يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ
The day We shall roll up the heaven, like rolling of the scrolls [meant] for writings. We will bring it back just as We began the first creation—a promise [binding] on Us. [That] indeed We will do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 21:104
[Pooya/Ali Commentary 21:104] The universe will be folded up like a scroll of parchment. Then Allah will create a new phase of life. "Is not He who created the heavens and the earth able to create the like of these? Yes. He is the supreme creator, the all-wise." (Ya Sin: 81) Aqa Mahdi Puya says: Khalqin may be an infinitive, i.e. creation, but it can also be a noun, i.e., creature. Here it means "creature", otherwise the use of the word "first" (awwal) with the verb "began" or "started" (badana) would be meaningless or immature. "As we started the first creature we will return it" is the true translation. Therefore there is an order in the system or process of creation, about which there are traditions as to which was the first creature in the order of creation.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:104
جب آسمانوں کو لپیٹ دیا جائے گا
تفسیر جب آسمانوں کو لپیٹ دیا جائے گا: گزشتہ بحث کی آخری آیت میں تھا کہ سچے مومنین عظیم وحشت سے غمگین نہیں ہونگے۔ یہاں پر اس بڑی وحشت کے دن کا ایک اور رخ پیش کیا جارہا ہے اور درحقیقت اس وحشت کی عظمت کی علت کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ معاملہ اس دن حقیقت کی صورت اختیار کرلے گا کہ جب ہم آسمانوں کو اس طرح سے لپیٹ دیں گے کہ جس طرح خطوں کولپیٹا جاتا (يوم نطوي السماء كطى السجل للكتب)۔ ؎1 گذشتہ زمانے میں خطوط لکھنے کے لیے اور اسی طرح کتابیں لکھنے کے لیے ، طومار (لپیٹے ہوئے کاغذ) کی طرح کے اوراق استعمال ہوتے تھے . ان طور ماروں کو لکھنے ہوتے تھے۔ ان طوماروں کو لکھنے سے پہلے لپیٹ دیتے تھے اور لکھنے والا بتدریج آہستہ آہستہ اسے ایک طرف سے کھینچتا رہتا تها اور جو مطالب اسے لکھنا ہوتے تھے اس کے اوپر لکھا کرتا تھا اور لکھائی ختم ہونے کے بعد پھر انہیں لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا جاتا تھا۔ لہذا ان کے خطوط اور کتابیں بھی طومار کو "سبحل" کا نام دیا جاتا تھا کہ جس کو لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس آیت میں، دنیا کے اختتام پر ، عالم ہستی کے لپیٹ دیئے جانے کی ، ایک لطیف تشبیہ ہے۔ اس وقت اوراق سے یہ طومار کھلے ہوئے ہیں اور اس کے تمام نقوش اور خطوط پڑھے جارہے ہیں اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر قائم اور برقرار ہے لیکن جب قیامت کا حکم ہوجائے گا تو یہ عظیم طومار اپنے تمام خطوط ونقوش کے ساتھ لپیٹ دیئے جائیں گے۔ البتہ دنیا کے لپٹیے جانے کا معنی اس کا مٹنا اور نابود ہونا نہیں ہے ، جیسا کہ بعض نے خیال کر رکھا ہے۔ بلکہ اس کا درہم برہم ہوکر مل جانا اور اکٹھا ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس جہان کی شکل وصورت تو بھگڑ جائے گی ، لیکن اس کا ماده نابود اور ختم ہوگا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو آیات معاد کی مختلف تعبیرات سے اچھی طرح واضح ہوتی ہے مثلًا انسان کا بوسیده ہڈیوں اور قبروں سے اٹھنا ــــــــــــ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ:" جس طرح ہم نے اسے ابتدا میں پیدا کیا ہے ( اسی طرح) دوبارہ پلٹائیں گے" یہ کام هماری عظیم قدرت کے سامنے کوئی مشکل نہیں ہے (اكما بدأنا اول خلق نعيده) - درحقیقت یہ تعبیر اس تعبیر کے مشابہ ہے کہ جو سوره اعراف کی آیه 29 میں ہے: كما بدأكم تعودون جس طرح سے اس نے تمہیں ابتداء میں پیدا کیا اسی طرح لوٹائے گا ۔ اسی طرح: وهوالذي يبدؤاالخلق ثم يعبده وهو أهون عليه اور وہی ذات تو ہے جس نے خلقت کی ابتداء کی ، پھر اس کو لوٹائے گا اور یہ اس کے لیے زیادہ آسان ہے (روم ــــــــ 27)۔ ؎2 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "سجل" (بروزن "سطل") بڑے اور پانی سے بھرے ہوئے ڈول کے معنی میں ہے، اور "سجل" (سین اور جیم کی زیر اور لام کی شد کے ساتھ) ان پتھروں کے ٹکڑوں کے معنی میں ہے کہ جن کے اوپر لکھا جاتا تھا ، اس کے بعد ان تمام اوراق کو کہ جن پر مطالب لکھتے ہیں کہا گیا ہے (مفردات راغب و قاموس) اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہیے کہ "کطى السجل للكتب" کے جملہ کی ترکیب میں کئی احتمال دیئے گئے ہیں ، لیکن سب سے زیادہ مناسب یہی ہے کہ "طی" جو کہ مصدر ہے "سجل" کی طرف جو کہ اس کا مفعول ہے ، مضاف ہے ، اور " للكتب" میں جو لام ہے وہ اضافت کی ہے یا بیان علت کے لیے ۔ (غور کیجیئے گا) . البتہ جیسا کہ پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا ہے کہ خدا کی لامتناہی قدرت کے بارے ہیں "مشکل اور آسان" کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ سب کچھ ایک جیسا ہے، اس بناء پر جو تعبیر مذکورہ بالا آیت میں آئی ہے ، حقیقت میں انسانوں کی نظر کی لحاظ سے ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ جو بعض مفسرین نے احتمال پیش کیا ہے کہ اس بازگشت سے مراد فنا و نابودی کی طرف بازگشت یا آغاز آفرنیش کی طرح آپس میں لپیٹ دینا ہے، بہت ہی بعید نظر آتا ہے۔ اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : یہ وہ وعدہ ہے کہ جو ہم نے کیا ہے اور یقینًا ہم اسے انجام دیں گے۔ (وعدًا علينا اناكنا فاعلين)۔ ؎1 بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کی پہلی صورت میں باز گشت سے مراد یہ ہے کہ انسان درباره ننگے پاؤں اورعریاں ــــ جیسا کہ ابتدائے خلقت میں تھے ـــــ پلٹ کرآئیں گے لیکن بلاشک اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ آیت کا مفہوم اسی معنی میں منحصر ہے ، بلکہ بہتر مخلوق کے پہلی صورت میں لوٹنے کی ایک شکل ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "وعدًا" "وعدنا" کا مفعول ہے جوکہ مقدرہے یہ جملہ حقیقت میں چند قسم کی تاکید میں لیے ہوئے ہے ، مثلًا "وعدًا" "علينا" (ہم پر) پھر "انا" کے ساتھ تاکید اور دوسرے "كنا " میں فعل ماضی کا استعمال اور اسی طرح " فاعلين" کا لفظ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:104
