أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
Have the faithless not regarded that the heavens and the earth were interwoven and We unravelled them, and We made every living thing out of water? Will they not then have faith?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:30
[Pooya/Ali Commentary 21:30] Imam Muhammad bin Ali al Baqir said: Ratqan does not mean that the heavens and the earth were joined together or formed an integrated mass. They were closed up in a sense that there was no rain-water coming from the sky on the earth, therefore plants and vegetation did not grow on the surface of the earth. When Allah created life on the earth, He sent down from the sky rain-water which is the ultimate support, direct or indirect, of all life on the earth. All life began in the water is also a conclusion to which the latest knowledge in biological science points. Protoplasm, the original basis of living matter and the physical basis of life, is almost an aqueous substance-water is the most abundant single component of protoplasm.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 21:30-41
The dead carry our thoughts to another and a nobler existence which they and we shall live in future state forever.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:30-33
سورہ انبیاء / آیه 30 - 33
(30) ٍاَوَلَمْ يَرَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَىْءٍ حَيٍّ ۖ اَفَلَا يُؤْمِنُـوْنَ (31) وَجَعَلْنَا فِى الْاَرْضِ رَوَاسِىَ اَنْ تَمِيْدَ بِـهِـمْ وَجَعَلْنَا فِيْـهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُـمْ يَـهْتَدُوْنَ (32) وَجَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا ۖ وَهُـمْ عَنْ اٰيَاتِـهَا مُعْرِضُوْنَ (33) وَهُوَ الَّـذِىْ خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِىْ فَلَكٍ يَسْبَحُوْنَ ترجمہ (30) کیا کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے اور ہم نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کیا اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا کیا وہ ایمان میں لاتے ۔ (31) اور ہم نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے تاکہ وہ آرام و سکون میں رہیں اور زمین ان کے ساتھ کسی طرف کو ڈھلک نہ جاۓ اوران میں ردے اور راستے قرار دیے تاکہ اپنی منزل مقصود کو جا پنہچیں ۔ (32) اور آسمان کو محفوظ چھت قرار دیا لیکن وہ اس کی آیات سے روگردان ہیں ۔ (33) وہ وہی ہے جس سے نے رات دن بناۓ نیز سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے کہ جن میں سے ہرایک ۔ اپنے مدار میں گردش کررہا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:30-33
2- آسمان محکم چھت ہے
