وَمَا أَعْجَلَكَ عَن قَوْمِكَ يَامُوسَى
[God said,] ‘O Moses, what has prompted you to hasten ahead of your people?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 20:83
[Pooya/Ali Commentary 20:83] (see commentary for verse 9)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:83-91
3- رہبری کے مراحل :
3- رہبری کے مراحل : اس میں شک نہیں کہ حضرت ہارونؑ نے حضرت موسٰیؑ کی غیبت کے زمانے میں اپنی رسالت نے انجام دینے پر معمولی سے معمولی سستی بھی نہیں کی لیکن ایک طرف سے تولوگوں کی جہالت نے اور دوسری طرف سے کی غلامی . رہبری اور بت پرستی کے دور کی رسومات نے ان کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ مذکوروبالا آیات کے مطابق انہوں نے اپنی ذمہ داری کو چار مرحلوں پورا کیا: پہلا مرحلہ: یہ کہ ان پر ظاہر کیا کہ یہ واقعہ ایک انحرافی راستہ اور تم سب کے لیے ایک خطرناک آزمائش کا میدان ہے تاکہ کا سوئے ہوئے دماغ بیدار ہوں اور لوگ بیٹھ کر سوچیں اور اہم چیز یہی تھی (یا قوم انما فتنتم به)۔ دوسرا مرحلہ: یہ تھا کہ خدا کی وہ قسم قسم کی نعمتیں ، جوموسٰیؑ کے قیام کی ابتداء سے لے کر فرعونیوں کے چنگل سے نجات پانے دوسرا زمانے تک ، بنی اسرائیل کے شامل حال ہوئی تھیں ، وہ انہیں یاد دلائیں اور خصوصیت کے ساتھ خدا کی عمومی صفت رنگ رحمت کے ساتھ تاکہ اس کا زیادہ گہرا اثر ہو اور انہیں اس بہت بڑی خطا کی بخشش کی بھی امید دلائی جاسکے ( وان ربکم الرحمن)۔ تیسرا مرحلہ : یہ تھا کہ انہیں اپنے مقام نبوت اور اپنے بھائی موسٰی کی جانشینی کی طرف متوجہ کیا (فاتبعونی )۔ چوتھا مرحلہ: یہ تھا کہ انہیں ان کی الٰہی ذمہ داریوں سے باخبر کیا ( واطيعوا امری)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:83-91
2- انبیاء انقلاب کی مخالف تحریکیں
2- انبیاء انقلاب کی مخالف تحریکیں: عام طور پرہر انقلاب کے مقابلے ایک انقلاب دشمن تحریک وجود میں آباتی ہے جو یہ کوشش کرتی ہے کا انقلاب نے جو کچھ پیش کیا ہے اسے درہم برہم کر دیاجائے اور معاشرے کو انقلاب سے پہلے والی حالت کی رات پلٹادیا جائے۔ اس تاریخ کو سمجھنا کچھ زیادہ نہیں کیونکہ ایک انقلاب کے برپا ہونے سے تمام گزشتہ فاسد عناصر یک دم نابود اور ختم نہیں ہوجاتے بلکہ عام طور پر کچھ کچھ تلچھٹ اس کی باقی رہ جاتی ہے. وہ لوگ اپنے وجود کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور حالات سے اتار چڑھاؤکے مطابق کھلم کھلا یا خفیہ طریقے سے انقلاب دشمن کاموں میں مصروف رہتے ہیں ۔ بنی اسرائیل آزادی اور توحید و ستقلال کی طرف موسٰیؑ بن عمران کی انقلابی میں سامری اس رجعت پسند تحریک کا سربراہ تھا۔ وہ جو کہ تمام رجعت پسند تحرکیوں کے لیڈروں کی طرح اپنی قوم کے کمزور پہلوؤں سے اچھی طرح باخبر تھا اور جانتا تھا کہ ان کمزوریوں سے استفادہ کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی فتنہ کھڑا کیا جاسکتا ہے ، اس نے کوشش کی کہ ان زیورات اور طلائی چیزوں سے کہ جو دنیا پرستوں کا معبود ہے اور عوام الناس کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے ، گؤسالہ بنائے اور اسے ایک خاص طریقے سے ہواکے چلنے کے رخ پر کھڑا کردے (یا کسی اور طریقے سے کام لے) تاکہ اس سے کی آواز نکلے ۔۔۔۔۔ موسٰیؑ کی چند روزه غیبت کو اس نے غنیمت جانا یہ بات اس کی نظر میں تھی کہ بنی اسرائیل نے دریا سے نجات پانے کے بعد اور ایک بت پرست قوم کے قریب سے گزرتے ہوئے موسٰیؑ سے اپنے لیے ایک بت بنانے کا تقاضا کیا تھا ۔ خلاصہ یہ کہ اس نے تمام نفسانه کمزوریوں اور زمان و مکانی مناسب وقتوں سے استفادہ کرتے ہوئے ، اپنے مخالف توحید منصوبے کا آغاز کر دیا اور اس کے مواد کو اس طرح سے ماہرانہ انداز میں منظم کیا کہ تھوڑی سی مدت میں بنی اسرائیل کی ایک بڑی اکثریت کی راہ توحید سے منحرف کر کے شرک کی راہ کی طرف کھینچ لے گیا۔ یہ سازش اگرچہ موسٰیؑ کے واپس آتے ہی ان کی قدرت ایمانی اور نور وحی کے پر قومیں ان کی منطق سے ناکام ہوگئی لیکن ہمیں سوچنا چاہئے کہ اگر موسٰیؑ واپس نہ آئے تو کیا ہوتا؟ یقینًا یاتو وہ ان کے بھائی ہارون کو قتل کردیتے یا وہ انہیں اس طرح سے گوشہ نشین کردیتے کہ ان کی آواز بھی کسی کے کانوں تک نہ پہنچتی۔ ہاں ! ہر انقلاب کے آغاز میں اسی طرح کی مخالف تحریکیں ہوتی ہیں اور ( ان سے) پورے طور پر خبردار رہنا چاہیئے اور رجعت پسندوں کی معمولی سے معمولی شرک آلود حرکتوں کو نظر میں رکھنا چاہیئے اور دشمن کی سازشوں کو شروع میں ہی کچل دیناچاہیئے۔ ضمنی طور پر اس حقیقت کی طرف بھی توجہ رکھنا چاہیے کہ بہت سے سچے انقلابات ، مختلف دلائل و وجوہ کی بنا پر آغاز میں کسی فرد یا کچھ مخصوص افراد کے سہارے برپا ہوتے ہیں اگر وہ بیچ میں رہیں تو انقلاب کے الٹ جانے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ جتنا بھی جلدی ہوسکے ، إنقلابی معیاروں کو معاشرے کی گہرائی میں اتار دیں اور لوگوں کی تربیت کی جائے کہ انقلاب کے مخالف تمام طوفان انہیں کسی طرح بھی اپنے مقام سے نہ ہلاسکیں اور وہ پہاڑ کی مانند ہررجعت پسند ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- تفسير نورالثقلين، جلد 3 ص 388۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- قدامت پرست تحریک کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ سچے رہبروں کی ایک ذمہ داری ہے کہ وہ معیاروں کو ـــــ اپنے معاشرے کی طرف منتقل کریں ، اس شک نہیں کہ اس اہم کام کے لیے کچھ مدت چاہیئے لیکن کوشش کرنا چاہیے کہ یہ زمانہ جتنا ممکن ہو ــــ کم سے کم ہو۔ اس بارے میں کہ ساری کون تھا اور اس کا انجام کیا ہوا ، انشا اللہ ہم بعد والی آیات میں گفتگو کریں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:83-91
1- شوق دیدار
چند اہم نکات : 1- شوق دیدار : جولوگ عشق خدا کے جذبے سے بے خبر ہیں انہیں موسٰیؑ کی وہ گفتگو جو انہوں نے پروردگار کے اس سوال ــــــ کہ تم میعادگاہ کی طرف اتنی تیزی اور جلدی سے کیوں چلے آئے ــ کے جواب میں کی ، ممکن ہے جب معلوم ہوتی ہو کیونکہ وہ یہ جواب دیتے ہیں : وعجلت اليك رب لترضٰی پروردگارا ! میں نے تیری طرف (آنے کے لیے اس لئے) جلدی کی تاکہ تیری رضا حاصل کروں۔ وعدہ وصل چوں شود نزدیک آتش عش تیز تر گردو وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ کونسی پر اسرار قوت موسٰی کو "اللہ" کی میعادگاہ کی طرف کھینچ کرلے جارہی تھی اور وہ اتنی تیزی کے ساتھ چلے جارہے تھے کہ ان افراد کو بھی کہ جو ان کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ موسٰیؑ نے اس سے پہلے بھی دوست کے وصال کی حلاوت اور پروردگار کے ساتھ مناجات کا مزہ چکھا ہوا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ پوری دنیا بھی اس مناجات کے ایک لمحہ کے برابر نہیں ہوسکتی۔ ہاں ، ان لوگوں کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے ــــ جوعشق مجازی سے گزکر عشق حقیقی اور عشق معبود جاودانی کے مرحلے میں قدم رکھ چکے ہیں - اس خدا کا عشق کہ جس کی ذات پاک میں فنا کی گنجائش ہی نہیں ہے اور وه کمال مطلق ہے اور بے حد و انتها خوبی کا مالک ہے۔ آنچہ خوباں ہمہ دارند او تنہا وارد بلکہ سب میں جو الگ الگ خوبیاں پائی جاتی ہیں وہ اس کی جادواں خوربی کا ایک معمولی سا پر تو ہے۔ اے عظیم پروردگار ! اس مقدس عشق کا ایک ذرہ ہمیں بھی چکھادے. ایک روایت کے مطابق امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : "المشتاق لايشتهي طعامًا ، ولا يلتذ شرابًا ، ولا يستطيب رقادًا، ولا يا فرحمیمًا ، ولا يأوي دارا ۔ ۔ . . . ۔ ویعبدالله ليلًا ونهارًا راجيًا بان يصل الٰى مايشتاق اليه۔ ۔ ۔ ۔ ... ۔ ۔ كما أخبر الله عن موسی بن عمران في ميعاد ربه بقوله وعجلتہ ، اليك رب لترضي. عاشق بے قرار کو نہ تو کھانے کا ہوش ہوتا ہے ، نہ اس سے خوشگوار شربت کی طلب ہوتی ہے نہ اسے چین کی نیند آتی ہے نہ اس کا کسی دوست سے جی لگتا ہے۔ اور نہ ہی کسی گھر میں اسے آرام آتا ہے ۔ ۔ ۔ بلکہ وہ خدا کی رات دن بندگی کرتا ہے۔ اس امید پر کہ اپنے محبوب (اللہ تک پہنچ جائے ۔ ۔ ۔ جس طرح سے کہ خدا موسٰیؑ بن عمران کے بارے میں اس کے پروردگار کی میعادگاه (میں پہنچنے) کے سلسلے میں بیان فرماتا ہے ، کہ "عجلت اليك رب لترضٰی" ۔؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:83-91
