وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ
We did not create the sky and the earth and whatever is between them for play.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:16
[Pooya/Ali Commentary 21:16] Refer to the commentary of An-am: 70. The universe is not the outcome of a wish to indulge in pastime, but is created with wisdom and purpose, and is a serious reality to be reckoned with. This repudiates the doctrines of maya and lila and their implications. If such an idea as that of play or pastime had been possible with regard to Allah, and if He had wished really to indulge in pastime, He would have done it with the things of real excellence near to Him, not with the lowly creation that we see around us. Aqa Mahdi Puya says: Man tries to perceive Allah in the light of his own thoughts, feelings and urges, therefore, he thinks that like him, Allah also takes pleasure in fun and frolic and created the creation for His amusement as the "authorities" in his society amuse themselves with women, children and other sensuous pleasures. If at all the purpose is amusement, what amuses Allah is quite different from that which amuses man. Verse 18 asserts the seriousness of the purpose. Mimma tasifun (what you ascribe) refers to the false belief of associate-gods (Anbiya: 22), begotten son (Anbiya: 26) and Allah's daughters (Nahl: 57).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:16-18
ایک نکتہ
ایک نکتہ : مقصد خلقت : مادیئین خلقت کے بارے میں کسی هدف و مقصد کے قائل نہیں ہیں ـــ کیونکہ وہ بے عقل و شعوراور بے هدف ومقصد ، طبیعت کو مبداء خلقت سمجھتے ہیں - لہذا وه پوری ہستی کے بے فائدہ اور فضول ہونے سے داعی ہیں ان کے برعکس فلاسفر الٰہی اور ادیان آسمانی کے پیروکار سب کے سب آفرنیش و خلقت کے لیے ایک اعلٰى مقصد کا عقیدہ رکھتے ہیں کیونکہ عالم اور قادر حکیم مبداء سے یہ امر محال ہے کہ وہ کوئی کام بخیر هدف و مقصد کے انجام دے . اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ هدف و مقصد کیا ہے ؟ بعض اوقات ہم خدا کے اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے اس تو ہم میں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ شاید خدا میں کوئی کمی تھی کہ عالم ہستی کی خلقت سے ، کہ جس میں سے ایک انسان بھی ہے ، اس کی تلافی کرنا چاہتا تھا۔ کیا وہ ہماری عبادت و پرستش کا محتاج ہے ؟ کیا وہ یہ چاہتا پہچانا جائے ، اس لیے اس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے ، تاکہ وہ پہچانا جائے اوراس کی شناخت ہو ؟ لیکن جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ ایک عظیم اشتباہ ہے کہ جو "خدا" کے "خلق" پر قیاس کرنے سے پیدا ہوتا ہے ۔ جبکہ صفات خدا کی شناخت اور معرفت کی بحث میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی غلط قسم کا قیاس ہے ۔ لہذا اس بحث میں پہلی بنیاد یہ ہے کہ ہم یہ جائیں کہ وہ کسی چیز میں ہم سے مشابہت نہیں رکھتا۔ ہم ہر نظر سے ایک محدود وجود ہیں اور اسی وجہ سے ہماری تمام کوششیں اپنی خامیوں اور نقائص کو دور کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں تاکہ پڑھے لکھے ہو جائیں اور ہماری علم کی کمی دور ہوجائے۔ کاروبار کے لیے جاتے ہیں تاکہ فقرو فاقہ اور ناداری کا مقابلہ کرسکیں۔ فوج اور قوت مہیا کرتے ہیں تاکہ دشمن سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنی قدرت و طاقت کی کمی کی تلافی کریں۔ یہاں تک کہ معنوی مسائل اور تہذیب نفس اور مقامات روحانی کی سیر بھی ، خامیوں اور نقائص کو دور کرنے کی بھی کوششیں ہیں۔ لیکن کیا وہ ہستی جو ہر لحاظ سے غیرمحدود ہے جس کا علم و قدرت اور قومیں بے انتہا نہیں، اور کسی لحاظ سے بھی جسم میں کوئی کمی نہیں ہے کیا یہ بات اس کے یہ کہنا معقول ہے کہ وہ کوئی کام اپنی کمی کو دور کرنے کے لیے کرے؟ اس تجزیے سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایک طرف تو آفرنیش وخلقت بے هدف و مقصد نہیں ہے اور دوسری طرف سے یہ ھدف و مقصد آفرید گار و خالق سے متعلق نہیں ہے۔ تواب آسانی کے ساتھ یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ حتمًا اور بلاشک و شبہ یہ هدف و مقصد ایسی چیز ہے کہ جو خود ہمارے ہی ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ إس تمہید پرتوجہ کرتے ہوئے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ غرض خلقت ہمارے ہی تکامل و ارنقا اور بلندی کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے دوسرے لفظوں میں عالم ہستی ایک ایسی یونیورسٹی ہے کہ جو ہمارے علم کی تکمیل کے لیے بنائی گئی ہے۔ تربیت کے لحاظ سے ایک ایسی یونیورسٹی ہے کہ جو ہمارے نفوس کی تہذیب کے لیے ہے ۔ معنوی در آمدات کو کسب کرنے کے لیے یہ ایک تجارت خانہ ہے۔ انسان کی طرح طرح کی ضروریات کی پیدائش کے لیے ایک زرخیز زمین ہے۔ ہاں! الدنيا مزرعة الأخرة .. .. .. .. .. .. الدنيادار صدق لمن صدقها و دارغني لمن تزود منها ودارموعظة لمن اتعظ منها دنیا آخرت کی کھیتی ہے، دنیا سچائی کا گھر ہے جو اس سے سچ بولے، تو نگری کا گھر ہے جو اس سے زاد راہ اور توشہ آخرت حاصل کرے اور وعظ ونصیحت کا گھر ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔ ؎1 یہ قافلہ عالم عدم سے چلا ہے اور مسلسل لامتناہی منزل کی طرف بڑھا چلا جارہا ہے۔ قرآن مجید مختصر اور بہت معنی خیز اشارات کے ذریعہ مختلف آیات میں ، ایمان تو خلقت و آفرینشن میں هدف ومقصد کے اصل وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری طرف اس ھدف و مقصد کو مشخص بھی کررہا ہے۔ پہلے حصے میں کہتاہے : أيحسب الانسان ان يترك سدًى کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ وہ مہمل پیدا کیا گیا ہے ، اور فضول چھوڑ دیا جائے گا۔ (قیامت - 32) افحسيتم انمالخلقنكم عبثًا وانكم الینالا ترجعون ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغہ کلمات قصار نمبر 131۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کیاتم نے یہ خیال کرلیا ہے کہ ہم نے نہیں عبث اور فضول پیدا کیا ہے ، اورتم ہماری طرف لوٹ کرنہ آؤ گے۔ (مومنوں / 115)۔ وماخلقنا السماوالارض وما بينهما باطلا ذالك ظن الذين كفروا ہم نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ باطل اور فضول پیدا نہیں کیا ہے یہ تو کافروں کا گمان ہے. (ص / 27 )۔ اور دوسرے حصہ میں کبھی تو آیات قرآن میں آفرنیش کا ھدف و مقصد خدا کی عبودیت اور بندگی کو قرار دیا ہے: وماخلقت الجن والانس الاليعبدون میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ (ذاریات - 56) یہ بات واضح ہے کہ عبادت انسان کی مختلف جہات سے تربیت کا ایک مکتب ہے ۔ عبادت کا وسیع معنی ہے ، فرمان خدا کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ۔ اس لحاظ سے عبادت انسان کی روح کو گوناں گوں مراحل میں تکامل و ارتقاء بخشتی ہے۔ اس کی تفصیل ہم عبادات سے مربوط مختلف آیات کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں۔ اور بھی کہتا ہے: خلقت کاهدف ومقصد آگاہی و بیداری اور تمہارے سے ایمان و اعتقاد کی تقویت ہے: الله الذي خلق سبع سماوات ومن الارض مثلهن يتنزل الأمر بينهن لتعلموا ان الله على كل شي قدير خدا وہی توہے کہ جس نے سات آسمان اور انہی کے مانند زمنیں پیدا کی ہیں، اس کا حکم ان میں جاری و ساری ہے ۔ یہ سب کچھ اس لیے تھا تاکہ تم جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے ۔ (اطلاق -12)۔ اور کبھی کہتا ہے کہ خلقت کا مقصد تمہارےحسن عمل کی آزمائش ہے : الذي خلق الموت والحيوة ليبلوكم ايكم احسن عملًا خدا وہی تو ہے کہ جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں حسن عمل کے میدان میں آزمائے اور تمهاری تربیت کرے۔ (ملک / 3 ) مندرجہ بالا تینوں آیات میں سے ہر ایک انسانی وجود کی کسی ایک جہت ( آگاہی وایمان ، اخلاق اور عمل) کی طرف اشارہ کرتی ہے اورہرا ایک خلقت کے تکاملی و ارتقائی مقصد کو بیان کرتی ہے کہ جس کی بازگشت خود انسان طرف ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ لفظ "تکامل" آیات قرآن میں ان مباحث میں بیان نہیں ہوا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ایک وارداتی فکر ہو۔ لیکن اس اعتراض کا جواب واضح ہے کیونکہ ہم خاص الفاظ کی قید میں پابند نہیں ہیں اور مندرجہ بالا آیات میں تکامل کے مصادیق اچھی طرح روشن ہیں ۔ کیا علم و آگاہی اس کا واضح مصداق نہیں ہے اور اسی طرح عبودیت ، اور حسن عمل میں پیش رفت۔ سوره محمد کی آیہ 17 میں بیان ہوا ہے : والذين اهتد وازادهم هدًی۔ وہ لوگ کہ جو راہ ہدایت پر آگئے ، خدا ان کی ہدایت میں اضافہ کردیتا ہے۔ کیا اضافہ کی تعبیر تکامل و ارتقاء کے علاوہ کوئی اور چیز ہے ؟ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر هدف و مقصد تکامل و ارتقاء ہی تھا تو پھر خدا نے انسان کو ابتداء میں ہی کیوں تمام جہات میں کامل پیدا نہ کر دیا تاکہ تکامل کے مراحل کو طے کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی؟ اس اعتراض کی بنیاد اس نکتے سے غفلت ہے کہ تکامل کی اصلی شاخ " تکامل اختیاری" ہے۔ دوسرے لفظوں میں تکامل یہ ہے کہ انسان راتہ اپنے پاؤں اور اپنے اراده و اختیار سے طے کرے ۔ اگر اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی آگے لے جایا جائے تو یہ نہ باعث فخر ہے اور نہ ہی تکامل و ارتقاء مثلا اگر انسان ایک روپیہ اپنی خواہش اور اراده و اختیار کے ساتھ خرچ کرے تو اس نے اسی نسبت سے اخلاقی کمال کی راہ طے کی ہے۔ جبکہ اگر اس کی دولت میں سے لاکھوں روپے جبرًا چھین کر خرچ کر دیئے جائیں تو اس نے ایک قدم بھی اس راہ تکامل میں آگے نہیں بڑھایا ہے۔ لہذا قرآن مجید مختلف آیات میں یہ حقیقت کھول کربیان کی گئی ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام لوگ جبری طور پر ایمان لے آئے ، لیکن اس ایمان کا ان کے لیے کوئی فائدی نہ ہوتا : ولو شاء ربك لامن من في الأرض كلهم جمیعًا ( یونس - 99)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:16-18