سورہ انبیاء / آیه - 104
(104) يَوْمَ نَطْوِى السَّمَآءَ كَطَىِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَاْنَـآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٝ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ اِنَّا كُنَّا فَاعِلِيْنَ ترجمہ (104) وہ دن کہ جب ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے خطوط کے کاغذوں کو آپس میں لپیٹا جاتا هے. (پھر) جس طرح سے ہم نے خلقت کی ابتداء کی تھی ، اسی طرح سے اسے واپس لوٹائیں گے۔ یہ وہ وعدہ ہے کہ جو ہم نے کیا ہے اور ہم یقینی طور پر اسے انجام دیں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:104
2- مزامیر داؤدؑ میں صالحین کی حکومت کی بشارت
2- مزامیر داؤدؑ میں صالحین کی حکومت کی بشارت : قابل توجہ بات یہ ہے کہ کتاب مزامیر داؤد میں کہ جو اس وقت کتب عہد قدیم کا حصہ ہے بالکل وہی تعبیر کہ جو مندرجہ بالا آیات میں بیان ہوئی ہے یا اس سے ملتی جلتی کئی مقام پر دکھائی دیتی ہے۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان تمام تحریفات کے باوجود کہ جو ان کتابوں میں کی گئی ہیں ، یہ حصہ اس طرح کی دستبرد سے محفوظ رہ گیا ہے، مثلًا: 1- مزمور 37 جملہ 9 میں ہے " . . . کیونکہ شریر منقطع ہوجائیں گے لیکن خدا پر توکل کرنے والے زمین کے وارث ہوں گے اور عنقریب شریرنیست و نابود ہوجائیں گے۔ تو اس کی جگہ کے بارے میں جتنا بھی پوچھے گا کچھ معلوم نہ ہوگا۔ 2- اور اسی ہرمور میں دوسری جگہ (جملہ - 11) میں ہے: : لیکن انکسار و تواضع سے زمین کے وارث ہوکر بڑی سلامتی پائیں گے۔ 3- اور اسی مزمور 37 کے جملہ 27 میں یہ موضوع ایک اور تعبیر کے ساتھ بھی دکھائی دیتا ہے : کیونکہ متبرکان خدا زمین کے وارث ہوجائیں گے لیکن اس کے ملعونین منقطع ہوجا ئیں گے .. .. .. .. 4- اسی مزمور کے جملہ 29 میں ہے: صدیقین زمین کے وارث ہوجائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ 5- اور اسی مزمور کے جملہ 18 میں ہے : ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مزید معلومات کے لیے کتاب "منتخب الاثر" اور "نورالایصار" کی طرف رجوع کریں۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- خدا صالحین کے دلوں کو جانتا ہے اور ان کی میراث ابدی ہوگی۔ ؎1 یہاں پر ہم خوب دیکھ رہے ہیں کہ وہی صالحین کا لفظ کہ جو قرآن میں آیا ہے مزامیر داؤدؑ میں بھی نظرآ رہا ہے اس کے علاوہ دوسری تعبیریں " صد یقین" "متوکلين" "متبرکین" اور "متواضعین" کہ جو اس تعبیر کے ساتھ ملتے جلتے ہیں ، وہ بھی دوسرے جملوں میں مذکور ہیں۔ یہ تعبیر صالحین کی عمومی حکومت کی دلیل ہیں اور قیام مہدی کی احادیث کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:104
3- صالحین کی حکومت ایک قانون آفرینش ہے
