؟ (53) (انھوں نے) کہا کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو دیکھا ہے کہ وہ ان کی عبادت کرتے ہیں۔ (54) (ابراہیم نے) کہا کہ یقینًا تم بھی اور تمہارے آباؤ اجداد بھی کھلی گمراہی میں پڑے رہے ہو۔ (55) (انہوں نے) کہا کہ کیا تو حق بات لے کر ہمارے پاس آیا ہے ، یا مذاق کر رہا ہے؟ (56) (ابراہیم نے) کہا (میں تو کامل طور پر حق لےکرآیا ہوں کہ) تمہارا پروردگار تو وہی آسمانوں اور زمین کا پروردگارہے کہ جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور میں بھی اس بات کا گواہ ہوں۔ (57) خدا کی قسم میں تمھارے جانے کے بعد تمھاری غیبت میں تمہارے بتوں کی نابودی کا منصوبہ بناوں گا۔ (58) آخر کار (ایک مناسب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) ان کے بڑے بت کے سوا ان سب کو ٹکڑے ٹکڑےکر دیا تاکہ وہ اس کے پاس آئیں (اور وہ بڑا بت ان سے حقیقت بیان کرے). ابراہیم بتوں کی نابودی کام وہ بتاتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:51-58
2- بت پرستوں کی گفتگو اور ابراھیم کا جواب
2- بت پرستوں کی گفتگو اور ابراھیم کا جواب : یہ بات قابل توجہ ہے کہ بت پرستوں نے حضرت ابراھیم کے جواب میں افراد کی کثرت کا بھی ذکر کیا اور طول زمانہ کا بھی وہ کہنے لگے : ہم نے اپنے آباؤ و اجداد کو اسی دین پر پایا ہے۔ انہوں نے بھی دونوں محنتوں کا جواب دیا : تعلیمی اور تمہارے آباو اجداد کی ، ہمیشہ واضح گمراہی میں رہتے ہیں۔ یعنی عاقل انسان کہ جو استقلال فکری رکھتا ہو ہرگز ان اوهام کا پابند نہیں ہوتا ۔ نہ ہی کسی رسم اور سنت کے طرفداروں کی کثرت کو اس کی درستی کی دلیلی سمجھتا ہے اور نہ ہی اس کے ہمیشہ ہوتے رہنے کو اس کی حقانیت کی دلیل جانتا ہے :
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:51-58
ابراہیمؑ بتوں کی نابودی کا منصوبہ بناتے ہیں
تفسیر ابراہیمؑ بتوں کی نابودی کا منصوبہ بناتے ہیں: ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سورہ میں سولہ پیغمبروں کے حالات اور واقعات بیان ہوئے ہیں اور اس سورہ کے نام سے بھی ظاہر ہے کہ یہ انبیاء کے بارے میں ہے ۔ گزشتہ آیات میں موسٰیؑ و ہارونؑ کی رسالت کی طرف کچھ اشارہ ہوا ہے۔ زیر بحث آیات میں حضرت ابراہیمم کی زندگی اور بت پرستوں کے ساتھ ان کی معرکہ آرائی کا ایک اہم حصہ بیان ہو رہا ہے پہلے فرمایا گیا ہے۔ ہم نےرشد و ہدایت کا وسیلہ پہلے سے ابراہیمؑ کو دے دیا تھا اور ہم اس کی اہلیت سے آگاہ تھے : ( ولقد اتينا ابراهيورشده من قبل وكتابه عالمين)۔ "رشد" اصل میں مقصد تک راہ پانے کے معنی میں ہے اور یہاں ممکن ہے حقیقت توحید کی طرف اشارہ ہو کہ ابراھیمؑ بچپن ہی میں اس سے آگاہ ہو گئے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس انتظار کے وسیع معنی کے لحاظ سے ، ہر قسم کی خیرو صلاح کی طرف اشارہ ہو۔ "كنابه عالمین" کا جملہ ان سب نعمات کو حاصل کرنے کے لیے ابراہیم کی صلاحیتوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ درحقیقت خدا کوئی نعمت کسی کو بلا وجہ نہیں دیتا ۔ یہ صلاحیتیں اور لیاقتیں ہی ہیں کہ جن کی بنا پر نعمات الٰہی حاصل ہوتی ہیں ۔ اگرچہ مقام نبوت میں ایک مقام نعمت و عطاء ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم کے ایک اہم کام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیاہے : ابراہیم کا یہ رشدہ و ہدایت اس وقت ظاہر ہوا کہ جب اس نے اپنے باپ سے ( یہ ان کے چچاآزر کی طرف اشارہ ہے ، کیونکہ عرب بعض اوقات اپنے چچا کو بھی "اب"کہتے ہیں اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں کہ جن کے تم گرویده بو اور رات دن ان کا طواف کرتے ہو اور ان سے دستبردار نہیں ہوتے (اذ قال لأبيه وقومه، ماهذه التماثيل التي انتولها عاكفون)۔ حضرت ابراہیم نے یہ الفاظ کہہ کر ان بتوں کی کہ جو ان کی نظروں میں انتہائی عظمت رکھتے تھے ، شدت سے تحقیروتذلیل کی ، پہلے "ماهذه" (یہ کیا ہیں!) کہا۔ ؎1 دوسرے : " تماثیل کی تعبیر استعمال کی کیونکہ "تماثیل" "تمثال" کی جمع ہے اور یہ تصویر یا بے روح مجسمہ کے معنی میں ہے (بت پرستی کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ شروع شروع میں یہ تصاویر اور مجسمے انبیا اور علماء کی یادگار کے طور تھے ۔ لیکن آہستہ آہستہ ایسے مقدس سمجھے جاتے لگے کہ معبود بن گئے)۔ "انتم لها عاكفون" میں " عكوف" احترام کے ساتھ ملی ہوئی خدمت کے معنی میں ہے کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انھوں نے بتوں کے ساتھ ایسی دل بستگی پیدا کرلی تھی اوران کے آستانے پر اس طرح سرجھکاتے تھے اور ان کے گرد چکر لگاتے تھے کہ گویا ہمیشہ کے لیے ان کے ملازم اور خدمت گار ہیں ۔ ابراہیم کی یہ گفتگو درحقیقت بت پرستی کے ابطال کے لیے ایک واضح اور روشن استدلال ہے کیونکہ بتوں میں ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ یہی مجسمہ و تمثال ہی ہے۔ باقی تخیل ہے اور تو ہے اور خیال ۔ کونسا عقلمند انسان خود کو اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ ایک چھوٹے سے پتھراور لکڑی کے لیے اس قدر ظلمت ، احترام اور قدرت کا قائل ہو جائے ، آ خر وہ انسان کہ جو خود اشرف مخلوقات ہے اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کے سامنے اس طرح سے خضوع و خشوع کیوں کرےاور اپنی مشکلات کا حل اس سے کیوں طلب کرے؟ لیکن بت پرست درحقیقت اس منہ بولتی اور راضی منطق کا کوئی جواب نہیں رکھتے تھے ۔ سوائے اس کے کہ اس کی ذمہ داری اپنے بڑوں کے نہ سر توپ دیں ۔ لہذا انہوں نے کہا : ہم نے اپنے آباؤ اجداد اور بڑوں کو دیکھا ہے کہ وہ ان کی پرستش کرتے ہیں اور ہم اپنے بڑوں کی سنت کو پورا کر رہے ہیں: ( قالوا وجدنا اباءنالھاعابدین)۔ چونکہ صرف بڑوں کی سنت اور روش کسی مشکل کو حل نہیں کرتی اور ہمارے پاس اس بات کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کہ بزرگان گزشتہ آئندہ آنے والی نسلوں سے زیادہ عالم اور زیادہ عاقل تھے ۔ بلکہ اکثر معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے کیونکہ زمانہ گزرنے کے ساتھ علم و دانش بڑھتی رہتی ہے۔ لہذا حضرت ابراہیم نے فورًا انہیں جواب دیا : تم بھی اور تمہارے آباؤ اجداد بھی یقینًا واضح گمراہی میں تھے : (قال لقد کنتم انتم واباؤ كم فی ضلال مبین)۔ یہ تعبیر کہ جس میں بہت سی تاکیدیں موجود ہیں اور بڑی قاطعیت رکھتی ہیں ، اس بات کا سبب بنی کہ بت پرست کچھ ہوش میں آئیں اور تحقیق کی جانب مڑیں۔ ابراھیم کی طرف رخ کرکے کہنے لگے : کیا سچ مچ تو کوئی حق بات لے کرآیا ہے یا مذاق کر رہا ہے (قالوا أجئتنا بالحق ام انت من اللاعبين)۔ کیونکہ وہ لوگ جنہیں بتوں کی پرستش کی عادت پڑچکی تھی اور اسے ایک قطعی واقعیت سمجھتے تھے ، یہ بادر نہیں کرتے تھے کہ کوئی شخص سنجیدگی اور پختگی کے ساتھ بت پرستی کی مخالفت کرے گا ۔ لہذا انہوں نے حضرت ابراہیم سے تعجب اسکے ساتھ ہی سوال کیا ۔ لیکن ابراھیم نے صراحت کے ساتھ انہیں جواب دیا : میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ سنجیده ، محکم اور عین واقعیت ہے کہ تمھارا ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "ما" اس قسم کے موقعوں پر عمومًا غیر عاقل کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور اسم اشاره قریب بھی ایسے موقعوں پر ـــــــ ایک قسم کی تحقیر کو ظاہرکرتا ہے ،ورنہ دور کا اشاده مناسب تھا۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے : ( قال بل ربكم رب السماوات والارض) ۔ وہی خدا کی جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور خود بھی اس عقیدہ کے گواہوں میں سے ہوں: (الذى فطرهن وانا على ذالكم من الشاهدين)۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی اس دو ٹوک گفتگو سے یہ واضح کیا : کہ وہ ذات ہی پرستش کے لائق ہے کہ جو ان سب کی زمین کی اور تمام موجودات کی خالق ہے لیکن پتھر اور لکڑی کے ٹکڑے کہ جو خود ایک ناچیز مخلوق ہیں ، پرستش کے لائن نہیں ہیں ۔ خاص طور پر" وانا على ذالكم من الشاهدين" کے جملے نے یہ ثابت کیا کہ صرف میں ہی نہیں ہوں کہ جو اس حقیقت پر گواہ ہوں بلکہ سب فہمیده ، آگاہ اور صاحبان علم ــــ کہ جنہوں نے اندھی تقلید کے رشتوں کو توڑ دیا ہے ــــــ۔ اس حقیقت پر گواہ ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ یہ بات سو فی صد صحیح اور محکم ہے اور وہ اس عقیده پر ہرمقام تک قائم ہیں اور اس کے نتائج و لوازم کو جو کچھ بھی ہوں انہیں ــــــ جان و دل سے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں ، مزید کہتے ہیں : مجھے خدا کی قسم ، جس وقت تم یہاں پر موجود نہیں ہوگئے اور یہاں سے کہیں باہر باہر جاؤگے . تو میں تمہارے بتوں کو نابود کرنے کا منصوبہ بناؤں گا (وتالله لاكيدن اصنامكم بعد ان تولوا مدبرین)۔ "اكيدن " "كيد " کے مادہ سے لیا گیا ہے کہ جو پوشیدہ منصبوں اور مخفیانہ چاره جوائی کے معنی میں ہے ۔ ان کی مرادیہ تھی کہ انہیں صراحت کے ساتھ سمجھا دیں ، آخر کار میں اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں نابود اور درہم برہم کر دوں گا۔ لیکن شایدان کی نظر میں بتوں کی عظمت اور رعب اس قدر تھا کہ انہوں نے اس کو کوئی سنجیدہ بات نہ سمجھا اور کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا۔ شاید انہوں نے یہ سوچا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی قوم و ملت کے مقدمات کے ساتھ ایسا کھیل کھیلے جب کہ ان کی حکومت بھی سو فی صد ان کی حامی ہے، وہ کسی برتے اور اس طاقت کے بل بوتے پر ایسا کرے گا ؟ اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ یہ تو بعض نے کہا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے یہ جملہ اپنے دل میں کہا تھا یابعض مخصوص افراد سے کہا تھا ، کسی لحاظ سے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ خاص طور پر جب کہ یہ بات کامل طور سے ظاہر آیت کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ بعد کی چند آیات میں یہ بیان ہوا ہے کہ بت پرستوں کو ابراہیمؐ کی بات یاد آگئی اور انھوں نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ ایک جوان بتوں کے خلاف ایک سازش کی بات کرتاہے۔ بہرحال حضرت ابراہیم نے ایک دن جب کہ بت خانه خالی پڑا تھا اور بت پرستوں میں سے کوئی وہاں موجود نہیں تھا ، اپنے منصوبے کو عملی شکل دے دی۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق بت پرست ہر سال ایک مخصوص دن بتوں کی عید مناتے تھے۔ طرح طرح کے کھانے بت خانے میں چڑھا کر ، سب کے سب اکٹھے شہر سے باہر چلے جایا کرتے تھے اور شام ڈھلے واپس بت خانہ میں آتے تھے تاکہ ــــــ وہ کھانے کھائیں کہ جو ان کے عقیدے کے مطابت متبرک ہوگئے تھے۔ حضرت ابراہیم سے بھی انہوں نے تقاضاکیا کہ ان کے ساتھ چلیں لیکن انہوں نے بیماری کا عذر کیا اور ان کے ساتھ نہ گئے. بہرحال وہ ـــــ بغیر اس کے کہ اس کام کے خطرات سے ڈرتے یا جو طوفان اس کام کے بعد کھڑا ہوگا ، اس کا کوئی خوف دل میں لاتے ـــــ مردانہ وار میدان میں کود پڑے اور بڑی شجاعت سے ان تراشے ہوئے خداؤں سے جنگ کرنے کے لیے چل پڑے کہ جن کے اتنے متعصب اور نادان عقیدت مند تھے۔ جیساکہ قرآن کہتا ہے :سوائے ان کے بڑے بت کے سب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا: (فجعلھم جذاذًا الاكبيرًا لهم)۔ مقصد ان کا یہ تھا کہ "شاید بت پرست لوٹ کر اس کے پاس آئیں اور وہ بھی ساری باتیں ان سے کہے (لعلهم اليه يرجعون)۔ ؎1
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:54
[Pooya/Ali Commentary 21:54] (see commentary for verse 51)