سوره طه / آیه 83 - 91
(83) وَمَآ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يَا مُوْسٰى (84) قَالَ هُـمْ اُولَآءِ عَلٰٓى اَثَرِىْ وَعَجِلْتُ اِلَيْكَ رَبِّ لِتَـرْضٰى (85) قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَـتَنَّا قَوْمَكَ مِنْ بَعْدِكَ وَاَضَلَّهُـمُ السَّامِـرِىُّ (86) فَرَجَعَ مُوْسٰٓى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّـمْ اَنْ يَّحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُـمْ مَّوْعِدِىْ (87) قَالُوْا مَآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلٰكِنَّا حُـمِّلْنَـآ اَوْزَارًا مِّنْ زِيْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِىُّ (88) فَاَخْرَجَ لَـهُـمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّـهٝ خُـوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَآ اِلٰـهُكُمْ وَاِلٰـهُ مُوْسٰىۖ فَـنَسِىْ (89) اَفَلَا يَرَوْنَ اَلَّا يَرْجِــعُ اِلَيْـهِـمْ قَوْلًاۙ وَّلَا يَمْلِكُ لَـهُـمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا (90) وَلَقَدْ قَالَ لَـهُـمْ هَارُوْنُ مِنْ قَبْلُ يَا قَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُـمْ بِهٖ ۖ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْـمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِىْ وَاَطِيْعُـوٓا اَمْرِىْ (91) قَالُوْا لَنْ نَّـبْـرَحَ عَلَيْهِ عَاكِفِيْنَ حَتّـٰى يَرْجِــعَ اِلَيْنَا مُوْسٰى ترجمہ (83) اے موسٰی ! کیا سبب ہوا کہ تو (کوہ طور پر آنے کے لیے) اپنی قوم سے جلدی کر کے آگے پہنچ گیا ؟ (84) عرض کیا : پروردگارا ! وہ تو میرے پیچھے پیچھے ( آرہے) ہیں اور میں نے تیری طرف (آنے کی اس لیے) جلدی کی ہے تاکہ تو مجھ سے راضی ہو۔ (85) فرمایا : ہم نے تیری قوم کو تیرے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے انہیں گمراہ کر دیا ہے۔ (86) موسٰی اپنی قوم کی طرف غصہ میں بھرے ہوئے اور افسوس کرتے ہوئے پلٹے اور (ان سے) کہا ، اے میری قوم! کیا تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ کیا تم سے میری جدائی کی مدت زیادہ ہو گئی ہے یا تم یہ چاہتے تھے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب ٹوٹ پڑے کہ تم نے میرے وعدے کی مخالفت کی ہے۔ (87) انہوں نے کہا: ہم نے اپنے اراده و اختیار سے تیرے وعدہ کی خلاف وزری نہیں کی بلکہ (ہوا کہ) ہم (فرعون کی) قوم کے کچھ زیورات اٹھا لائے تھے ، ہم نے ان کو (آگ میں) ڈال دیا اور سامری نے بھی اسی طرح (زیور آگ میں) ڈال دیا۔ (88) پھر اس نے (انہی پگھلے ہوئے زیورات سے ان کے لیے ایک بچھڑا بنا ڈالا ایک ایسی صورت تھی جس میں سے گاۓ کی سی آواز آئی تھی اور لوگوں نے کہا کہ یہ تمہارا خدا ہے اور موسٰی کا خدا بھی یہی ہے ، (مگر) اس (سامری) نے فراموش کردیا ۔(اس عهد و پیمان کو جو اس نے خدا سے باندھا تھا)۔ (89) کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ (یہ بچھڑا) ان کا جواب تک نہیں دیتا اور نہ وہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی نفع پہنچا سکتا ہے۔ (90) اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تاکہ اے (میری) قوم ! تمہاری اس بچھڑے کے ذریعے سے آزمائش کی گئی ہے اور بلاشبہ تمہارا پروردگار (رو) خدائے رحمٰن ہے ۔ پس تم میری پیروی کرو اور میرے فرمان کی اطاعت کرو۔ (91) (اس پر) انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم تو (عبادت کے لیے) اسی کے گرد گھومتے رہیں گے ۔ (اور بچھڑے کی پرستش ہی جاری رکھیں گے) جب تک کہ خود موسٰی ہمارے پاس پلٹ کر نہ آئیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:83-91