2- آسمان محکم چھت ہے : ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ "سماء" (آسمان) قرآن میں مختلف معانی کے لیے آیا ہے کبھی تو وہ زمین کی فضا یعنی ہوا کے اس ضخیم قشر کے معنی میں آیا ہے کہ جس نے کرہ ارض کو چار طرف سے گھیرا ہوا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا اس آیت میں ہے۔ اس مقام پر فزکس کے ماہرین کی زبان سے اس عظیم چھت کی مضبوطی اور استحکام کے بارے میں مزید وضاحت بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ " فرانک آلن" جو فزکس کا استاد ہے، اس طرح لکھتا ہے : و فضائی قشر (جو) کہ جو سطح زمین پر زندگی کی نگہبانی کرنے والی گیسوں سے مل کر بنا ہواہے ، اس قدر ضخیم ہے کہ ہر ایک زرہ کی طرح ، زمین کو ، ایسے بیس ملین آسمانی پتھروں کے شر سے کہ جو موت کا پیغام ہوتے ہیں اور جو 50 کلومیٹرفی سیکنڈ کی رفتار سے اس کے ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 یہ اقتباس المیزان سے لیا گیاہے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ساتھ آکر ٹکراتے ہیں ، امان میں رکھ سکتا ہے زمین کا فضائی قشر (جو) أن دوسرے کاموں کے علاوہ سطح زمین پر درجہ حرارت کو بھی زندگی کے لیے درکار حدود تک محفوظ رکھتاہے۔ اس کے علاوہ پانی اور پانی کے بخارات کے بہت ہی ضروری ذخیرے کو سمندروں سے خشکی کی طرف منتقل کرتا ہے کہ اگر ایسا ہواتا تمام براعظم شوردار ، خشک ، ناقابل زیست زمین میں تبدیل ہوجاتے۔ اس طرح یوں کہنا چاہیئے کہ سمندر اور جو زمین، زمین کے لیے کنویں سے پانی کھینچنے والی چرخی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان شہابوں میں سے بعض کا وزن کہ جو زمین کی طرف آتے ہیں ایک گرام کے ہزارویں حصے کی مقدار کے برابر ہوتا ہے لیکن حد سے زیادہ سرعت اور تیزی کی وجہ سے اس کی قوت و طاقت ، ايٹمی ذرات کی طاقت سے برابر ہوتی ہے کہ جن سے تباہ کن بم تیار ہوتے ہیں اور ان شہابوں کا حجم بعض اوقات ریت کے ایک ذرہ سے زیادہ نہیں ہوتا۔ ان شہابوں میں سے کئی ملین شهاب ہر روز زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی جل جاتے ہیں یا بخارات میں تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن بعض اوقات بعض شهابوں کا حجم اس اوروزن اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ وہ گیسوں کے قشر سے گزر کی سطح زمین کے ساتھ ٹکراتے ہیں۔ منجمله ان شہابوں کے جو مذکورہ گیسوں سے نکل کر زمین تک پہنچے ایک بہت بڑا مشهور شهاب" سیبری" ہے کہ جو 1958 میں زمین سے ٹکرایا تھا۔ اس کا قطر اتنا بڑا تھا کہ اس نے تقر یا 40کلومیٹر زمین کو گھیرلیا تھا اور اس کے گرنے سے بہت سے نقصانات ہوۓ تھے۔ ایک اور شہاب وہ ہے کہ جو امریکہ میں "اریزونا" کے مقام پر گرا تھا کہ جس کا قطر ایک کیلومیٹر اور اس کی موٹائی بیس میٹرتھی۔ اس کے گرنے سے زمین میں گہرا شگاف پڑگیا تھا اور اس کے پھٹنے سے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے شہاب پیدا ہوگئے تھے کہ جو دور دور جاگرے تھے۔ "کرسی مویسن لکھتا ہے : اگر وہ ہوا کہ جو زمین کو ہرطرف سے گھیرے ہوئے ہے ، اس کی نسبت کہ جتنی اب ہے کچھ بھی کم اور پتلی ہوتی تو اجرام سماوی اور شہاب ثاقب کہ جو روزانہ کئی ملین کی تعداد میں اس سے آٹکراتے ہیں اور اسی فضا کے اندر باہر ہی باہر منتشر اورنابود ہو جاتے ہیں، ہمیشہ سطح زمین پر پہنچ جاتے اور اس کے گوشہ و کنار سے آٹکراتےرہتے ہیں یہ اجرام فلکی چھ سے چالیس میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتے ہیں اور جس چیز سے بھی جا ٹکراتے ہیں اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں اور اس میں آگ بھڑکا دیتے ہیں۔ اگر ان اجرام سماوی کی حرکت اور تیزی اس سے کمتر ہوتی، جتنی کہ اب ہے ، مثلًا وہ ایک گولی کی سرعت اور تیزی کے برابر ہوتی ، تو وہ سب کے سب سے زمین پر آگرتے اور ان کی تباہی کا نتیجہ واضح ہے ، منجملہ ان کے اگر خود انسان ان اجرام سمادی کے چھوٹے سے چھوٹے ٹکڑے کی زد میں آجاتا ، تو اس کی حرارت کی شدت کے باعث - کہ جو گولی کی سرعت حرکت کی نسبت نوے گنا زیادہ ہے ، ٹکڑے ٹکڑےاور ریزہ ریزه ہوجاتا۔ زمین کو ہر طرف سے گھیرے ہوتے ہوا کی موٹائی اس قدر ہے کہ وہ سورج کی شعاعوں کو صرف اتنی ہی مقدار میں کہ جتنی نباتات کی نشووناکے لیے ضروری ہے ، زمین کی طرف آنے دیتی ہے اور تمام ضرر رساں جراثیم کو اسی فضا کے اندر نیست و نابود کردیتی ہے اور مفید وٹامن پیدا کرتی ہے۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کتاب "راز آفرنیش انسان ص 34 تا 35 -
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:30-33
جہان ہستی میں خدا کی مزید نشانیاں
تفسیر جہان ہستی میں خدا کی مزید نشانیاں : گزشتہ آیات میں مشرکین کے بیہودہ عقائد کا ذکر تھا اور ان میں توحید سے متعلق دلائل پیش کیے گئے تھے۔ اس کے بعد اب زیر بحث آیات میں عالم ہستی کے نظام میں خدا کی نشانیوں کا ایک سلسلہ اور اس کی منظم تدبیر کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ گذشته مباحث پر مزید تاکید ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے کیا کفارنے یہ نہیں دیکھا کہ سارےآسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے اور ہم نے انہیں کھول دیا (اولم یرالذين كفروا ان السماوات والارض كانتا رتقا ففتقناهما)۔ اور ہم نے ہر زندہ موجود کو پانی سے پیدا کیا ہے: ( وجعلنا من الماء كل شی حی)۔ کیا ان آیات اور نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کے باوجود بھی وہ ایمان نہیں لاتے: (آفلايؤمنون )۔ اس بارے میں کہ "رتق" و "فتق" (پیوستگی اور جدائی) کہ جو یہاں آسمانوں اور زمین کے بارے میں کہی گئی ہے اس سے کیا مرد ہے۔ مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں کہ جن میں تین تفسیریں آیت کے مفہوم کے زیادہ نزدیک معلوم ہوتی ہیں اورجیسا کہ ہم بیان کریں گے ممکن ہے تینوں تفسیر آیت کے مفہوم میں جمع ہو۔ ؎1 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 فخررازی تفسیر کبیر میں اور بعض دوسرے مفسرین ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 1- آسمان و زمین کی ایک دوسرے سے پیوستگی، ابتداء خلقت کی طرف اشارہ ہے۔ محققین کے نظریے کے مطابق یہ جهان مجموعی طور پر حرارت سے پیدا شدہ بھاپ کے ایک عظیم ملے ہوئے ٹکڑے کی صورت میں تھا کہ نہیں میں اندرونی تغیرات اور حرکت کی وجہ سے آہستہ آہستہ اور بتدرتیج اجزا بکھرتے رہے اور نظام شمسی کے تمام سیارےاور ستارے اور کرہ زمین وجود میں آئے اور ابھی بھی یہ جهان اسی طرح پھیلتا جارہا ہے۔ 2- پیوستگی سے مراد ہے کہ جہان کا مادہ ایک ہی طرح کا تھا ۔ اس طرح سے کہ سب کے سب آپس میں ملے ہوئے تھے اور ایک مادہ واحد کی صورت میں معلوم ہوتے تھے لیکن زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مادےایک دوسرے سے جدا ہونے لگیں اور ان میں نئی نئی ترکبییں پیدا ہونے لگیں اور آسمان و زمین میں طرح طرح کی نباتات ، حیوانات اور دوسری موجودات ظاہر ہوئیں۔ ایسی موجودات کہ ان میں سے سر ایک موجود مخصوص نظام، اشعار اور امتیازی خواص رکھتا ہے اور ان میں سے ہر ایک پروردگار کی عظمت ، علم اور لا متنا ہی قدرت کی نشانی ہے . 3- آسمان کی باہم پیوستگی سے مراد یہ ہے کہ ابتدا میں بارش نہیں ہوتی تھی اور زمین کی باہم پیوستگی سے مراد یہ ہے کہ اس زمانے میں کوئی نباتات نہ اگتی تھیں لیکن خدا نے ان دونوں کو کھول دیا ۔ آسمان سے بارش نازل کی اور زمین سے انواع و اقسام کی نباتات اگائیں۔ متعدد روایات ـــــــ جو اہل بیت سے بیان ہوئی ہیں – آخری معنی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور ان میں سے بعض پہلی تفسیر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ؎2 اس میں شک نہیں کہ آخری تفسیر ایک ایسی چیز ہے کہ جو آنکھ سے دیکھی جاسکتی ہے کہ آسمان سے کسی طرح بارش نازل ہوتی ہیں اور نباتات اگتی ہیں اور یہ"اولم یرالذين كفروا" (کیا وہ لوگ کہ جو کافر ہوگئے ہیں ، انہوں نے نہیں دیکھا . . ..) کے جملہ کے اور مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور یہ "وجعلنا من الماء كل شی وحتی) (اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو بنایا ہے) کے جملہ کے ساتھ بھی پوری پوری ہم آہنگی رکھتی ہے۔ لیکن پہلی اور دوسری تفسیر بھی ان جملوں کے وسیع معنی کے مخالف نہیں کے کسی نگار"رویت بعض اوقات علم کے معنی میں بھی آتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ علم آگاہی حاصل کرسکتے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ قرآن ایک زمانہ یا ایک صدی کی کتاب نہیں ہے کہ بلکہ یہ انسانوں کے لیے ہر دور میں رہبر و راہنما ہے۔ اسی بنا پر قرآن میں اس قسم کے عمیق اور گہرے مطالب ہیں یہ ہر گروہ اور ہر زمانے کے لیے قابل استفادہ ہے۔ اس لحاظ سےہے اگر ہمارا عقیدہ آیت کوئی امر مانع نہیں ہے کہ زیر بحث آیت تینوں تفاسیر کی حامل ہو کہ جا میں سے ہر ایک اپنی جگہ صحیح اور کامل ہمارا ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ کسی لفظ کا ایک سے زیادہ معنی میں استعمال نہ صرف یہ قابل عتراض نہیں بلکہ کبھی کمال فصاحت کی دلیل ہوتا ہے ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 المیزان ، زیر بحث آیہ کے ذیل میں۔ ؎2 تفسیرصافی اور تفسیر نورالثقلین میں زیر بحث آیت کے ذیل میں رجوع کریں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اور یہ جو روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن کے کئی مختلف بطون ہیں ، ہوسکتاہے یہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہو۔ باقی رہا تمام زندہ موجودات کے پانی سے پیدا ہونے کے بارے میں کہ جس کی طرف زیر بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے، تو اس کے لیے دو تفسیریں مشهور ہیں . 1- تمام زنده موجودات کی حیات ــــــ خواہ وہ نباتات ہوں یا حیوانات ــــــــــ پانی کے ساتھ وابستہ ہے. یہی پانی کہ بالآخر جس کا مبداء بھی بارش ہے کہ جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ 2- دوسری یہ کہ یہاں" ماء" نطفہ کے پانی کی طرف اشارہ ہے کہ جس سے عام طور پر زنده موجودات وجود میں آتے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے محقیقن اور سائنس دان یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ زندگی کا سب سے پہلا جاندار سمندروں کی گہرائیوں میں پیدا ہوا، اسی بنا پر وہ زندگی اور حیات کا آغاز پانی سے سمجھتے ہیں۔ نیز اگر قرآن انسان کی خلقت کو مٹی سے شمار کرتا ہے، تو اس بات کو نہیں بولنا چاہیئے کہ مٹی سے مراد وہی"طین"(گارا) ہے کہ جو پانی اور مٹی سے مل کر بنتا ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ، دانشمند محققین کی تحقیق کے مطابق انسان کے بدن اور بہت سے حیوانات کے بدن کا زیادہ حصہ پانى ہی سے بنا ہواہے۔ (تقریبا ستر فیصد حصہ۔ اور یہ جو بعض نے اعتراض کیا ہے کہ فرشتوں اور جنات کی پیدائش، باوجود اس کے کہ وہ بھی زنده موجودات میں مسلم طور پر پانی سے نہیں ہے ، اس کا جواب واضح ہے کیونکہ یہاں مقصد وہ زندہ موجودات ہیں کہ جنہیں ہم محسوس کرتے ہیں. ایک حدیث میں منقول ہے کہ ایک شخص نے امام صادقؑ سے پوچھا کہ پانی کا کیا ذائقہ ہے تو امام نے پہلے فرمایا : سل تفقها ولا تسئل تعنتًا سمجھنے کے لیے سوال کر بہانہ سازی کے لیے نہ پوچھ ۔ اس کے بعد آپ نے مزید فرمایا : طعوالماء ط والحياة ! قال الله سبحانه وجعلنا من الماء كل شی حی • پانی کا ذائقہ وہی ہے جو حیات کا ذائقہ ہے۔ خدا کہتا ہے کہ ہم نے ہر زندہ موجود کو پانی سے پیدا کیا خصوصًا جب انسان گرمیوں میں بہت عرصہ پیاسا رہے ، ہوا بھی جھلسانے والی ہو اس کے بعد اسے خوشگوار پانی میسر آجائے تو جونہی پانی کا پہلا گھونٹ پیتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے بدن میں جان ڈالی جارہی ہے ۔ حقیقت میں امام یہ چاہتے ہیں کہ زندگی اور پانی کے ارتباط اور پیوستگی کو اس خوبصورت انداز میں ظاہر کریں. بعد والی آیت توحید کی نشانیوں اور اس کی عظیم نعمتوں کے ایک اور حصہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیے تا کہ وہ انسانوں کو نہ لرزاۓ(وجعلنا في الارض رواسي آن تمدیهم)۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "رواسی" جمع ہے "راسیہ" اس کا معنی سخت اور گھڑے ہوۓ پہاڑ اور چونکہ اس قسم کے پہاڑ نیچے بنیادوں میں ایک دوسرے دے ملے ہوۓ ہوتے ہیں لہذا ممکن ہے اس پیوستگی کی طرف اشارہ ہو اور سائنس لحاظ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ پہاڑوں کی جڑوں کی باہم پیوستگی ، زمین کے زلزلے اور جھٹکے کھانے سے روکنے میں گہرا اثر رکھتی ہے "تمید" " مید" کے ماده کے بڑی ﷽ری چیزوں ناموزوں جھٹکوں او زلزلے کے معںی ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ پہاڑوں نے کرہ زمین کو ایک زرہ کی طرح اپنے اندر لیا ہوا ہے اور یہ زمین کے اندر گیسوں کے دباؤ کی وجہ سے جو شدید جھٹکے اور زلزلے پیدا ہوتے ہیں انہیں بہت حد تک روکنے کا سبب بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں پہاڑوں کی یہی وضع و کیفیت ، چاند کی کشش سے ہونے والے مد و جزرکے مقابلہ میں زمین کے اوپر کے حصہ کی حرکات کو کم سے کم رکھتی ہے ۔ دوسری طرف اگر پہاڑ نہ ہوتے تو سطح زمین ہمیشہ تیز ہواؤں کی زد میں ہوتی اور اس میں کوئی آرام و سکون دکھائی نہ دیتا ، جیسا کہ شور زده زمیں اور خشک جلانے والے بیابانوں میں ہوتاہے۔ اس کے بعد ایک اور نعمت کی طرف کہ وہ بھی اس کی عظمت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ، ہم نے ان عظیم پہاڑوں کے اندر درے اور راستے بنا دیتے ہیں تاکہ ان کی رہائی ہو اور وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں: جعلنا فها فجاجًاسبلًا لعلھم يهتدون۔ . سچ مچ اگر یہ درے اور شگاف نہ ہوتے تو زمین میں ان عظیم پہاڑوں کا موجود سلسلہ مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے اسی طرح جدا کر دیتا کہ ان کا تعلق ایک دوسرے سے بلکل ختم ہوجاتا اور یہ بات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ سب ظہور پزیر طور پر ہونے والے اور ایک حساب پروگرام سے مطابق ہیں۔ اور چونکہ انسان کی زندگی کے سکون کے لیے زمین کا سکون تنہا کافی نہیں ہے بلکہ اوپر کی طرف سے بھی اس کے لیے امن و امان ہونا چاہیے لہذا بعد والی آیت میں یہ اضافہ کیاگیا ہے ، ہم نے آسمان کومحفوظ چهت قرار دیا ہے لیکن وہ اس وسیع آسمان میں موجود توحید کی آیات اور نشانیوں سے منہ پھیرہے ہوئے ہیں۔