اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى
Both of you go to Pharaoh, for he has indeed rebelled.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 20:43
[Pooya/Ali Commentary 20:43] (see commentary for verse 9)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:43-48
۱ ۔ خداکی عجیب قدرت نمائی
۱ ۔ خداکی عجیب قدرت نمائی : تاریخ میں بہت سے واقعات ایسے گزر ے ہیں کہ خود سراور طاقتور افراد قدرت خدا کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں لیکن خدانے کسی موقعے پر بھی زمین آسمان کے کوئی خاص لشکر ان کی سرکوبی کے لیے جمع نہیں کیابلکہ ایسے ساوہ اور آسان طریقہ سے انہیں مغلوب کیاجس کاکسی شخص کو تصّو ر بھی نہیں تھا ۔ خصوصیت کے ساتھ اکثر ایسا ہوتاہے کہ انہیں کواپنی موت کے ذرائع کی طربھیج دیتاہے اور ان کی نابودی خود نہیں کے سپرد کردیتاہے ۔ فرعون کی یہی داستان گواہ ہے کہ اس کے اصلی دشمن یعنی موسٰی کو خود اسی کے دامن میں پرورش کرائی اوراللہ نے انہیںخود اسی کی حفاظت میں رکھا ۔ سب سے بڑ ھ کر قابل توجہ بات یہ ہے کہ تاریخ کے مطابق موسٰی(علیه السلام) کی دایہ بھی قبطیوں میں سے تھے وہ بڑ ھئی کہ جس نے ان کی بجات کاصندوق بنایاتھاوہ بھی ایک قبطی ہی تھا صندوق کو پانی سے نکالنے والے فرعون کے ملازمین تھے صندوق کو کھولنے والی خوداس کی بیوی تھی فرعون کے دربارکی طرف سے ہی موسٰی (علیه السلام)کی ماں کودودھ پلانے والی کی حیثیت سے دعوت دی گئی اور قبطی کے قتل کے واقعے کے بعد فرعونی سپاہیوں کی طرف سے تعاقب آپ (علیه السلام) کی مدین کی طرف ہجرت اور شعیب (علیه السلام) جیسے پیغمبر کے مکتب میں مکمل تعلیم وتربیت کاایک دورگزار نے کاسبب بنا ۔ ہاں ! جب خداچہاتا ہے کہ اپنے قدرت کو ظاہرکرے تو وہ اسی طر ح سے کیاکرتاہے کہ سارے کے سارے سرکش جان لیں کہ ان کی حیثیت اس سے کہیں کمتر و حقیر ہے کہ اس کے ارادہ اور مشیت کے مقابل میں ان کی کچھ پیش کیاجاسکے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:43-48
جابرفرعون کے ساتھ پہلی ٹکّر
جابرفرعون کے ساتھ پہلی ٹکّر: اب جب کہ تمام چیزیں مہیاہوچکی ہیں اورتمام ضروری وسائل حضرت موسٰی(علیه السلام) کوحاصل ہوچکے ہیں تو انہیں اوران کے بھائی ہارون کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ”تواور تیرابھائی دونوں جوآیات میں نے تمہیں دی ہیں ان کے ساتھ اب نکل پڑو ( اذھب انت واخوک باٰیاتی ) ۔ وہ آیات جن میں موسٰی (علیه السلام)کے یہ دو عظیم معجزے بھی اور پروردگار کی وہ تمام نشانیاں ،تعلیمات اور سارے پروگرام بھی شامل ہیں کہ جوخود بھی اس کی دعوت کی حقانیت بیان کرتے ہیں خوصوصا ً جبکہ ا ن پر مغز تعلیمات کاایسے شخص کے ذریعے اظہارہو رہاہے کہ جس نے ظاہراً اپنی عمرکااہم حصّہ بھیڑ بکریاں چرانے میں گزاراہے ۔ اور ان کی روحانی تقویت کے لیے زیادہ سے زیاد ہ سعی و کوشش کی تاکید کرنے کی خاطر مزید فرمایا: میرے ذکر اور میرے یاد سے اور میرے احکام کے اجراء میں سستی نہ کرنا ( ولاتنیافی ذکری ) ۔ کیونکہ سستی اور قاطعیت کو ترک کرنا،تمہاری ساری زحمتوں کو برباد کردے گا لہذا مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ اورکسی بھی حادث سے ہراساں نہ ہو ،اور کسی بھی طاقت کے مقابلہ میں سستی اور کمزوری نہ دکھاؤ ۔ اس کے بعد ان کے بھیجنے کااصل مقصد اور وہ خاص بات کہ جس کی طرف انہیں توجہ رکھناہے ، بیان کرتے ہوئے فرمایا : تم دونوںفرعون کے پاس جاؤ کیونکہ و ہ سرکش ہو گیاہے ۔( اذھباالیٰ فرعون انہ طغیٰ ) ۔ اس وسیع و عریض سرزمین کی عام بدبختیوں کاعامل اوراصل سبب وہی ہے اور جب تک اس کی اصلاح نہ ہوگی کوئی کام نہیں ہوسکتکیونکہ کسی قوم کی پیش رفت یاپسماندگی اور خوش بختی یابدبختی کااصل عامل ہرچیز سے زیادہ اس قوم کے رہنمااورسردارہی ہواکرتے ہیں،لہذا سب سے پہلے تمہارا ہدف انہی کو ہوناچاہیئے ٹھیک ہے کہ ہارو ن (علیه السلام) اس وقت تک اسب بیابان میں موجود نہیں تھے اور جیسا کہ مفسرین نے کہاہے کہ خدانے انہیں اس ما جرے سے آگاہ کیاہ اور وہ اس ذمّہ داری کی ادائیگی کے لیے اپنے بھائی موسٰی (علیه السلام) کے استقبال کی خاطر مصر سے باہرآئے لیکن بہر حال اس بات میں کو ئی امرمانع نہیں ہے کہ مخاطب تو دو افراد ہو ں جبکہ اس وقت صرف ایک حاضر ہوا اورفارسی روز مرہ میں بھی (اوردو میں بھی ) ایسے نمونے عام ہیں ،مثلاہم کہتے ہیں: تم اور تمہارا بھائی جوکل سفرسے واپس آئے گا دونوں میرے پاس آنا ۔ اس کے بعد آغاز کارمیںفرعو ن سے ملاقات کے مئوثر طریقے کی تشریح اس طرح کی گئی ہے اس غرض سے کہ تم اس پراثر انداز ہوسکو ، ”نرم اندام سے اس سے گفتگو کرنا “ شایدوہ متوجہ ہویاخدا سے ڈر ے ( فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر اویخشٰی ) ۔یہاں ” یتذکر “ اور ” یخشی “ کے درمیان فرق یہ ہے کہ اگر تم نرم اور ملائم انداز میں بات کرو اور مطالب بھی صراحت اور قاطعیت کے ساتھ بیا ن کرو تو ایک احتمال تویہ ہے کہ وہ تمہارے منطقی دلائل کودل سے قبو ل کرے اور ایمان لے آئے اوردوسرااحتمال یہ ہے کہ کم از کم دنیایا آخرت میںخدا کے عذاب کے خوف سے اور اپنی طاقت کے برباد ہوجانے کے ڈر سے سر تسلیم خم کرے اور تمہاری مخالفت نہ کرے ۔ البتہ ایک تیسرا احتمال بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ نہ وہ متوجہ ہواور نہ خدا سے ڈرے بلکہ مخالفت اور مقابلہ کاراستہ اختیار کرے ۔ ”لعل “ (شاید) کی تعبیرسے اس کی طرف اشارہ ہواہے ۔ تو اس صورت میں اس کے لیے اتما م حجّت ہوجائے گی یعنی اس انداز پر عمل کرناکسی حال میں بھی بے فائدہ نہیں ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کوعلم تھاکہ اس کاانجا م کار کیاہوگا مذکورہ تعبیرات میں موسٰی (علیه السلام) و ہارون (علیه السلام) اور راہ خداکے تمام رہبروں کالیے ایک درس ہے (۱) ۔ لیکن اس کے باوجود موسٰی (علیه السلام) و ہارون (علیه السلام) اس بات پر یشان تھے کہ کہیںیہ سر کش و زورمند اورمتکبر شخص جس کی سخت گیر ی اورسخت مزاجی کاہرجگہ چرچہ ہے ،اس سے پہلے کہ موسٰی (علیه السلام) و ہارون (علیه السلام) اسے دعوت دیں وہ پیش قدم کرتے ہوئے انہیں ختم ہی نہ کردے لہذا ” عرض کی : پروردگار ا ! ہم اس بات سے ڈر رتے ہیں کہ کہیںوہ ہماری بات سننے سے پہلے ہی ہمیں سزادینے کاحکم صادر نہ کردے اور تیرا پیغام اس کے اور اس کے مصاحبین کے کانوں تک پہنچنے ہی نہ پائے یاسننے کے بعد سر کشی کرنے لگے “ (قالا ربنااننا نخاف ا ن یفرط علیناوان یطغٰی ) ۔ ” یفرط “ ”فرط “ (بروزن ”شرط “)کے مادہ سے آگے بڑھنے کے معنی میں ہے ۔اسی پراس شخص کوکہ جوسب سے پہلے پانی کے گھاٹ پرپہنچے” فارط “ کہتے ہیں علی علیہ اسلام کے کلمات ، جوآپ دروازئہ کوفہ کے پیچھے قبروں کے سامنے کھڑے ہوکرفرمائے تھے ،میں ہے کہ : انتم لنافرط سابق تم اس قافلے سے آگے بڑھ جانے والے ہواور ہم سے پہلے دیار ِ آخر ت کی طرف روانہ ہو کئے ہو (۲) ۔ بہر حال موسٰی(علیه السلام) اور انے کے بھائی ہارو ن کو دو باتوں کاڈر تھا پہلی بات یہ کہ فرعون ان کی باتیں سننے سے پہلے ہی کہیں سختی پر نہ اتر آئے اور یاسنتے ہی بلافاصلہ اور بلاتائل اس قسم کااقد ام کر بیٹھے اور دونو ں صورتوں میں ان کاکام خطرے میں پڑ جائے گا اور نامکمل رہ جائے گا ۔ لیکن خدانے قطعی طورپراندازمیں ان سے فرمایا : تم بالکل نہ ڈرو ، میں خود تمہارے ساتھ ہوں،سنتاہوں اوردیکھتابھی ہوں : (قال لاتخافا اننی معکمااسمع وارٰی ) ۔ اس بناپر ایسے خدائے تواناکے ہوتے ہوئے کہ جوہر جگہ تمہارے ساتھ ہے اوراسی وجہ سے ہر چیز اورہربات کو سنتا ہے ، ہر چیز کودیکھتاہے اور تمہارا حامی و مدد گار ہے ، ڈر نے اور کھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس کے بعد ا پنی دعوت کوفرعون کے سامنے پیش کرنے کی کیفیت انتہائی باریکی کے ساتھ پانچ مختصر ، قاطع او ر پر معنی و مطالب جملوں میں بان فرمایاہے ا ن سب میں ایک اصل مامور یت کے ساتھ مربوط ہے ،دوسرے میں ماموریت کامعنی و مفہوم اور مطلب بتلایاگیاہے ، تیسر ے میں دلیل وسند کابیان ہے ، چوتھے میں قبول کرنے کوشوق دلایاگیاہے اور پق پق نچویں اورآخری جملہ میں مخالفت کرنے والوں کو ڈرایاگیاہے ۔ پہلے کہتاہے : تم اس کے پاس جاؤ اوراس سے کہوکہ ہم تیرے پروردگارکے (بھیجے ہوئے ) رسو ل ہیں : (فاتباہ فقو لاانارسولاربک ) ۔ یہ بات خاص طورپر قابل توجہ ہے کہ ہمارا پروردگار کی بجائے تیراپرور دگار کہاگیاہے تاکہ فرعون کے زہن کو اس نکتے کی طرف متوجہ کیاجائے کہ اس کاایک پروردگار ہے اور یہ اس کے پروردگار کے نمایندے ہیں اور ضمنی طورپر اشاروں ہی اشاروں میں اسے یہ سمجھایا جارہاہے کہ کسی بھی شخص کے لیے ربوبیت کادعوی ٰ کراصحیح نہیں ہے اور یہ صرف خداہی کے ساتھ مخصو ص ہے ۔ دوسرے یہ کہ : بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں اذیّت و تکلیف نہ پہنچا( فارسل معنابنی اسرائیل ولاتعذ بھم ) ۔ یہ ٹھیک ہے کہ موسٰی (علیه السلام) کی دعوت صر ف بنی اسرائیل کو آل فرعو ن کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے نہیں تھی بلکہ قر آن کی دوسری آیات کی گوہی کے مطابق ، خود فرعون اوراس کے حواریوں کوشرک وبت پرستی کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے بھی تھی لیکن اس امرکی اہمیت اوراس کے موسٰی (علیه السلام) کے ساتھ منطقی تعلق کی وجہ سے آپ نے یہ مسئلہ خاص طورپر پیش کیاجو چونکہ بنی اسرائیل سے خدامات لینااوران کواتنی تکلیف اور عذاب کے ساتھ اپناغلام بنائے رکھنا ،ایساکام نہیں تھاکہ جس کی توجہیہ کی جاسکے ۔ پھر اپنی دلیل اور ثبوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خداکہتاہے کہ ااس سے کہو : ہم تیرے پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے نشانی (اور دلیل ) لے کر آئے ہیں :(قدجئناک باٰیةمن ربک ) ۔ ہم بیہودہ اور فضول بات نہیں کرتے اور بغیر دلیل کے ہم کوئی بات نہیں کرتے لہذا عقلمندی اکاتقاضہ یہ ہے کہ کم سے کم ہماری باتوں پر غور تو کرلے اوراگر ٹھیک ہوتوں انہیں قبول کرے ۔ اس کے بعد مومنین میں شوق پیداکرنے کے لیے مزید ارشاد ہوتاہے : جوہدایت کی پیروی کرتے ہیں ان پرسلام ہے : (والسلام علی من اتبع الھدٰ ی ) ۔ یہ جملہ ممکن ہے کہ ایک دوسر ے معنی میں کی طرف بھی اشارہ ہواوروہ یہ کہ اس جہاں میں بھی اوردوسرے جہان میں بھی تکلیف ،رنج ،خداکے دردناک عذاب اور انفرادی وجتماعی زندگی کی مشکلات سے سلامتی صرف انہیں لوگو ں کے لیے ہے جوخدائی ہدایت کی پیروی کرتے ہیں اور در حقیقت یہ موسٰی (علیه السلام) کی دعوت کاآخری نتیجہ ہے ۔ انہیں حکم دیاگیاکہ آخر میں اس دعوت سے روگردانی کابراانجام بھی اسے سمجھادیں اور اس سے کہیں کہ : ” ہمار ی طرف وحی ہوئی ہے کہ عذاب الہٰی ان لوگوں کے دامن گیر ہوگا کہ جواس کی آیات کوجھٹلاہیں گے اوراس کے فرمان سے روگردانی کریں گے “ ( اناقد اوحی الیناان العذاب علٰی من کذب وتولیٰ) ۔ ممکن ہے کسی کو یہ گمان ہوکہ اس جملہ کاذکر اس نرم گفتار کے مطابق نہیں ہے جس پر وہ مامور تھے لیکن یہ اشتباہ ہے کہ کیونکہ اس بات میں کیاامرمانع ہے کہ ایک ہمدرد طبیت نرم لہجے میں اپنے مریض سے کہے کہ جوشخص اس دواکواستعمال کرے گاوہ نجات پائے گا یعنی قفایاب ہوجائے گااور جونہ کرے گا وہ لقمہ اجل بن جائے گا ۔ اس بیان میں کوئی شدّت عمل والی بات نہیں بلکہ اس کے طرز عمل پیش نظر یہ ایک حقیقت ہے جواس کے سامنے داشگاف الفا ظ میں بیان کی جاجارہی ہے ۔ ۱۔ ” لعل “ کے معنی کے بارے میں اور یہ قرآن میں کس معنی میں آیاہے ،ہم نے تفسیرنمونہ ،جلد ۴ میں سورئہ نسآء کے آیہ ۸۴ کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے ۔ ۲۔نہج البلاغہ کلمات قصار ،شمار ۔ ۱۳۰ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:43-48
۲۔ دشمنوں کے ساتھ مدارات
۲۔ دشمنوں کے ساتھ مدارات : لوگوں کے دلوں میں اثر ونفوذپیداکرنے کے لیے (چاہے وہ کتنے ہی گمراہ اور گنہگار کیونہ ہو ) قرآن کہتاکاسب سے پہلادستور یہ ہے کہ ان سے ملائمیت اور مہرو محبت کے ساتھ ملاقات کی جائے خشونت اورسخی کے بعد کے مراحل سے تعلق رکھتی ہے اور اس وقت ہے دوستانہ طریقہ سے ملاقات کرنے کاکوئی اثر نہ ہو ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں ان کی طرف کھنچیں،نصیحت حاصل کریں اورہدایت پائیںیااپنے برے کام کے انجام سے ڈریں : (لعلہ یتذکراو یخشی ) ۔ ہر مکتب کے لےے ضروری ہے کہ اس میں جذب و کشش ہواور بلالوگوں کو اپنے سے دورنہ بھگائے انبیاء اور آئمہ بدیٰ علیہم اسلام کے حالات زندگی اسی طر ح اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انہیوں نے اپنی پوری زندگی میں کھبی بھی اس طرز عمل سے انحراف نہیں کیا ۔ ہاں ! یہ ہوسکتاہے کہ کوئی محبت آمیز طرز عمل بھی لوگوں کے ساتھ دل پر اثر انداز نہ ہو اور خشونت اور سخی کے سوااور کوئی چارئہ گار ہی نہ ہو ۔تو یہ بات اپنی جگہ پر صحیح ہے لیکن ایک اصل کلی اور ابتدء ِ کار میں نہیں پہلافرینہ محبت اور ملائمت ہی ہے اور یہ وہی درد ہے جو زیرآیات ہمیں واضح طورپر دے رہی ہیں ۔ یہ بات جو بعض روایات میں منقول ہوئی ہے قابل توجہ ہے : موسٰی کو یہ تک حکم تھا کہ فرعون کواس کے بہترین نام کے ساتھ پکاریں ۔ شایداس کے تاریک دل پریہ بات اثر کرجائے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:43-48
۳۔کیا انبیاء کے علاوہ کسی اور پر وحی ہو سکتی ہے
۳۔کیاانبیاء کے علاوہ کسی اور پروحی ہوسکتی ہے : اس میں شک نہیں کہ قرآن میںوحی کالفظ مختلف معانی میں استعمال ہواہے کھبی یہ آہستہ آواز کے معنی میں یاکسی بات کوآہستہ کہنے کے معنی میں آیاہے ۔( یہ عربی زبان میں اس کا اصلی معنی ہے ) ۔ کھبی کس رمز یہ اشارہ کے معنی میں استعمال ہواہے مثلاً : فاو حٰی الیھم ان سبحو ا بکرة و عشیاً زکریانے جو اس وقت بولنے سے قاصر تھے ،بنی اسرائیل سے اشارہ کے ساتھ کہاکہ صبح و شام خداکی تسبیح کرو ۔( مریم ۔۱۱ ) ۔ کھبی فطری الہام کے معنی میں بیان ہواہے ،مثلاً : اوحٰی ربک الی النحل تیرے ربّ نے شہد کی مکھّی کو فطری الہام کی(نحل ۔