قَالَ يَاهَارُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا
He said, ‘O Aaron! What kept you, when you saw them going astray,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 20:92
[Pooya/Ali Commentary 20:92] (see commentary for verse 9)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:92-98
1- مشکلات کے مقابل ڈٹ جانا چاہیئے
چند اہم نکات 1- مشکلات کے مقابل ڈٹ جانا چاہیئے : بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کے مقابلے میں حضرت موسٰیؑ کی روش سخت اور پیچیده انحرافات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر زمان و مکاں کے لیے ایک قابل تقلید روش ہے۔ اگر حضرت موسٰیؑ یہ چاہتے کہ صرف پند و نصیحت اور کچھ وعظ و استدلال کے لیے لاکھوں گؤسالہ پرستوں کے سامنے کھڑے ہوں تو مسلمہ طور پر اس کام کو آگے نہیں بڑھا سکتے تھے۔ انہیں یہی چاہیے تا کہ وہ اس موقع پر تین امور کے لیے قاطعانہ اور جراتمندانہ طور پرکھڑے ہوجائیں۔اپنے بھائی کے سامنے سامری کے سامنے اور گؤسالہ پرستوں کے سامنے پہلے انہوں نے اپنے بھائی سے کام شروع کیا۔ ان کی ریش مبارک پکڑلی اسے اپنی طرف کھینچا اور چیخنے اور چلنے لگے اور حقیقت میں ان کے لیے یہ ایک عدالت قائم کی، (اگرچہ آخر کار بارون کی بیگناہی لوگوں پر ثابت ہوگئی) تاکہ دوسرے اپنا حساب خودسوچ لیں۔ . اس کے بعد اس سازش کے اصلی عامل یعنی سامری کی طرف گئے اور اسے ایسی سزا دی کہ جو قتل کرنے سے بھی بدترتھی ۔ اسے معاشرے باہرنکال دیا، اس کو گوشہ نشین کر دیا اور اسے ایک نجس اور آلودہ وجود قراردیا کہ جس سے سب کا دوری اختیارکرنا ضروری ہوگیا اور اس کے لیے ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس دو ٹوک ٹکر کی ایک نظیر انحرافی افکار کی بیخ کنی کے لیے مسجد ضرار کے بارے میں قرآن میں اشارے کے طور پر اور تاریخ و حدیث میں تفصیلی طور پر بیان ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرم نے حکم دیا کہ مسجد ضرار کر پہلے جلادیں اور جو کچھ باقی رہ جائے اس کو ویران کردیں اور اس کی ان کو مدینہ کے لوگوں کے لیے کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ قراردیں (مزید وضاحت کے لیے تفسیرنمونہ کی جلد 8 سوره توبه کی آیات 107 تا 110 سکے ذیل میں ملاحظہ کریں )۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- پروردگارکی طرف سے دردناک عذاب کی تہدید کی ۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے گؤسالہ پرستوں کی طرف آئے اور انہیں سمجھایا کہ تمھارا یہ گناه اس قدر بڑا ہے کہ جس سے توبہ کرنے اس کے سوا اور کئی راستہ نہیں ہے کہ اپنے درمیان تلوار رکھ دو اور ایک گروہ ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل ہو اور یہ گنده خون معاشرے کے جسم سے نکال دیا جائے ان اس طرح گنہگاروں کی ایک جماعت کے لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے مارے جائیں تاکہ ہر انحرافی فکر ہمیشہ کے لیے ان کے دماغ سے نکل جائے۔ اس واقعہ کی تفصیل بم جلد اول سورہ بقرہ کی آیه 51 تا 54 کے ذیل میں بیان کرتے ہیں۔ تو اس طرح سب سے پہلے جمعیت کے رہبر کی جواب طلبی ہونی چاہیے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ اس نے اپنے کام میں کوتاہی کی ہے یا نہیں اور اس کی بے گناہی ثابت ہونے کے بعد عامل فسادکا پیچھا کیا جائے اور اس کے بعدا کے طرفداری اور بوا خواہوں کا پیچھا کیا جانا چاہیئے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:92-98