3- صالحین کی حکومت ایک قانون آفرینش ہے : اگرچہ یہ بات ان لوگوں کے لیے کہ جنہوں نے زیادہ تر ظالموں ، جابروں اور سرکشوں کی حکومتوں کو ہی دیکھا ہے ، اس حقیقت کو آسانی کے ساتھ قبول کرنا مشکل ہے کہ یہ سب حکومتیں قوانین جہان خلقت کے بر خلاف ہیں اور جو ان قوانین سے ہم آہنگ ہے وہ صرف صاحب ایمان صالحین کی حکومت ہے۔ لیکن منطق اور فلسفی تجزیوں کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے . لہذا " ان الارض يرثها عبادي الصالحون" کا جملہ اس سے پہلے کہ ایک خدائی وعدہ ہو ایک قانون تکوینی بھی شمار ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت ہے کہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے جہان ہستی مختلف نظاموں کامجموعہ ہے۔ اس پورے عالم میں منظم اور عموی قوانین کا وجود اس نظام کی یگانگت اور بہم پیوستگی دلیل ہے۔ عالم آفریش کی وسعت میں نظم ، قانون اور حساب کا مسئلہ، اس عالم کے اساسی ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ مثلًا اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کئی سوطاقتور کمپیوٹر مل کر خلائی سفر کے لیے وقیق حساب کر رہے ہیں اور ان کے حسابات بالکل درست بیٹھتے ہیں اور چاند گاڑی اسی پہلے سے مقرر شده جگہ پر چاند میں جا اترتی ہے حالانکہ چاند اور زمین کا کرہ دونوں بڑی تیزی کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں تو ہمیں اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیئے کہ اس بات کا اس طرح ہونا ، نظام شمسی اور اس کے ستاروں اور چاند کے دقیق نظام کے ماتحت ہونے کا مرہون منت ہے کیونکہ اگر وہ ایک سیکنڈ کے سویں حصے کے برابر بھی اپنی منظم رفتار سے ممحرف ہوجائے ، توکچھ معلوم نہیں کہ خلائی مسافر کسی مقام پر جا پڑتے۔ اب ہم اس بڑے جہاں سے چھوٹے عالم اور اس سے چھوٹے اور بہت ہی چھوٹے عالم میں آتے ہیں ۔ یہاں پر خاص طور سے زندہ موجودات میں ایک نمایاں نظم موجود ہے اور اس میں حرج و مرج کی کوئی گنجائش نہیں ہے مثلًا انسان کے دماغ کے ایک خلیے کی تنظیم کی خرابی اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کی زندگی کے تمام نظام کو بگاڑ دے۔ اخباروں میں ایک دفعہ یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ ایک نوجوان طالبعلم کو ٹریفک کا حادثہ پیش آیا تھا۔ اس میں وہ شدید دماغی وہ دھچکے کا شکار ہوا تھا اور تقریبًا اپنی تمام گزشتہ باتوں کو بھول گیا۔ جبکہ وہ دوسری طرف ، ہر طرف صحیح و سالم تھا - اخبارات نے لکھا کہ وہ اپنے بھائی اور بہن کو بھی نہیں پہچانتا اور جب اس کی ماں اسے اپنی آغوش میں لے کر پیار کرتی ہے تو وہ گھبراتا ہے کہ یہ اجنبی عورت میرے ساتھ کیا کر رہی ہے۔ اسے اس کمرے میں لے جایا گیا کہ جہاں وہ پل کر بڑا ہوا ہے، وہاں وہ اپنے دستی کاموں اور اپنی کھینچی ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 ان جملوں کو عمومًا کتب عہد عتیق کے فارسی ترجمہ سے نقل کیا گیا ہے کہ جو 1878 ء میں کلیسا کی معروف شخصیات کی زیر نگرانی شائع ہوا۔ برطانیہ میں ان شخصیات نے دوسرے ممالک کو بھیجنے کے لیے کتب مقدسہ کے ترجمے تھے . ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ہوئی تصویروں کو دیکھتا ہے ، لیکن کہتا ہے کہ میں اس قسم کے کمرے اور تصویروں کو ایک مرتبہ دیکھ رہا ہوں ، شاید وہ یہ سوچتا ہے کہ وه کسی دوسرے کرہ سے اس کرہ میں اتر آیا ہے کیونکہ تمام چیزیں اس کے لیے نئی ہیں۔ شاید اس کے دماغ کے کروڑوں سیلوں میں سے چند ارتباطی سیل کہ جو گزشتہ کو حال سے ملاتے ہیں بیکار ہوگئے تھے لیکن اس بندی کرکے خراب ہونے نے کیا وحشتناک اثردکھایا۔ تو کیا انسانی معاشره "لانظام" حرج و مرج ، ظلم وستم ، اور ناہنجاری کو انتخاب کرکے ، اپنے آپ کو جہان آفرنیش کے اس عظیم سمندر سے الگ کرسکتا ہے؟ کہ جس میں سب کے سب منظم پروگرام کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ کیا جہان کی وضع عمومی کا مشاہدہ ہمیں یہ سوچنے پرمجبور نہیں کرتا کہ بشریت بھی خوامخواہ عالم ہستی کے نظام کے سامنے سرتسلیم خم کرے اور منظم اور عادلانہ نظام کو قبول کرے ، اپنی اصلی راہ کی طرف پلٹ آئے اور اس نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے ؟! ہم ہر انسان کے بدن کی گوناں گوں اور پیچیده مشین کی ساخت پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ دل و دماغ سے لے کر آنکھ کان زبان یہاں تک کہ بال کی ایک جڑ کو دیکھتے ہیں ، یہ سب کے سب قوانین نظم اور ایک حساب کے تابع ہیں ، تو اس حالت میں انسانی معاشرہ ضوابط و قوانین اور صحیح عادلانہ نظام کی پیروی کے بغیر کس طرح برقرار رہ سکتا ہے؟ ہم بقائے بشریت کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے سعی و کوشش کرتے ہیں۔ البتہ ابھی تک ہمارے معاشرے کی سطح آگاہی اس حد تک نہیں پہنچی ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ موجودہ راہ دورش کو جاری رکھنے کا انجام ہماری فنا اور نابودی ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ ادراک اور شعور فکری ہمیں حاصل ہوجائے گا۔ ہم اپنے مفادات کے خواہاں تو ہیں لیکن ابھی تک ہم یہ نہیں جانتے کہ موجودہ حالت کو برقرار رکھنا ، ہمارے مفادات کو برباد کر رہا ہے۔ البتہ آہستہ آہستہ جب ہم بیدار ہوں گے اور اسلحہ سازی پر غور کریں گے تو ہم دیکھیں گے کہ عالمی معاشروں کی آدھی فعال ترین فکری اور جسمانی قوتیں اور عالمی سرمائے کا آدھا حصہ اس راستے میں رائیگاں جارہا ہے۔ نہ صرف رائیگاں جا رہا ہے بلکہ دوسرے آدھے کو نابود کرنے کے کام میں لایا جارہا ہے۔ سطح آگاہی بلند ہوگی تو ہم واضح طور پر جان لیں گے کہ ہمیں عالم ہستی کے عمومی نظام کی طرف پلٹنا چاہیے اور اس کے ساتھ ہم آواز ہونا چاہیئے۔ اور جس طرح سے کہ ہم واقعی طور پر اس کل کی ایک جز ہیں ، عملی طور پر بھی ہمیں ایسا ہی ہونا چاہیئے تاکہ ہم تمام مسائل میں اپنے مقاصد تک پہنچ سکیں؟ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ جہان انسانیت میں نظام آفرینش ہی آئندہ زمانے میں ایک صحیح اجتماعی نظام کو قبول کرنے کے لیے ایک روشن دلیل بنے گا اور وہی چیز ہے کہ جو زیر بحث آیت اور "عالم کے مصلح عظیم" (مهدی ارواحنا فداه) کے قیام سے مربوط احادیث سے معلوم ہوتی ہے۔ ؎1 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہ بحث سال 1402 ھ کے ماہ شعبان کی پندرہویں رات - جو ولادت باسعادت حضرت مہدی امام زمانہ (ارواحنالهالقد ابا) کی رات ہے ، کولکھی گئی ہے ہم کو اس بحث کو ایسےوقت میں لکھ رہے ہیں کہ ہمارے مسلمان بھائی خوشیاں منا رہے ہیں۔ ایک توحضرت مہدیؑ کے میلاد مسعود کی اور دوسری ان نمایاں کامیابیوں کی کہ جو لشکر اسلام کو محاز جنگ پر نصیب ہوئی ہیں اور ہم خوار ان کا ان سعادتوں کے ملاپ پر شکر ادا کرتے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:104
