وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ
To Him belongs whatever is in the heavens and the earth, and those who are near Him do not disdain to worship Him, nor do they become weary.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:19
[Pooya/Ali Commentary 21:19] Those created beings who are near Him in the high spiritual world willingly and perpetually glorify the majesty of their most high Lord.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:19-25
دلیل تمانع
دلیل تمانع : وہ دلیل، جو مذکورہ بالا آیت میں توحید کے اثبات اور کئی معبودوں کی نفی کے بارے میں بیان کی گئی ہے۔ ساده ، آسان، روشن اور واضح ہونے کے باوجود اس سلسلے کی دقیق فلسفی دلیلوں میں سے ایک ہے کہ جسے علماء "برهان تمانع" کے عنوان سے یاد کرتے ہیں . اس دلیل کا خلاصہ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے: ہم بلاشک و شبہ اس جہان میں ایک نظام واحد کو حکم فرما دیکھ رہے ہیں ، ایسا نظام کہ جو تمام جہات سے ہم آہنگ ہے۔اس کے قوانین ثابت اور آسمان و زمین میں جاری ہیں۔ اس کے پروگرام میں آپس میں منطبق اور اس کے اجزاء متناسب ہیں ۔ قوانین کی یہ ہم آہنگی اور نظام آفرینش اس بات کی ترجمانی کرتے ہیں کہ ان سب کا سرچشمہ ایک ہی مبداء کیونکہ اگر متعدد مبداء ہوتے اور اس میں متعدد ارادے کار فرما ہوتے تو یہ ہم آہنگی ہرگز موجود نہ ہوتی اور وہی چیز کہ جسے قرآن "فساد" سے تعبیر کرتا ہے دنیا میں صاف طور پر نظرآتی۔ اگرہم کچھ تحقیق اور مطالعہ کرنے والے ہوں تو کسی ایک کتاب کے مطالعہ سے اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اسے ایک شخص نے لکھا ہے یا چند میں افراد نے۔ وہ کتاب جو ایک شخص کی تالیف ہو اس کی عبارات میں ایک خاص نظم اور ہم آہنگی ، جملہ بندی ، مختلف تعبیرات، کنایات و امارات ، عنوانات و نکات ، مباحث کی طرز ، خلاصہ یہ کہ اس کے تمام حصے بالکل ہم آہنگا ہوں گے۔ چونکہ وہ ایک فکر کی تخلیق اور ایک قلم کی تحریر ہے۔ لیکن اگر دو یا چند افراد ــــــ چاہے وہ سب عالم و دانشمند ہوں اور اکٹھے ایک ساتھ کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں ـــــ ہرایک اس کے ایک حصہ کی تالیف اپنے ذمہ لے تو اس کی عبارات والفاظ کی گہرائیوں میں اور بحثوں کی طرز میں فرق نمایاں ہوگا۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے کیونکہ دونفر چاہے کتنے ہی تو فکر اور ہم سلیقہ ہوں ، پھر بھی وہ دو نفرہیں ۔ اگر ان کی ہر چیز ایک ہوتی تو پھر تو وہ ایک نفر ہوجاتے۔ اس بناء پر قطعی اور یقینی طور پر ان میں فرق ہونا چاہیے تاکہ وہ دو نفر ہوسکیں اور یہ فرق آخر کار اپنا اثر ان کی تحریروں میں مرتب کرے گا۔ اب یہ کتاب پچاہے کتنی ہی بڑی اور مفصل ہو اور نوع بنوع موضوعات کے بارے میں بحث کرتی ہو ، یہ ہم آہنگی بہت جلد محسوس ہوجائے گی ۔ عالم آفرینش کی عظیم کتاب ـــــ کہ جس کی عظمت اس قدر ہے کہ ہم اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کی عبارات کے اندر گم ہوجاتے ہیں ، اس پر بھی یہی قانون جارہی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم اپنی ساری عمر میں بھی اس تمام کتاب کا مطالعہ نہیں کرسکتے ۔ لیکن اتنی ہی مقدار کہ جس کے مطالعہ کی ہمیں اور دنیا کے تمام علما کو توفیق ہوئی ہے ، اس میں ایسی ہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ جو اس کے مؤلف کی وحدت کی بخوبی حکایت کرتی ہے۔ ہم اس عجیب کتاب کی جتنی بھی ورق گردانی کرتے ہیں ، ہر جگہ ایک عالمی نظام ، نظم و ضبط اور ناقابل توصیف ہم آہنگی اس کے کلمات سطور اور صفحات میں نمایاں ہے۔ اگر اس جہاں اور اس کے نظام کو چلانے میں کئی ارادے اور متعدد مبداء کا دخل ہوتا تو اس ہم آہنگی کا پیدا ہونا ممکن نہیں تھا۔ واقعًا خلا سے متعلق علم رکھنے والے خلائی جہازوں کو کامل باریک بینی کے ساتھ فضا میں کیونکہ بیچ دیتے ہیں اور چاند گاڑیوں کو ٹھیک اسی جگہ اتار لیتے ہیں کہ جس کا سائنسی اعتبار سے یقین کیا گیا ہو اور پھرانہیں مقرر شدہ مقام پر زمین کی طرف نیچے لے آتے ہیں ۔ کیا یہ حساب کتاب کی باریکی اس بناء پر نہیں ہے کہ پورے عالم ہستی پر جو نظام حاکم ہے ــــــ وہ دقیق ، منظم اور ہم آہنگ ہے ۔ اوراگر اس میں ذره برابر بھی نا ہم آہنگی زمانے کے لحاظ سے ایک سکینڈ کا سواں حصہ بھی) ہوتی تو ان کے تمام انداز سے درہم برہم ہوجاتے۔ مختصر یہ کہ اگر دو یا چند ارادے عالم پر حاکم ہوتے تو ہر ایک کا الگ تقاضا ہوتا اور ہر ایک دوسرے کے اثر کو ختم کردیتا اور آخرکار سار سے کام کا نظام بگڑ کر رہ جاتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:19-25
ایک سوال اور اس کا جواب
ایک سوال اور اس کا جواب : یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس کا جواب گزشتہ توضیحات سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جہان میں خداؤں کا تعدد اس صورت میں موجب فساد ہے جبکہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں لیکن اگر ہم اس بات کو قبول کرلیں کہ وہ (خدا) حکیم اور آگاہ میں تو حتمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے عالم ہستی کا نظام چلائیں گے۔ اس سوال کا جواب زیادہ پیچیدہ نہیں ہے ۔ ان کا حکیم و دانا ہونا ان کے تعدد کو ختم نہیں کرتا۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ متعدد ہیں تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہر لحاظ سے ایک نہیں ہیں کیونکہ اگر وہ تمام جہات سے ایک ہوں تو پھر وہ ایک خدا پر ہوجائیں گے۔ اس بناء پر جہاں تعدد ہے ، وہاں حتمی طور پر تفاوت اور اختلافات موجود ہوں گے کہ جو چاہنے اور نہ چاہنے (دونوں صورتوں میں) اراده وعمل پر اثرانداز ہوں گے اور جہان ہستی کو حرج مرج اور بگاڑ کی طرف کھینچ کر لے جائیں گے (غور کیجیئے گا)۔ إس برہان تمانع کو دوسری صورتوں میں بھی بیان کیاگیا ہے کہ جو ہماری بحث کی حدود سے باہر ہے اور جو کچھ ہم نے سطوربالا میں بیان کیا ہے وہی بہتر ہے۔ إن استدلالات میں سے بعض کہا گیا ہے کہ اگر دواردے عالم خلقت میں حکم فرما ہوتے ، تو اصلًا کوئی جہان وجود میں ہی نہ آتا ، جبکہ اوپر والی آیت جہان کے فساد اور نظام میں خلل پڑنے سے متعلق گفتگو کر رہی ہے نہ کہ جہان کے موجود نہ ہونے کے بارے میں (غور کیجیئے گا)۔ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اس حدیث میں کہ جو ہشام بن حکم نے امام صادق علیہ السلام نے نقل کی اس طرح بیان ہوا ہے کہ امام سے آیا ہے ایمان کے جواب میں کہ جو خدا کے تعدد کے بارے میں بات کررہا تھا فرمایا: یہ خدا جو تو کہتا ہے یا تو دونوں قدیم و ازلی اور طاقتور ہیں یا دونوں ضعیف و ناتواں ہیں یا ان میں سے ایک قومی ہے اور دوسرا ضعیف و کمزور ہے ، اگر دونوں قوی ہوں تو پھر ان میں سے ہر ایک دوسرے کو ہٹا کیوں نہیں دیتا اور عالم کی تدبیر اکیلا ہی اپنے ہاتھ میں کیوں نہیں لے لیتا اور اگر تیرا گمان یہ ہےکہ ان میں سے ایک قوی ہے اور دوسرا ضعیف ہے تو تونے کی توحید کو قبول کرلیا ہے کیونکہ دوسرا توضعیف و کمزرور ہے لہذا وہ خدا نہیں ہے اور اگر تو یہ کہے کہ وہ دو ہیں تو معاملہ دو حالت سے خالی نہیں ہے یا تو وہ تمام جہات سے متفق ہیں یا مختلف ہیں لیکن جبکہ ہم نظام خلقت کو منظم دیکھ رہے ہیں۔ آسمان کے ستارے اپنے اپنے مخصوص راستوں پر چل رہے ہیں، رات اور دن ایک خاص نظم و ضبط کے ساتھ ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں اور سورج اور چاند پر ایک اپنا ایک خاص نطام رکھتا ہے ، تدبیر جہان کی یہ ہم آہنگی اور اس کے امور کا نظم و ضبط اس بات کی دلیل ہے کہ مدبر عالم ایک ہے. اس سے قطع نظر، اگر تیرا پھر بھی یہی دعوی ہوکہ خدا دو ہیں تو لازمی طور پر ان کے درمیان کوئی فاصلہ (یاکسی قسم کا امتیاز) ہونا چاہئے تاکہ ان کے درمیان دوئی مانی جاسکے ۔ تویہاں یہ فاصلہ (امتیاز) خود ایک تیسرا موجود ازلی ہوجاۓگا اور اس طرح خدا تین ہوجائیں گے اوراگرتم یہ کہو گے کہ وہ تین ہیں تو پھر ان کے درمیان دو فاصلے (امتیاز) ہونے چاہئیں۔ تو اس صورت میں توپانچ قدیم وازلی وجودوں کا قائل ہو جائے گا اور اس طرح سے یہ تعدادبڑھتی ہی چلی جائے گی ، جس کی کوئی حد اور انتہا نہ ہوگی۔ ؎1 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیرنورالثقلین جلد 3 ص 417 ، 418 بحوالہ توحید صدوق - ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس حدیث کی ابتداء میں برهان تمانع کی طرف اشارہ ہے اور اس کے بعد ایک اور دلیل کی طرف اشارہ ہے کہ جسے " برهان فرجه " یا "مابه الاشتراك ومابه امتیاز" کا فرق کہتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں بیان ہواہے کہ هشام بن حکم نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا : ما الدليل على أن الله واحد ؟ قال : اتصال التدبير وتمام الصنع ، كما قال الله عزوجل : لو كان فيهما أنهة الاالله لفسدتا۔ خدا کے ایک ہونے کی کیا دلیل ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : تم تدبیر جہان میں نظم و ضبط اور ہم آہنگی اور خلقت کا ہر طرح سے کامل ہونا، جیسا کہ خدا فرماتا ہے : لوكان فيهما العة الا الله لفسدتا ( اگر آسمان و زمین میں اللہ کے علاوہ اور بھی خدا ہوتے تو نظامِ جہاں بگڑجاتا)۔ ؎1 جب اس استدلال سے کہ جو آیت میں بیان ہوا ہے، عالم کے مدبر اور اس سے چلانے والے کی توحید ثابت ہوگئی تو اس کے بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے ، اس نے اس طرح سے حکیمانہ طور پر جہان کو نظام بخشا ہے کو کسی قسم کے اعتراض و گفتگو کی اس میں گنجائش ہی نہیں ہے ۔ کوئی شخص اس کے کام پر تنقید نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی ( اعتراض کے طور پر) اس سے سوال کرسکتا ہے جبکہ دوسرے اسی طرح نہیں ہیں۔ ان کے افعال و کردار میں بہت سے اعتراضات اور سوالوں کی گنجائش ہے: (لا یسئل عما يفعل وهم يسئلون)۔ اگرچہ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے بہت کچھ کہا ہے لیکن جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے وہ سب سے زیادہ صحیح دکھائی دیتا ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہم دو قسم کے سوال کرتے ہیں ، سوال کی ایک قسم تو وہ ہے جسے توضحیی سوال کہتے ہیں کیونکہ انسان کچھ مسائل سے بے خبر ہوتا ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ ان کی حقیقت معلوم کرے ۔ یہاں تک کہ اس بات کا علم اور ایمان ہونے کے باوجود کہ جو کام انجام پایا ہے وہ ایک صحیح کام ہے ۔ پھر بھی وہ اس کے اصلی هدت کو جاننا چاہتاہے ، اس کے قسم کے سوالات خدا کے افعال کے بارے میں بھی جائز ہیں ۔ بلکہ یہ وہی سوال ہے جو علمی مسائل اور جہان خلقت میں تحقیق و جستجو کا سرچشمہ شمار ہوتا ہے اور اس قسم کے سوالات چاہے عالم تکوین سے تعلق رکھتے ہوں یا تشریع سے ، پیغمبر اکرامؐ اور آئمہ کے اصحاب نے اکثر کیے ہیں۔ باقی رہی سوال کی دوسری قسم ، وہ اعتراضی سوال ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انجام دیا گیا فعل نادرست اور غلط تھا ۔ مثلا ہم اس شخص سے کہ جس نے اپنے عہد وپیمان کو بغیرکسی دلیل کے توڑ دیا ہو ، یہ کہتے ہیں کہ تو عہد شکنی کیوں کرتا ہے ؟ اس سے ہمارا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ہم اس سے وضاحت طلب کر رہے ہیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم اس پر اعتراض کریں۔ مسلمہ طور پر خداوند حکیم کے افعال پر اس کے اعتراضات کوئی معنی نہیں رکھتے اور اگر کبھی کسی سے سرزد ہوجائیں تو حتمی طور پروه نا آگاہی اور جہالت کی وجہ سے ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے افعال میں اس قسم کے سوالات کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیرنورالثقلین جلد 3 ص 417 ، 418 بحوالہ توحید صدوق - ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ایک حدیث میں امام باقر علیه السلام سے منقول ہے کہ اس آیت کے بارے میں جابر جعفی کے سوال کے جواب میں آپؑ فرمایا: لانه لا يفعل الاماكان حكمة وصوابًا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کوئی کام انجام نہیں دیتا مگر یہ کہ اس میں حکمت ہوتی ہے اور وہ بالکل صحیح اور درست ہوتا ہے۔ ضمنی طور پر اس گفتگو سے نتیجہ واضح طور پر نکالا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص دوسری قسم کا سوال کرتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابھی اس نے خدا کو اچھی طرح سے پہنچانا نہیں ہے اور اس کے حکیم ہونے کے بارے میں آگاہ نہیں ہے۔ بعد والی آیت نفی شرک کے سلسلے میں دو دوسری دلیلوں پر مشتمل ہے ۔ گزشتہ دلیل سے مل کر یہ مجموعًا تین دلیلیں ہوجائیں گی۔ پہلے فرمایا گیا ہے ، کیا انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اپنے لیے کچھ اور معبود منتخب کر لیے ہیں ؟ تم کہہ دو کہ تم اپنی دلیل پیش کرو: (أم اتخذ وامن دونه الهة قل هاتوا برهانكم)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر گزشتہ دلیل ہے کہ جس کی بنیاد یہ تھی کہ عالم ہستی کا نظام توحید کی دلیل ہے ، صرف نظرکرلو تو کم از کم شرک اور ان خداؤں کی الوہیت ثابت کرنے کے لیے تو کوئی بھی دلیل موجود نہیں ہے۔ تو پھر عاقل انسان ایسی بات بغیر دلیل کے کیسے قبول کرتا ہے؟ اس کے بعد آخری دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ صرف میں اور میرے ہمراہی ہی نہیں کہ جو توحید کی اس بات کرتے ہیں بلکہ تمام گزشتہ انبیاء اور سب ایمان لانے والے موحد ہی تھے (هذا ذكر من معي وذكر من قبلی)۔ یہ وہی دمیل ہے کہ جسے علماء عقائد نے خدا کی وحدانیت کے مسئلہ پر انبیاء کے اجماع و اتفاق کے عنوان کے ماتحت بیان کیا ہے۔ ممکن ہے کہ کبھی بت پرستوں کی کثرت بعض لوگوں کے لیے توحید قبول کرنے میں مانع ہو خصوصًا ان حالات میں جیسے قبل ہجرت مکہ میں غیرمسلمانوں کو درپیش تھے اور جن کی طرف سورہ انبیاء اشارہ کررہی ہے۔ لہذا قران مزید کہتا ہے : لیکن ان میں سے اکثر حق کو نہیں جانتے اس لیے انہوں نےاس سے منہ پھیرلیاہے : ( بل اكثرهم لا يعلمون الحق فهم معرضون)۔ بہت سے معاشروں میں نادان اکثریت کی مخالفت کرنا ہمیشہ بے خبر لوگوں کے یہ روگردانی کے مترادف قرار دی جاتی رہی ہے اور قرآن نے بہت سی مکی اور مدنی آیات میں اس اکثریت کے طرز عمل کو بنیاد بنانے کی شدت کے ساتھ مذمت کی ہے اوراس کی نظر میں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ وہ دلیل و منطق کو ہی معیار سمجھتا ہے۔ ممکن ہے کہ بعض بے خبر یہ کہنے لگیں کہ ہمارے سامنے عیسٰی جیسے انبیاء بھی ہیں کہ جنہوں نے متعدد خداؤں کی طرف دعوت دی ہے، تو قرآن آخری زیر بحث آیت میں کہتا ہے : ہم نے تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر ایسا نہیں بھیجا کہ جس کے پاس یہ وحی نہ آئی۔ ہو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، لہذا میری ہی عبادت کرو (وما ارسلنا من قبلك من رسول الانوحي اليہ انه اله الا انا فاعبدون)۔ اس طرح سے یہ ثابت ہوگیا کہ نہ عیسٰی نے اورنہ ہی ان کے علاوہ کسی اور پیغمبر نے کبھی شرک کی دعوت دی تھی اور اس قسم کی نسبتیں تہمتیں ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:19-25
سورہ انبیاء / آیه 19 - 25
(19) وَلَـهٝ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ وَمَنْ عِنْدَهٝ لَا يَسْتَكْبِـرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَلَا يَسْتَحْسِرُوْنَ (20) يُسَبِّحُوْنَ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ لَا يَفْتُـرُوْنَ (21) اَمِ اتَّخَذُوٓا اٰلِـهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُـمْ يُنْشِرُوْنَ (22) لَوْ كَانَ فِيْـهِمَآ اٰلِـهَةٌ اِلَّا اللّـٰهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَانَ اللّـٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ (23) لَا يُسْاَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُـمْ يُسْاَلُوْنَ (24) اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٓ ٖ اٰلِـهَةً ۖ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ ۖ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِىَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِىْ ۗ بَلْ اَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ الْحَقَّ ۖ فَهُـمْ مُّعْرِضُوْنَ (25) وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُـوْحِىٓ اِلَيْهِ اَنَّهٝ لَآ اِلٰـهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ترجمہ (19) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ کبھی اس کی عبادت پرگھمنڈ نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں۔ (20) رات دن تسبیح میں لگے رہتے ہیں اور کمزروی اور کاہلی نہیں دکھاتے۔ (21) کیا انہوں نے ایسے زمینی خدا بنالیے ہیں کہ جو پیدا کرکے انہیں پھیلاتے ہوں ۔ (22) اگر آسمان و زمین میں خدا کے سوا اور کئی خدا ہوتے ، تو ان دونوں کا نظام بگڑ جاتا۔ (اور دنیا کا نظام درہم برہم ہوجاتا)۔ یہ لوگ جو تو صیفات بیان کر رہے ہیں ، عرش کا پروردگار اللہ ان تمام باتوں سے منزہ اور پاک ہے۔ (23) کوئی شخص اس کے کام پر اعتراض نہیں کرسکتا جبکہ ان کے کاموں پر اعتراض ہو سکتا ہے۔ (24) کیا انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود اختیار کر لیے ہیں ۔ تم کہہ دو کہ اپنی دلیل لاؤ ، یہ تو میری اور ان (پغیمبروں) کی بات ہے کہ جو مجھ سے پہلے تھے لیکن ان میں سے اکثر حق نہیں سمجھتے اسی وجہ سے وہ اس سے روگردان ہو جاتے ہیں۔ (25) ہم نے تجھ سے پہلے کوئی بھی پیغمبر ایسا نہیں بھیجا جس کی طرف ہم نے یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں ہےلہذا میری ہی عبادت کرو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:19-25
شرک خیال آرائی سے شروع ہوتا ہے
تفسیر شرک خیال آرائی سے شروع ہوتا ہے : گزشتہ آیات میں اس حقیقت کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی کہ عالم بھی بغیر هدف و مقصد کے نہیں ہے ، نہ مذاق اور کھیل تماشہ ہے اور نہ ہی لہو و لعب. بلکہ یہ انسانوں کے لیے ایسا جچا تلا ھدف کمال رکھتا ہے۔ ممکن ہے یہ توہم پیدا ہوکہ خدا کو ہمارے ایمان اور عبادت کی کیا ضرورت ہے لہذا زیر بحث آیات پہلے اسی بات کا جواب دیتی ہیں اور کہتی ہیں : تمام (ذوی العقول) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ، اسی کی ملکیت میں : ( وله من في السماوات والارض)۔ اور وہ فرشتے کہ جو مقریان بارگاه الٰہی میں کبھی بھی اس کی عبادت پر تکبر نہیں کرتے اور نہ کبھی تھکتے ہیں: ( ومن عندہ لا يستكبرون عن عبادته ولا يتحسرون)۔ ؎1 وہ ہمیشہ رات دن تسبیح میں لگے رہتے ہیں اور معمولی کمزوری اور کاہلی بھی وہ اپنے پاس نہیں آنے دیتے۔ (يسبحون الليل والنهار لايفترون)۔ ان حالات میں اسے تمہاری اطاعت و عبادت کی کیا ضرورت ہے۔ یہ سب عظیم فرشتے شب و روز اس کی تسبیح میں لگے ہوتے ہیں بلکہ وہ تو ان کی عبادت کا بھی محتاج نہیں ہے. لہذا اگر اس نے تمہیں ایمان عمل صالح ، بندگی اور عبودیت کا حکم دیا ہے تو اس کا فائدہ تمھارے ہی لیے ہے۔ یہ نکتہ بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ ظاہری غلامی کے نظام میں غلام جتنا آقا سے نزدیک ہوگا ، اتنا ہی اس کا خضوع کم ہوتا چلا جائے گا کیونکہ وہ اب آقا کا خاص ہوگیاہے اور اسے اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ لیکن"خلق" اور "خالق" کے نظام عبودیت میں معاملہ برعکس ہے ۔ فرشتے اور اولیاء خدا جتنا خدا سے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں ان کا مقام عبودیت بڑھتا جاتا ہے۔ ؎2 جب گزشتہ آیات میں عالم ہستی کے فضول اور بے مقصد ہونے کی نفی ہوچکی اور یہ ثابت ہوگیا کہ یہ عالم ایک مقدس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے ، تو اس کے بعد زیر بحث آیات میں اس جہان کے مدبر و مدیر اور وعدت معبود کا مسئلہ شروع کرتے ہوئے فرمایاگیاہے: کیا انہوں نے زمین پر کچھ خدا بنالیے ہیں، ایسے خدا کہ جو موجودات کو تخلیق و حیات عطا کریں ۔ اور جہان ہستی میں انہیں پھیلا سکیں: (ام اتخذوا ألهة من الارض هم ينشرون)۔ ؎3 یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ معبود وہی ہونا چاہیے کہ جو خالق ہو ۔ خاص طور پر حیات کا خالق کیونکہ حیات خلقت کے روشن ترین چہروں میں سے ہے۔ یہ حقیقت میں اسی چیز کے مشابہ ہے کہ جو سوره حج کی آیہ 73 میں بیان ہوئی ہے ان الذين تدعون من دون الله لن يخلقوا ذبابًا ولواجتمعوا له " ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "ليتحسرون" "حسر" کے مادہ سے اصل میں پوشیدہ چیز کو کھولنے اور جس میں وہ تھی اسے الگ کر دینے کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ بعدازاں خستگی ، تکان اور ضعیف کے معنی میں بولا جانے لگا. گویا اس حالت میں انسان کی سب قوتیں آشکار اور خرچ ہوجاتی ہیں اور ان میں سے کوئی چیز اس کے بدن میں چھپی ہوئی نہیں رہتی۔ ؎2 الميزان ، زیر بحث آیات کے ذیل میں۔ 3- "ينشرون" ماده "نشر" کے پیچده چیزوں کو پھیلانے کے معنی میں ہے اور زمین و آسمان کی وسعتوں میں مخلوقات کو پیدا کرنے اور پھیلانےکے لیے بھی کنایہ کے طور پر بولا جاتا ہے . بعض مفسرین کا اس بات پر اصرار ہے کہ یہ لفظ "معاد" اور مردوں کے دوبارہ زندہ ہوکر اٹھ کھڑا ہونے کی طرف اشاره هے. حالانکہ بعد والی آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ امر واضح ہوجاتے ہے گفتگو خدا کی پاک ذات کی توحید اور معبود حقیقی کے بارے میں ہے ، نہ کہ معاد اور موت کے بعد کی زندگی کے متعلق۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- وہ تمام معبود کہ جنہیں تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تو اتنی بھی قدرت نہیں رکھتے کہ ایک مکھی ہی خلق کرسکیں ، چاہے وہ سب کے سب اسی کے لیے اکٹھے ہی کیوں نہ ہوجائیں ، اس حال میں وہ کیسے لائق عبادت ہوسکتے ہیں۔ " ألهة من الارض" (زمین میں سے کچھ خدا) کی تعبیر بتوں اور ان معبودوں کی طرف اشارہ ہے کہ جنہیں لوگ پتھر لکڑی وغیره سے بناتے تھے اور انہیں آسمانوں پر جا کر خیال کرتے تھے۔ بعد والی آیت مشرکین کے بہت سے معبودوں اور خداؤں کی نفی کے لیے ایک نہایت روشن دلیل کو اس طرح سے بیان کرتی ہے: اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور بھی کوئی معبود اور خدا ہوتا ، تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا۔ اور نظام جہاں درہم برہم ہوجاتا (لوكان فيهما ألهة الا الله لفسدتا)۔ عرش کا پروردگار خدا اس توصیف سے کہ جو وہ کرتے ہیں منزہ اور پاک ہے" (فسبحان الله رب العرش عما يصفون)۔ یہ ناروا نسبتیں اور یہ بناوٹي خدا اور خیالی معبود اوهام و خیالات سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے اور اس کی پاک ذات کی کہ کبریائی کا دامن ان ناروا نسبتوں سے آلودہ نہیں ہوسکتا۔