سوره طه / آیه 92 - 98
(92) قَالَ يَا هَارُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَيْتَـهُـمْ ضَلُّوْا (93) اَلَّا تَـتَّبِعَنِ ۖ اَفَـعَصَيْتَ اَمْرِىْ (94) قَالَ يَا ابْنَ اُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْيَتِىْ وَلَا بِرَاْسِىْ ۖ اِنِّـىْ خَشِيْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ وَلَمْ تَـرْقُبْ قَوْلِىْ (95) قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يَا سَامِرِىُّ (96) قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُـهَا وَكَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِىْ نَفْسِىْ (97) قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِى الْحَيَاةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ۖ وَاِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٝ ۖ وَانْظُرْ اِلٰٓى اِلٰـهِكَ الَّـذِىْ ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ۖ لَّنُحَرِّقَنَّهٝ ثُـمَّ لَنَنْسِفَنَّهٝ فِى الْيَـمِّ نَسْفًا (98) اِنَّمَآ اِلٰـهُكُمُ اللّـٰهُ الَّـذِىْ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۚ وَسِعَ كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ترجمہ (92) موسی نے کہا : اے ہارون ! جس وقت تو نے دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں، تو تجھے کس چیز نے روکا ۔ (93) کہ تونے میری پیروی نہ کی کیا تونے میرے حکم کی نافرمانی کی ہے ۔ (94) ہارون نے کہا: اے ماں جائے ! میری داڑھی اور سر نہ پکڑو ۔ میں تو اس بات سے ڈرا کہ تویہ کہنے لگے کہ تونے بنی اسرائیل کے درمیان تفرق ڈال دیا اور میری نصیحت پر عمل نہ کیا۔ (95) (پھر موسی نے سامری کی طرف رخ کیا اور) کہا : اے سامری نے یہ کام کیوں کیا ؟ (96) (سامری نے) کہا : میں نے ایسی چیز دیکھی جو انہوں نے نہیں دیکھی۔ میں نے (خدا کے بھیجے ہوئے)) رسول کے آثار میں سے کچھ حصہ اٹھالیا۔ اس کے بعد میں نے اس کو ڈال دیا اور میرے نفس نے اسے مطلب کو اسی طرح خوشنما بنایا۔ (97) (موسٰی نے) کہا: تیرا دنیا کی زندگی میں حصہ (صرف) یہ ہے کہ (جو شخص تیرے نزدیک ہوگا) تو (اس سے) کہے گا :مجھے مت چھونا اور تیرے لیے (خدا کی طرف سے عذاب کا) ایک وقت مقرر ہے کہ ہرگز اس کے خلاف نہیں ہوگا ۔ (آب) تو اپنے معبود کی طرف دیکھ ، جس کی مسلسل پرستش کرتا رہا ہے اور دیکھ پہلے تو ہم اسے جلائیں گے اور پر اس کے ذرات کودریا میں بکھیر دیں گے۔ (98) تمهارا مبعود توصرف وہی خدا ہے کہ جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اور اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہے ہے.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:92-98