1- قیام مہدی کے سلسلے میں روایات
چند اہم نکات 1- قیام مہدی کے سلسلے میں روایات : بعض روایات میں یہ آیت صراحت کے ساتھ حضرت امام مهدیؑ کے یارو انصار کے ساتھ ہوئی ہے۔ جیساکہ مجمع البیان میں امام محمد باقر علیہ السلام سے اسی آیت کے ذیل منقول ہے: هواصحاب المهدي في الخرالزمان : وہ صالح بندے کہ جن کا خدا نے اس آیت میں وارثان زمین کے عنوان سے ذکر کیا ہے وہ آخری زمانے میں مودی کے اصحاب و انصار ہیں۔ تفسیر قمی میں بھی اس آیت کے ذیل میں ہے : ان الارض يرثها عبادي الصالحون ، قال القائم واصحابه اس سے مراد کہ زمین کے وارث خدا کے صالح بندے ہوں گے، مهدی قائم اور ان کے اصحاب ہیں ۔ بغیر کہے یہ بات واضح ہے کہ روایات اسی ایک عالی اور آشکار مصداق کا بیان ہیں۔ ہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ یہ تفاسیر ہرگز آیت کے مفہوم کی عمویت کو محدود نہیں کرتیں ۔ لہذا جس زمانے میں بھی اور جس جگہ بھی خدا کے صالح بندے اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ کامیاب ہوں گے اور آخرکار زمین اور اس کی حکومت کے وارث ہوجائیں گے۔ مندرجہ بالا روایات تو خصوصیت سے اس آیت کی تعبیر کے بارے میں ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی شعیہ سنی کتب میں حد تواتر کو پہنچی ہوئی بہت زیادہ روایات ہیں جو پیغمبراسلام اور آئمہ اہل بیتؑ سے منقول ہیں : اور سب کی سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخر کار اس جہان کی حکومت صالحین کے ہاتھ آجائے گی اور خاندان پیغمبرؐ سے ایک شخص قیام کرے گا کہ جو زمین کو عدل و داد سے اس طرح سے بھر دےگا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ ان میں سے ایک مشہور حدیث ہے جو اکثر منابع اسلامی میں پیغمبراکرمؐ سے نقل ہوئی ہے : لولم يبق من الدنيا الا يوم ، لطول الله ذلك اليوم حتی يبعث رجلًا (صالحًا) من اهل بميتى يملأ الأرض عدلار قسطًا کما ملئت ظلمًا وجورًا۔ "اگر دنیا کی عمر میں سے ایک ہی دن باقی رہ جائے تو بھی خدا اس دن کو اس قدر طولانی کردے گا کہ میرے خاندان میں سے ایک مرد صالح کو مبعوث کرے گا کہ جوصفحہ زمین کو اس طرح سے عدل و انصاف سے معمور کردے گا کہ جس طرح سے ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ یہ حدیث انہی الفاظ میں یا تھوڑے بہت فرق کے ساتھ بہت سی شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میں نقل ہوتی ہے ۔ ؎1 ہم سورہ توبہ کی آیه 33 کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں کہ بہت سے بزرگ شیعہ سنی علماء ، متقین و متاخرین نے اپنی اپنی کتابوں میں اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ قیام مهمدی کے سلام کی اسادیث حد تواتر کرنی ہوتی ہیں اور اسی طرح سے بھی قابل انکار نہیں ہیں ۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس بارے میں خصوصیت کے ساتھ کتابیں لکھی ہیں کہ جن کی تفصیل آپ تفسیر نمونہ کی ساتویں جلد سورہ توبہ کی آیه 33 کے ذیل میں مطالع فرماسکتے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 21:104
زمین کی حکومت صالحین کے لیے ہوگی