آسمان و زمین کی خلقت کھیل نہیں ہے
تفسیر آسمان و زمین کی خلقت کھیل نہیں ہے : کہ گزشتہ آیات میں یہ حقیقت بیان ہوئی تھی کہ ظالم بے ایمان اپنی خلقت کے بارے میں سوائے عیش و عشرت کے کسی مقصد کے قائل نہیں تھے اور حقیقتًا اس جہان کوبے مقصد خیال کرتے تھے ۔ قرآن مجید زیر بحث آیات میں اس طرز فکر کو باطل قرار دینے اور پوری کائنات خصوصًا انسانوں کی خلقت کے لیے گراں قدر مقصد ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے : ہم نے آسمان و زمین جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے فضول اور بے ہودہ پیدا نہیں کیا ہے : ( وما خلقنا السماء والأرض وما بينهما لاعبین)۔ یہ پھیلی ہوئی زمین یہ وسیع آسمان اور ان میں موجود یہ قسم قسم کی موجودات ،اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کوئی اہم مقصد پیش نظر تھا۔ ہاں! مقصد تھا اور وہ یہ تھا کہ ایک طرف تو وہ اس عظیم پیدا کرنے والے کے وجود کا ثبوت بنیں اور دوسری طرف سے "معاد کے لیے دلیل بنیں رونہ یہ سب شور و غل چند دن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انسان کسی بیابانی کے وسط میں تمام وسائل سے آراستہ و پیراستہ ایک محل بنائے ، صرف اس غرض سےکہ تمام عمر میں جو ایک گھنٹے کے لیے وہاں سے گزرے گا، تو اس میں آرام کرے گا۔ مختصر یہ ہے کہ اگر ہم اس باعظمت جہان کو بے ایمان لوگوں کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ فضول اور بے مقصد ہے ، صرف مبداء و معاد پر ایمان ہی ہے کہ جواسے با مقصد بناتا ہے۔ بعد کی آیت کہتی ہے کہ اب جبکہ یہ بات مسلم ہوگئی کہ عالم بے مقصد نہیں ہے ، یہ بھی مسلم ہے کہ اس خلقت کا مقصد خدا کا خلقت کے کام میں سرگرم اور مشغول رہنا نہیں ہے کیونکہ اسی سرگرمی اور مشغولیت غیرمعقول ہے " بفرض محال اگر ہم چاہتت کہ اپنے لیے کوئی سرگرمی ڈھونڈیں ، تو ایسی چیز کا انتخاب کرتے کہ جو ہمارے لیے مناسب ہوتی" (لو اردنا ان نتخذ لهوا لاتخذناه من لدنا ان كنا فاعلين)۔ حقیقت میں لفظ "لعب" بے مقصد کام کے معنی میں ہے اور" لهو" تا معقول مقاصد اور سرگرمیوں کی طرف اشارہ ہے۔ زیر بحث آیت دوحقائق کو بیان کرتی ہے۔ اول تو لفظ "لو" کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو لغت عرب میں امتناع کے لیے ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ امر محال ہے کہ پروردگار کا مقصد اپنے آپ کو مشغول رکھنا ہو۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے : فرض کریں کہ اگر مقصد مشغول رہنا ہو ، تو یہ سرگرمی اس کی ذات کے شایان شان ہونا چاہیئے عالم مجردات اور اسی قسم کی چیزوں میں سے ، نہ کہ اس عالم سے کہ جو مادہ میں محدود ہے . ؎1 اس کے بعد قطی اور دو ٹوک الفاظ میں ان احمقوں کے اوہام کو باطل کرنے کے لیے کہ ہجودنیا کو بے مقصد صرف مشغول اور سرگرم رہنے کا ذریعہ خیال کرتے ہیں، قرآن اس طرح کہتا ہے : جہان ایک ایسا مجموعہ ہے کہ درحقیقت و واقعیت ہے ، یہ ایسا نہیں ہے کہ جس کی بنیاد باطل پہ ہو بلکہ ہم بحق کو باطل کے سر پر دے پٹکیں گے تاکہ اس سے نابود اور ہلاک کر دے اور باطل محو و نابود ہوجائے: (بل نقذف بالحق على الباطل فيد منه فاذا هو زاهق)۔ اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے ، لیکن تم پر وائے ہو ، اس توصیف پر، کہ جو تم عالم کے لیے بے مقصد ہونے کے بارے میں کرت ہو (ولكم الويل مماتصفون)۔ یعنی ہم ہمیشہ بے ہودگی کی طرف مائل لوگوں کے خیالات دادحام کے مقابلے میں عقلی دلائل. واضح استدلالات اور اپنے آشکار معجزات پیش کرتے ہیں تاکہ غور و فکر کرنے والوں اور صاحبان عقل کی نظروں میں، یہ خیالات اوہام درہم برہم ہوجائیں۔ خدا کی معرفت سے دلائل روشن ہیں ۔ معادکےبرپا ہونے کے دلائل آشکار ہیں ۔ انبیا کی حقانیت سے برابین واضح ہیں۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کچھ مفسرین نے زیر نظر آیات کو عیسائیوں کے عقائد کی نفی کی طرف اشارہ سمجھا ہے ، یعنی لہو کو بیوی اور بیٹے کے معنی میں لیا ہے اورانہوں نے کہا ہے کہ آیت ان کے جواب میں کہہ رہی ہے کہ اگر ہم چاہتے کہ بیٹا اور بیوی کا انتخاب کرتے، تو نوع انسانی میں سے انتخاب نہ کرتے لیکن پر تفسیرکئی جہت سے مناسب نظر نہیں آتی ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ زیر بحث آیات کا ربط گزشتہ آیات سے منقطع ہوجائے گا اور دوسرا یہ کہ "لہو" خصوصًا جب " لعب" کے بعد قرار پائے تو سرگرمی اور مشغولیت کے معنی میں ہوتا ہے ، نہ کہ بیوی بیٹے کے معنی میں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اور درحقیقت ان لوگوں کے لیے کہ جو ہٹ دھرم اور بہانہ باز نہیں میں حق باطل سے کامل طور پر الگ اور نمایاں ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ "نقذفه " "قذف" کے مادہ سے پھینکنے کے معنی میں ہے ، خصوصًا دور سے پھینکنا اورچونکہ دور سے پھینکنا ،تیزی، سرعت اور زیادہ قوت رکھتاہے ، یہ تعبیرحق کی باطل پر کامیابی کی قدرت کو بیان کرتی ہے۔ لفظ "علٰى" بھی اسی معنی کی تائید کرتا ہے کیونکہ عام طور پر محافظ "علو" اور بلندی کے مقام پر استعمال ہوتا ہے۔ "یدمنه" کا جملہ، راغب کے قول کے مطابق کو کھوپڑی کو توڑنے کے معنی میں ہے ، جو کہ انسانی بدن کا حساس ترین مقام شمار ہوتا ہے۔ یہ لشکر حق کے غالب ہونے کی عمدہ تعبیر ہے۔ آنکھوں سے دکھائی دینے والا قطعی اور ظاہر بظاہر غلبہ۔ "اذا" کی تعبیر یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ایسی جگہ بھی کہ جہاں یہ توقع ہی نہ ہوکہ حق کامیاب ہوگا ، وہاں ہم ایسا انجام دیتے ہیں۔ "زاهق" کی تعبیر اس چیز کے معنی میں ہے کہ جو کلی طور پر مضمحل ہوجائے نیز اس مقصد کے لیے یہ بھی ایک تاکید ہے۔ اور یہ بات کہ "نقذف" اور " يدمغ" کے الفاظ فعل مضارع کی شکل میں کیوں آئے ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ اس عمل کے استمرار ، تسلسل اور ہمیشگی کی دلیل ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:16-18
سورہ انبیاء / آیه 16 - 18
(16) وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُمَا لَاعِبِيْنَ (17) لَوْ اَرَدْنَـآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَـهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَّـدُنَّـآ ۖ اِنْ كُنَّا فَاعِلِيْنَ (18) بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٝ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ ترجمہ (16) ہم نے آسمان و زمین اور کچھ ان کے درمیان سے کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ (17) بفرض محال اگر ہم چاہتے بھی کہ کوئی سرگرمی ڈھونڈیں، تو اپنے شایان شان کسی چیز کا انتخاب کرتے۔ (18) بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تاکہ اسے ہلاک کر دیں اور اس طرح باطل نابود ہو جاتا ہے لیکن تم پر وائے ہو اس توصیف پر کہ جو تم کرتے ہو۔