2- سامری کون ہے؟
2- سامری کون ہے؟ اصل لفظ "سامری، عبرانی زبان میں ثمری ہے اور چونکہ یہ معمول ہے کہ جب عبرانی زبان کے لفظ عربی زبان میں آتے ہیں تو "شین" کا لفظ "سین سے بدل جاتا ہے، جیسا کہ " موشی" "موسٰیؑ" سے اور "یشوع " "يسوع " سے تبدیل ہوجاتا ہے۔ اسی بنا پر سامری بھی "شمرون" کی طرف منسوب تھا ، اور شمرون " یشاکر کا بیٹا تھا، جویعقوب کی چوتھی نسل ہے۔ اسی سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ عیسائیوں کا قرآن پر یہ اعتراض بالکل بے بنیاد ہے کہ قرآن نے ایک ایسے شخص کو کہ جو موسٰیؑ کے زمانہ میں رہتا تھا اور وہ گؤسالہ پرستی کا سرپرست بناتھا ، شهر سامرہ سے منسوب "سامری" کے طور پرمتعارف کرایا ہے جبکہ شہر سامرہ اس زمانے میں بالکل موجود ہی نہیں تھا کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ "سامري" شمرون کی طرف منسوب ہے نہ کہ سامره شهرکی طرف۔ ؎1 بہرحال سامری ایک خودخواہ اور منحرف شخص ہونے کے باوجود بڑا ہوشیار تھا۔ وہ بڑی جرات اور مہارت کے ساتھ بنی اسرائیل کے ضعف نکات اور کمزوری کے پہلوؤں سے استفادہ کرتے ہوئے اس قسم کا عظیم فتنہ کھڑا کرنے پر قادر ہوگیا کہ جو ایک قطعی اکثریت کے بت پرستی کی طرف مائل ہونے کا سبب بنے اور جیسا کہ ہم نے کیا ہے کہ اس نے اپنی اس خود خواہی اور فتنہ انگیزی کی سزا بھی اسی دنیا میں دیکھ لی۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ اعلام قرآن ص 359۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:92-98
سامری کا عبرت ناک انجام
تفسیر سامری کا عبرت ناک انجام : اس بحث کے بعد جو موسٰیؑ نے بنی اسراسل کی گوساله پرستی کی شدید مذمت کے بارے میں کی تھی اور جو اس سے پہلی آیات میں بیان ہوچکی ہے ، زیر بحث آیات میں پہلے موسٰیؑ کی اپنے بھائی ہارونؑ کے ساتھ گفتگو اور اس سے اس امر میں جو باتیں ہوئیں، کو بیان کیا جارہا ہے پہلے اپنے بھائی ہارون کی طرف رخ کرکےکہا : اے ہارونؑ اس وقت تونے یہ دیکھا کہ یہ قوم گمراہ ہوگئی ہے توتو میری پیروی کیوں نہ کی ( قال يا هارون ما منعك إذ رأيتهم وضلوا الاتبعن) ۔ کیا میں نے اس وقت جبکہ میں میعاد گاہ کی طرف جانا چاہتا تھا ، یہ نہیں کہا تھا کہ میرا جانشین ہے اور اس گروہ کے درمیان اصلاح کرنا اور مفسدین کے راستے کو اختیار نہ کرنا۔ ؎1 تو ان بت پرستوں کے ساتھ مقابلے کے لیے کیوں اٹھ کھڑا نہ ہوا ؟ اس بنا پر " الاتتبعن" کے جملے سے مراد یہ ہے کہ بت پرستی کے بارے میں میری شدت عمل کی روش کی تونے پیروی کیوں نہ کی۔ لیکن یہ بات، جوبعض نے بیان کی ہے کہ اس جملے سے مراد یہ ہے کہ اس اقلیت کے ساتھ کہ جو توحید پر باقی رہ گئی تھی ، میرے پیچھے پیچھے کوہ طور پر کیوں نہ آیا ، بہت ہی بعید نظر آتی ہے ہے اور یہ اس جواب کے ساتھ کہ جو ہارون نے بعد کی آیات میں دیا ہے کوئی مناسبت نہیں رکھتی ۔ اس کے بعد موسٰی نے مزید کہا کیا تو نے میرے فرمان کی خلاف ورزی کی ہے: (افعصيت امری)۔ موسٰی انتہائی شدت اور سخت غصہ کی حالت میں، یہ باتیں اپنے بھائی سے کر رہے تھے اور ان کے سامنے چیخ رہے تھے جبکہ ان کی داڑھی اور سر کو پکڑا ہوا تھا ، اور کھیچ رہے تھے۔ ہارون نے جب اپنے بھائی کو شدید پریشان دیکھا تو اس لیے کہ انہیں لطف و مهربان کی طرف لائیں اور ان کی بے قراری اور بے چینی میں کمی کی اور منی طور پر اس واقعے کے سلسلے میں اپنا عذر پیش کریں کہا ، اسے میرے ماں جائے ! میری داڑھی اور سرکو نہ پکڑ، میں نے تو یہ سوچا کہ اگر میں مقابلے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور ان کی گرفت کرتا ہوں، تو بنی اسرائیل میں ایک تفرقہ پڑ جائے گا اور میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں تو واپسی پر کہنے لگے کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان تفرق کیوں ڈالا اور میری غیبت کے زمانہ میں میری نصیحت کا خیال نہیں کیا: ( قال يا بب ام لا تأخذ بلحيتھ ولا برأسي انی خشیت ان تقول فرقت بين بنی اسرائیل ولم ترقب قولى)۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اخلفني في قومى وأصلح ولا تتبع سبيل المفسدين (اعراف 146) ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- درحقیقت حضرت ہارونؑ کی نظر اسی بات کی طرف ہے کہ حضرت موسٰیؑ نے میعادگاه کی طرف چلنے سے پہلے کہی تھی کہ جس کا معنی اور مفہوم اصلاح کی طرف دعوت دینا ہے۔ ( اعراف 146) ۔ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر میں ای پرسختی اور گرفت کرتا ، تو وہ تیرے حکم کے برخلاف ہوتا اور پھر تجے ہی پہنچتا کہ مجھ سے موخذہ کرے۔ اسی طرح حضرت ہارون نے اپنی بے گناہی کو ثابت کر دیا۔ خصوصا ایک اور جملے کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو سوره اعراف آیه ۱۵۰ میں آیا ہے ؛ ان القوم استضعفوني وكادوا يقتلونني اس نادان قوم نے مجھے ضعیف کردیا اور ہم لوگ تھوڑے رہ گئے اور قریب تھا کہ وہ مجھے قتل ہی کردیں ، میں بے گناہ ہوں ، بے گناه - یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ موسٰیؑ ہارونؑ دونوں ، بلا شک وشبہ پیغمبر اور معصوم تھے تو پھر موسٰیؑ کی طرف سے ایسی کھینچاتانی ، بحث اور شدید عتاب و خطاب اور وہ دفاع کہ جو اپنا ہارونؑ کررہے ہیں، کس طرح قابل توجہ ہے ؟ اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ موسٰیؑ کو یقین تھا کہ ان کا بھائی بے گناہ ہے لیکن وہ اس طریقے سے دو باتیں ثابت کرنا چاہتے تھے ۔ پہلی یہ کہ وہ بنی اسرائیل کو سمجھا دیں کہ وہ بہت ہی عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ایسا گناہ کہ موسٰیؑ کے بھائی تک کوبهی کہ خود ایک عالی قدر پیغمبرتھے موخذے کے لیے عدالت کی طرف کھینچ کرلے گیا اور وہ بھی اتنا شدت عمل کے ساتھ یعنی یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ جتنا بعض بنی اسرائیل نے سمجھ لیا ہے۔ توحید سے انحراف اور شرک کی طرف بازگشت ، وہ بھی ان تمام ـــــــ تعلیمات اور ان تمام معجزات اور عظمت حق کے آثار دیکھنے کے بعد ۔ یہ بات یقین کرنے کے قابل نہیں ہے۔ لہذا جتنا زیادہ سے زیاد قاطعیت کے ساتھ ہوسکے اس کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی عظیم حادثہ واقع ہو جاتاہے تو انسان ہاتھ بڑھا کر اپنا ہی گریبان چاک کرلیتا ہے اور اپنا ہی سر پیٹ لیتا ہے، تو اپنے بھائی کو مورد عتاب و خطاب قرار دینے کی تو بات ہی کچھ نہیں اور اس میں شک نہیں کہ ہدف اور مقصد کی حفاظت اور افراد منحرف نفسياتی اثر پیدا کرنے کے لیے اور ان پر گناہ کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے، اس قسم کا طرز عمل بہت موثر ہوتاہے اور ہارونؑ بھی اسی طریقے ہیں بالکلی راضی تھے. دوسرا یہ کہ ہارونؑ کی بے گناہی ان توضیحات کے ساتھ کہ جو وہ دے رہے تھے ، سب پر ثابت ہوجائے اور بعد میں انہیں اپنی رسالت کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے کا اتہام نہ لگائیں۔ اپنے بھائی سے گفتگو کرنے اور ان کے بری الذمہ ثابت ہونے کے بعد ، سامری سے باز پرس شروع کی اور کہا : یہ کام تھا کہ جو تو نے انجام دیا ہے اور اے سامری ! تجھے کس چیز نے اس بات پر آمادہ کیا“ ( قال فماخطبك يا سامری )۔ اس نے جواب میں کہا : "میں کچھ ایسے مطالب سے آگاہ ہوا کہ جو انہوں نے نہیں دیکھے اور وہ اس سے آگاہ نہیں ہوۓ"( قال بصرت بمالو يبصروا به)۔ میں نے ایک چیز خدا کے بھیجے ہوئے رسول کے آثار میں سے لی اور پھر میں نے اسے دور پھینک دیا اور میرے نفس نے اس بات کو اسی طرح مجھے خوش نما کرکے دکھایا ( فقبضت قبضة من اثر الرسول فنبذ تها وكذالك سولتا لی نفسی) . اس بارے میں کہ اس گفتگو سے سامری کی کیا مراد تھی مفسرین کے درمیان دو تفسیر مشہور ہیں: پہلی یہ کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ فرعون کے لشکر کے دریائے نیل کے پاس آئے کے موقع پر میں نے جبرئیل کو ایک سواری پر سوار دیکھا کہ وہ لشکر کو دریا کے خشک شده راستوں پر درود کے لیے تشویق دینے کی خاطر ان کے آگے آگے چل رہا تھا۔ میں نے کچھ مٹی ان کےتھا۔ میں نے کچھ مٹی ان پاؤں کے نیچے سے یا ان کی سواری سے پاؤں کے نیچے سے اٹھالی اور اسے سنبھال رکھا اور اسے سونے کے بچھڑنے کے اندر ڈالا اور صدا اسی کی برکت سے پیدا ہوئی ہے۔ اسے سونے کے پیشے کے اندر ڈالا اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ میں ابتداء میں خدا کے اس رسول ( موسٰیؑ )کے کچھ آثار پر ایمان لے آیا۔ اس کے بعد مجھے اس میں کچھ شک اور ترد ہوا۔ لہذا میں نے اسے دور پھینک دیا اور بت پرستی کے دین کی طرف مائل ہوگیا اور یہ میری نظر میں زیادہ پسندیدہ اور زیبا ہے. پہلی تفسیر کے مطابق لفظ "رسول" جبرئیل کے معنی میں ہے جبکہ دوسری تفسیری کے مطابق "رسول" موسٰیؑ کے معنی میں ہے. لفظ "اثر" پہلی تفسیر کی رو سے "پاؤں کے نیچے کی مٹی" کے معنی میں ہے، اور دوسری تفسیرمیں" تعلیمات کا کچھ حصہ کے معنی میں ہے۔ "نبذتها " کا لفظ اپنی تفسیر میں مٹی کو گؤسالہ میں ڈالنے کے معنی میں ہے اور دوسری تفسیر میں تعلیمات موسٰیؑ کو دور پھینکنے اور چھوڑدینے کے معنی میں ہے اور آخرمیں "بصرت بما لم يبصروا به" پہلی تفسیر میں جبرئیل کو دیکھنے کی طرف اشارہ ہے کہ جو ایک گھڑ سوار کی شکل میں ظاہر ہوئے تھے (شاید کچھ اور لوگوں نے بھی انہیں دیکھا لیکن پہچانا نہیں) لیکن دوسری تفسیر میں دین موسٰی کے بارے میں کچھ خاص معلومات کی طرف اشارہ ہے. بہرحال ان دونوں تفاسیر میں سے ہر ایک کے طرفدار ہیں اور ان میں کچھ روشن یا مبہم نکات موجود ہیں لیکن دوسری تفسیر کئی جہات سے بہتر نظرآتی ہے۔ خاص طور پر جبکہ کتاب "احتجاج طبرسی" میں ایک حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب امیرالمومنین علی علیہ السلام نے بصرا کو فتح کرلیا تو لوگ آپ کے گرد جمع ہوگئے ۔ ان میں "حسن بصری" بھی تھا اور وہ اپنے ساتھ کچھ تختیاں لے کر آیا تھا کہ امیرالمومنين جو بات کرتے وہ اسے فور یادداشت کے طور پر لکھ لیتا ۔ امام نے بلند آواز کے ساتھ ان لوگوں میں سے اسے مخاطب کرکے فرمایا : تورکیا کررہا ہے تو اس نے عرض کیا کہ میں آپ کے آثار اور ارشادات کو لکھ رہا ہوں تاکہ لوگوں کے لیے انہیں بیان کروں امیرالمومنین نے فرمایا : اما ان لكل قوم سامرئا ، وهذا أمري هذه الأمة ، انه لا يقول الامساس ولكنه يقول قتال : یہ بات ذہن نشین کر لو کہ ہر قوم اور ہر گروہ میں کوئی نہ کوئی سامری ہوتا ہے اور یہ (حسن بصری) اس امت کا سامری ہے۔ اس کا موسٰیؑ کے زمانے کے سامری سے صرف اتنا فرق ہے کہ جو شخص اس سامری کے قریب ہوتا تھا تو وہ کہتا تھا "لا مساس" (کوئی شخص مجھے نہ چھوۓ) لیکن یہ لوگوں سے یہ کہتا ہے کہ "لاقتال" (یعنی کسی سے جنگ نہیں کرنا چاہیے ، حتٰی کہ منحرفین سے بھی ۔ یہ اس پروپیگینڈا کی طرف اشارہے کہ جو حسن بصری جنگل جمل خلاف کرتا تھا۔ ؎1 اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سامری بھی ایک منافق آدمی تھا کہ جس نے ان کے کچھ مطالب سے استفادہ کرتے ہوئے لوگوں کو منحرف کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ معنی دوسری تفسیر سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ ؎2 یہ بات صاف طور پر واضح اور روشن ہے کہ موسٰیؑ کے سوال کے جواب میں سامری کی بات کسی طرح بھی قابل قبول نہیں تھی لہذا حضرت موسی نے اس کے مجرم ہونے کا فرمان اسی عدالت میں صادر کردیا اور اسے اور اس کے گوسالہ کے بارے میں تین حکم دیئے : یہ بات صاف طور پر واضح اور روشن ہے کہ موسٰی کے سوال کے جواب میں سامری کی بات کسی طرح بھی قابل قبول نہیں تھی لہذا حضرت موسٰیؑ نے ان کے مجرم ہونے کا فرمان اسی عدالت میں صادر کر دیا اور اسے اور اس کے گوسالہ کے بارے میں تین حکم دیئے: پہلا حکم یہ کہ اس سے کہا "تو لوگوں کے درمیان سے نکال جا اور کسی کے ساتھ میل ملاپ نہ کر اور تیری باقی زندگی میں تیرا حصہ صرف اتنا ہے کہ جو شخص بھی تیرے قریب آئے گا تو اس سے کہے گا کہ مجھ سے مس نہ ہو ( قال فاذهب فان لك في الحليوة ان اتقول لا مساس)۔ اس طرح قاطع اور دوٹوک فرمان کے ذریعے سامری کو معاشرے سے با ہر نکال پھینکا ایک اور سے مطلق گوشہ نشینہ میں ڈال دیا۔ بعض مفسرین نے کہا ہے که "لامساس" اس کا جملہ شریعت موسٰیؑ سے ایک فوجداری قانون کی طرف اشارہ ہے کہ جو بعض ایسے افراد کے بارے میں کہ جو سنگین جرم کے مرتکب ہوتے تھے صادر ہوتا تھا۔ وہ شخص ایک ایسے موجود کی حثیت سے کہ جو پلید ونجس و ناپاک ہو، قرار پاجاتا تھا۔ کوئی اس سے میل ملاپ نہ کرتا اور نہ وہ کسی سے میل ملاپ رکھے۔ ؎2 سامری اس واقعے کے بعد مجبور ہوگیا کہ وہ بنی اسرائیل اور ان کے شهر و دیار سے باہر نکل جائے اور بیابانوں میں جا رہے اور یہ اس جاو طلب انسان کی سزاہے کہ تو اپنی بدعتوں کے ذریعے چاہتا تھا کہ بڑے بڑے گروہوں کو منحرف کرکے اپنے گرد جمع کرے ۔ اسے تا کام ہی ہونا پتا ہے یہاں تک کہ ایک کمیشنی اس سے میل ملاپ نظر رکھے ۔ اوراس کر کے انسان کے لیے مکمل بائیکاٹ موت اور قتل ہونے سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ اردو ایکس پی اور آلودو وجود کی مشورت میں امریکہ سے راندہ اور رحمت کارا ہوا ہوتا ہے۔ بعض مفسران نے یہ بھی کہا ہے کہ سامری کا بڑا جرم ثابت ہو جانے کے بعد حضرت موسٰیؑ نے اس کے بارےمیں نفرین کی اور خدا نے اسے ایک پراسرار بیماری میں مبتلا کردیا کر جب تک وہ زندہ رہا کوئی شخص اسے چھو نہیں سکتا تھا اور اگر کوئی اسے چھولیتا تو وه بھی بیماری میں گرفتار ہوجاتا۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نورالثقلين ، جلد 3 ص 393 ؎2 اس حدیث سے کوئی خاص تائید دوسری تفسیر کی نہیں ہوتی اور آیت کا ظاہر پہلی تفسیر کے ساتھ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہےواللہ اعلم (مترجم)۔ ؎3 تفسیر فی ظلال ، جلد 5 ص 494۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ یا یہ کہ سامری ایک قسم کی نفسیاتی بیماری میں جو ہر شخص سے وسواس شدید اور وحشت کی صورت میں تھی گرفتار ہوگیا۔ اس طرح سے کہ جو شخص بھی اس کے نزدیک ہوتا وہ چلاتا کہ "لاماس" (مجھے مت چھونا)۔ ؎1 سامری کے لئے دوسری سزا یہ تھی کہ حضرت موسٰیؑ نے اسے قیامت میں ہونے والے عذاب کی بھی خبردی اور کہا : تیرے آگے ایک وعدہ گاہ ہے۔ خدائی دردناک عذاب کا وعدہ ـــــــ کہ جس سے ہرگز نہیں بچ سکے گا (وان لك موعدًا لن تخلفه)۔ ؎2 تیسرا کام یہ تھا جو موسٰی نے سامری سے کہا : " اپنے اس معبود کو کہ جس کی تو ہمیشہ عبادت کرتا تھا ذرا دیکھ اور نگاہ کر۔ ہم اس کو جلا رہے ہیں اور پھر اس کے ذرات کو دریا میں بکھیر دیں گے "(وانظر الٰى الهك الذي ظلت عليه عاكفًالغرقنه ثم لنسفنه في اليم نسفًا)۔ یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ "لنحرقنه" (ہم اس کو یقینًا چلائیں گے)، اس بات کی دلیل ہے کہ گوسالہ ایک جلانے کے قابل جسم تھا ، اوریہ چیز ان لوگوں کے نظریہ کہ جو کہتے ہیں کہ گؤسالہ طلائی نہیں تھا، بلکہ جبرئیل کے پاؤں کی خاک کی وجہ سے ایک زنده وجود میں میں تبدیل ہوگیا تھا ، تائید کرتا ہے۔ ہم اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ "جسداله خوار" کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ گؤسالہ ایک بے جان مجسمہ تھا، کہ جس سے گؤسالہ کی آواز کے مشابہ آواز (جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے) نکلتی تھی۔ باقی رہا جلانے کا مسئلہ تو ہوسکتا ہے کہ وہ دو اسباب کسی ایک سبب سے ہو: ایک تو یہ کہ یہ جسمہ صرف سونے کا نہیں تھا بلکہ احتمال ہے کہ اس میں لکڑی بھی استعمال ہوتی تھی اور سونا صرف اس کے سر پوش کے طور پر اس پر چڑھا تھا۔ دوسریہ کہ فرض کریں کہ وہ سارے کا سارا سونا ہی تھا ، تب بھی اس کا جلانا اس کی تحقیر و توہین اور اس کی شکل وصورت کو ختم کرنے کے لیے تھا۔ جیسا کہ یہ عمل ہمارے زمانے کے جابر بادشاہوں کے دھات کے مجسموں کے بارے میں دہرایاگیا ہے۔ اس بنا پر اسے جلانے کے بعد بعض ذرائع سے ریزہ ریزہ کرکے پھر اس کے ذرات کو دریا میں پھینک دیا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اس سارے کو دریا میں پھینکنا جائز تھا اور اسراف شمار نہیں ہوتا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات ایک اہم اور عالی مقصد کی خاطرمثلًا : بت پرستی کے عقیدہ کی سرکوبی کے لیے ضروری ہوجاتا ہے۔ بت کے ساتھ اس قسم کا سلوک کیا جائے تاکہ کہیں ایسانہ ہو کہ فساد کا مادہ لوگوں کے درمیان باقی رہ جائے اور پھر بعض لوگوں کے لیے وسوسہ کا سبب بن جاۓ۔ زیاده واضح عبارت میں ، اگر موسٰیؑ اس سونے جو کو کہ گوسالہ کے بنانے میں استعمال ہوا تھا، باقی نہ رہنے دیتے اسے لوگوں میں تقسیم کر دیتے تو پھری ممکن تھا کہ کسی دن جاہل اور نادان لوگ ایسے ہی مقدس سمجھنے لگ جاتے اورگؤسالہ کی روح نئے سرے سے ان میں زندہ ہوجاتی۔ یہاں یہ ضروری تھا کہ اس گراں قیمت مادہ کو لوگوں کے اعتماد کی حفاظت پر قربان کر دیا جائے اور کوئی راستہ نہیں تھا اور ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر قرطبی جلد 6 ص 4281۔ ؎2 "لن تخلفه" ایک فعل مہجول ہے کہ جس کا نائب فاعل یہاں سامری ہے اور اس کی خبر دوسرا مفعول ہے اور اس کا فاعل اصل میں خدا ہے اور سارے جملے کا معنی اس طرح ہے تیرے لیے ایک وعده گاہ کہ جس سے خدا تیرے بارے میں تخلف نہیں کرے گا۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- حضرت موسٰیؑ سامری کے بارے میں بھی اوراس کے گؤسالہ کے بارے میں بھی انتہائی قاطع اور سخت روش اختیار کی تبھی تو گؤسالہ پرستی کے فتنہ کو ختم کرنے پر قادر ہوئے اور اس کے نفسیاتی اثرات لوگوں کے ذہنوں سے پاک کیے۔ بعد میں بھی ہم دیکھیں گے آپ نے گوساله پرستوں کے ساتھ جس دو ٹوک طریقے سے ٹکرلی اس نے بنی اسرائیل کے دماغوں میں ایسا نفوذ کیا کہ وہ آگے چل کر کبھی بھی ان انحرافی راستوں پر چلے۔ ؎1 آخری جملہ میں حضرت موسٰیؑ نے مسئلہ توحید بہت زیادہ تاکید کرتے ہوئے "اللہ" کی حاکمیت کو واضع کیا اور اس طرح کہا : تمہارا معبود صرف اللہ ہے ، وہی اللہ کہ جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ، وہی کہ جس کے علم نے تمام چیزوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ انما المكم الله الذي لا اله الاهووسع كل شی علمًا)۔ وہ گھڑے ہوئے بتوں کی طرح نہیں ہے کہ جو نہ کسی بات کو سنتے ہیں ، نہ کوئی جواب دیتے ہیں ، کوئی مشکل حل کرتے ہیں اور نہ کسی نقصان کو دور کرتے ہیں۔ واقع میں "وسع كل شي علما" اس توصیف کے مد مقابل آیا ہے کہ جو قبل کی چند آیات میں گؤسالہ اور اس کی نادانی اور ناتوانی کے بارے میں بیان ہوئی تھی۔