تفسیر زمین کی حکومت صالحین کے لیے ہوگی : گزشتہ آیات میں صالح مومنین کے لیے اخروی جزاء کے ایک حصے کی طرف اشارہ کرنے کے بعد زیر بحث آیات میں نهایت عمدگی اور فصاحت سے ان کی ایک دوانی دنیاوی جزا کی طرف اشارہ کیاگیاہے اور وہ ہے زمین کی حکومت ـــ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے "زبور" میں "ذکر" کے بعد سے لکھ دیا ہے کہ آخر کار میرے صالح بندے زمین کی حکومت کے وارث ہوجائیں گے: (ولقد كتبنا فی الزبور من بعد الذكر ان الارض يرثها عبادي الصالحون)۔ "ارض" سارے کره زمین کو کہا جاتا ہے اور سارا جہان اس میں شامل ہے مگر یہ کہ کوئی خاص قرین موجود ہو۔ اگرچہ بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے مراد قیامت میں ساری زمین کا وارث ہونا ہے لیکن لفظ "ارض" کا ظاہری معنی جب کہ یہ مطلق طور پر بولا جائے ، اس جہان کی زمین ہی ہوتا ہے ۔ لفظ "ارث" جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں ، اس چیز کے معنی میں ہے کہ جو بغیر معاملہ اور خرید وفروخت کے کسی کی طرف منتقل ہو اور کبھی قرآن مجید میں "ارث" ایک صالح قوم کے غیرصالح قوم پر تسلط اور کامیابی اور ان کے تمام سرمائے و وسائل کو اپنے قبضہ اور اختیار میں لینے کے لیے بولاگیا هے۔ جیسا کہ سوره اعراف کی آیہ 127 میں بنی اسرائیل کی فرعونیوں پر کامیابی کے بارے میں بیان ہوا ہے : واورثنا القوم الذين كانوا يستضعفون مشارق الأرض ومغاربها ہم نے زمین کے مشرق و مغرب کو، اس مستضعف قوم کی میراث میں دے دیا . اگرچہ "زبور" اصل میں ہر قسم کی کتاب اور تحریر کے معنی میں ہے ۔ قرآن مجید میں تین مواقع میں سے دو موقعوں پر یہ لفظ حضرت داؤد کی زبور کی طرف اشارہ ہے لیکن بعید نہیں کہ تیسرے موقع پر یعنی زیر بحث آیت میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہو۔ " زبور داؤدؑ" یا "عہد قدیم" کی کتابوں کی تعبیر میں "مزامیر داؤدؑ " اللہ کے نبی حضرت داؤد کی نصیحتوں دعاؤں اور مناجات کا مجموعہ ہے۔ بعض مفسرین نے نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "زبور" سے مراد یہاں گزشتہ انبیاء کی تمام کتب ہیں۔ ؎1 لیکن مذکورہ دلیل کے پیش نظر ــــــ یہی معلوم ہوتا ہے کہ "زبور" سے مراد " مزامیر داؤد" ہی ہے۔ خاص طور جبکہ موجودہ مزامیر میں ایسی عبارتیں ملتی ہیں کہ جو زیر بحث آیت سے بالکل مطابقت رکھتی ہیں ۔ انشااللہ ان کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے۔ "ذکر" دراصل یاد آوری یا اس چیز کے معنی میں ہے جو تذکر و یاد آوری کا باعث بنے۔ قرآن کی آیات میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ کبھی حضرت موسٰیؑ آسمانی کتاب یعنی تورات پر بھی اس کا اطلاق ہواہے مثلًا سوره انبیا کی آیہ 48: ولقد آتينا موسٰى وهارون الفرقان وضياء وذكرا للمتقين ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 یہ احتمال تفسیر مجمع البیان اور تفسیر فخر رازی نے چند گزشتہ مفسرین سے نقل کیا ہے. ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اور کبھی یہ لفظ قرآن کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مثلًا سورہ تکویر کی آیہ 27: ان هو الا ذكر للعالمين لهذا بعض نے یہ کہا ہے کہ زیر بحث آیت میں ذکر سے مراد قرآن ہے اور زبور سے مراد تمام گزشتہ کتب ہیں اور "من بعد" کا لفظ ، تقریبًا فارسی کے لفظ " علاوہ بریں" کے ہم معنی ہے۔ ؎1 اس طرح سے آیت کا معنی یہ ہوگا : ہم نے قرآن کے علاوہ ، تمام گزشتہ انبیاء کی کتابوں میں بھی لکھ دیا تھا کہ آخر کار تمام روۓ زمین خدا کے صالح بندوں کے اختیار میں قرار پاجائے گی۔ لیکن آیت میں جو تعبیرات استعمال ہوئی ہیں ان کی طرف توجہ کرتے ہوئے ظاہر ہے کہ زبور سے مراد حضرت داؤد کی کتاب ہی ہے اور "ذکر" تورات کے معنی میں ہے۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ زیور تورات کے بعد تھی تو "من بعد" کی تعبیر بھی حقیقی ہی ہوگی اور اس طرح آیت کا معنی یوں ہوگا : ہم نے تورات کے بعد ، زبور میں یہ لکھ دیا تھا کہ اس زمین کی میراث ہمارے صالح بندوں تک پہنچے گی۔ یہاں پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آسمانی کتابوں میں سے صرف انہی دو کتابوں کا نام کیوں لیا گیا ہے؟ ممکن ہے یہ اس وجہ سے ہو کہ حضرت داؤد ان بزرگ ترین پیغمبروں میں سے ایک تھے کہ جنہوں نے حق اور عدالت کی حکومت قائم کی اور بنی اسرائیل بھی وہ مستضعف قوم تھے کہ جنہوں نے متکبرین کے خلاف قیام کیا اور ان کے اقتدار کو ختم کرکے ان کی حکومت اور سرزمین کے وارث ہوگئے۔ ایک اور سوال کے جو یہاں باقی رہ جاتا ہے ، یہ ہے کہ خدا کے صالح بندے (عبادك الصالحون) کون ہیں؟ بندوں کی خدا کی طرف اضافت پر توجہ کرتے ہوئے ، ان کے ایمان اور توحید کا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے اور لفظ "صالحین" کی طرف توجہ کرنے سے جو کہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے ، تمام اہلتیں اور لیاقتیں ذہن میں آجاتی ہیں۔ عمل و تقوٰی کے لحاظ سے اہلیت ، علم و آگاہی کے لحاظ سے اہلیت ، قدرت و قوت کے لحاظ سے اہلیت اور تدبیر و نظم وضبط اور اجتماعی شعور کے لحاظ سے اہلیت. جس وقت صاحب ایمان بندے اس قسم کی اہلیتیں پالیں ، تو خدا بھی کمک اور مدد کرتا ہے تاکہ وہ مستکبرین کو شکست دے سکیں ، ان کے آلودہ ہاتھوں کو زمین کی حکومت سے ہٹا سکیں اور ان کی میراثوں کے وارث بن جائیں۔ اس بنا پر صرف "مستضعف" ہونا دشمنوں پر کامیابی اور روئے زمین کی حکومت کے لیے کافی نہیں ہو گا بلکہ ایک طرف ایمان ضروری ہے اور دوسری طرف اہلیتوں کا حصول مستضعفین جہان جب تک ان دو اصولوں کو زندہ نہیں کریں گے، روئے زمین کی حکومت کا نہیں پہنچ سکتے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 اصطلاحی علمی تعبیر کے مطابق "بعد" کی لفظ یہاں "بعد" رتبی ہے کہ "بعد" زمانی ـــــ اردو میں "من بعد" کا متبادل “علاوہ ازیں" یا "اس کے علاوہ" ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس لیے بعد والی آیت میں مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اس بات میں ان لوگوں کے لیے کہ جو خدا کی اخلاص کے ساتھ عبادت کرتے ہیں، ایک واضح اور روشن ابلاغ ہے (ان فی هذا لبلاغا لقوم عابدين) - بعض مفسرین لفظ "هذا" کو ان تمام وعدوں اور وعیدوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ جو اس سورہ میں ہیں یا سارے قرآن میں ہیں۔ لیکن آیہ کا ظاہر یہ ہے کہ "هذا" اسی وعدہ کی طرف اشارہ ہے کہ جو گزشتہ آیت میں خدا نے اپنے صالح بندوں سے روئے زمین کی حکومت کے بارے میں کیا ہے۔