سامری کا شور و غوغا
تفسیر سامری کا شور و غوغا : ان آیات میں موسٰیؑ اور بنی اسرائیل کی زندگی کا ایک اور اہم حصہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ حضرت موسٰیؑ سے بنی اسرائل کے نمائندوں کے ساتھ کوہ طور کی وعده گاہ پہلے پرجانے اور ان کی غیبت کے زمانے میں بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی سے متعلق ہے۔ پروگرام کے یہ تھاکہ حضرت موسٰیؑ تورات کے احکام حاصل کرنے کے لئے کوہ طور جائیں اور بنی اسرائیل کے کچھ افراد بھی اس سفر میں ان کے ساتھ رہیں تاکہ اس سفرمیں خدا شناسی اور وحی کے بارے میں نئے حقائق ان کے لیے آشکار ہوں۔ پروردگار سے مناجات کا شوق اور وحی کی آواز سننے کا اشتیاق حضرت موسٰیؑ کے دل میں موجزن تھا۔ اس طرح سے کہ گویا آپ کو اپنی خبر نہ تھی ، اور یہاں تک کہ روایات میں ہے کہ آپ کو کھانے پینے اور آرام کا ہوش نہ تھا۔ لہذا انہوں نے بڑی تیزی ساتھ یہ راستہ طے کیا اور دوسروں سے پہلے اکیلے ہی پروردگار کی وعدہ گاہ میں پہنچ گئے۔ یہاں آپ پر وحی نازل ہوئی "اے موسٰی ! کیا سبب ہوا کہ اپنی قوم سے پہلے ہی آ پہنچا اور اس قدر جلدی کی کہ ( وما اعجلك عن قومك ياموسٰی)۔ موسٰیؑ فورًا عرض کیا ، پوردگارا وہ میرے پیچھے آرہے ہیں اور میں نے تیری میعادگاه اورمحضروحی تک پہنچنے کے لیے اس لیے جلدی کی تاکہ تو مجھ سے راضی اور خوشنود ہو ( قال هم اولاء على اثری وعجلت اليك ربى لترضی )۔ نہ صرف تیری مناجات اور تیری بات سننے کے عشق نے مجھے بے قرار کیا ہوا تھا بلکہ میں مشتاق تھا کہ جتنا جلدی ہوسکے تیرے قوانین واحکام حاصل کروں اور تیرے بندوں تک انہیں پہنچاؤں اور اس طرح خوب تیری رضا حاصل کروں۔ ہاں ! میں تیری رضاکا عاشق ہوں اور تیرا فرمان سننے کا مشتاق ہوں۔ لیکن آخر میں، پروردگار کے معنوی جلوؤں کے دیدار کی مدت یس راتوں سے بڑھ کر چالیس راتیں کر دی گئی اس طرح مختلف قسم کے اسباب جو پہلے سے ہی بنی اسرائیل میں انحراف کے لیے موجود تھے، اپنا کام کر گئے ۔ سامری جیسا ہوشیار اور منحرف آدمی استاد بن گیا۔ اس نے کچھ چیزوں سے کام لے کر ایک بچھڑا بنایا اور قوم کو اس کی پرستش کرنے کی دعوت دی۔ ان چیزوں کے بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے۔ اس میں شک نہیں کہ چند ایسی باتیں رونما ہوئیں کہ جو مل کر توحید سے کفر کی طرف ان کے عظیم انحراف کا سبب بنیں جیسے مصریوں کی گوسالہ پرستی یا دریائے نیل کو عبور کرنے کے بعد بت پرستی (گاؤ پرستی) کا منظر دیکھنا اور ان کا انہیں کی مانند بت بنانے کی خواہش کرنا اور اسی طرح موسٰیؑ کی طور پر ٹھہرنے کی مدت بڑھ جانا اور منافقین کی طرف سے ان کی موت کی خبر اڑانا اور آخرکاراس قوم کی جہالت و نادانی نے اثر دکھایا کیونکہ اجتماعی واقعات و حادثات عام طور پر کسی تمہید کے بغیر پیش نہیں آتے۔ زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے کہ کبھی تو یہ مقدمات آشکار اور واضع ہوتے ہیں اور کبھی چھپے ہوئے۔ بہرحال شرک اپنی بدترین صورت میں بنی اسرائیل کو دامن گیر ہوگیا ۔ خاص طور پر جبکہ قوم کے بزرگ بھی حضرت موسٰیؑ کے ساتھ میعادگاہ میں موجود تھے اور اس قوم کے رہبر صرف اور صرف ہارونؑ ہی تھے اور ان کا کوئی موثر حامی و مددگاربھی وجود نہیں تھا۔ آخر کار یہی موقع تھا کہ خدا نے ان کو اسی میعادگاہ میں فرمایا : ہم نے تمہاری قوم کی تمہارے بعد آزمائش کی ہے لیکن وہ اس امتحان میں پورے نہیں اترے اور سامری نے انہیں گمراہ کر دیا ہے: ( قال فأنا قد فتنا قومك من بعدك واضلهم السامري) حضرت موسٰیؑ یہ بات سنتے ہی ایسے پریشان ہوگئے گویا ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی ہے ۔ شاید وہ دل ہی دل میں کہتے ہوں گے ، میں نے سالہا سال تک خون جگر پیا، زحمتیں اٹھائیں، ہرقسم کے خطرے کا سامنا کیا تب جا کر کہیں اس قوم کو توحید سے آشنا کیا لیکن افسوس صد افسوس میری چند روزه غیبت میں میری محنتیں برباد ہوگئیں۔ لہذا فوری طور پر "موسٰیؑ غصے میں بھرے ہوئے اور افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کی طرف پلٹے" (فرجع موسٰی الی قومه غضبان اسفًا)۔ جس وقت ان کی نگاہ ، گوساله پرستی کے اس تکلیف دہ منظر پر پڑی تر وہ چیخ اٹھے ، اے میری قوم ! کیا تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ اچھا وعدہ نہیں کیا تھا :( قال يا قوم الم يعد كم ربكم عدًاحسنًا)۔ یہ اچھا وعده تھا تو وہ وعدہ تھا کہ جو بنی اسرائیل سے تورات کے نزول اور اس میں آسمانی احکام کے بیان کے سلسلے میں کیاگیاتھا یا یہ نجات پانے اور آل فرعون پر کامیابی حاصل کرنے اور زمین کی حکومت کا وارث بن جانے کا وعدہ تھا یا یہ ان لوگوں کے لیے جو توبہ کریں ، ایمان لائیں اور عمل صالح بجالائیں، مغفرت اوربخشش کا وعدہ تھا یا ان تمام امور سے متعلق وعدہ تھا۔ اس کے بعد مزید کہا : " کیا تم سے میری جدائی کی مدت زیادہ ہوگئی ہے "۔ (افطال عليكم العهد)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ : میں نے مانا کہ میری واپسی کی مدت تیس دن سے بڑھ کر چالیس دن ہوگئی تھی مگریہ کوئی ایسا زیادہ طولانی زمانہ نہیں ہے ۔ کیا تمہیں خود ہی نہیں چاہیئے تھا کہ اس تختصر سی مدت میں اپنے آپ کو محفوظ رکھتے۔ یہاں تک کہ اگر میں سالہا سال بھی تم سے دور رہتا تو بھی خدا کا دین کہ جس کی میں نے تمھیں تعلیم دی ہے اور وہ معجزات کہ جن کا تم نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے ـــــــ تمہارے پیش نظر ہونے چاہیں تھے اور تمہیں میری تعلیمات کی پیروی کرنا چاہیے تھی ۔ یا تم اپنے اس قبیح عمل کے ذریعے یہ چاہتے تھے کہ تمہارے پروردگار کا غضب تم پر نازل ہو ، جبھی تو تم نے مجھ سے باندھے ہوئے عہد کی مخالفت کی ہے (ام اردتم ان يحل عليكم غضب من ربكم فلخلفتم موعدی)۔ ؎1 میں نے تم سے یہ عہد لیا تھا کہ تم عقيدة توحید اور پروردگار کی نالمن اطاعت کی راہ پر قائم رہو گے اور اس سے معمولی سا انوان بھی نہیں کروگے مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے میں نے تم سے یہ عہد لیا تھا کہ تم عقیدہ توحید اور پروردگار کی خالص اطعت کی راہ پر قائم راہو گے اور اس سے معمولی سا انحراف بھینہیں کرو گے مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم میری عدم موجودگی میں میری ان ساری باتوں کو بھلا دیا اور میں بھائی ہارون کا حکم ماننے سے بھی تم سنے انکارکردیا۔ بنی اسرائیل نے جب دیکھا کہ موسٰی ان پر سخت غصے میں ہیں اور اس بات پر متوجہ ہوئے کہ واقعًا انہوں نے بہت ہی بڑا کام انجام دیا ہے تو عذرتراشی پر اتر آئے اور کہنے لگے : ہم نے اپنے اختیار کے ساتھ توتیرے عہد کی خلاف ورزی نہیں کی" (قالوا ما خلفنا موعدك بملكنا) " ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی شخص کا ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے لیے پروردگار کا غضب خریدے لہذا اس عبارت سے مراد یہ ہے کہ تمھارا عمل اس قسم کا ہے کہ گویا تم نے خود اپنے لیے اس قسم کا ارادہ کرلیا ہے۔ ؎2 "ملک (بروزن درک) اور "ملک" (بروزن "پلک") دونوں کسی چیز کے مالک ہونے کے معنی میں ہیں اور بنی اسرائیل کی اس سے مراد یہ تھی کہ ہم اس کام کے کرنے میں صاحب اختیار اور مالک نہیں تھے بلکہ ہم اس سے ایسے متاثر ہونے کے دین و دل ہاتھ سے جاتارہا۔ بعض مفسیرین نے اس جملہ کہ بنی اسرائیل کی ایک اقلیت سے متعلق سمجھا ہے کہ جنہوں نے گؤلہ سالہ کی پرستش نہیں کی تھی۔ (کہتے ہیں کہ ان میں سے کچھ لاکھ افراد گؤسالہ پرستی کرنے لگ گئے تھے۔ صرف بارہ ہزار افراد توحید باقی رہے) لیکن جو تفسیر ہم نے اوپر بیان کی ہے وہ زیادہ صحیح نظر آ تی ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- در اصل ہم خود اپنے ارادے سے گؤسالہ پرستی کی طرف مائل نہیں ہوئے تھے۔ "فرعونیوں کے قیمتی زیورات ہمارے کہ جنہیں ہم نے اپنے سے دور پھینک دیا اور سامری نے بھی انہیں پھینک دیا" ( ولكنا حملنا أوزارًا من زينة القوم فقذ فناها فكذالك القى السامری)۔۔ اس بارے میں کہ بنی اسرائیل نے کیا کیا اور سامری نے کیا کیا اور اوپر والی آیات کے جملوں کا حقیقتًا کیا معنی ہے ؟ میں مفسرین کی مختلف آرا ہیں کہ جن میں شیعہ کے لحاظ سے کوئی زیادہ فرق نظر نہیں ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس جملے کا معنی یہ هے ، یعنی ہم نے ان زیورات کو جہنیں مصر سے چلنے سے پہلے فرعونوں سے لیا تھا ، آگ میں پھینک دیا۔ سامری کے پاس بھی کچھ کر تھا ، اس نے بھی آگ میں پھینک دیا۔ یہاں تک کہ وہ گھل گئے تو اس نے ان سے گؤسالہ بنالیا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس جملے کا معنی یہ ہے کہ ہم نے زیورات کو اپنے سے دور پھینک دیا اور سامری نے انہیں اٹھاکرآگ میں ڈال دیا تاکہ اس سے گؤسالہ بنائے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ " فكذالك القى السامری" ان سارے منصوبوں کی طرف اشارہ ہو کہ جو سامری نے جاری لیے تھے۔ بہرحال یہ عام معمول ہے کہ جس وقت کوئی بزرگ اپنے سے چھوٹوں کو اس گناہ کے بارے میں کہ جب کے وہ مرتکب ہوئے ہیں ملامت کرتا ہے ، تو وہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ جو اپنے ارادہ اور رغبت کےساتھ توحید سے شرک طرف مائل ہوۓ تھے ، یہی چاہا کہ سارا گنا سامری کی گردن پر ڈال دیں۔ بہرحال سامری نے فرعونیوں کے آلات زینت سے کہ فرعونوں نے ظلم دستم کے ذریعے حاصل کیے ہوئے تھے اور جن کا اس کے علاوہ اور کوئی مصرف نہیں تھا کہ وہ اس کے فعل حرام پر خرچ ہوں، " ان کے لیے ایک بچھڑے کا مجسمہ بنایا جو ایک ایسی مورت تھی ، جس میں سے گائے کی سی آواز آتی تھی ( فاخرج لهم عجلًاجدًا له خوار)۔ ؎1 بنی اسرائیل نے جب یہ منظر دیکھاتو اچانک حضرت موسٰیؑ کی تمام توحیدی تعلیمات کو بھول گئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے: یہ ہے تمہارا خدا اور موسٰی کا خدا"۔ (فقالوا هذا الهكم واله موسٰی) ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ بات کہنے والے سامری ، اس کے یارو مددگار اور اس کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے تھے۔ "اوراسی طرح سامری نے موسٰیؑ کے ساتھ ، بلکہ موسٰیؑ کے خدا کے ساتھ کیا ہوا اپنا عہد و پیمان بھلادیا اور لوگوں کو گمراہی میں دھکیل دیا ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "خوار" گاۓ اور گؤسالہ کی آواز کے معنی ہے اور کبھی اونٹ کی آواز پر بولا جاتا ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- (فنسی)۔ بعض مفسرین نے یہاں "نسیان" کی گمراہی اور بے راہ روی سے معنی میں تفسیر کی ہے، یانسیان کا فاعل موسٰی کو جانا ہے اور کہا ہے کہ یہ جملہ سامری کا کلام ہے ، وہ یہ کہنا چاہتاہے کہ: موسٰی اس بات کو بھول گئے ہیں کہ یہی بچھڑا تمہارا خدا ہے لیکن یہ تمام تفسیریں آیت سے ظاہر کے مخالفت ہیں کہ سامری نے موسٰی اور موسٰی کے خدا سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو بھلا دیا اور بت پرستی راستہ اختیار کرلیا۔ یہاں خدا ان بت پرستوں کو تو بیخ و سرزنش کے عنوان سے کہتا ہے : کیا وہ یہ نہیں رکھتے ان کا یہ بچھڑا ان کا جواب تک نہیں دیتا۔ نہ تو ان سے کسی قسم کے ضر کو دور کر سکتا ہے، اور نہ ہی انہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتاہے پر (افلا يرون الا يرجع اليهوقو ولايملك لهم ضرا ولانفعًا )۔ ٍ ایک حقیقی معبود کو کم از کم اپنے بندوں کے سوالات کے جواب تو دینے چاہئیں۔ کیا صرف اس مجسمہ طلائی سے آواز کاسنائی دينا ایسی آواز کہ جس میں کسی اراده و اختیار کا احساس نہیں ہے ــــ پرتش کرنے کی دلیل بن سکتاہے؟ ہم فرض کریں کہ ان کی باتوں کا جواب دے بھی دے ، تو وہ زیادہ سے زیادہ وہ ایک ایسا وجود ہو گا ، جیسا کہ ایک ناتواں انسان ہے جو نہ کسی دوسرے کے نفع و نقصان پر قادر ہے اور نہ ہی خود اپنے نفع و نقصان کا مالک ہے۔ کیا کوےی اس صورت میری عبود ہو سکتا ہے؟ کی عقل اس بات کی اجازت دی ہے کہ انسان ایک ہے جان مجسمہ کی کہ جس سے کبھی کبھی بے معنی آواز نکلتی ہو ، پرستش کرےاور اس کے سامنے سر تعظیم جھکائے؟ اس میں شک نہیں کہ اس شور و غوغا میں حضرت موسٰی کے جانشین اور خدا کے بزرگ پیغمبر ہارون نے اپنی رسالت کے فرائض کو پورے طور پر انجام دیا اور انحراف و فساد سے مقابلہ کرنے کا فریضہ جتنا ان کے لیے ممکن تھا ادا کرتے رہے۔ جیسا کہ قران کہتا: "ہارون نے موسٰی کے میعادگاہ سے واپس آنے سے پہلے بنی اسرائیل سے یہ بات کی کہ تم سخت آزمائش میں ڈال دیئے گئے ہو ۔ لہذا تم دھوکا نہ کھاؤ اور راہ خدا (توحید) سے منحرف نہ ہو ، ( ولقد قال لهو هارون من قبل یا قوم انما فتنتم به). اس کے بعد مزید کہا : " تمہارا پروردگار مسلمًا وہی بخشنے والا خدا ہے کہ میں نے یہ سب نعمتیں تمهیں مرحمت فرمائی ہیں" (وان ربكم الرحمن) ۔ تم غلام تھے ، اس نے تمہیں آزادی دی۔ تم اسیرتھے ، اس نے تمہیں رہائی بخشی ۔ تم گمراہ تھے ، اس نے تمہیں ہدایت کی ، تم پراگندہ اور بکھرے ہوئے تھے ، اس نے تمہیں ایک الٰہی انسان کی رہبری کے زیرسایہ جامع اور متحد کیا۔ تم جاہل اور بھٹکے ہوئے تھے اس نے تمہیں علم کے نور سے اجالا بخشا اور توحید کے صراط مستقیم کی طرف تمھاری ہدایت کی ۔ "آب جبکہ معاملہ اس طرح ہے تو میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو : (فاتبعونی واطيعوا امری )۔ قرار دی ہے۔ پورت مشکی کیوں کر رہے ہو اور کس کیا تم یہ بات بھول گئے ہو کہ میرے بھائی موسی نے مجھے اپنا جانشین بنایا ہے اور میری اطاعت تم پر فرض اور واجب لیے خود کو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں گرا ر ہے ہر لیکن بنی اسرائیل اس طرح ہٹ دھری کے ساته اس بچھڑے سے لپٹے ہوئے تھے کہ اس مرد خدا اور ہمدرد رہبر کی یہ قومی منطق اور روشن دلائل ان کے اوپر اثر انداز نہ ہوئے۔ انہوں نے صراحت کے ساتھ حضرت ہارونؑ کی مخالفت کا اعلان کیا اور "کہا" ہم تو اسی طرح اس گوسال کی پرستش کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ خود موسٰیؑ ہمارے پاس پلٹ کرآئیں ": ( قالو الن نبرح عليه عا كفين حتٰى يرجع اليناموسٰی ۔ ؎1 خلاصہ یہ کہ انہوں نے ہمیشہ دھرمی نہ چھوڑی اور کہنے لگے کہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں چلے گا کہ گزار پرستی کا سلسلہ اسی گوسالہ کے طرح جاری رہے گا۔ یہاں بنا کہ موسٰیؑ لوٹ آئیں اور ان سے اس بات کا فیصلہ کرائیں ۔ ہوسکتا ہے وہ بھی ہمارے ساتھ مل کر گؤسالہ کے سامنے سجدہ کریں خود کو زیادہ ہلکان نہ کرو اور ہمارا پیچھا چھوڑو۔ اسی طرح انہوں نے عقل سے مسلمہ حکم بھی پاؤں تلے روند ڈالا اور اپنے رہبر کے جانشین کے فرمان کی بھی پرواہ نہ کی۔ لیکن جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے - اور قاعدہ بھی یہی ہے ـــــــ کہ ان حالات میں جب ہارون نے اپنی رسالت کو انجام دیا اور اکثریت نے اسے قبول نہ کیا تو آپ اس گنی چنی اقلیت کے ساتھ کہ جو ان کی تابع بھی ان سے الگ ہوگئے اور ان سے دورسی اختيار کرلی کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ ان کے ساتھ میل جول ان کے انحرافی طرز عمل کی تصدیق کی دلیل بن جائے۔ ؎2 سب سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ بعض مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں انحرافی تبدیلیاں صرف گنتی کے چند دنوں کے اندر اندر واقع ہوگئیں۔ جب موسٰی کو میعاد گاہ کی طرف گئے ہوئے ۳۵ دن گزر گئے توسامری نے اپنا کام شروع کردیا اور بنی اسرائیل سے مطالبہ کیا وہ تمام زیورات جو انھوں نے فرعونیوں سے عاریتًا لیے تھے اوران کے غرق ہوجانے کے بعد وہ انھیں کے پاس رہ گئے تھے انہیں جمع کریں چھتیسوں پنتیسویں اڑتیسویں دن انہیں ایک کٹھائی میں ڈالا اور پگلا کر اس سے گؤسالہ کا مجسمہ بنادیا اور انتالیسویں دن انہیں اس کی پرستش کی دعوت دی اور ایک بہت بڑی تعداد (کچھ روایات کی بناء پر چھ لاکھ افراد) نے اسے قبول کرلیا اور ایک روز بعد یعنی چالیسں روز گزرنے پر موسٰیؑ واپس آگئے۔ لیکن بہرحال ہارون تقریبًا بارہ ہزار ثابت قدم مومنین کی اقلیت کے ساتھ اس قوم سے الگ ہو گئے جبکہ جاہل اور ہٹ دھرم اکثریت اس بات پر آمادہ ہوچکی تھی کہ انہیں قتل کردے. ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "نبرح" "برح" کے مادہ سے زائل ہونے کے معنی میں ہے اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ " برح الخفاء" کاجملہ آشکار واضح ہونے کے معنی میں ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خفا کا زائل ہونا ، ظہور کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے اور چونکہ " لن" کا معنی نفی ہے تو "لن نبرح" کا مفہوم یہ ہے کہ ہم مسلسل یہ کام کرتے رہیں گے۔ ؎2 مجمع البیان زیر بحث آیہ سے ذیل میں.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:83-91
4- ایک اعتراض کا جواب
4- ایک اعتراض کا جواب : مشهور مفسیر فخرالدین رازی نے یہاں ایک اعتراض پیش کیا ہے۔ وہ کہتا ہے : شیعہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشہور حدیث : انت منی بمنزلة هارون من موسٰی: "تجھے مجھ سے وہی نسبت ہے جو موسٰی کے ہارون سے تھی ، سے ولایت علی کے لئے استدلال کرتے ہیں ، حالانکہ ہارون نے بت پرستوں کے عظیم انبوہ کے مقابلہ میں ہرگز تقیہ اختیار نہیں کیا تھا اورصراحت کے ساتھ لوگوں کو اپنی پیروی اور دوسروں کی متابعت ترک کرنے کی دعوت دی تھی۔ اگر واقعًا امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی رحلت کے بعد خطا کی راہ اختیار کرلی تھی ، توعلی (علیہ السلام) پر یہ واجب تھا کہ وہ بھی ہارون کا سا طرز عمل اپناتے۔ منبر پر جاتے اور کسی قسم کا خوف اور تقیہ کیے بغیر "فاتبعونی واطيعوا امری" کہتے۔ چونکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ امت کا طریقہ کاراس زمانے میں حق اور درست تھا۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فخرالدین رازی نے اس بارے میں دو بنیادی نکات سے غفلت کی ہے. یہ جوانہوں نے کہا ہے کہ علی علیہ السلام نے اپنی خلافت بلا فصل کے متقلق کسی بات کا انکار نہیں کیا، اشتباه ہے اور غلط ہے کیونکہ ہمارے پاس بے شمارحوالے ایسے موجود ہیں کہ امام نے مختلف مواقع پر اس امر کو بیان فرمایا ہے ۔ کبھی صریح اور کھلم کھلا طور پر اور بھی در پردہ طریقے سے کتاب نهج البلاغہ میں آپ کے کلام کے مختلف حصے نظر آتے ہیں، مثلا خطبہ شقشقیہ ، خطبہ سوئم ، خطبہ 87 ، خطبہ 97، خطبہ 154 اور خطبہ 147 کہ جو سب کے سب اس سلسلے میں بیان ہوئے ہیں۔ تفیرنمونہ کی تیسری جلد میں سورہ مائدہ کی آیہ 67 کے ذیل میں واقعہ غدیر کے بیان کرنے کے بعد ہم نے متعدد روایات نقل کہ خود حضرت علی نے بارہا اپنی حیثیت اور خلافت بلا فصل ثابت کرنے کے لیے حدیث غدیر سے استناد کیا ہے (مزید وضاحت کے لیے جلد پنجم ، ص 38 کے بعد کے صفحات کی طرف رجوع کریں۔ پیغمبر صلى الله علیہ و آلہ وسلم کے بعد مخصوص حالات تھے۔ وہ منافق کہ جو وفات پیغمبر کے انتظار میں دن گن رہے تھے انہوں نے خود کو ازسرنو اسلام پر آخری ضرب لگانے لیے تیار لیا تھا ۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اصحاب الرده (اسلامی انقلاب مخالف گروہ) نے فورًا ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں قیام کیا۔ اگر مسلمانوں کی وحدت، اجتماعیت اور ہوشیاری نہ ہوتی تورمکن تھا کہ وہ اسلام پر ناقابل تلافی ضربیں لگاتے۔ علیؑ نے اس امر کی خاطر بھی خاموشی اختیار کی کہ دشمن غلط فائدہ نہ اٹھائے۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ حضرت ہارونؑ نے بھی – باوجود اس کے کہ موسٰیؑ زندہ تھے ۔ بھائی کی سرزنش کے جواب میں کہ تونے کوتاہی کیوں کی صریحًا یہی کہا کہ : اني خشيت أن تقول فرقت بين بني إسرائيل میں اس بات سے ڈرا کہ تو مجھ سے یہ کہے کہ تونے بنی اسرائیل کے درمیان تقرقہ ڈال دیا۔ اور یہ بات اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ علی نے بھی اختلاف کے خوف سے ایک حد تک خاموشی اختیار کی ۔