۶۸ ) ۔ کھبی حکم تکوینی کے معنی میں آیاہے ،یعنی و ہ فرمان جوخلقت و آفرینش کی زبان سے دیاجاتاہے ،مثلاً : یئومنذتحدث اخبار ھابان ربّک اوحٰی لھا قیامت کے دن زمین اپنی خبریں بیان کرے گی کیونکہ تیرے ربّ نے اسے وحی کی ہے ۔( زلزال ۔۵) ۔ اورکھبی الہام کے معنی میں استعمال ہواہےایساالہام جو صاحب ایمان لوگوں کے دل پرہوتاہے،چاہے وہ پیغمبر کے ساتھ ہی مخصوص ہیں ،مثلاً : اذاو حیناالی امک مایوحیٰ اے موسٰی ہم نے تیری ماں کی طرف جس وحی کی ضرورت تھی وہ اسے کی (طٰہٰ) ۔ لیکن اس کاایک اہم ترین مقام قرآ ن مجیدا میںخداکے وہ پیغامات ہیں کہ جوپیغمبر وں کے ساتھ ہی مخصوص ہیں ، مثلاً : (انااو حیناالیک کمااوحیناالیٰ نوح والنبین من بعد ہ ) ۔ ہم نے تیری طر ف اسی طرح سے وحی بھیجی ہے جس طرح سے کہ نوح اوراس کے بعد والے انبیاء کی طرف وحی بھیجی تھی (نسا ٓء ۔۱۶۳) ۔ اس بناپر لفظ وحی ایک وسیع اور جامع مفہو م رکھتاہے کہ جوان تمام مواقع اپر استعمال ہے اس طرح ہمیں اس بات پر کوئی تعجب نہیں کرناچاہیئے کہ اگر زیر بحث آیات میں موسٰی (علیه السلام) کی ماں کے بارے میں وحی کالفظ استعمال ہوگیاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 20:43-48
۴۔ایک سوال کاجواب
۴۔ایک سوال کاجواب : ممکن ہے کہ بعض ۔لوکوں کے ذہن میں اوپروالی آیات کے مطالعہ سے یہ سوال پیداہوکہ موسٰی (علیه السلام) ان خدائی وعدوں کے باوجود پریشان ،شک اور تشویش سے کیوں دوچار ہوئے ۔یہاں تک کہ خدا نے انہیںصراحت کے ساتھ کہاکہ جاؤ ہرجگہ تمہارے ساتھ ہوں ،تمام باتوں کوسنتاہوں اورتمام چیزوں کودیکھتاہوں اورپریشا نی کی کوئی بات نہیں ہے ۔ اس سوال کاجواب اس بات سے واضح ہوجاتاہے کہ یہ ماموریت حقیقت میں بہت ہی سنگین تھی موسٰی (علیه السلام) بظاہرایک چرواہے تھےاب انہیںصرف اپنے بھائی کو ساتھ لے کرایک خودسرطاقتوراور سرکش آدمی سے جنگ کرنے کے لیے جانا تھا کہ جس کے قبضہ میں اس زمانے کے عظیم ترین طاقتور وسائل جمع تھے اورعجیب بات یہ ہے کہ علم انہیںیہ ملاکہ پہلی دعوت خود فرعون سے شروع کریںنہ یہ کہ پہلے دوسروں کے پاس جائیں اورلشکر اور یارومددگار فراہم کریں بلکہ پلاوار ہی فرعون کے دل پرکریں،یہ ماموریت واقعاً ایک بہت ہی پچیدہ اور انتہائی زیادہ مشکل تھی علاوہ ازیں ہم جانتے ہیں کہ علم و آگاہی کے مراتب و مدارج ہونے ہیںاکثر ایساہوتاہے کہ انسان ایک بات کویقینی طورپر جانتاہے لیکن وہ چاہتاہے کہ علم الیقین اور عینی اطمینان کے مرحلے میں پہنچ جائے ،جیساکہ حضرت ابرہیم (علیه السلام) نے معاد پرقطعی ایمان ہونے کے باوجود خداسے یہ درخوست کی کہ اسی دنیامیں مردود ں کے زندہ ہونے کا منظر میری آنکھوں کو دکھاتاکہ زیادہ سے زیادہ اطمینان قلب پیداہو ۔