( وجعلنا السماء سقفا محفوظًا وهم عنا یاتها معرضون)۔ یہاں پر آسمان سے مراد جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں ۔ وہ فضا ہے کہ جس نے زمین کو ہرطرف سے گھیر رکھا ہے اور محقیقن کی تحقیقات کے مطابق اس کی ضخامت کی سوکلومیٹر ہے ۔ یہ ظاہری طور لیطف قشر کہ جو ہوا اور گیسوں سے مل کر بنا ہے اس قدر اور مضبوط ہے کہ باہر کی طرف سے جو بھی ٹکرانے والی موجود چیز زمین کی طرف آئے گی وہ نابود ہوجائے گی اور یہ زمین کے کره کو رات دن "شہاب" کے پتھروں کی بمباری سے ، کہ جی ہر قسم گولوں سے زیادہ خطرناک میں محفوط رکھتاہے۔ علاوہ ازیں سورج کی وہ شعاعیں کہ جو موت کا پیغام بن سکتی ہیں ، اس کے زریعہ صاف ہوجاتی ہیں اور ان مہلک شعاعوں کو جو فضا سے زمین کی طرف آرہی ہوتی ہیں روک دیتا ہے. ہاں! یہ آسمان بہت ہی مضبوط اور پائیدارچھت ہے کہ جسے خدانے منہدم ہونے سے بچا رکھا ہے۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت کو ان آیات سے ہم آہنگ سمجھا ہے جو قرآن مجید میں شہاب زریعہ شیاطین کے آسمانوں پر چڑھنے سے محفوظ رہنے کے بارے میں وارد ہوتی ہیں۔ ( مثلًا : وحفظا من كل شيطان مارد ) لیکن یہ بات واضح اور روشن ہے کہ یہ تقسير لفظ "سقت" (چھت) کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ چھت ان لوگوں کے لیے کہ جو اس سے نیچے ہوتے ہیں، ایک ڈھانپنے کی چیز ہوتی ہے، کہ جو اس سے اوپر ہو۔ (غورکیجیئےگا) ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- آخری زیربحث آیت میں رات دن اور سورج و چاند کی خلقت کا بیان شروع کرتے ہوئے کہا گیا ہے: وہی ہے کہ جس رات دن اور سورج و چاند کو پیدا کیا ہے ( وهو الذي خلق الليل والنهار والشمس والقمر)۔ اور ان میں سے ہر ایک اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے: (كل في فلك يسبحون)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:30-33
1- "كل في فلك يسبحون" کا مفہوم
چند اہم نکات 1- "كل في فلك يسبحون" کا مفہوم : اس کی تفسیر کے بارے میں مفسرین نے مختلف بیانات دینے ہیں لیکن وہ بات کہ جو علم افلاک کے ماہرین کی مسلمہ تحقیقات سے اہم آہنگ ہے یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں سورج کی برکت سے مراد یا تو حرکت دوری ہےکہ جو وہ خود اپنے گرد کرتا ہے بادہ حرکت ہے کہ جودہ نظام شمسی کے ہمراہ رکھتا ہے اس نکتے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ لفظ " كل" ممکن ہے چاند اور سورج کی طرف اشارہ ہو اور اسی طرح ستاروں کی ان بھی اشارہ ہوا کیونکہ کلمہ "لیل" (شب) سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ بعض بزرگ مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ شب " اور " روز اور چاند اور سورج ( چاروں) کی طرف اشارہ ہو کیونکہ رات تو زمین کا مخروطی سایہ ہی ہے ۔ نیز اس کا اپنا مدار بھی ہے ۔ اگر کوئی شخص کره زمین سے باہر دور سے اس کی طرف دیکھے تو وہ اس تاریک مخروطی سائے کو زمین کے گرد دائما اور ہمیشہ حرکت میں دیکھے گا اور اسی طرح سورج کی وہ روشنی کہ جو زمین پر ہوتی ہے اور سے دن کا ظہور ہوتا ہے ، اس ستون کی مانند ہے اور جو اس کرہ کے گرد ہمیشہ نقل مکانی کرتا رہتا ہے ، لہذا رات اور دن بھی اپنے لیے ایک گردش اور ایک مکان رکھتے ہیں۔ ؎1 یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سورج کی حرکت سے مراد ہمارے احساس میں اس کی حرکت ہے کیونکہ زمین پر کھڑے ہوکر دیکھنے والے کے لیے سورج اور چاند دونوں گردش میں ہیں۔